تجزیہ: بی این پی
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک نئے غیر یقینی مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے انتہائی اہم بحری راستے کے گرد پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی سیاست، معیشت اور توانائی کے شعبے میں تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔ اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا بھر کی معیشتیں، تیل کی عالمی منڈیاں اور بین الاقوامی تجارت براہِ راست متاثر ہوں گی۔
تجزیہ: بی این پی کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی شہ رگ تصور کی جاتی ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اس اہم بحری راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ تیل کی قیمتوں میں فوری اضافے، مہنگائی میں تیزی اور عالمی تجارتی سرگرمیوں میں سست روی کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں ہونے والی ہر عسکری پیش رفت پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لیتی ہے۔
حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان، امریکی اور ایرانی اہداف پر جوابی کارروائیوں اور مختلف فوجی تنصیبات پر حملوں نے خطے میں ایک بڑے تصادم کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی مکمل جنگ کا نقصان صرف ان دونوں ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات پوری عالمی برادری کو بھگتنا پڑیں گے۔
چند ہفتے قبل پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کے ذریعے جنگ بندی کی امید پیدا ہوئی تھی۔ اس پیش رفت کو عالمی سفارت کاری کی ایک مثبت مثال قرار دیا گیا، تاہم موجودہ کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام صرف ایک معاہدے سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مسلسل سفارتی رابطے، اعتماد سازی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل ناگزیر ہے۔
تجزیہ: بی این پی کے مطابق عالمی طاقتوں کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ طاقت کے استعمال سے وقتی برتری تو حاصل کی جا سکتی ہے، مگر دیرپا امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ کئی دہائیوں کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہر عسکری تصادم کے بعد بالآخر مذاکرات ہی واحد راستہ ثابت ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران میں بھی سفارت کاری کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس بحران کا سب سے بڑا معاشی اثر تیل کی عالمی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ خام تیل مہنگا ہونے سے ایندھن، بجلی، ٹرانسپورٹ، صنعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ممالک، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتیں مہنگائی اور مالی دباؤ میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔
علاقائی سلامتی کے تناظر میں بھی صورتحال نہایت حساس ہے۔ خلیجی ممالک، بین الاقوامی بحری راستے، عالمی تجارتی کمپنیاں اور سرمایہ کار سبھی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی تجارت، شپنگ انڈسٹری اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں خطے کی اہم طاقتیں ہیں، لیکن دونوں کے لیے مکمل عسکری فتح حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اس لیے مسلسل جنگ کی پالیسی کے بجائے باہمی احترام، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور سفارتی مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جو خطے کو مزید تباہی سے بچا سکتے ہیں۔
پاکستان سمیت عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے مؤثر سفارتی کردار ادا کرے اور ایسے اقدامات کی حمایت کرے جو مذاکرات، اعتماد سازی اور علاقائی استحکام کو فروغ دیں۔ موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ تمام فریق جذبات کے بجائے تدبر، تحمل اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کریں۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ طاقت کا استعمال وقتی برتری تو دے سکتا ہے، لیکن پائیدار امن صرف مذاکرات، باہمی احترام اور سفارتی حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے۔ اگر امریکہ اور ایران نے تصادم کی راہ ترک کرکے بات چیت کو ترجیح دی تو نہ صرف خطہ بلکہ پوری دنیا ایک بڑے بحران سے محفوظ رہ سکتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
