وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہید نواب سراج رئیسانی کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سراج رئیسانی کی قربانی کو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا شہید سراج رئیسانی نے ہمیشہ پاکستان کے پرچم کو سربلند رکھا اور ان سمیت تمام شہدا کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔
شہدا کی قربانیوں کی بدولت بلوچستان میں امن قائم ہوگا، جبکہ ان کے چھوٹے بھائی اور بھتیجے نوابزادہ جمال رئیسانی بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قومی پرچم کو بلند رکھے ہوئے ہیں۔ آج دشمن نے بلوچستان کے خلاف نئی سازشیں شروع کر رکھی ہیں۔ شفیق مینگل کے گھر پر دہشت گردوں نے بزدلانہ حملہ کیا، تاہم انہوں نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔ دہشت گرد کسی شخصیت کو جسمانی طور پر تو ہم سے جدا کر سکتے ہیں، لیکن اس کے نظریات اور سوچ کو کبھی ختم نہیں کر سکتے۔
سیکیورٹی فورسز ہمارے بچوں اور مستقبل کے تحفظ کے لیے روزانہ قربانیاں دے رہی ہیں۔ مانگی ڈیم، اوڑک اور زیارت میں شہید ہونے والے اہلکار سرخرو ہیں اور پوری قوم ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔انہوں نے واشک میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل بلوچ روایات کے منافی ہے۔ حکومت اور عوام مل کر شرپسند عناصر کی تمام سازشوں کو ناکام بنائیں گے زیارت حملے کے بعد وہ سب سے پہلے متاثرہ علاقے پہنچے، جبکہ اوڑک کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے شہدا کے لواحقین سے مخاطب ہو کر کہا کہ “زیارت واقعے کے شہدا کا میں وارث ہوں، آپ شہدا کی تدفین کریں، حکومت ہر ممکن ذمہ داری ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا ہے کہ بشیر زیب اور اللہ نذر کو پیغام دیتے ہیں کہ اگر ان کی موت سے بلوچستان میں امن قائم ہو سکتا ہے تو وہ اپنی جان قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔انہوں نے کہا، “اگر میری موت سے بلوچستان میں امن آئے گا تو میں بلوچستان کے لیے اپنی جان دینے کو تیار ہوں، حتی کہ اپنے بھائی سے بھی کہوں گا کہ مجھے گولی مار دیں بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
سانحہ زیارت کے بعد بعض حلقوں نے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا میرے استعفے سے مسئلہ حل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان میں امن کے لیے ان کی جان بھی درکار ہوئی تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ دشمن کی یہ سازش ہے کہ حملے کر کے معصوم شہریوں کو قتل کیا جائے اور اس کا الزام ریاست پر عائد کیا جائے، تاہم پاکستان کا راستہ امن، ترقی اور استحکام کا راستہ ہے اور ہم اسے کبھی نہیں چھوڑیں گے بلوچستان اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں، جبکہ بلوچ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیلا گیا ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ کیا اس طریقے سے بلوچستان کو پاکستان سے الگ کیا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ دہشت گرد بلوچستان کی ترقی کی راہ میں صرف رکاوٹیں کھڑی کر سکتے ہیں، لیکن حکومت کی اولین ترجیح تعلیم، صحت اور صوبے کی ترقی ہے۔ شرپسند عناصر بلوچستان کے نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔دہشت گردوں کے بھارتی سرپرستوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ “کتنے ہی سراج رئیسانی کو شہید کر لو، یہاں ہر گھر سے ایک سراج رئیسانی نکلے گا۔” انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے باوجود بلوچستان کی ترقی اور امن کا سفر جاری رکھا جائے گا۔
