تجزیہ راجا محمد الیاس کیانی
پاکستان کی معیشت میں زراعت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور پنجاب اس شعبے میں ملک کا سب سے اہم صوبہ ہے۔ ہماری دیہی معیشت، صنعت، روزگار اور برآمدات کا ایک بڑا حصہ زرعی پیداوار سے وابستہ ہے۔ کپاس ان فصلوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے جس کا تعلق صرف کسان کی آمدنی سے نہیں بلکہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت اور مجموعی برآمدی معیشت سے بھی براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں کپاس کی پیداوار میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہونے والی مسلسل کمی ایک سنجیدہ قومی مسئلہ بن چکی ہے جس پر فوری اور جامع توجہ کی ضرورت ہے۔
وزیر زراعت پنجاب کی بیٹر کاٹن انیشی ایٹو کے وفد سے ملاقات کے دوران کپاس کی پیداوار میں اضافے کے لیے حکومتی اقدامات کا ذکر اسی قومی ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پاکستان دنیا میں ٹیکسٹائل مصنوعات تیار اور برآمد کرنے والے اہم ممالک میں شمار ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے جس فصل پر ہماری ٹیکسٹائل صنعت کا بڑا انحصار ہے، اس کی ملکی پیداوار تشویشناک حد تک کم ہوئی ہے۔ 2014ـ15ء میں پاکستان میں کپاس کی پیداوار تقریباً 15 ملین بیلز تھی، جو 2026ئ میں کم ہو کر صرف 5.6 ملین بیلز رہ گئی۔ اس طرح ایک دہائی کے دوران کپاس کی پیداوار میں 60 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ کمی اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو سالانہ تقریباً 14 ملین بیلز کپاس درکار ہوتی ہے۔ مقامی پیداوار اس ضرورت کو پورا کرنے سے قاصر ہے، چنانچہ ہر سال بڑی مقدار میں کپاس درآمد کرنا پڑتی ہے۔ اس صورت حال سے ایک طرف قیمتی زرمبادلہ بیرون ملک جاتا ہے تو دوسری طرف ٹیکسٹائل مصنوعات کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ نتیجتاً پاکستانی برآمد کنندگان عالمی منڈی میں اپنے حریف ممالک کے مقابلے میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان کو اپنی ٹیکسٹائل صنعت کو حقیقی معنوں میں مسابقتی بنانا ہے تو کپاس کی پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے۔
کپاس کی پیداوار میں کمی کی کئی وجوہات ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ، بے وقت بارشیں، سیلاب، پانی کی قلت، کیڑوں اور بیماریوں میں اضافہ، غیر معیاری بیج اور جعلی یا غیر مؤثر زرعی ادویات نے کسان کے مسائل بڑھا دیے ہیں۔ دوسری جانب جدید زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے ثمرات بھی مطلوبہ رفتار سے کسان تک نہیں پہنچ سکے۔ ایسے حالات میں کسان کے لیے کپاس کی کاشت پہلے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک اور کم منافع بخش بن گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی علاقوں میں کسان دوسری فصلوں کو ترجیح دینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق** کپاس کے بحران کا حل محض کسانوں کو مزید رقبے پر کپاس کاشت کرنے کی ترغیب دینے میں نہیں بلکہ پورے پیداواری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والی زیادہ پیداوار دینے والی کپاس کی اقسام کی تیاری اور فراہمی کو اولین ترجیح دے۔ چین سمیت زرعی تحقیق میں ترقی یافتہ ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے بیج تیار کیے جا سکتے ہیں جو شدید گرمی، پانی کی کمی، بیماریوں اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کو بہتر طور پر برداشت کر سکیں۔
اسی طرح جعلی اور غیر معیاری بیجوں اور زرعی ادویات کے خلاف مؤثر کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کسان اپنی محدود آمدنی سے بیج اور ادویات خریدتا ہے۔ اگر اسے ناقص بیج یا غیر مؤثر دوا فراہم ہو تو پوری فصل متاثر ہو سکتی ہے اور اس کا نقصان براہ راست کسان کے گھرانے تک پہنچتا ہے۔ اس لیے زرعی مداخل کی کوالٹی کنٹرول کا نظام مضبوط بنانے، مارکیٹ میں موجود جعلی مصنوعات کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور کسان کو معیاری اشیا مناسب قیمت پر فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
کسان کارڈ جیسے اقدامات اس حوالے سے امید کی کرن ہیں۔ جنوبی پنجاب کے کاشتکاروں کو کسان کارڈ کے ذریعے سہولت ملنا اس امر کی علامت ہے کہ اگر سرکاری معاونت براہ راست کسان تک پہنچے تو زرعی شعبے میں مثبت تبدیلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ کسان کارڈ اور دیگر سہولتوں کو صرف مالی امداد تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے ذریعے جدید بیج، معیاری ادویات، کھاد، مشینری، زرعی مشاورت اور مارکیٹ تک رسائی کو بھی مربوط کیا جائے۔
پنجاب کی ترقی کا دوسرا اہم پہلو متوازن اور مساوی ترقی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے وہاڑی کے ارکان صوبائی اسمبلی سے ملاقات کے دوران پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے پورے صوبے میں یکساں ترقی کا کلچر متعارف کرانے کا ذکر کیا۔ اگر ترقیاتی وسائل حقیقی معنوں میں تمام علاقوں کی ضرورت کے مطابق تقسیم ہوں اور جنوبی پنجاب سمیت نسبتاً پسماندہ علاقوں کو بھی بنیادی سہولتیں میسر آئیں تو اس کے مثبت اثرات صوبے کی مجموعی معیشت پر مرتب ہوں گے۔
وہاڑی ملتان روڈ کی تعمیر و توسیع اس سلسلے میں ایک اہم منصوبہ ہے۔ کئی دہائیوں سے سنگل اور خستہ حال رہنے والی سڑک کو دو رویہ ایکسپریس وے میں تبدیل کرنے سے نہ صرف شہریوں کے سفر میں آسانی پیدا ہوگی بلکہ زرعی پیداوار کو منڈیوں تک پہنچانے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور مختلف اضلاع کے درمیان معاشی روابط مضبوط بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ بہتر سڑکیں دراصل معاشی ترقی کی بنیاد ہوتی ہیں، کیونکہ کسان اپنی پیداوار کم وقت اور کم لاگت میں منڈی تک پہنچا سکتا ہے اور صنعت کو خام مال کی ترسیل بھی آسان ہو جاتی ہے۔
وہاڑی، بورے والا اور میلسی میں تقریباً 21 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز بھی علاقائی ترقی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ اگر چھوٹے اور درمیانے شہروں میں انفراسٹرکچر، سڑکوں، بازاروں، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولتوں کو بہتر بنایا جائے تو ان علاقوں میں روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ وہاڑی ریل بازار کی خوبصورتی اور شہری ماحول میں بہتری بھی اسی سلسلے کا حصہ ہے۔ شہری ترقی کا مقصد صرف شہر کو خوبصورت بنانا نہیں بلکہ اسے معاشی، سماجی اور انتظامی اعتبار سے زیادہ فعال بنانا بھی ہے۔
وہاڑی سے بورے والا اور ٹبہ سلطان پور تک الیکٹروبس سروس کا آغاز بھی عوامی سہولت کے حوالے سے مثبت اقدام ہے۔ جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ شہریوں کو سفر کی بہتر سہولت فراہم کرتی ہے، جبکہ طلبہ، خواتین اور بزرگوں کے لیے مفت سفر کی سہولت ان طبقات کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے جو محدود آمدنی کے باعث روزانہ کے سفری اخراجات برداشت کرنے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے ایسے منصوبے اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب انہیں باقاعدگی، صفائی، حفاظت اور مناسب روٹس کے ساتھ مستقل بنیادوں پر چلایا جائے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق** پنجاب کی ترقی کو صرف سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقی ترقی اس وقت ہوگی جب کسان خوشحال ہو، نوجوان تعلیم اور ہنر سے آراستہ ہو، شہری کو سستی اور محفوظ ٹرانسپورٹ ملے، کاروبار کے لیے بہتر ماحول پیدا ہو اور بارش یا سیلاب جیسی قدرتی مشکلات سے نمٹنے کے لیے شہری نظام مضبوط ہو۔ اسی تناظر میں لیپ ٹاپ، ہونہار سکالرشپ، کسان کارڈ، الیکٹروبس اور سڑکوں کے منصوبوں کو ایک جامع ترقیاتی پالیسی کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ پنجاب میں لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالرشپ پروگراموں سے طلبہ کو فائدہ پہنچنا اس لیے اہم ہے کہ آج کی دنیا میں روایتی تعلیم کے ساتھ ڈیجیٹل مہارت بھی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اگر پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے ذہین طلبہ کو جدید تعلیمی وسائل دستیاب ہوں تو وہ مستقبل میں ملک کی معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی اور انتظامی شعبوں میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اسی طرح موجودہ مون سون کے دوران نکاسی آب کے نظام میں بہتری بھی شہری انتظام کے حوالے سے قابل توجہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان میں بارشوں کا نظام غیر یقینی اور بعض اوقات غیر معمولی ہو چکا ہے۔ شدید بارشیں شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے، ٹریفک کی روانی متاثر ہونے، کاروباری سرگرمیاں رکنے اور املاک کو نقصان پہنچنے کا سبب بنتی ہیں۔ ایسے حالات میں نکاسی آب کے منصوبوں کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر بارش کے بعد پانی چند گھنٹوں میں نکال دیا جائے تو شہری زندگی کو معمول پر رکھنے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم ترقیاتی منصوبوں کی اصل کامیابی ان کے اعلان میں نہیں بلکہ ان کی پائیداری اور معیار میں ہوتی ہے۔ سڑک بننے کے بعد اس کی بروقت مرمت، بس سروس شروع ہونے کے بعد اس کا مستقل آپریشن، نکاسی آب کے منصوبوں کے بعد ان کی دیکھ بھال اور کسان کو سہولت فراہم کرنے کے بعد اس کے عملی نتائج کی نگرانی ضروری ہے۔ عوامی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور مؤثر نگرانی کو بنیادی اصول بنایا جائے تو حکومتی سرمایہ کاری کے ثمرات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔
کپاس کی بحالی کو بھی اسی جامع ترقیاتی تصور کے تحت آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اگر کسان کو معیاری بیج ملے، جعلی ادویات کا خاتمہ ہو، پانی کی بہتر فراہمی ہو، جدید مشینری اور زرعی مشاورت دستیاب ہو اور فصل کی مناسب قیمت یقینی بنائی جائے تو کپاس کا زیرکاشت رقبہ اور فی ایکڑ پیداوار دونوں بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ٹیکسٹائل صنعت کو مقامی خام مال زیادہ مقدار میں دستیاب ہوگا، درآمدی بل کم ہوگا اور برآمدات بڑھانے کے امکانات پیدا ہوں گے۔
پاکستان کے لیے کپاس محض ایک فصل نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی سلسلہ ہے۔ اس سے کسان، جننگ فیکٹریاں، اسپننگ ملز، ٹیکسٹائل صنعت، گارمنٹس سیکٹر، برآمد کنندگان اور لاکھوں مزدور وابستہ ہیں۔ کپاس کی پیداوار میں اضافہ دراصل ملک کی صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ، روزگار کے مواقع میں توسیع اور زرمبادلہ کے حصول میں بہتری کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت زرعی تحقیق پر زیادہ سرمایہ کاری کرے، جامعات اور تحقیقی اداروں کو جدید کپاس کی اقسام تیار کرنے کے لیے وسائل فراہم کرے اور کسانوں تک تحقیق کے نتائج پہنچانے کا مؤثر نظام قائم کرے۔ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا مسئلہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہے۔ اس لیے ہماری زرعی پالیسی بھی بدلتے موسموں کے مطابق ہونی چاہیے۔
اگر حکومت، زرعی ماہرین، کسان اور صنعت ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں تو پاکستان نہ صرف کپاس کی پیداوار میں دوبارہ نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے بلکہ اپنی ٹیکسٹائل صنعت کو عالمی سطح پر مزید مسابقتی بنا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وقتی اقدامات کے بجائے مستقل پالیسی، مضبوط ادارہ جاتی نظام اور طویل المدتی منصوبہ بندی ضروری ہے۔پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور کسان دوست اقدامات کو بھی اسی وسیع قومی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف زرعی پیداوار میں اضافے کی کوششیں ہوں، دوسری طرف سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کا بہتر نظام قائم ہو، تیسری طرف نوجوانوں کو تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے مواقع فراہم کیے جائیں اور چوتھی طرف شہری علاقوں کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنایا جائے تو ترقی کا ایک ایسا جامع ماڈل تشکیل پا سکتا ہے جس کے ثمرات معاشرے کے مختلف طبقات تک پہنچیں۔آخرکار کسی بھی حکومت کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ عام شہری کی زندگی میں کتنی آسانی پیدا ہوئی، کسان کی آمدنی میں کتنا اضافہ ہوا، نوجوانوں کے لیے روزگار اور تعلیم کے کتنے نئے مواقع پیدا ہوئے اور ملک کی معیشت کس حد تک خود انحصاری کی طرف بڑھی۔ کپاس کی بحالی، کسان کی خوشحالی، بہتر انفراسٹرکچر، جدید ٹرانسپورٹ اور تعلیم کے مواقع اسی مقصد کی تکمیل کی جانب اہم قدم ہیں۔
پاکستان کو آج بحرانوں سے نکل کر پائیدار ترقی کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔ کپاس کی پیداوار میں اضافہ اس سفر کا ایک اہم سنگ میل بن سکتا ہے، جبکہ پنجاب میں متوازن ترقی، کسان دوست پالیسیوں اور عوامی سہولتوں کے منصوبے اس عمل کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اگر پالیسیوں میں تسلسل، منصوبوں میں معیار اور عملدرآمد میں شفافیت برقرار رکھی جائے تو نہ صرف پنجاب بلکہ پورا ملک معاشی خودکفالت، زرعی استحکام اور صنعتی ترقی کی نئی منزلیں حاصل کر سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- حکومت تمام سیاسی و جمہوری قوتوں کو ساتھ لے کر صوبے کی ترقی ،عوام کی خوشحالی کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے گی،وزیر اعلیٰ بلوچستان
- گورنر بلوچستان نیویارک میں منعقدہ یوتھ اینڈ آرٹیفیشل انٹلیجنس سمٹ میں پاکستان اور بلوچستان کے نوجوانوں کی نمائندگی کریں گے
- مکہ دفاعی معاہدہ: امن، سلامتی اور باہمی تعاون کا نیا باب
- پاکستان ترکی،سعودی عرب مکہ دفاعی معاہدہ۔مسلم دنیا کے اتحاد کی نئی بنیاد یا ایک نئے عہد کا آغاز
- مہنگائی پر قابو پانے کیلئے مؤثر حکمتِ عملی ناگزیر
- پاکستان بھر ڈینگی کا بڑھتا خطرہ اور ہماری ذمہ داریاں
- گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال، مہنگائی کے نئے طوفان کا خدشہ
- پنجاب میں غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی، قانون کی بالادستی کی جانب اہم قدم
- کپاس کی بحالی اور پنجاب کی متوازن ترقی
- مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت سے آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی: رانا ثناء اللہ