تجزیہ بی این پی
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ موجودہ علاقائی اور عالمی حالات میں ایک اہم سفارتی اور تزویراتی پیش رفت ہے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور عالمی سیاست مسلسل تغیرات سے گزر رہی ہے اور سلامتی کے روایتی تصورات نئے چیلنجز سے دوچار ہیں۔ ایسے ماحول میں تین اہم مسلم ممالک کا اپنے دفاع، سلامتی اور باہمی تعاون کو ایک منظم فریم ورک کے تحت آگے بڑھانے کا فیصلہ یقیناً غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے معاہدے کی وضاحت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ اچانک کیا جانے والا فیصلہ نہیں بلکہ کئی برسوں سے جاری مذاکرات، مشاورت اور باہمی غوروفکر کا نتیجہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد امن و سلامتی کو درپیش مختلف نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تزویراتی تعاون کو مضبوط بنانا، خطے میں استحکام پیدا کرنا اور تینوں ممالک کے عوام کے لیے محفوظ اور خوشحال مستقبل کی راہ ہموار کرنا ہے۔
معاہدے کی ایک اہم شق یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس اصول کو اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 میں تسلیم شدہ انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق سے ہم آہنگ قرار دیا گیا ہے۔ اس شق کا بنیادی مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور کسی ممکنہ جارحیت کو روکنے کے لیے اجتماعی عزم کا اظہار ہے۔
یہاں یہ وضاحت نہایت ضروری ہے کہ مکہ معاہدہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے دفاعی معاہدہ ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی واضح کیا ہے کہ یہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد کسی دوسرے ملک کو دھمکی دینا ہے۔ معاہدہ تینوں ممالک کے پہلے سے موجود دوطرفہ اور کثیرالجہتی معاہدوں کو منسوخ یا تبدیل نہیں کرتا۔ اس وضاحت سے یہ پیغام ملتا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں محاذ آرائی کے بجائے تعاون، مذاکرات اور پرامن بقائے باہمی کے اصول کو مقدم رکھنا چاہتا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے نائب وزیر ڈاکٹر رائد قرملی نے بھی معاہدے کے حوالے سے اہم وضاحتیں پیش کی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان یہ معاہدہ کئی دہائیوں پر محیط تاریخی اور تزویراتی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے ذریعے تینوں ممالک کی مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، دفاعی تیاری بہتر کرنے، تزویراتی صلاحیتیں ترقی دینے اور سلامتی و علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے تعاون کو فروغ دینا مقصود ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد کسی فوجی، فرقہ وارانہ یا مسلکی بلاک کا قیام نہیں۔ نہ ہی اس کا تعلق جوہری عزائم یا خطے میں اسلحے کی نئی دوڑ سے ہے۔ یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کہ مشرق وسطیٰ پہلے ہی متعدد پیچیدہ تنازعات اور کشیدگیوں کا شکار ہے۔ ایسے میں کسی بھی نئے دفاعی انتظام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہونا فطری امر ہے۔ اگر تینوں ممالک اپنے معاہدے کو واضح طور پر دفاع، سلامتی اور امن کے دائرے میں رکھتے ہیں تو اس سے نہ صرف عالمی سطح پر اس معاہدے کی قبولیت بڑھے گی بلکہ خطے میں غیر ضروری غلط فہمیوں کا امکان بھی کم ہوگا۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق مکہ معاہدے کی حقیقی اہمیت صرف اس کی دفاعی شقوں میں نہیں بلکہ ان تاریخی تعلقات میں بھی پوشیدہ ہے جو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جبکہ ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی سیاسی، سفارتی، دفاعی اور عوامی سطح پر مضبوط بنیاد رکھتے ہیں۔ تینوں ممالک کے درمیان اعتماد پہلے سے موجود ہے، اس لیے دفاعی تعاون کو ایک مستقل ادارہ جاتی شکل دینا اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ معاہدہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ملک کے پاس دفاعی شعبے میں ایک وسیع تجربہ اور تربیت یافتہ افرادی قوت موجود ہے۔ ترکیہ نے گزشتہ برسوں میں دفاعی ٹیکنالوجی، ڈرونز، دفاعی پیداوار اور جدید عسکری نظام کے شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے، جبکہ سعودی عرب کے پاس مضبوط مالی اور معاشی وسائل موجود ہیں۔ اگر ان تینوں ممالک کی صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کیا جائے تو دفاعی تعاون مستقبل میں مشترکہ پیداوار، تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور دفاعی صنعت کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہی وہ پہلو ہے جس پر پاکستان کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صرف مشترکہ بیانات اور دفاعی مشقیں کافی نہیں ہوں گی۔ اگر مکہ معاہدے کو حقیقی معنوں میں تاریخی بنانا ہے تو اس کے تحت مشترکہ دفاعی منصوبے، تحقیقاتی مراکز، تربیتی پروگرام، ٹیکنالوجی کی منتقلی، سائبر سکیورٹی تعاون اور دفاعی صنعت میں مشترکہ سرمایہ کاری کے راستے کھولنا ہوں گے۔اسی طرح انسداد دہشت گردی کے شعبے میں بھی تینوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ دہشت گردی اب کسی ایک ملک یا خطے کا مسئلہ نہیں رہی۔ اس کے نیٹ ورک سرحدوں سے ماورا ہوچکے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کے باعث ان کے طریقہ کار بھی تبدیل ہورہے ہیں۔ ایسے میں انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، مشترکہ تربیت اور جدید نگرانی کے نظام میں تعاون تینوں ممالک کی سلامتی کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
مکہ معاہدے کا ایک اہم پہلو علاقائی سالمیت کا تحفظ بھی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام عالمی امن کی بنیادی ضرورت ہے۔ اگر یہ اصول معاہدے کے عملی کردار میں بھی نمایاں رہتا ہے تو پاکستان کے لیے یہ اس کی متوازن خارجہ پالیسی کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ ہوگا۔وفاقی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے معاہدے کا بھرپور خیرمقدم بھی اس کی سیاسی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسے امن، سلامتی اور استحکام کی جانب تاریخی سنگ میل قرار دیا، جبکہ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اسے خطے کے امن کے لیے اہم قرار دیا۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر مواصلات علیم خان، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر حکومتی شخصیات نے بھی معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس کے دور رس اثرات کی امید ظاہر کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور کوششوں کو بھی حکومتی حلقوں کی جانب سے سراہا گیا ہے۔ بلاشبہ کسی بھی بڑے بین الاقوامی معاہدے کی تکمیل میں سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی بنیادی کردار ادا کرتی ہے، تاہم ایسے معاہدوں کی کامیابی صرف قیادت کی کاوشوں سے نہیں بلکہ مستقل ریاستی پالیسی، ادارہ جاتی تسلسل اور عملی اقدامات سے ممکن ہوتی ہے۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ مکہ معاہدے پر قومی سطح پر خوشی کا اظہار کیا گیا اور اسلام آباد، لاہور، کراچی سمیت مختلف شہروں میں سرکاری عمارتوں اور اہم مقامات کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے پرچموں اور روشنیوں سے سجایا گیا۔ ان تقریبات نے تینوں ممالک کے عوام کے درمیان موجود جذباتی اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کی۔ تاہم قومی جوش و خروش کو پائیدار قومی مفاد میں تبدیل کرنے کے لیے اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
دفاعی معاہدوں کی اصل کامیابی آتش بازی، چراغاں اور تقریبات سے نہیں بلکہ ان کے عملی نتائج سے سامنے آتی ہے۔ اگر مکہ معاہدے کے نتیجے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تجارت بڑھے، سرمایہ کاری میں اضافہ ہو، دفاعی پیداوار میں مشترکہ منصوبے شروع ہوں، جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ ہو اور تینوں ممالک کی معاشی و دفاعی خود انحصاری مضبوط ہو تو اس معاہدے کی اہمیت کئی گنا بڑھ جائے گی۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان کو اس معاہدے کو صرف دفاعی زاویے سے نہیں بلکہ ایک جامع تزویراتی شراکت داری کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ دفاع اور معیشت آج ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ مضبوط دفاع کے لیے مضبوط معیشت ضروری ہے اور مضبوط معیشت کے لیے پرامن اور مستحکم ماحول ناگزیر ہے۔ چنانچہ پاکستان کو سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون کے ساتھ تجارت، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، تعلیم، زراعت اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانا چاہیے۔
سعودی عرب کی معاشی طاقت، ترکیہ کی صنعتی اور تکنیکی صلاحیت اور پاکستان کی افرادی قوت و دفاعی مہارت ایک دوسرے کے لیے تکمیلی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر تینوں ممالک اپنی صلاحیتوں کو ایک مشترکہ اقتصادی اور دفاعی وڑن کے تحت استعمال کریں تو اس شراکت داری کے نتائج نہ صرف تینوں ریاستوں بلکہ پورے خطے کے لیے مفید ہوسکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو یہ بات بھی پیش نظر رکھنی ہوگی کہ مکہ معاہدہ کسی نئی علاقائی کشیدگی کا سبب نہ بنے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیادی ضرورت یہی ہے کہ وہ تمام برادر اسلامی ممالک اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھے۔ کسی دفاعی شراکت داری کو کسی دوسرے ملک کے خلاف صف بندی کے طور پر پیش کرنا پاکستان کے وسیع تر قومی مفادات کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
اسی لیے مکہ معاہدے کی اصل روح کو دفاعی اتحاد سے زیادہ امن اور اجتماعی سلامتی کے تصور میں تلاش کرنا چاہیے۔ اگر تینوں ممالک اپنے مشترکہ دفاع کو مضبوط کرتے ہوئے تنازعات کے پرامن حل، مذاکرات اور علاقائی تعاون کو بھی فروغ دیتے ہیں تو یہ معاہدہ ایک مثبت سفارتی مثال بن سکتا ہے۔
مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر اس معاہدے کا طے پانا اپنی جگہ ایک گہری علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ مکہ پوری مسلم دنیا کے لیے اتحاد، امن اور روحانی وابستگی کی علامت ہے۔ اس لیے اس مقدس شہر میں طے پانے والے معاہدے سے وابستہ توقعات بھی عام دفاعی معاہدوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ عوام یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ اس شراکت داری کے نتیجے میں مسلم دنیا میں تعاون اور باہمی اعتماد کی نئی فضا پیدا ہوگی۔
تاہم امت مسلمہ کا اتحاد صرف دفاعی معاہدوں سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے سیاسی بصیرت، معاشی تعاون، علمی ترقی، ٹیکنالوجی میں خود انحصاری اور باہمی احترام بھی ضروری ہے۔ مکہ معاہدہ اگر ان وسیع تر مقاصد کی طرف پہلا قدم بن جائے تو اس کی تاریخی حیثیت مزید مضبوط ہوجائے گی۔
پاکستان کے لیے سب سے اہم چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اس معاہدے سے پیدا ہونے والے سفارتی مواقع کو معاشی فوائد میں تبدیل کرے۔ دفاعی تعلقات کو تجارت سے جوڑنا، مشترکہ صنعتی منصوبے شروع کرنا، سرمایہ کاری کے لیے سہولتیں پیدا کرنا اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا وہ اقدامات ہیں جن سے عام پاکستانی کو اس معاہدے کی اہمیت محسوس ہوسکے گی۔
دوسری طرف سعودی عرب اور ترکیہ کے لیے بھی پاکستان محض ایک دفاعی شراکت دار نہیں بلکہ ایک بڑی منڈی، اہم جغرافیائی محل وقوع رکھنے والی ریاست اور وسیع انسانی وسائل کا حامل ملک ہے۔ تینوں ممالک اگر ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو باہم جوڑیں تو جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت اور اقتصادی روابط کے لیے بھی نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ اس معاہدے کے تحت پیدا ہونے والے تعاون کو ادارہ جاتی شکل دی جائے تاکہ یہ کسی ایک حکومت یا شخصیت کی مدت تک محدود نہ رہے۔ مشترکہ کمیٹیاں، مستقل رابطہ نظام، سالانہ اجلاس، دفاعی منصوبہ بندی اور واضح اہداف اس تعاون کو دیرپا بنا سکتے ہیں۔ ریاستوں کے درمیان تعلقات شخصیات سے آگے بڑھ کر اداروں کے ذریعے مضبوط ہوتے ہیں۔
مجموعی طور پر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ اسے محض ایک دفاعی دستاویز سمجھنے کے بجائے وسیع تر امن، سلامتی، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر تینوں ممالک نے اس معاہدے کو ذمہ داری، دانش مندی اور عملی اقدامات کے ساتھ آگے بڑھایا تو یہ خطے میں تعاون کی ایک نئی مثال قائم کرسکتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت اور سفارتی اہمیت کو معاشی ترقی اور علاقائی امن کے ساتھ جوڑ دے۔ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ قریبی تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم اثاثہ ہیں، لیکن ان تعلقات کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق مزید وسیع اور مضبوط بنانا ہوگا۔مکہ معاہدے کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ معاہدے پر دستخط ایک سنگ میل ضرور ہیں، منزل نہیں۔ منزل اس وقت حاصل ہوگی جب تینوں ممالک کے درمیان اعتماد عملی تعاون میں تبدیل ہوگا، دفاعی شراکت داری معاشی ترقی کا ذریعہ بنے گی، اور مشترکہ طاقت کو کسی کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے امن کے تحفظ کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔اگر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اس وژن پر ثابت قدم رہتے ہیں تو مکہ معاہدہ محض تین ریاستوں کا دفاعی معاہدہ نہیں رہے گا بلکہ یہ خطے میں امن، سلامتی، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے ایک نئے دور کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہی اس تاریخی معاہدے کی سب سے بڑی کامیابی اور تینوں ممالک کی قیادت کی اصل ذمہ داری بھی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- حکومت تمام سیاسی و جمہوری قوتوں کو ساتھ لے کر صوبے کی ترقی ،عوام کی خوشحالی کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے گی،وزیر اعلیٰ بلوچستان
- گورنر بلوچستان نیویارک میں منعقدہ یوتھ اینڈ آرٹیفیشل انٹلیجنس سمٹ میں پاکستان اور بلوچستان کے نوجوانوں کی نمائندگی کریں گے
- مکہ دفاعی معاہدہ: امن، سلامتی اور باہمی تعاون کا نیا باب
- پاکستان ترکی،سعودی عرب مکہ دفاعی معاہدہ۔مسلم دنیا کے اتحاد کی نئی بنیاد یا ایک نئے عہد کا آغاز
- مہنگائی پر قابو پانے کیلئے مؤثر حکمتِ عملی ناگزیر
- پاکستان بھر ڈینگی کا بڑھتا خطرہ اور ہماری ذمہ داریاں
- گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال، مہنگائی کے نئے طوفان کا خدشہ
- پنجاب میں غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی، قانون کی بالادستی کی جانب اہم قدم
- کپاس کی بحالی اور پنجاب کی متوازن ترقی
- مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت سے آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی: رانا ثناء اللہ