تجزیہ بی این پی
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین مکہ مکرمہ میں طے پانے والا سہ ملکی دفاعی معاہدہ مسلم دنیا، مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست کے تناظر میں ایک غیر معمولی پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی شدید کشیدگی، جنگی خطرات، علاقائی تنازعات اور بڑی طاقتوں کی باہمی کشمکش کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دفاعی معاہدے کو صرف تین ممالک کے درمیان عسکری تعاون کا معاملہ سمجھنا اس کی حقیقی اہمیت کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس کے ممکنہ اثرات خلیج، جنوبی ایشیا، مشرقی بحیرہ روم، بحیرہ احمر اور پوری مسلم دنیا کی سلامتی کی صورتِ حال پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
مکہ مکرمہ جیسی مقدس سرزمین پر اس معاہدے کا طے پانا اپنی جگہ ایک علامتی اور غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم سمیت متعدد مسلم ممالک نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے معاہدے کو اسلامی ممالک کی یکجہتی، مشترکہ عزم اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کا تعاون خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک بنیادی ستون ثابت ہو سکتا ہے اور رکن ممالک کے درمیان تعمیری شراکت داری کو فروغ دے سکتا ہے۔
حرمین شریفین سے متعلق مذہبی امور کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس نے بھی مقدس ماحول میں اس معاہدے کے طے پانے کو خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ بحرین نے اسے تینوں برادر ممالک کی دفاعی صلاحیتوں اور عسکری مہارت کے اعتراف سے تعبیر کیا جبکہ یمن نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے بحیرہ احمر، خلیجِ عدن اور باب المندب کی سلامتی کے حوالے سے اسے اہم قرار دیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس معاہدے کو صرف پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب تک محدود نہیں سمجھا جا رہا بلکہ اس کے ممکنہ اثرات وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھے جا رہے ہیں۔
معاہدے کی سب سے اہم خصوصیت اس کی اجتماعی دفاعی نوعیت ہے۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ نیٹو کے آرٹیکل پانچ کے اصول سے مماثلت رکھتا ہے۔ نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصول کے تحت ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگرچہ مسلم دنیا کے لیے اس نوعیت کا کوئی مؤثر اور باقاعدہ دفاعی نظام پہلے بھی مختلف شکلوں میں زیرِ بحث آتا رہا ہے، تاہم تین بااثر مسلم ممالک کا ایک واضح دفاعی فریم ورک میں اکٹھا ہونا بہرحال اہم پیش رفت ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ معاہدہ واقعی کسی وسیع تر مسلم دفاعی اتحاد کی بنیاد بن سکتا ہے؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو مسلم دنیا کی دفاعی، سفارتی اور تزویراتی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے محض معاہدہ کافی نہیں ہوگا۔ اس کے لیے واضح مقاصد، مؤثر ادارہ جاتی ڈھانچہ، مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی، انٹیلی جنس تعاون، عسکری تربیت، جدید ٹیکنالوجی، مشترکہ مشقیں اور سب سے بڑھ کر سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہوگا۔
ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف نہیں ہے۔ یہ وضاحت انتہائی اہم ہے کیونکہ موجودہ حالات میں کسی بھی نئے دفاعی اتحاد کو ایران مخالف سمجھا جانا خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب اگر واقعی ایک وسیع تر مسلم سلامتی کے تصور کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو انہیں اس اتحاد کو کسی ایک ملک کے خلاف صف بندی کے بجائے مسلم دنیا کے اجتماعی امن و استحکام کا ذریعہ بنانا ہوگا۔
**تجزیہ بی این پی** کے مطابق اس معاہدے کی اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف عسکری محاذ بندی کے بجائے اجتماعی سلامتی کے وسیع تر تصور میں ڈھالا جائے۔ مسلم دنیا پہلے ہی کئی سیاسی اور جغرافیائی تقسیموں کا شکار ہے۔ اگر ایک نیا دفاعی اتحاد بھی علاقائی رقابتوں کا حصہ بن گیا تو اس سے اتحاد کے بجائے مزید تقسیم پیدا ہونے کا خطرہ ہوگا۔ اس کے برعکس اگر اس کا مقصد تمام مسلم ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بیرونی جارحیت سے تحفظ قرار دیا جائے تو یہ ایک مؤثر اور مثبت ادارہ بن سکتا ہے۔موجودہ حالات میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ امریکی سینیٹر جان ہیکن لوپر سمیت بعض سینیٹرز کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کے لیے قرارداد پیش کیے جانے سے اندازہ ہوتا ہے کہ خود امریکا کے اندر بھی اس جنگ کے نتائج پر اختلافات موجود ہیں۔ امریکی قانون سازوں کے مطابق جنگ کے باعث امریکی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، توانائی اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ امریکی فوجی ذخائر بھی دباؤ کا شکار ہیں۔
دوسری جانب ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا مؤقف ہے کہ ایران دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں تاہم وہ جنگ یا جارحیت کا خواہاں بھی نہیں۔ ان کے مطابق ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں اور سلامتی کا تحفظ کر رہا ہے اور اگر ایران کے خلاف دھمکیاں اور دباؤ ختم ہو جائیں تو کشیدگی جاری رکھنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔ ایرانی قیادت مسلسل مذاکرات اور سفارتکاری کو جنگ کے مقابلے میں ترجیح دینے کا عندیہ دے رہی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مسلم ممالک کی سفارتی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر مسلم دنیا کے اہم ممالک کسی اجتماعی دفاعی یا سلامتی کے نظام کی تشکیل چاہتے ہیں تو انہیں جنگی ماحول میں محض عسکری ردعمل تک محدود رہنے کے بجائے سفارتی راستے بھی کھلے رکھنے ہوں گے۔ دفاعی طاقت کا بنیادی مقصد جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ جنگ روکنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ ایک مضبوط دفاعی اتحاد اگر دشمن کو جارحیت سے باز رکھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے تو وہ خطے میں امن کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کی جانب سے بھی ایران جنگ سے نکلنے کے راستے تلاش کرنے کا مشورہ اس تناظر میں اہم ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق ان کے خیال میں جنگ کو مزید بڑھانے کے فوجی آپشن کا نتیجہ الٹا نکل سکتا ہے اور صرف فضائی طاقت کے ذریعے ایران کو شکست دینا یا مطلوبہ معاہدے پر مجبور کرنا آسان نہیں ہوگا۔ امریکی انتظامیہ کے اندر دیگر اہم شخصیات کی جانب سے بھی جنگ کو مزید وسعت دینے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔یہ صورتِ حال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جدید جنگیں محض فوجی طاقت کے ذریعے آسانی سے اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچتیں۔ فضائی حملے، میزائل، ڈرون اور جدید ہتھیار وقتی طور پر فوجی اہداف کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، لیکن طویل المدت سیاسی مسائل کا حل مذاکرات اور سفارتکاری ہی کے ذریعے تلاش کیا جا سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت کے استعمال سے پیدا ہونے والے خلا کو سیاسی حکمتِ عملی کے بغیر پْر نہیں کیا جا سکتا۔ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس کے اثرات دونوں ممالک تک محدود نہیں رہتے۔ خلیجی ممالک، بحیرہ? احمر، خلیجِ عدن، آبنائے ہرمز اور دیگر اہم بحری راستے عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان علاقوں میں جنگ کی شدت پوری عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت کے اخراجات میں اضافہ اور سپلائی چین میں رکاوٹیں پہلے ہی کمزور معیشتوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران خطے میں موجود امریکی تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ بعض دیگر ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔ کسی بھی خودمختار ملک کی سرزمین اور شہری انفراسٹرکچر کو بلاجواز نشانہ بنانا قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ اس لیے مسلم ممالک کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اجتماعی سلامتی کے کسی بھی نظام میں شہریوں، بنیادی ڈھانچے اور ریاستی خودمختاری کے تحفظ کو بنیادی اصول بنائیں۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا موجودہ معاہدہ اسی لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے کہ تینوں ممالک مسلم دنیا کے مختلف خطوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کی دفاعی و سفارتی صلاحیتیں بھی نمایاں ہیں۔ سعودی عرب خلیج اور عرب دنیا میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، پاکستان جنوبی ایشیا کی ایک اہم عسکری طاقت ہے جبکہ ترکیہ نیٹو کا رکن اور جدید دفاعی صنعت رکھنے والا اہم ملک ہے۔ ان تینوں کی شراکت داری اگر مؤثر ادارہ جاتی تعاون میں تبدیل ہو جاتی ہے تو مسلم دنیا کے لیے ایک نیا دفاعی اور تزویراتی ماڈل سامنے آ سکتا ہے۔
تاہم یہاں ماضی کے تجربات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ 2017ء میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں 41 مسلم ممالک کی افواج کے اشتراک سے اسلامی عسکری اتحاد کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس وقت بھی یہ امید ظاہر کی گئی تھی کہ مسلم ممالک مشترکہ طور پر دہشت گردی اور سکیورٹی کے چیلنجز کا مقابلہ کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک نیا اتحاد اس سے آگے بڑھ کر مسلم نیٹو کی بنیاد رکھنے جا رہا ہے تو پھر گزشتہ اتحاد کے تجربات سے کیا سبق حاصل کیا گیا ہے؟
کسی بھی نئے اتحاد کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کے مقاصد مبہم نہ ہوں۔ اگر اتحاد دہشت گردی کے خلاف ہے تو اس کی تعریف واضح ہونی چاہیے۔ اگر یہ بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاع کے لیے ہے تو اس کے اصول طے ہونے چاہئیں۔ اگر اس کا مقصد مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون ہے تو تمام رکن ممالک کی مساوی حیثیت کو یقینی بنانا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی بھی بڑے مسلم ملک کو اس عمل سے باہر رکھنے سے اتحاد کی نمائندگی محدود ہو سکتی ہے۔
اسی تناظر میں ایران کی شمولیت کا سوال انتہائی اہم بن جاتا ہے۔ اگر مستقبل میں واقعی ایک وسیع تر مسلم دفاعی اتحاد قائم کیا جاتا ہے تو ایران کو اس عمل سے الگ رکھنا ایک بڑی سیاسی اور تزویراتی کمزوری ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران اور عرب ممالک کے درمیان اختلافات اپنی جگہ، لیکن مسلم دنیا کے اجتماعی مفادات کا تقاضا ہے کہ اختلافات کے باوجود رابطے اور مکالمے کے دروازے بند نہ کیے جائیں۔ اگر ایک ایسا اتحاد قائم ہو جو ایران سمیت تمام بڑے مسلم ممالک کو مشترکہ سلامتی کے اصول پر اکٹھا کر سکے تو وہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہوگا کہ مسلم دنیا اپنے اختلافات کو سفارتی طریقے سے حل کرنے اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کی صلاحیت رکھتی ہے۔ایران کو شامل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان، ترکیہ یا سعودی عرب اپنی موجودہ خارجہ پالیسیوں سے دستبردار ہو جائیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوگا کہ مسلم دنیا میں اختلافات کو مستقل دشمنی میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔ ایک مضبوط مسلم اتحاد وہی ہو سکتا ہے جس میں اختلاف رکھنے والے ممالک بھی مشترکہ سلامتی کے اصول پر ایک میز پر بیٹھ سکیں۔
پاکستان کے لیے اس معاہدے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ برادرانہ اور دفاعی تعلقات رکھتا ہے، دوسری طرف ترکیہ کے ساتھ بھی سیاسی، دفاعی اور سفارتی تعاون کے گہرے روابط ہیں۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے سب سے اہم چیلنج یہی ہوگا کہ وہ ان تمام تعلقات میں توازن برقرار رکھتے ہوئے مسلم دنیا میں مفاہمت اور اجتماعی سلامتی کا کردار ادا کرے۔ پاکستان اگر اس عمل کو محض دفاعی اتحاد کے بجائے سفارتی پل کے طور پر بھی استعمال کرے تو اس کی علاقائی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔ترکیہ بھی اس عمل میں ایک منفرد کردار ادا کر سکتا ہے۔ وہ یورپی سلامتی کے نظام، نیٹو اور مسلم دنیا کے درمیان ایک اہم جغرافیائی اور سیاسی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے پاس مالی اور اقتصادی وسائل کے ساتھ ساتھ عرب دنیا میں نمایاں اثر و رسوخ موجود ہے جبکہ پاکستان کے پاس بڑی عسکری قوت اور وسیع دفاعی تجربہ ہے۔ ان تینوں کی صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتی ہیں۔
تجزیہ بی این پی یہ واضح کرتا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کی اصل آزمائش اس کے اعلان میں نہیں بلکہ اس پر عملی پیش رفت میں ہوگی۔ اگر یہ معاہدہ صرف مشترکہ بیانات، رسمی اجلاسوں اور عسکری تعاون تک محدود رہا تو اس کے اثرات محدود ہوں گے۔ لیکن اگر اس کے نتیجے میں مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ، انٹیلی جنس تعاون، مشترکہ فوجی مشقیں، سائبر سکیورٹی، بحری سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف مربوط حکمتِ عملی تشکیل پاتی ہے تو یہ معاہدہ مسلم دنیا کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔مسلم دنیا کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ محض عسکری طاقت نہیں بلکہ مشترکہ حکمتِ عملی ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے اقتصادی، دفاعی اور سفارتی مفادات کے لیے علاقائی اتحاد قائم کرتی ہیں۔ مسلم ممالک کے پاس آبادی، قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت، دفاعی صلاحیت اور اقتصادی امکانات کی کمی نہیں، کمی اگر ہے تو وہ باہمی سیاسی اعتماد اور مستقل ادارہ جاتی تعاون کی ہے۔
مکہ مکرمہ میں ہونے والا دفاعی معاہدہ اس خلا کو پْر کرنے کی ایک کوشش بن سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ اگر یہ معاہدہ ایران مخالف تصور ہونے لگا تو اس سے مسلم دنیا کی موجودہ تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے۔ اگر اس کے برعکس اسے تمام مسلم ممالک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی امن کے لیے کھلا پلیٹ فارم بنایا جائے تو اس کے امکانات کہیں زیادہ روشن ہوں گے۔آج مسلم دنیا کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو اختلافات کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے روکے، دفاعی قوت کو جارحیت کے بجائے امن کی ضمانت بنائے اور سفارتکاری کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی علامت سمجھے۔ مکہ مکرمہ سے شروع ہونے والا یہ عمل اگر واقعی مسلم دنیا کے اجتماعی دفاع اور سلامتی کے تصور کو جنم دیتا ہے تو اسے تاریخ میں ایک اہم موڑ کے طور پر یاد رکھا جا سکتا ہے۔اصل کامیابی یہ نہیں ہوگی کہ مسلم ممالک کتنے ہتھیار خریدتے ہیں یا کتنی فوجی مشقیں کرتے ہیں، بلکہ کامیابی یہ ہوگی کہ وہ کس حد تک اپنے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی خودمختاری اور سلامتی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ ایک حقیقی مسلم دفاعی اتحاد وہی ہوگا جو کسی مخصوص ملک کو شکست دینے کے لیے نہیں بلکہ مسلم دنیا میں جنگ کے امکانات کم کرنے، بیرونی جارحیت کو روکنے، علاقائی امن کو مضبوط بنانے اور سفارتی حل کے لیے مؤثر ماحول پیدا کرنے کے لیے قائم ہو۔
مکہ مکرمہ کی سرزمین سے شروع ہونے والے اس نئے دفاعی باب کو اسی وسیع تر وڑن کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب اس معاہدے کو وسیع تر مسلم اتفاقِ رائے کی طرف لے جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور مستقبل میں ایران سمیت دیگر اہم مسلم ممالک کو بھی اس اجتماعی سلامتی کے تصور کا حصہ بنانے کی راہ ہموار کرتے ہیں تو یہ صرف ایک دفاعی معاہدہ نہیں رہے گا بلکہ مسلم دنیا کے سیاسی، سفارتی اور تزویراتی مستقبل کی نئی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہی اس معاہدے کا حقیقی امتحان بھی ہے اور سب سے بڑا تاریخی امکان بھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- حکومت تمام سیاسی و جمہوری قوتوں کو ساتھ لے کر صوبے کی ترقی ،عوام کی خوشحالی کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے گی،وزیر اعلیٰ بلوچستان
- گورنر بلوچستان نیویارک میں منعقدہ یوتھ اینڈ آرٹیفیشل انٹلیجنس سمٹ میں پاکستان اور بلوچستان کے نوجوانوں کی نمائندگی کریں گے
- مکہ دفاعی معاہدہ: امن، سلامتی اور باہمی تعاون کا نیا باب
- پاکستان ترکی،سعودی عرب مکہ دفاعی معاہدہ۔مسلم دنیا کے اتحاد کی نئی بنیاد یا ایک نئے عہد کا آغاز
- مہنگائی پر قابو پانے کیلئے مؤثر حکمتِ عملی ناگزیر
- پاکستان بھر ڈینگی کا بڑھتا خطرہ اور ہماری ذمہ داریاں
- گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال، مہنگائی کے نئے طوفان کا خدشہ
- پنجاب میں غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی، قانون کی بالادستی کی جانب اہم قدم
- کپاس کی بحالی اور پنجاب کی متوازن ترقی
- مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت سے آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی: رانا ثناء اللہ