تجزیہ بی این پی
پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی نوجوان ملک کی اصل قوت، مستقبل کی امید اور قومی ترقی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر اس انسانی سرمائے کو معیاری تعلیم، جدید فنی تربیت، روزگار کے مساوی مواقع، کاروباری سہولتوں اور بااختیار ماحول کی فراہمی میسر آ جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی موجودہ مشکلات سے نکل سکتا ہے بلکہ آنے والی دہائیوں میں دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی اقوام میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ملک کی پہلی نیشنل یوتھ پالیسی کا اعلان ایک اہم اور قابلِ تحسین پیش رفت ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔
نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے پہلی نیشنل یوتھ پالیسی کے خدوخال پیش کیے اور نوجوان نسل کو تعلیم، ہنر، روزگار، ٹیکنالوجی اور کاروبار کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے متعدد اہم اقدامات کا اعلان کیا۔ ان اعلانات میں لیبر فورس میں خواتین کے لیے 35 فیصد کوٹہ لازمی قرار دینا، نوجوانوں کو ملازمت کی تلاش تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے اسٹارٹ اپ معاونت فراہم کرنا اور اس مقصد کے لیے دس فیصد کوٹہ مقرر کرنا خاص طور پر اہم ہے۔ یہ اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ نوجوانوں کو محض انتخابی نعروں یا وقتی پروگراموں کے بجائے قومی ترقی کے مستقل شراکت دار کے طور پر دیکھنے کی ضرورت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں ایک عرصے سے یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ ملک کی بڑی نوجوان آبادی کو ترقی کا ذریعہ کیسے بنایا جائے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں لیکن ان میں سے ایک بڑی تعداد اپنی قابلیت کے مطابق روزگار حاصل نہیں کر پاتی۔ بہت سے نوجوانوں کے پاس صلاحیت، جذبہ اور تخلیقی سوچ تو ہوتی ہے مگر سرمایہ، رہنمائی اور مواقع کی کمی ان کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ نیشنل یوتھ پالیسی کا سب سے نمایاں پہلو یہی ہے کہ اس مسئلے کو صرف سرکاری ملازمتوں کے ذریعے حل کرنے کے بجائے نوجوانوں کو کاروبار، ٹیکنالوجی اور خود روزگاری کی طرف بھی راغب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
وزیراعظم کا یہ اعلان کہ نوجوانوں کو ملازمتوں کے انتظار میں رکھنے کے بجائے انہیں اپنا آسان کاروبار شروع کرنے کے لیے اسٹارٹ اپس کی معاونت فراہم کی جائے گی، موجودہ عالمی معاشی رجحانات سے ہم آہنگ فیصلہ ہے۔ دنیا بھر میں چھوٹے کاروبار، ٹیکنالوجی پر مبنی نئی کمپنیاں اور نوجوانوں کے تخلیقی منصوبے معیشت کے نئے انجن بن چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر نوجوانوں کو آسان قرضے، کاروباری تربیت، مارکیٹ تک رسائی، قانونی سہولت، ٹیکس سے متعلق رہنمائی اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے تو ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
یہاں دس فیصد کوٹہ بھی ایک مثبت سوچ کی عکاسی کرتا ہے، تاہم اس پالیسی کی اصل کامیابی اس کے عملی نفاذ میں ہوگی۔ نوجوانوں کو رقم فراہم کرنا کافی نہیں، انہیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ کاروباری منصوبہ کیسے بنایا جاتا ہے، مارکیٹ کا جائزہ کیسے لیا جاتا ہے، جدید ڈیجیٹل ذرائع سے مصنوعات کی تشہیر کیسے کی جاتی ہے اور کاروبار کو پائیدار بنیادوں پر کیسے چلایا جاتا ہے۔ اگر حکومت مالی معاونت کے ساتھ تربیت اور رہنمائی کا جامع نظام بھی قائم کرے تو اس پروگرام کے نتائج کہیں زیادہ مؤثر ہو سکتے ہیں۔
خواتین کے لیے لیبر فورس میں 35 فیصد کوٹہ مقرر کرنے کا اعلان بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی خواتین آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں، مگر معاشی سرگرمیوں میں ان کی شرکت ان کی صلاحیت اور تعداد کے مقابلے میں اب بھی محدود ہے۔ خواتین کو تعلیم، روزگار اور کاروبار کے یکساں مواقع فراہم کیے بغیر قومی ترقی کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا۔ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کا مطلب صرف انفرادی خاندانوں کی آمدن میں اضافہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی معاشی بنیاد مضبوط کرنا ہے۔
خواتین کے لیے مقررہ کوٹہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس سے اداروں، صنعتوں اور کاروباری شعبے کو خواتین کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کی ترغیب ملے گی۔ تاہم اس کے ساتھ کام کرنے والی خواتین کے لیے محفوظ ماحول، مساوی اجرت، پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع، ہراسانی سے تحفظ، زچگی سے متعلق سہولتیں اور کام اور خاندان کے درمیان توازن کے لیے مناسب پالیسیوں کی بھی ضرورت ہوگی۔ صرف کوٹہ مقرر کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے، بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں خواتین اپنی قابلیت کے مطابق آگے بڑھ سکیں۔وزیراعظم نے تعلیم کے حوالے سے بھی اہم اعلانات کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان بھر سے طلبہ کو میرٹ کی بنیاد پر سرکاری خرچ پر چین بھیجا گیا تاکہ وہ زراعت کی جدید تعلیم حاصل کر سکیں، جبکہ اب ایک ہزار بچوں کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی تعلیم کے لیے چین بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا سائنس اور جدید کمپیوٹنگ وہ شعبے ہیں جو مستقبل کی معیشت کا تعین کر رہے ہیں۔ پاکستان کے نوجوان اگر ان شعبوں میں عالمی معیار کی تعلیم اور تربیت حاصل کریں تو ملک کے لیے برآمدات، روزگار اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔
اسی طرح اسلام آباد میں دانش یونیورسٹی کے قیام اور آئندہ سال کلاسز کے آغاز کا اعلان بھی نوجوانوں کے لیے ایک امید افزا قدم ہے۔ وزیراعظم کے مطابق اس یونیورسٹی میں تکنیکی تعلیم اور جدید علوم پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور داخلہ میرٹ کی بنیاد پر ہوگا، خواہ طالب علم مالی طور پر کمزور ہی کیوں نہ ہو۔ یہ تصور پاکستان کے تعلیمی نظام میں اس بنیادی اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ ذہانت اور قابلیت کا تعلق دولت سے نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان کے تعلیمی نظام کا سب سے بڑا مسئلہ یہی عدم مساوات ہے۔ ایک طرف صاحبِ استطاعت خاندان اپنے بچوں کو دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں تک رسائی فراہم کر سکتے ہیں جبکہ دوسری طرف متوسط اور غریب گھرانوں کے ذہین بچے صرف وسائل کی کمی کے باعث اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار نہیں لا پاتے۔ وزیراعظم نے اسی تضاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر امیر اور غریب کے بچوں کو مساوی تعلیم کے مواقع حاصل نہ ہوں تو یہ قائداعظم کا پاکستان نہیں ہوگا۔
دانش اسکولوں کے قیام کو بھی اسی سوچ کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ پنجاب میں ان اسکولوں کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے بعد گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بلوچستان میں بھی ایسے اداروں کے قیام کی بات کی گئی ہے جہاں مستحق بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی۔ اگر واقعی ان اداروں میں معیار، میرٹ اور شفافیت برقرار رکھی جائے تو یہ تعلیمی محرومی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے لیپ ٹاپ پروگرام کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اب تک سات لاکھ بچوں میں میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا چکے ہیں، جبکہ رواں سال ملک بھر کے مزید ڈھائی لاکھ بچوں کو کروم بکس فراہم کی جائیں گی۔ ڈیجیٹل دور میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تک رسائی اب عیش و عشرت نہیں بلکہ تعلیم اور روزگار کی بنیادی ضرورت بنتی جا رہی ہے۔ ایک غریب طالب علم کے ہاتھ میں جدید ڈیجیٹل ڈیوائس اسے آن لائن تعلیم، فری لانسنگ، تحقیق، پروگرامنگ اور عالمی روزگار کی منڈی تک رسائی دے سکتی ہے۔
وزیراعظم کا یہ جملہ کہ وہ لیپ ٹاپ کو صرف مشین نہیں بلکہ مشن سمجھتے ہیں، دراصل نوجوانوں کو جدید دنیا سے جوڑنے کی پالیسی کی ترجمانی کرتا ہے۔ تاہم یہاں بھی اصل کامیابی صرف آلات تقسیم کرنے سے نہیں بلکہ ان کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے سے ہوگی۔ دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ، بجلی، تربیت اور ڈیجیٹل خواندگی کے مسائل حل کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ نوجوانوں کو کمپیوٹر فراہم کرنا۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق نیشنل یوتھ پالیسی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں نوجوانوں کو مسئلہ نہیں بلکہ حل کا حصہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پاکستان کو اس وقت ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو صرف ملازمت کے امیدوار نہ ہوں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بنیں، جو صرف ڈگری حاصل نہ کریں بلکہ ہنر بھی سیکھیں، جو صرف مقامی منڈی تک محدود نہ رہیں بلکہ عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اپنا مقام بنائیں۔ وزیراعظم کے اعلانات اسی سمت ایک پالیسی فریم ورک تشکیل دینے کی کوشش دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ وزیراعظم نے 1947 کے پاکستان اور 2047 کے پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے نوجوانوں کو مستقبل کا معمار قرار دیا۔ یہ ایک علامتی مگر گہرا پیغام ہے۔ پاکستان کے قیام کو ایک صدی مکمل ہونے کے وقت آج کا نوجوان ہی عملی طور پر ملک کی قیادت کر رہا ہوگا۔ اس لیے 2047 کے پاکستان کی بنیاد آج کے تعلیمی، معاشی اور سماجی فیصلوں پر رکھی جا رہی ہے۔ اگر آج نوجوانوں کو صحیح سمت، معیاری تعلیم اور مساوی مواقع فراہم کیے گئے تو 2047 کا پاکستان کہیں زیادہ مضبوط، خودمختار اور خوشحال ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ نوجوانوں کے لیے اعلان کردہ منصوبوں کو ایک جامع قومی حکمت عملی سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں مختلف حکومتوں نے نوجوانوں کے نام پر کئی پروگرام شروع کیے، مگر بعض منصوبے تسلسل، نگرانی، شفافیت اور مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث اپنی مطلوبہ منزل تک نہ پہنچ سکے۔ اس مرتبہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نیشنل یوتھ پالیسی کو سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ایک مستقل قومی پالیسی بنایا جائے۔
اس پالیسی کے تحت نوجوانوں کے لیے ایک ایسا مربوط نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جس میں اسکول سے یونیورسٹی، یونیورسٹی سے ہنر اور ہنر سے روزگار یا کاروبار تک کا مکمل راستہ موجود ہو۔ ہر نوجوان کو اس کی صلاحیت، دلچسپی اور تعلیمی پس منظر کے مطابق رہنمائی فراہم کی جائے۔ دیہی علاقوں کے نوجوانوں کے لیے زرعی ٹیکنالوجی، شہری نوجوانوں کے لیے آئی ٹی اور سروسز، خواتین کے لیے گھر سے کاروبار اور ڈیجیٹل روزگار، جبکہ فنی تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے صنعتوں سے منسلک تربیتی پروگرام شروع کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان کے نوجوان صرف ملازمت کے متلاشی نہیں؛ وہ تخلیق کار، محقق، انجینئر، ڈاکٹر، کسان، صنعت کار، فری لانسر، فنکار اور کاروباری شخصیت بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ریاست کا کام ان صلاحیتوں کے سامنے موجود غیر ضروری رکاوٹیں ختم کرنا ہے۔ اگر ایک نوجوان کو کاروبار شروع کرنے کے لیے آسان قرضہ، مناسب تربیت، سرپرستی اور مارکیٹ تک رسائی مل جائے تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ کئی دوسرے افراد کے لیے بھی روزگار پیدا کر سکتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ نیشنل یوتھ پالیسی کے ثمرات صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں۔ بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، اندرون سندھ، جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا اور دیگر پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو بھی وہی مواقع ملنے چاہئیں جو اسلام آباد، لاہور، کراچی اور دیگر بڑے شہروں کے نوجوانوں کو دستیاب ہیں۔ پاکستان کے نوجوانوں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں، فرق صرف مواقع کا ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے خواتین کے لیے 35 فیصد کوٹہ، اسٹارٹ اپس کے لیے دس فیصد کوٹہ، چین میں جدید تعلیم کے مواقع، دانش یونیورسٹی، دانش اسکولوں کی توسیع اور ڈیجیٹل آلات کی فراہمی جیسے اقدامات بظاہر مختلف منصوبے ہیں، مگر ان سب کو ایک ہی قومی مقصد سے جوڑا جا سکتا ہے: نوجوان نسل کو تعلیم یافتہ، ہنرمند، بااختیار اور معاشی طور پر خودمختار بنانا۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پہلی نیشنل یوتھ پالیسی کا اعلان محض ایک سرکاری پروگرام کا آغاز نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے بارے میں ایک اہم سیاسی اور معاشی تصور پیش کرنے کی کوشش ہے۔ اگر اس پالیسی پر میرٹ، شفافیت، تسلسل اور حقیقی معنوں میں مساوی مواقع کے اصولوں کے مطابق عملدرآمد کیا گیا تو یہ ملک کی نوجوان آبادی کو ایک بوجھ کے بجائے قومی ترقی کی سب سے بڑی طاقت میں تبدیل کر سکتی ہے۔
یقیناً پالیسی کا اعلان اپنی جگہ اہم ہے، مگر اصل امتحان اس کے عملی نفاذ کا ہوگا۔ نوجوانوں کو وعدوں سے زیادہ مواقع درکار ہیں، انہیں تقریروں سے زیادہ عملی سہولتیں چاہئیں اور انہیں محض منصوبوں کے اعلانات کے بجائے ایسی ریاستی سرپرستی چاہیے جو ان کی قابلیت پر اعتماد کرے۔ اگر حکومت اعلان کردہ پروگراموں کے لیے مناسب بجٹ، مضبوط نگرانی، شفاف میرٹ اور مؤثر ادارہ جاتی نظام یقینی بناتی ہے تو وزیراعظم شہباز شریف کا یہ اقدام واقعی ایک یادگار قومی پیش رفت بن سکتا ہے۔
پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد اس کی نوجوان نسل ہے۔ جس ملک کے پاس کروڑوں نوجوان ہوں، اس کے پاس ترقی کے لیے انسانی سرمایہ موجود ہے؛ ضرورت صرف اسے درست سمت دینے کی ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، ٹیکنالوجی، کاروبار اور مساوی مواقع فراہم کر کے پاکستان کو ایک ایسی معیشت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جہاں روزگار تلاش کرنے والوں کی تعداد کم اور روزگار پیدا کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہو۔
وزیراعظم کا یہ کہنا کہ 1947 میں پاکستان بزرگوں نے بنایا تھا مگر 2047 کا پاکستان نوجوان اپنی مرضی سے بنائیں گے، دراصل مستقبل کی ذمہ داری نوجوانوں کے سپرد کرنے کا پیغام ہے۔ اب اس پیغام کو عملی حقیقت میں بدلنے کی ذمہ داری حکومت، تعلیمی اداروں، نجی شعبے، صنعت، مالیاتی اداروں اور خود نوجوانوں سب پر عائد ہوتی ہے۔ اگر یہ سب ایک سمت میں آگے بڑھیں تو نیشنل یوتھ پالیسی پاکستان کے لیے محض ایک حکومتی دستاویز نہیں بلکہ قومی تبدیلی کا نقط آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا یہ فیصلہ اسی لیے قابلِ ستائش ہے کہ اس میں پاکستان کے مستقبل کو نوجوانوں کی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر میرٹ کو اولین ترجیح، تعلیم کو بنیادی حق، ہنر کو معاشی طاقت، خواتین کو برابر کا شراکت دار اور نوجوانوں کو ترقی کا اصل محرک سمجھا جائے تو پاکستان اپنی مشکلات پر قابو پا سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ نوجوانوں کے خوابوں کو صرف خواب نہ رہنے دیا جائے بلکہ انہیں تعلیم، مواقع، سرمایہ اور اعتماد فراہم کر کے قومی کامیابی میں تبدیل کیا جائے۔ یہی پہلی نیشنل یوتھ پالیسی کی اصل روح اور وزیراعظم شہباز شریف کی اس پیش رفت کا سب سے بڑا امتحان بھی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- بحیرہ احمر کا بحران اور عالمی تجارت کو درپیش خطرات
- پاکستان میں امن و استحکام کے لیے سیاسی برداشت اور قانون کی بالادستی ضروری
- لاہور،تھانے کی چار دیواری میں موت، قانون کی بالادستی کا امتحان
- پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، صنعتی خودکفالت کی جانب اہم پیش رفت
- نوجوانوں کے خوابوں کو قومی طاقت بنانے کی جانب اہم قدم
- 14 آگست اور ایک عام آدمی کی ٹاٹ کے سکول سے ورلڈ ریکارڈ تک کا سفر
- پاکستان میں قومی ترقی میں شراکت اور احتساب کا مضبوط نظام
- بہتر مستقبل کی تلاش، پاکستانی نوجوانوں کی عالمی منڈی میں پیش قدمی اور وطن کی ترقی کی نئی امید
- پاکستان میں معیشت سنبھلنے لگی، اب استحکام کو پائیدار بنانا ہوگا
- پاکستان میں ذہنی صحت۔قومی ترجیح اور مثبت معاشرے کی بنیاد
Prev Post