تجزیہ بی این پی
پاکستان کی صنعتی تاریخ میں پاکستان اسٹیل ملز کو ایک ایسے ادارے کی حیثیت حاصل ہے جس نے نہ صرف ملک کی صنعتی ترقی کے خواب کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ پاکستان کو فولاد کی پیداوار کے شعبے میں خودکفالت کی جانب لے جانے کی بنیاد بھی فراہم کی۔ ایک طویل عرصے سے بند پڑے اس قومی ادارے کو دوبارہ فعال کرنے کا حکومتی فیصلہ اس اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ اس سے ایک بڑے صنعتی منصوبے کی بحالی کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت، روزگار، سرمایہ کاری اور صنعتی پیداوار کے کئی دروازے دوبارہ کھل سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے پاکستان اسٹیل ملز کو ختم کرنے کے سابقہ فیصلے پر نظرثانی اور اسے بحال کرنے کے لیے روسی کمپنی کے ساتھ مشاورت کا آغاز بلاشبہ ایک مثبت اور قابلِ تحسین قدم ہے۔
پاکستان اسٹیل ملز محض ایک صنعتی یونٹ نہیں بلکہ ملک کے صنعتی تشخص کی علامت رہی ہے۔ اس ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد پاکستان کو فولاد کی بنیادی ضروریات کے لیے بیرونی دنیا پر انحصار سے نجات دلانا تھا۔ فولاد کسی بھی جدید معیشت کے لیے بنیادی خام مال کی حیثیت رکھتا ہے۔ تعمیرات، دفاع، انجینئرنگ، مشینری، ریلویز، گاڑیوں، توانائی اور انفراسٹرکچر سمیت بے شمار شعبے اسٹیل کی دستیابی سے براہِ راست وابستہ ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر ملک اپنی بنیادی صنعتی ضرورت کا ایک بڑا حصہ مقامی طور پر پورا کرنے کے قابل ہو تو اس کے نتیجے میں نہ صرف درآمدی بل کم ہوتا ہے بلکہ صنعتی سرگرمیوں کو بھی نئی توانائی ملتی ہے۔
گزشتہ برسوں میں پاکستان اسٹیل ملز کی بندش ملکی صنعتی پالیسی کے لیے ایک بڑا سوال بنی رہی۔ ایک طرف ادارے کے مالی مسائل، انتظامی کمزوریاں اور پیداواری تعطل جیسے معاملات سامنے آتے رہے، دوسری جانب یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود رہی کہ پاکستان کو اسٹیل کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی مقدار میں فولاد درآمد کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ کسی قومی صنعتی ادارے کو صرف اس بنیاد پر ختم کر دینا کہ وہ مشکلات کا شکار ہے، ایک جامع صنعتی پالیسی کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ادارے کی کمزوریوں کی نشاندہی کی جائے، انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے، جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے اور اسے قابلِ عمل کاروباری ماڈل کے تحت دوبارہ کھڑا کیا جائے۔
حکومت نے اب اسی سمت میں قدم بڑھایا ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، جدیدکاری اور تنظیمِ نو کے لیے روسی کمپنی انڈسٹریل انجینئرنگ ایل ایل سی کے ساتھ مشاورت کا آغاز اس بات کا اظہار ہے کہ حکومت اس منصوبے کو محض جذباتی بنیادوں پر نہیں بلکہ فنی، مالی اور تجارتی بنیادوں پر آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں پہلے ہی دو پروٹوکول پر دستخط کیے جاچکے ہیں۔ پہلا پروٹوکول جولائی 2025 میں ماسکو میں طے پایا تھا جس میں پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، جدیدکاری اور تنظیمِ نو میں تعاون شامل تھا، جبکہ دوسرا نومبر 2025 میں پاک روس بین الحکومتی کمیشن کے اجلاس کے دوران طے پایا جس کا مقصد اسٹیل کی پیداوار کے لیے آپریشنل اور سرمایہ جاتی اخراجات کا تعین کرنا تھا۔
یہ پیش رفت اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ کسی بڑے صنعتی منصوبے کو بحال کرنے کے لیے صرف سیاسی عزم کافی نہیں ہوتا۔ اس کے لیے سرمایہ، ٹیکنالوجی، ماہر افرادی قوت، توانائی، خام مال، مارکیٹ اور موثر انتظامی نظام سب کچھ درکار ہوتا ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز کے معاملے میں پیداواری لاگت اور مارکیٹ میں منصوبے کی عملداری کا جائزہ لینے کی مشق مکمل ہونا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حکومت منصوبے کے معاشی پہلوؤں کو بھی سامنے رکھ رہی ہے۔ کسی بھی بحالی منصوبے کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اس کی پیداواری لاگت، مارکیٹ کی طلب، سرمایہ کاری کی ضرورت اور مستقبل کے منافع کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز کو دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ ملکی صنعتی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی علامت بن سکتا ہے۔ اگر حکومت اس منصوبے کو شفافیت، پیشہ ورانہ انتظام اور طویل المدتی صنعتی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھاتی ہے تو یہ ادارہ دوبارہ پاکستان کی معاشی ترقی کا اہم ستون بن سکتا ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرنا ناگزیر ہوگا۔ صرف پرانے پلانٹ کو دوبارہ چلانا کافی نہیں بلکہ اسے جدید صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔پاکستان میں صنعتی ترقی کی رفتار کو بڑھانے کے لیے مقامی پیداوار میں اضافہ بنیادی ضرورت ہے۔ ملک میں تعمیراتی سرگرمیوں، انفراسٹرکچر منصوبوں، دفاعی ضروریات اور انجینئرنگ کے شعبے میں اسٹیل کی طلب مسلسل موجود ہے۔ اگر پاکستان اسٹیل ملز جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ قابلِ قبول لاگت پر معیاری اسٹیل تیار کرنے کے قابل ہوجاتی ہے تو اس کے فوائد صرف ایک ادارے تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس سے اسٹیل سے وابستہ ذیلی صنعتوں، ٹرانسپورٹ، انجینئرنگ، مشین سازی اور دیگر کاروباری شعبوں کو بھی فروغ ملے گا۔
اس منصوبے کا ایک بڑا فائدہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونا بھی ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کے مواقع کی تلاش میں ہے۔ بڑے صنعتی منصوبے براہِ راست ملازمتیں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بالواسطہ روزگار کے بھی بے شمار مواقع پیدا کرتے ہیں۔ اگر پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے ساتھ اس کے گرد صنعتی زونز اور ذیلی صنعتوں کو فروغ دیا جائے تو ایک مکمل صنعتی ایکو سسٹم تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ اس سے کراچی اور سندھ کی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور ملک کے صنعتی نقشے میں ایک اہم مرکز دوبارہ فعال ہوسکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ بحالی کے نام پر ماضی کے انتظامی مسائل دوبارہ جنم نہ لیں۔ پاکستان کے متعدد سرکاری اداروں کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ صرف سرمایہ فراہم کرنے سے ادارے کامیاب نہیں ہوتے۔ سیاسی مداخلت، غیر ضروری بھرتیاں، ناقص انتظام، مالی بے ضابطگیاں اور فیصلہ سازی میں تاخیر جیسے عوامل کسی بھی ادارے کی کارکردگی کو متاثر کرسکتے ہیں۔ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے منصوبے میں ابتدا ہی سے پیشہ ورانہ انتظام، میرٹ، مالیاتی نظم و ضبط اور شفاف نگرانی کو بنیادی اصول بنانا ہوگا۔روسی تعاون بھی اس منصوبے کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرسکتا ہے۔ روس کو فولاد اور بھاری صنعت کے شعبے میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔ اگر روسی کمپنی کے ساتھ تعاون محض مشاورت تک محدود رہنے کے بجائے ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدید مشینری، فنی تربیت، سرمایہ کاری اور طویل المدتی صنعتی شراکت داری تک پھیلتا ہے تو پاکستان اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی غیر ملکی شراکت داری کے معاملے میں معاہدوں کی شرائط، مالی ذمہ داریوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ملکی مفاد کو اولین ترجیح دینا ضروری ہوگا۔
پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے ساتھ ایک اور اہم پہلو توانائی اور خام مال کی مسلسل فراہمی ہے۔ اسٹیل کی صنعت توانائی کے اعتبار سے حساس شعبہ ہے۔ اگر بجلی، گیس اور دیگر بنیادی وسائل کی قیمتیں غیر مسابقتی ہوں تو پیداوار کی لاگت بڑھ سکتی ہے اور ادارہ عالمی و مقامی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو سکتا ہے۔ اس لیے حکومت کو بحالی کے منصوبے کے ساتھ ایک جامع توانائی پالیسی بھی تشکیل دینی چاہیے تاکہ ادارے کو مستقبل میں پیداواری اخراجات کے غیر ضروری دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اسی طرح خام مال کی فراہمی کا مستقل نظام بھی ضروری ہوگا۔ اگر اسٹیل کی پیداوار کے لیے خام مال بڑی مقدار میں درآمد کرنا پڑے تو عالمی قیمتوں اور کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ منصوبے کی لاگت کو متاثر کرسکتا ہے۔ اس لیے حکومت کو خام مال کی فراہمی کے متبادل ذرائع، مقامی وسائل کے استعمال اور طویل المدتی درآمدی معاہدوں سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا چاہیے۔
یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے فیصلے کو متعلقہ کابینہ کمیٹی کے سامنے سفارشات کی صورت میں لے جانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اس عمل کے ذریعے لیکویڈیشن کا سابقہ فیصلہ روکنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ ادارے کے مستقبل کے بارے میں زیادہ قابلِ عمل اور دور رس فیصلہ کیا جاسکے۔ اس مرحلے پر پارلیمانی اور ادارہ جاتی نگرانی بھی اہم ہوگی تاکہ بحالی کا پورا عمل شفاف اور قومی مفاد کے مطابق آگے بڑھے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کو صرف ایک سرکاری ادارے کی واپسی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے ملک میں صنعتی احیا کے وسیع تر منصوبے کا حصہ بنانا چاہیے۔ پاکستان کو ایسی صنعتوں کی ضرورت ہے جو درآمدات کا متبادل پیدا کریں، برآمدات بڑھائیں، نوجوانوں کو ہنر اور روزگار فراہم کریں اور ملکی معیشت کو پیداواری بنیادوں پر مضبوط بنائیں۔ اسٹیل ان بنیادی شعبوں میں شامل ہے جو کئی دوسری صنعتوں کی ترقی کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔
حکومت اگر واقعی پاکستان اسٹیل ملز کو کامیاب بنانا چاہتی ہے تو اسے بحالی کے ساتھ مستقبل کی منصوبہ بندی بھی کرنا ہوگی۔ ادارے کی پیداوار کو صرف ملکی ضروریات تک محدود رکھنے کے بجائے برآمدی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہدف ہونا چاہیے۔ معیاری اسٹیل کی پیداوار، جدید ٹیکنالوجی، مسابقتی قیمت، موثر انتظام اور بین الاقوامی معیار کی مصنوعات کے ذریعے پاکستان مستقبل میں علاقائی منڈیوں میں بھی اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔
اس منصوبے کی کامیابی کے لیے نجی شعبے کی شمولیت بھی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ حکومت بنیادی پالیسی اور نگرانی کا کردار ادا کرتے ہوئے ایسے سرمایہ کاروں کو راغب کرسکتی ہے جو سرمایہ، ٹیکنالوجی اور انتظامی مہارت لانے کے لیے تیار ہوں۔ اس مقصد کے لیے شفاف اور واضح قواعد وضع کیے جائیں تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور قومی اثاثہ بھی محفوظ رہے۔
پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے فیصلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے ایک قومی صنعتی اثاثے کو ختم کرنے کے بجائے اس کے امکانات کو دوبارہ جانچنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سوچ پاکستان کے صنعتی مستقبل کے لیے امید کی کرن بن سکتی ہے۔ قومی اداروں کی ناکامی کا حل ہمیشہ ان کی بندش نہیں ہوتا؛ بعض اوقات درست اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی، بہتر انتظام اور مناسب سرمایہ کاری ایک بحران زدہ ادارے کو دوبارہ کامیاب بنا سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس فیصلے کو سیاسی اعلان بننے کے بجائے عملی منصوبے میں تبدیل کرے۔ بحالی کے لیے واضح ٹائم لائن، مطلوبہ سرمایہ، پیداوار کے اہداف، انتظامی اصلاحات، سرمایہ کاری کے ذرائع اور نگرانی کا موثر نظام پہلے ہی طے کیا جائے۔ ہر مرحلے پر عوام اور متعلقہ اداروں کو پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے تاکہ اعتماد کی فضا قائم رہے۔
پاکستان کی معیشت کو اس وقت ایسے منصوبوں کی ضرورت ہے جو روزگار، پیداوار اور سرمایہ کاری کو بیک وقت فروغ دے سکیں۔ پاکستان اسٹیل ملز اسی نوعیت کا ایک بڑا منصوبہ بن سکتا ہے۔ اگر حکومت، روسی فریق اور ممکنہ بین الاقوامی سرمایہ کار ایک قابلِ عمل اور شفاف ماڈل پر متفق ہوجاتے ہیں تو اس ادارے کی بحالی پاکستان کے صنعتی سفر میں ایک نئے باب کا آغاز کرسکتی ہے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے پاکستان اسٹیل ملز کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششیں اس لیے بھی قابلِ ستائش ہیں کہ ملک کو اپنی صنعتی بنیاد مضبوط کرنے کے لیے بڑے اور دور رس فیصلوں کی ضرورت ہے۔ تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب بحالی کا عمل محض اعلان سے آگے بڑھ کر عملی پیداوار تک پہنچے گا۔ پاکستان اسٹیل ملز کی چمنیاں دوبارہ دھواں اگلیں، بھٹیاں دوبارہ روشن ہوں، مزدوروں اور انجینئرز کی سرگرمیاں بحال ہوں اور یہ قومی ادارہ دوبارہ ملکی صنعت کو خام مال فراہم کرے، یہی اس فیصلے کا حقیقی مقصد ہونا چاہیے۔
اگر حکومت شفافیت، میرٹ، جدید ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ انتظام اور مالیاتی نظم و ضبط کو بنیاد بنا کر اس منصوبے کو آگے بڑھاتی ہے تو پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی محض ایک ادارے کی واپسی نہیں بلکہ ملکی صنعتی خوداعتمادی کی بحالی بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ یہی وہ سمت ہے جس میں پاکستان کو اپنی معاشی پالیسی کو آگے لے جانے کی ضرورت ہے، کیونکہ مضبوط معیشت صرف مالیاتی اعداد و شمار سے نہیں بلکہ مضبوط صنعت، ہنرمند افرادی قوت، مقامی پیداوار اور قومی وسائل کے مؤثر استعمال سے تشکیل پاتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- بحیرہ احمر کا بحران اور عالمی تجارت کو درپیش خطرات
- پاکستان میں امن و استحکام کے لیے سیاسی برداشت اور قانون کی بالادستی ضروری
- لاہور،تھانے کی چار دیواری میں موت، قانون کی بالادستی کا امتحان
- پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، صنعتی خودکفالت کی جانب اہم پیش رفت
- نوجوانوں کے خوابوں کو قومی طاقت بنانے کی جانب اہم قدم
- 14 آگست اور ایک عام آدمی کی ٹاٹ کے سکول سے ورلڈ ریکارڈ تک کا سفر
- پاکستان میں قومی ترقی میں شراکت اور احتساب کا مضبوط نظام
- بہتر مستقبل کی تلاش، پاکستانی نوجوانوں کی عالمی منڈی میں پیش قدمی اور وطن کی ترقی کی نئی امید
- پاکستان میں معیشت سنبھلنے لگی، اب استحکام کو پائیدار بنانا ہوگا
- پاکستان میں ذہنی صحت۔قومی ترجیح اور مثبت معاشرے کی بنیاد