jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

لاہور،تھانے کی چار دیواری میں موت، قانون کی بالادستی کا امتحان

تجزیہ بی این پی
لاہور کے تھانہ ٹاؤن شپ میں پولیس حراست کے دوران دو جوان سال خواتین، 17 سالہ آمنہ اور 22 سالہ انمول، کی پراسرار ہلاکت ایک ایسا واقعہ ہے جس نے پولیس کے نظام، حراستی مراکز میں انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کے یکساں نفاذ کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ معاملہ محض دو قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع تک محدود نہیں بلکہ اس پورے نظام کی کارکردگی کا امتحان ہے جسے شہریوں کے جان و مال، عزت اور حقوق کا محافظ سمجھا جاتا ہے۔ اگر کسی شہری کی موت پولیس کی تحویل میں واقع ہو تو اس واقعے کی ذمہ داری اور اس کے تمام محرکات کا غیر جانب دارانہ تعین ریاست کی بنیادی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق دونوں خواتین کو چوری اور دھوکہ دہی کے ایک مقدمے میں گرفتار کرکے تھانہ ٹاؤن شپ لایا گیا تھا۔ پولیس کا موقف ہے کہ تھانے لائے جانے کے چند گھنٹوں کے اندر دونوں کی طبیعت خراب ہوئی اور بعد ازاں ان کی موت واقع ہوگئی، جبکہ اہلخانہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ خواتین کو پولیس تشدد اور ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف پولیس کا دعویٰ ہے کہ دونوں خواتین منشیات کی عادی تھیں اور مبینہ طور پر نشے کی زیادہ مقدار استعمال کرنے کے باعث ان کی موت ہوئی۔ ان دونوں متضاد مؤقفوں کے درمیان اصل حقیقت کیا ہے، اس کا فیصلہ کسی قیاس، بیان یا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو سے نہیں بلکہ شفاف، سائنسی اور عدالتی تحقیقات سے ہونا چاہیے۔
اس واقعے پر جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے عدالتی تحقیقات کا آغاز ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم تحقیقات کی غیر جانب داری اور شفافیت پر عوام کا اعتماد قائم رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ پولیس حراست میں ہونے والی کسی بھی موت کے معاملے میں سب سے اہم اصول یہی ہونا چاہیے کہ تحقیقات کسی ایسے ادارے یا افسر کے زیر اثر نہ ہوں جس کے اپنے اہلکار اس معاملے میں فریق یا ممکنہ طور پر جواب دہ ہوں۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ ہر سوال کا جواب ثبوت کی بنیاد پر تلاش کیا جائے اور کسی بھی فریق کو محض عہدے، اختیار یا وردی کی وجہ سے شک کا فائدہ نہ دیا جائے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق اس معاملے میں سب سے بنیادی سوال یہ نہیں کہ متوفی خواتین پر مقدمہ کس نوعیت کا تھا، بلکہ یہ ہے کہ پولیس کی تحویل میں آنے کے بعد ان کی حفاظت کی ذمہ داری کس پر تھی۔ کسی شخص پر چوری، دھوکہ دہی یا کسی بھی دوسرے جرم کا الزام ہو، الزام اسے انسانی حقوق سے محروم نہیں کرتا۔ جرم ثابت ہونے تک ہر ملزم قانون کی نظر میں شہری ہے اور ریاستی اداروں کی تحویل میں آنے کے بعد اس کی جان اور عزت کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر کوئی زیرحراست شخص بیمار ہو، نشے کی حالت میں ہو یا اسے کسی طبی خطرے کا سامنا ہو تو پولیس کا فرض ہے کہ اسے فوری طبی امداد فراہم کرے، نہ کہ معاملے کو نظرانداز کرے۔
اگر پولیس کا یہ مؤقف درست مانا جائے کہ دونوں خواتین نشے کی زیادتی کے باعث بیمار ہوئیں تو بھی ایک اہم سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ انہیں بروقت طبی امداد کیوں نہ مل سکی، ان کی حالت کب خراب ہوئی، انہیں کس وقت ہسپتال منتقل کیا گیا یا کیا طبی عملہ فوری طور پر طلب کیا گیا؟ حراست میں موجود کسی شخص کی طبی حالت خراب ہونے کی صورت میں پولیس محض تماشائی نہیں رہ سکتی۔ اس کے پاس قانونی اختیار کے ساتھ انسانی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موت پولیس تشدد، غیر انسانی سلوک یا کسی اہلکار کی غفلت کے نتیجے میں ہوئی تو ذمہ دار اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہوگا۔
اس واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بعض ویڈیوز بھی زیر بحث ہیں جن میں دونوں خواتین بظاہر تھانے میں موجود دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم ویڈیوز کی بنیاد پر حتمی نتیجہ اخذ کرنا بھی مناسب نہیں۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ تھانے میں نصب تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی مکمل ریکارڈنگ، گرفتاری سے لے کر موت تک کی ٹائم لائن، روزنامچہ، گرفتاری کے ریکارڈ، طبی معائنے، اہلکاروں کے بیانات، عینی شاہدین کے بیانات، کال ریکارڈ اور فرانزک شواہد کو محفوظ کرکے تحقیقات کا حصہ بنایا جائے۔ کسی بھی اہم ریکارڈ کے ضائع ہونے یا تبدیل ہونے کا امکان شفاف تحقیقات کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوگا۔
پوسٹمارٹم رپورٹ بھی اس معاملے میں فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔ اگر ابتدائی طبی رپورٹ کے بارے میں کسی فریق کو تحفظات ہیں یا اس میں ابہام پایا جاتا ہے تو غیر جانب دار ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ سے دوبارہ جائزہ لینے کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ موت کی وجہ کے تعین میں فرانزک سائنس، کیمیکل ایگزامینیشن اور دیگر سائنسی شواہد کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ ریاست کو اس معاملے میں ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس سے نہ صرف اہلخانہ بلکہ عام شہریوں کو بھی یقین ہو کہ حقیقت تک پہنچنے میں کسی قسم کی مصلحت یا دباؤ رکاوٹ نہیں بنے گا۔
یہاں پنجاب حکومت اور بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے لیے بھی ایک اہم امتحان ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب خواتین کے تحفظ اور حقوق کو اپنی ترجیحات میں نمایاں مقام دے چکی ہیں۔ ایسے میں پولیس حراست میں دو خواتین کی موت ایک ایسا واقعہ ہے جس پر محض تحقیقات کا اعلان کافی نہیں ہونا چاہیے بلکہ پورے پولیس نظام میں اصلاحات کی ضرورت کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے۔ اگر کہیں پولیس اختیارات کے ناجائز استعمال، شہریوں سے ناروا سلوک یا حراستی تشدد کے امکانات موجود ہیں تو انہیں ختم کرنے کے لیے مستقل اور مؤثر نظام تشکیل دینا ہوگا۔
وزیراعلیٰ پنجاب سے یہ مطالبہ بالکل بجا ہے کہ پولیس کے محکمے میں ایسی جامع اصلاحات متعارف کرائی جائیں جن کے ذریعے پولیس اہلکاروں اور افسران کو قانون کے ناجائز استعمال سے روکا جا سکے۔ پولیس کو مضبوط بنانا ضروری ہے، مگر مضبوط پولیس کا مطلب بے لگام پولیس نہیں ہوتا۔ ایک مؤثر پولیس وہی ہوتی ہے جو قانون نافذ کرنے کے ساتھ قانون کی پابندی بھی کرے۔ اختیار اور جواب دہی ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں۔ اگر اہلکار کو گرفتاری، تفتیش اور حراست کے اختیارات حاصل ہیں تو اس کے استعمال کی نگرانی اور احتساب کا مضبوط نظام بھی موجود ہونا چاہیے۔
پولیس اصلاحات کا ایک بنیادی حصہ حراستی نظام میں شفافیت ہونا چاہیے۔ ہر تھانے کے حراستی حصے میں جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں، جن کی ریکارڈنگ کسی مقامی اہلکار کے بجائے مرکزی اور محفوظ نظام میں محفوظ ہو۔ زیرحراست افراد کے داخلے اور اخراج کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ رکھا جائے۔ ہر زیرحراست شخص کا ابتدائی اور بعد ازاں ضرورت کے مطابق طبی معائنہ لازمی قرار دیا جائے۔ اگر کسی ملزم کی طبی حالت خراب ہو تو اسے فوری طور پر سرکاری ہسپتال منتقل کرنے کا واضح اور قابلِ نگرانی طریقہ کار بنایا جائے۔
اسی طرح پولیس اہلکاروں کی تربیت میں انسانی حقوق، خواتین سے سلوک، نابالغ افراد کے قانونی حقوق، ذہنی صحت، نشے کے مریضوں سے برتاؤ اور حراستی اصولوں کو عملی تربیت کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ صرف کتابی تربیت کافی نہیں۔ پولیس اہلکار کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وردی اسے قانون سے بالاتر نہیں کرتی بلکہ قانون کا پابند بناتی ہے۔ جو اہلکار اختیارات کا غلط استعمال کرے اسے محکمانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ قانون کے مطابق عدالتی کارروائی کا بھی سامنا کرنا چاہیے۔جزیہ بی این پی کے مطابق** پولیس کے احتساب کے لیے ایک متوازن چیک اینڈ بیلنس کا نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ موجودہ یا مستقبل کی اصلاحات کا مقصد پولیس کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے زیادہ پیشہ ور، قابل اعتماد اور جواب دہ بنانا ہونا چاہیے۔ پولیس کے اندرونی احتساب کے ساتھ ایک مؤثر بیرونی نگرانی کا نظام بھی ضروری ہے تاکہ شکایات کی غیر جانب دارانہ سماعت ہوسکے۔ حراست میں موت، مبینہ تشدد یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی جیسے معاملات میں آزادانہ نگرانی کا مؤثر طریقہ عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ کسی اہلکار کے خلاف کارروائی صرف اس وقت نہ ہو جب کوئی واقعہ میڈیا کی زینت بن جائے۔ پولیس کے نظام میں ایسا داخلی احتساب ہونا چاہیے جو شکایات کو ابتدا ہی میں سنجیدگی سے لے اور کسی بڑے سانحے سے پہلے مسئلے کی نشاندہی کر سکے۔ تھانے میں شہریوں کے ساتھ بدسلوکی، غیر قانونی حراست، تشدد یا اختیارات سے تجاوز کی شکایات کو معمولی معاملہ سمجھنا مستقبل میں بڑے سانحات کا سبب بن سکتا ہے۔
اس واقعے کا ایک اور اہم پہلو خواتین کے ساتھ پولیس کے رویے کا ہے۔ خواتین کی گرفتاری اور تفتیش کے لیے موجود قانونی اور انتظامی اصولوں پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہے۔ خواتین کو حراست میں لیتے وقت ان کی عمر، صحت، خاندانی صورتحال اور قانونی حقوق کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ خاص طور پر اگر زیرحراست فرد نابالغ ہو تو اس کے ساتھ برتاؤ کے لیے مزید حساس اور قانونی طور پر محفوظ طریقہ کار اپنانا ضروری ہے۔ 17 سالہ آمنہ کی عمر اس معاملے کو مزید حساس بنا دیتی ہے اور اس پہلو کی بھی مکمل قانونی جانچ ہونی چاہیے۔یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ پولیس اسٹیشن شہری کے لیے خوف کی علامت کیوں بنے؟ تھانہ دراصل وہ جگہ ہونی چاہیے جہاں مظلوم کو تحفظ، فریادی کو انصاف اور ملزم کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا ہو۔ اگر شہری یہ سمجھنے لگیں کہ تھانے میں داخل ہونے کے بعد ان کی جان یا عزت محفوظ نہیں تو قانون نافذ کرنے والے ادارے پر اعتماد کمزور ہوجاتا ہے۔ کسی بھی ریاست میں پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اسے قائم رکھنے کے لیے شفافیت ناگزیر ہے۔
حکومت کو اس واقعے کی تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے بھی لانے چاہئیں، البتہ قانونی تقاضوں اور متاثرہ خاندان کی رازداری کا احترام کرتے ہوئے۔ اگر پولیس اہلکار بے قصور ثابت ہوں تو انہیں بھی غیر ضروری الزام تراشی سے تحفظ ملنا چاہیے، کیونکہ انصاف کا اصول صرف سزا نہیں بلکہ حقائق کی درست نشاندہی بھی ہے۔ لیکن اگر کسی اہلکار یا افسر کی غفلت، تشدد یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا ثبوت سامنے آئے تو کارروائی ایسی ہونی چاہیے کہ آئندہ کسی اہلکار کو قانون ہاتھ میں لینے کی جرات نہ ہو۔
آمنہ اور انمول کی موت کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ بنانے کے بجائے پولیس نظام کی اصلاح کے لیے ایک سنجیدہ موقع سمجھنا چاہیے۔ حکومت، پولیس، عدلیہ، انسانی حقوق کے اداروں اور سول سوسائٹی سب کو مل کر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ حراست میں موجود کوئی شہری بے یار و مددگار نہ ہو۔ قانون کی اصل طاقت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ کمزور اور طاقتور دونوں کے لیے یکساں ہو۔
پنجاب حکومت کو چاہیے کہ وہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات مکمل ہونے تک تمام متعلقہ شواہد کو محفوظ رکھنے، اہلخانہ کو قانونی معاونت فراہم کرنے اور تحقیقاتی عمل کو غیر جانب دار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ ساتھ ہی پولیس اصلاحات کے لیے ایک واضح روڈ میپ سامنے لایا جائے جس میں حراستی مراکز کی نگرانی، طبی معائنے، سی سی ٹی وی مانیٹرنگ، اہلکاروں کی تربیت، شکایات کے ازالے اور آزادانہ احتساب کے نظام کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔
آخرکار بات صرف دو خواتین کی موت کی نہیں، ریاستی ذمہ داری کی ہے۔ کسی بھی شہری کی زندگی قانون کے ہاتھ میں سونپی جائے تو قانون کی حفاظت بھی لازم ہوجاتی ہے۔ اگر پولیس حراست میں موت کا معاملہ شفاف تحقیقات کے ذریعے حل ہوتا ہے اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا ملتی ہے تو یہ صرف ایک خاندان کو انصاف فراہم نہیں کرے گا بلکہ پورے معاشرے میں قانون کی بالادستی کا اعتماد بحال کرے گا۔ اور اگر کسی قسم کی غفلت یا تشدد ثابت نہ ہو تو حقائق سامنے آنے سے پولیس پر لگنے والے بے بنیاد الزامات بھی ختم ہوسکیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے لیے یہ مناسب موقع ہے کہ وہ اس واقعے کو ایک انفرادی سانحے کے بجائے پولیس اصلاحات کے وسیع تر عمل کی بنیاد بنائیں۔ ایسا نظام تشکیل دیا جائے جس میں پولیس اہلکار قانون کے محافظ ہوں، قانون کے مالک نہیں؛ جہاں اختیار کے ساتھ جواب دہی ہو؛ جہاں تھانے میں داخل ہونے والا ہر شہری اپنی جان، عزت اور بنیادی حقوق کے حوالے سے خود کو محفوظ سمجھے؛ اور جہاں کسی بھی اہلکار کو یہ احساس نہ ہو کہ وردی اسے قانون سے بالاتر بنا دیتی ہے۔انصاف صرف یہ نہیں کہ کسی واقعے کے بعد ذمہ دار تلاش کر لیے جائیں۔ حقیقی انصاف یہ ہے کہ ایسا نظام قائم کیا جائے جو مستقبل میں ظلم، غفلت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے امکانات ہی کم کردے۔ آمنہ اور انمول کی موت کے تمام پہلوؤں کو سامنے لانا اسی بڑے مقصد کی طرف ایک قدم ہوسکتا ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ تحقیقات کاغذی کارروائی نہ بنیں، اصلاحات اعلانات تک محدود نہ رہیں اور احتساب کسی دباؤ یا مصلحت کا شکار نہ ہو۔ قانون کی بالادستی کا تقاضا یہی ہے کہ **انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آئے۔
٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More