jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

پاکستان میں آزادی کسے کہتے ہیں۔ بنیان مرصوص سے معرکہ حق تک کا سفر ا۔ ایک آذاد ریاست کا وجود برقرار

تحریر: اشفاق احمد قاضی
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
معرکہ حق کی عظیم الشان فتح،بری فوج اور پاک فضائیہ نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد اور بحری فوج کی مکمل مدد، انتھک محنت ، خلوص، جذبہ ایمانی کی حقیقی سچائی اور ہر لمحہ قدرت کی نچھاور ہوتی رحمتوں سے ہوئی۔ہم سب کو قدرت کا شکر ادا کرنا نصیب ہوا۔یہ کامیابی وزیراعظم پاکستان جناب میاں محمد شہباز شریف صاحب کا بری فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر،پاک فضایئہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر، اور بری فوج کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف پر اعتماد اور ان کی دن رات محنت کا نتیجہ ہے۔دنیا نے پاکستان کو ترقی پزیر ممالک کی فہرست میں شامل کرتے ہو ئے یہ گمان کیا ہوتا تھا کہ یہاں جہالت ، غربت اور محرومی کا دور دورہ ہے۔مگر 10 مئی 2025 نے یکدم کائینات کو حیرت کی وادی میں دھکیل دیا۔ ہمارے عظیم محسن اور قوم کے تاریخی ہیروں کا نام مقدس کتابوں میں سنہری حروف میں لکھا جاچکا ہے۔ پوری قوم کے مرکزی ہیرو جنرل عاصم منیر، ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور ایڈمرل نوید اشرف جن کی قیادت میں افواج پاکستان کے تمام ساتھیوں نے دن رات ملک و قوم کے لے محنت مشقت کرتے ہوئے کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔جن کی ہمت ، جرات، تدبر فہم و فراست اور دانشمندی سے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال ہوا۔ جہاں پر جنگی حکمتِ علمی میں جنگی آلات میں جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی کا استعمال ممکن ہوا وہیں ہماری افواج کے دیگر ادارے بھی کسی سے پیچھے نہیں ہٹے اورسایبر کی دنیا میں دشمن کو دھول چٹا کر اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی میں مہارت کا اعلان کیا۔جدید ترین تعلیم ، علم و فن کی بدولت جذبہ حسینی سے جنگ لڑی۔کائینات کی جدید ترین تعلیم ، علم و فن پر مہارت کی وجہ سے اللہ رب العزت نے ہمارے ہیروز کو آسمانی بلدی پر پہنچایا۔دشمن بے غیرت، ظالم، دہشت گرد، خبیث جسکے ظلم سے 90 ہزار شہید ہوئے ۔افواج پاکستان کی تخلیق، تحقیق، چھان بین ، دن رات صبح شام تسلسل سے جاری ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا احسان ہے اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس قدر مدبر سوچ فکر سے لبریز افسران نصیب ہوئے
مئی کے افواجِ پاکستان کے اقدام نے ثابت کردیا کہ صرف ٹیکنالوجی کا ہونا ضروری نہیں بلکہ اس کے لے عزم، ہنر، محنت ، لگن اور ایمان کا ہونا ضروری ہے۔دشمن کو 6-0سے فضائیہ کی شکست دینا جبکہ دشمن دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہو اس بات کا ضامن ہے کہ ہمارے جوانوں کا ایمان پختہ اور موت پر کامل یقین ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری افواج کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ امین۔افواجِ پاکستان زندہ باد، پاکستان ہمیشہ پائیندہ باد۔
نہ تو زمین کے لے ہے نہ آسمان کے لے جہاں ہے تیرے لے تو نہیںجہاں کے لے (علامہ اقبال)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے 1947کو 14 اگست کا دن ہندوستان کے مسلمانوں کیلے بڑوں کی انتھک محنت بصیرت اعلیٰ، تدبر اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے آذادی کے ساتھ طلوع ہوا۔ آج ہر طرف قدرت فطرت کی رحمت مہربانی سے مقدس عبادتگاہوںسے الہامی نور پھیل رہا ہے۔ تعلیم علم کے مرکز، صبح شام مسلمانوں کے دلوں دماغوں کو روشن منور کرتے ہوئے اپنے مقام مزید بلند کر رہے ہیں۔معاشی ترقی سے خوشحالی میں بہت بہتری ہوئی۔ دفاع والوں نے ملک و قوم کو ایٹمی طاقت کی صف میں کھڑا کر کے قوم و ملک کو مزید مضبوط کر دیا۔آج ہم اپنی حسرتوں ، تمناوں کے ساتھ آزادی کی نعمتوں سے زمین پر جنت جیسی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ آج جتنا کھانے پینے، آرام سکون ،چین کا سامان ہے۔14اگست 1947سے پہلے نہیں تھا۔ مسلمان دل کھول کر مذہب کے نور کو فرد تک پھیلاکر اپنا حق فرض ادا کر رہے ہیں۔آج ہماری آزادی ، ہمارے محسن ، قوم کے عظیم ہیرو، ملک و قوم کی پاکیزہ مقدس ہستی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کے وطن پر مر مٹنے والے ساتھیوں کی وجہ سے ہے۔کچھ دن پہلے درندہ صفت دشمن نے ہمیں پھر تباہ فنا ہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔دشمن اپنی نئی طاقت سے حملہ آور ہوا۔ ہماری عظیم افواج نے معرکہ حق سے دشمن کے اپنے ہی ملک میں آنے والے جنگی جہازوں کو نشانہ بناکر جلایا۔ میزائلوں کو فنا تباہ کیا۔ آج ہم اپنی آزادی کو برقرار رکھنے پر فیلڈعاصم منیر اور ان کے عظیم ساتھیوں کیلے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دل کی گہرایوں سے دعا ان کی مزید بلندی ، مضبوطی کے لے کرتے ہیں۔ آج ہر شہر ی گھروں میں چین سکون اوربستر پر آرام سے سو جاتے ہیں۔ آج میری آرام دہ خوشحال زندگی کی ہر صبح بہار کی بیداری کے ساتھ جاگتی ہے۔ ہر طرف امن سکون تحفظ ، حفاظت سے روحانی مسرت دلکشی ہے۔ ہمارے وجود کا ذرہ ذرہ فوج کی مزید بلندی عزت توقیری اقبال کیلے عاجری انکساری سے دعا کرتا ہے۔ ہماری افواج عظیم انقلابیوں جسی ذندگیاں گزارتے۔ اہل ہمت جرات ایمان والے ہیں۔ دن رات صبح شام ہر وقت روشنی رات کی تاریکی میں درجہ شہادت کو فخر سے لبیک کہتے ہیں۔مذہب کے مقدس نور سے ان کے دل و دماغ روشن منور ہیں۔ موجود جنگ دماغ کے ہر نئے سے نئے راز رمیز کی انتہائی گہرائی تک علم و تحقیق و تخلیق چھان بین رکھنے والے ہیں۔ اللہ سے مدد پکارتے اور اللہ کی رحمت کے زیرِ سایہ چلنے والے ہیں۔بلند عزم فکر گہرائی تک کردار عمل سے قوم کے بچے ان کے بچے قوم کی حفاظت کو نہیں۔ چھوڑتے گھر بار اپنا خاندان ماں بھاپ کو چھوڑ کر ملک کی حفاظت پر چلے جاتے ہیں۔ قوم ہر طرح سے تعاون طاقت، قوت احترام مدد دیتی ہے۔ہر آنے والے دن نئی تحقیق تخلیق سے نئی نئی ایجادات کے آنے اور پھر دشمن کا مقابلہ کرنے کیلے دشمن سے ذیادہ تحقیق، تخلیق چھان بین مفید ایجادات پر گہرائی تک جانا ہوتا ہے۔جتنی فوج مضبوط مسلح ہو گی اتنی قوم کی حفاظت آسان آزادی لمبی مدت برقرار رہے گی۔ 14 اگست کا دن یومِ آزادی کا جشن سبز سفید کپڑے پہن کر دکان سے بلند آواز پیدا کرنے والے باجے بجا کر موٹر سائیکل کا سلنسر اتا ر کر روڈ پر تیز چلاتے ہو ئے منانے سے بہتر ہے جن شہادتوں سے آزادی برقرار ہے جس فوج کی عظیم قربانیاں کو سلام پیش کرنے، عقیدت کے پھول نچھاور کرنے اور فوج کو مزید مضبوط کرنے کی فکر کرنے کا دن ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More