jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

حضورِ اکرم ﷺ — معلمِ انسانیت اور مربیِ عالم

تحریر: حافظ محمد صدیق مدنی ۔ چمن

انسان کی حقیقی عظمت اس کے مال، منصب، طاقت یا ظاہری شان و شوکت میں نہیں بلکہ علم، کردار، اخلاق اور انسانیت کی خدمت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں بے مقصد نہیں بھیجا بلکہ اسے ایک عظیم مقصدِ حیات عطا فرمایا اور اس مقصد کی رہنمائی کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ تمام انبیائے کرام علیہم السلام اپنی اپنی قوموں کے معلم، مربی اور رہبر تھے مگر اس سلسلہ ہدایت کے آخری اور سب سے کامل معلم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کی تعلیم و تربیت کے لیے مبعوث فرمایا۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں: ’’بے شک اللہ نے اہل ایمان پر بڑا احسان فرمایا کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان کے درمیان بھیجا جو انہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں، انہیں پاکیزہ بناتے ہیں اور انہیں کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتے ہیں جبکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔‘‘ (سورۂ آل عمران، آیت 164)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری صرف اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا نہیں تھی بلکہ آپ ﷺ لوگوں کے معلم بھی تھے اور ان کے کردار و عمل کی اصلاح کرنے والے مربی بھی۔ آپ ﷺ انسانوں کو علم دیتے، ان کے دلوں کو پاک کرتے، ان کے اخلاق سنوارتے اور انہیں زندگی گزارنے کا ایسا راستہ دکھاتے جو دنیا میں بھی کامیابی کا ذریعہ بنتا اور آخرت میں بھی نجات کا سبب بنتا۔ رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے منصب کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: مجھے تعلیم دینے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 229)

آپ ﷺ کا اندازِ تعلیم انتہائی حکیمانہ، نرم، آسان اور دل نشین تھا۔ آپ ﷺ لوگوں کو ان کی ذہنی استعداد، عمر، حالات اور ضرورت کے مطابق تعلیم دیتے تھے۔ آپ ﷺ کا مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ لوگ کچھ باتیں یاد کرلیں بلکہ آپ چاہتے تھے کہ علم ان کے کردار اور عمل میں ظاہر ہو۔ اسی لیے آپ ﷺ نے تعلیم کے ساتھ عملی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی۔ آپ ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول کی ذات میں بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہے۔ (سورۂ احزاب آیت 21)

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی انسانیت کے لیے عملی تعلیم ہے۔ آپ ﷺ نے جو کچھ فرمایا خود اس پر عمل کرکے دکھایا۔ عبادت کیسے کرنی ہے، عدل کیسے کرنا ہے، والدین کے ساتھ حسن سلوک کیسے کرنا ہے، بچوں سے محبت کیسے کرنی ہے، پڑوسی کے حقوق کیسے ادا کرنے ہیں، کمزوروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا ہے، دشمن کے ساتھ بھی انصاف کیسے قائم رکھنا ہے اور مشکلات میں صبر کیسے کرنا ہے ان تمام باتوں کا بہترین نمونہ آپ ﷺ کی مبارک زندگی میں موجود ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ کا اخلاق قرآن تھا۔ (صحیح مسلم، حدیث 746)

اس مختصر جواب میں رسول اللہ ﷺ کی پوری شخصیت کی عظمت بیان ہوگئی۔ قرآن کریم نے جن اخلاق کی تعلیم دی رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی زندگی میں عملی شکل دی۔ قرآن نے سچائی کا حکم دیا تو آپ ﷺ سب سے بڑھ کر سچے تھے۔ قرآن مجید نے امانت کی تعلیم دی تو آپ ﷺ دشمنوں کی امانتیں بھی محفوظ رکھتے تھے۔ قرآن نے معافی کی ترغیب دی تو آپ ﷺ نے اپنے بڑے بڑے دشمنوں کو بھی معاف فرمایا۔ قرآن مجید نے عدل کا حکم دیا تو آپ ﷺ نے دوست اور دشمن سب کے ساتھ انصاف کیا۔ آپ ﷺ کی تعلیم کا ایک عظیم وصف نرمی اور آسانی تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ نے مجھے لوگوں کو مشقت میں ڈالنے والا نہیں بلکہ آسانی پیدا کرنے والا معلم بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم، حدیث 1478)

آپ ﷺ انسانوں کی اصلاح کرتے وقت ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے تھے۔ اگر کسی سے غلطی ہوجاتی تو ہمیشہ اسے سب کے سامنے رسوا نہیں کرتے تھے بلکہ مناسب موقع دیکھ کر حکمت کے ساتھ اصلاح فرماتے۔ آپ ﷺ جانتے تھے کہ سختی ہر شخص کی اصلاح نہیں کرتی بعض اوقات محبت، شفقت اور نرم گفتگو وہ کام کردیتی ہے جو سختی سے ممکن نہیں ہوتا۔ ایک مرتبہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کردیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے روکنے کے لیے آگے بڑھے مگر رسول اللہ ﷺ نے انہیں منع فرمایا اور بعد میں اس شخص کو سمجھایا کہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت، ذکر اور پاکیزگی کے لیے ہیں۔ (صحیح بخاری حدیث 220 ، صحیح مسلم حدیث 285) اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ غلطی کرنے والے انسان کو صرف سزا دینے کے بجائے اس کی اصلاح اور تعلیم کو ترجیح دیتے تھے۔ اسی طرح ایک نوجوان آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ایک انتہائی غلط کام کی اجازت مانگی۔ لوگوں نے اسے ڈانٹنا شروع کیا مگر رسول اللہ ﷺ نے اسے قریب بلایا اور محبت سے سمجھایا۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ اگر کوئی یہی کام تمہاری ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی یا خالہ کے ساتھ کرنا چاہے تو کیا تم اسے پسند کرو گے؟ اس نے ہر بار انکار کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے سمجھایا کہ دوسرے لوگ بھی اپنی عورتوں کے لیے یہی جذبات رکھتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے اس نوجوان کے لیے دعا فرمائی۔ (مسند احمد، حدیث 22211)

یہ واقعہ تربیت کے اس عظیم اصول کو واضح کرتا ہے کہ کسی انسان کی اصلاح کے لیے صرف حکم سنانا کافی نہیں بلکہ اس کے دل اور عقل کو بھی مخاطب کرنا ضروری ہے۔ آپ ﷺ مثالوں کے ذریعے بھی تعلیم دیتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال خوشبو بیچنے والے اور لوہار کی بھٹی جیسی ہے۔ خوشبو بیچنے والے سے تمہیں خوشبو مل سکتی ہے یا کم از کم اس کی خوشبو ضرور پہنچے گی جبکہ بھٹی والے سے یا تو تمہارے کپڑے جلیں گے یا بدبو تم تک پہنچے گی۔‘‘ (صحیح بخاری حدیث 5534 ، صحیح مسلم حدیث 2628)

اس مثال کے ذریعے آپ ﷺ نے چند الفاظ میں اچھی اور بری صحبت کے اثرات سمجھا دیے۔ یہی آپ ﷺ کے اندازِ تعلیم کا کمال تھا کہ پیچیدہ باتوں کو آسان مثالوں کے ذریعے ذہن نشین کرا دیتے تھے۔ آپ ﷺ سوال و جواب کے ذریعے بھی تعلیم دیتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو مسلمان کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘ (صحیح بخاری حدیث 10 ، صحیح مسلم حدیث 40)

یہ صرف ایک تعریف نہیں بلکہ معاشرتی اخلاق کا مکمل اصول ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے نزدیک عبادت کے ساتھ انسانوں کے حقوق اور اچھا اخلاق بھی انتہائی اہم تھے۔ آپ ﷺ بچوں سے بے پناہ محبت فرماتے تھے۔ انہیں سلام کرتے، ان کے ساتھ شفقت سے پیش آتے اور ان کی تربیت فرماتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ (سنن ترمذی حدیث 1921)

آپ ﷺ نے یتیموں، مسکینوں، بیواؤں اور کمزوروں کی خبر گیری کی تعلیم دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے آپ ﷺ نے اپنی شہادت اور درمیانی انگلی کے درمیان معمولی فاصلہ دکھایا۔ (صحیح بخاری، حدیث 5304)

رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تربیت کا سب سے بڑا نتیجہ عرب معاشرے میں آنے والا عظیم انقلاب تھا۔ وہ لوگ جو جہالت، قبائلی تعصب، ظلم، انتقام، شراب، جوا اور بے شمار معاشرتی برائیوں میں مبتلا تھے اور آپ ﷺ کی تعلیم سے دنیا کے بہترین کردار رکھنے والے انسان بن گئے۔ جو لوگ معمولی اختلافات پر برسوں جنگ کرتے تھے وہ ایک دوسرے کے بھائی بن گئے۔ جو کمزوروں کے حقوق پامال کرتے تھے وہ یتیموں اور محتاجوں کے محافظ بن گئے۔ جو نسب اور خاندان پر فخر کرتے تھے انہیں تقویٰ اور کردار کی فضیلت سمجھائی گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں بہترین وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری حدیث 3559 ، صحیح مسلم حدیث 2321)

یہ تعلیم آج بھی ہمارے لیے اتنی ہی اہم ہے جتنی چودہ سو سال پہلے تھی۔ آج ہمارے تعلیمی ادارے علم تو دے رہے ہیں مگر اگر علم کے ساتھ کردار سازی نہ ہو تو تعلیم کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔ معاشرے کو صرف پڑھے لکھے افراد نہیں بلکہ اچھے انسان بھی درکار ہیں۔ ہمیں ایسے استاد، والدین اور مربی چاہیے جو صرف کتاب نہ پڑھائیں بلکہ اپنی عملی زندگی سے بھی اچھائی کا نمونہ پیش کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہی سبق دیا کہ تعلیم صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ انسان کے دل، فکر، کردار اور عمل کی اصلاح کا نام ہے۔ آپ ﷺ نے انسان کو اس کے رب سے جوڑا، اسے اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ کیا، اسے انسانوں کے ساتھ حسن سلوک سکھایا اور اسے ایسا کردار عطا کیا جس سے فرد بھی سنورتا ہے اور معاشرہ بھی۔ آج دنیا کو جدید علوم، ٹیکنالوجی اور ترقی کے ساتھ ساتھ اخلاق، برداشت، عدل، رحم اور انسانیت کی بھی شدید ضرورت ہے۔ اگر ہم حقیقی معنوں میں ایک بہتر معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں رسول اللہ ﷺ کے تعلیمی اور تربیتی اصولوں کو اپنی زندگی میں جگہ دینا ہوگی۔ ہمیں اپنے گھروں، مدارس، اسکولوں، جامعات اور معاشرتی اداروں میں آپ ﷺ کے طریقہ تربیت کو زندہ کرنا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا نے بڑے بڑے اساتذہ، مفکرین اور فلسفی دیکھے مگر ایسا معلمِ انسانیت کبھی نہیں دیکھا جس نے صرف الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے انسانوں کی تربیت کی، دلوں کو بدلا، معاشروں کو سنوارا، دشمنوں کو دوست بنایا، غلاموں کو عزت دی، کمزوروں کو حقوق دیے اور ایک ایسی امت تیار کی جس نے علم و اخلاق کی روشنی دنیا کے دور دراز خطوں تک پہنچائی۔ اسی لیے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پوری انسانیت کے لیے سب سے عظیم معلم، سب سے کامل مربی اور سب سے روشن عملی نمونہ ہیں۔ آپ ﷺ کی تعلیم آج بھی دلوں کو زندہ کرتی ہے، آپ ﷺ کی سیرت آج بھی کردار بناتی ہے اور آپ ﷺ کی ہدایت قیامت تک انسانیت کے لیے روشنی کا راستہ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More