jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

ایران جنگ کے 6 ماہ، ٹرمپ کی 319 سوشل میڈیا پوسٹس

28 فروری سے 25 اگست کے درمیان ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر مجموعی طور پر 4189 پوسٹس کیں ، ہر 13 میں سے 1 پوسٹ ایران سے متعلق تھی

واشنگٹن(انٹرنیشنل نیوز)امریکا اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کو 6 ماہ مکمل ہونے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران سے متعلق کم از کم 319 پوسٹس کیں، یعنی تقریباً ہر 14 گھنٹے بعد ایک پوسٹ۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان پوسٹس کو ترتیب سے پڑھا جائے تو یہ جنگ کے اعلان، فوجی کارروائی، فتح کے دعوے، مذاکرات، جنگ بندی اور دوبارہ کشیدگی تک کے تمام مراحل کی عکاسی کرتی ہیں۔

28 فروری سے 25 اگست کے درمیان ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر مجموعی طور پر 4189 پوسٹس کیں جن میں سے ہر 13 میں سے 1 پوسٹ ایران سے متعلق تھی۔28 فروری سے پہلے ایران ٹرمپ کی پوسٹس میں نسبتا کم زیرِ بحث تھا، یکم جنوری سے 27 فروری تک انہوں نے ایران کے بارے میں 17 پوسٹس کیں۔

ٹرمپ نے ایک جانب ایران کے خلاف سخت بیانات دیے، دوسری جانب تہران کو مذاکرات کی بار بار پیشکش کرتے ہوئے ڈیل کرنے کا مطالبہ کیا۔28 جنوری کو ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے،28فروری کو امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے صدر ٹرمپ کی ہدایت پر آپریشن ایپک فری شروع کرنے کا اعلان کیا۔تقریباً 55منٹ بعد ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر 8 منٹ کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے ایران میں امریکی بڑی فوجی کارروائی کی تفصیلات بتائیں،اسی روز شام کو ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا دعویٰ کیا۔

اگلے دو ہفتوں کے دوران ٹرمپ نے مزید 40 پوسٹس کیں اور حملوں کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ایران سے غیر مشروط سرینڈر کا مطالبہ کیا،جنگ کے 2 ہفتے بعد 14 مارچ کو ٹرمپ نے دعوی کیا کہ امریکا ایران کی 100 فیصد فوجی صلاحیت تباہ کر چکا ہے۔مارچ اور اپریل کے دوران ٹرمپ نے ایرانی فوجی تنصیبات کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے ایران کو متعدد ڈیڈ لائنز دیں۔انہوں نے آبنائے ہرمز، خلیج، پلوں اور بجلی گھروں پر کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دیں اور بارہا دعوی کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور قیادت تباہ ہو چکی ہے۔7 اپریل کو ٹرمپ نے ایران پر ایک حتمی حملے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی، تاہم حملہ نہیں کیا گیا، تقریبا 10 گھنٹے بعد ٹرمپ نے بتایا کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حملہ روکنے کی درخواست کی، جسے میں نے قبول کر لیا۔ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کی شرط پر 2 ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔12اپریل کو ٹرمپ نے امریکی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے تمام بحری جہازوں کی ناکہ بندی شروع کرنے کا اعلان کیا، بعد میں انہوں نے اس ناکہ بندی کو اسٹیل کی دیوار کا نام دیا،20اپریل کو ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل نے مجھے ایران کے خلاف جنگ پر آمادہ نہیں کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر جنگ شروع کی تھی، لیکن ٹرمپ کی پوسٹس میں اسرائیل کا ذکر نسبتا کم رہا، اسرائیل کا نام صرف 32 مرتبہ جبکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا نام صرف 2 مرتبہ آیا۔3 مئی کو ٹرمپ نے پراجیکٹ فریڈم کا اعلان کیا، جس کے تحت امریکی بحریہ نے غیر جانب دار ممالک کے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے باہر نکالنے کے لیے انہیں حفاظتی حصار فراہم کرنا تھا، 3 روز بعد پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر یہ کارروائی روک دی گئی۔مئی اور جون کے دوران جنگ کا رخ مذاکرات کی طرف ہو گیا، ٹرمپ نے خلیجی ممالک کے رہنماں کے ساتھ رابطوں کے بعد ایران کے ساتھ امن سے متعلق مفاہمت کی کوششیں شروع کیں۔29 مئی کو انہوں نے ایران کو ناکام ریاست قرار دیا اور کہا کہ ایران اپنی فوج کے اخراجات بھی برداشت کرنے کے قابل نہیں۔11 جون کو ٹرمپ نے ایران پر بہت سخت حملہ کرنے کا وعدہ کیا، تاہم چند گھنٹے بعد حملہ منسوخ کر دیا۔

14جون کو ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو گیا ہے اور دنیا بھر کے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز میں اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا اشارہ دیا، تاہم معاہدہ فوری طور پر کمزور پڑنے لگا۔26 جون کو ٹرمپ نے دعوی کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر کم از کم 4 ڈرون مارے، جن میں سے ایک کارگو جہاز سے ٹکرایا۔2 روز بعد امریکی طیاروں نے ایرانی میزائل ذخائر اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا اور ٹرمپ نے ایران پر جنگ بندی کی دوبارہ خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔10جولائی کو ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جنگ بندی ختم ہو گئی، 3 دن بعد انہوں نے ایرانی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔22 جولائی کو ٹرمپ نے نئی دھمکی دی کہ آبنائے ہرمز میں جب بھی ایران کسی بحری جہاز پر حملہ کرے گا، امریکا جوابا ایک پل یا بجلی گھر تباہ کرے گا۔10اگست کو ٹرمپ نے ایک مضمون شیئر کیا جس کی سرخی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ جیت لی تاہم اگست تک جنگ کا مرکز بڑی حد تک فوجی کارروائیوں سے معاشی دبا کی طرف منتقل ہو چکا تھا، 60 روزہ مفاہمتی معاہدہ ختم ہو گیا اور اس کی جگہ کوئی نیا معاہدہ نہ آ سکا۔ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کی بات کی اور 19 اگست کو ایران کے خلاف کسی بھی ملک کے خلاف کی جانے والی سب سے تباہ کن معاشی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا، جس سے ٹرمپ کا مقصد ایسے تمام ممالک کو دبا میں لانا تھا جو ایران کو مالی مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More