jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

دفاعی خود انحصاری کا نیا باب، پی او ایف واہ سے مضبوط پاکستان کی جانب پیش قدمی

تجزیہ بی این پی
پاکستان کی دفاعی خود انحصاری محض ایک صنعتی ضرورت نہیں بلکہ قومی سلامتی، خودمختاری اور مستقبل کی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی تقاضا ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں وہی ممالک اپنی سلامتی کے تقاضوں کو بہتر انداز میں پورا کر سکتے ہیں جو دفاعی سازوسامان کی تیاری، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی اور صنعتی صلاحیت میں دوسروں پر کم سے کم انحصار رکھتے ہوں۔ اسی تناظر میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کا دورہ خاص اہمیت کا حامل ہے، جہاں انہوں نے ادارے کی پیداواری صلاحیتوں، مقامی تیاری، تکنیکی جدت اور برآمدی امکانات کا جائزہ لیا۔
پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ ملکی دفاعی صنعت کا ایک اہم ادارہ ہے جو طویل عرصے سے مسلح افواج کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ دفاعی خود انحصاری کے فروغ میں کردار ادا کر رہا ہے۔ مقامی سطح پر اسلحہ اور گولہ بارود کی تیاری کسی بھی ملک کے لیے اس اعتبار سے اہم ہوتی ہے کہ ہنگامی حالات میں بیرونی ذرائع پر انحصار کم رہتا ہے اور دفاعی ضروریات کی تکمیل زیادہ مؤثر انداز میں کی جا سکتی ہے۔
دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پی او ایف کے آپریشنز اور پیداواری سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ انہوں نے مقامی طور پر تیار کیے جانے والے اسلحے اور گولہ بارود کے ٹیسٹ اور ٹرائلز کا مشاہدہ بھی کیا۔ یہ امر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دفاعی پیداوار میں معیار، کارکردگی اور تکنیکی اعتبار سے مضبوط مصنوعات کی تیاری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق دفاعی صنعت میں خود انحصاری کا سفر صرف موجودہ ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ مستقبل کے جنگی تقاضوں کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ جدید دنیا میں جنگی ٹیکنالوجی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور روایتی ہتھیاروں کے ساتھ جدید مواصلاتی نظام، خودکار ٹیکنالوجی، ڈرونز، الیکٹرانک جنگ، سائبر صلاحیتوں اور مصنوعی ذہانت کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لیے پاکستان کے دفاعی صنعتی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پیداوار کے ساتھ تحقیق و ترقی اور تکنیکی جدت پر بھی مسلسل توجہ دیں۔
پی او ایف میں انڈیجنائزیشن اور اپ گریڈیشن کے لیے دو نئے صنعتی پلانٹس کی تنصیب اس سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔ ان پلانٹس کے رواں سال کے اختتام تک پیداوار شروع کرنے کی توقع ہے۔ اگر یہ منصوبے مقررہ اہداف کے مطابق مکمل ہوئے تو نہ صرف پی او ایف کی پیداواری صلاحیت بڑھے گی بلکہ مقامی صنعت، انجینئرنگ اور تکنیکی مہارتوں کے فروغ کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
دفاعی پیداوار میں مقامی صلاحیت بڑھانے کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ اس کے اثرات صرف عسکری شعبے تک محدود نہیں رہتے۔ جدید دفاعی صنعت کے لیے درکار انجینئرنگ، دھات سازی، الیکٹرانکس، کیمیکل، مشینری اور سافٹ ویئر کی مہارتیں ملکی صنعتی بنیاد کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔ اس طرح دفاعی شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری بالواسطہ طور پر ملکی معیشت اور صنعتی ترقی میں بھی حصہ ڈال سکتی ہے۔
پی او ایف کی کارپوریٹائزیشن کے عمل میں پیش رفت بھی قابل توجہ ہے۔ جدید دور میں بڑے صنعتی اداروں کے لیے پیشہ ورانہ انتظام، شفافیت، پیداواری کارکردگی، معیار کی ضمانت اور لاگت میں کمی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اگر کارپوریٹائزیشن کے عمل کو قومی مفاد اور پیشہ ورانہ اصولوں کے تحت مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے تو ادارے کی کارکردگی اور عالمی مسابقت کی صلاحیت میں اضافہ ممکن ہے۔
پاکستان کے لیے دفاعی پیداوار کا ایک اور اہم پہلو برآمدات ہیں۔ اگر مقامی طور پر تیار ہونے والی دفاعی مصنوعات عالمی معیار پر پورا اترتی ہیں تو ان کی برآمد سے ملک کے لیے زرمبادلہ حاصل کرنے کے ساتھ پاکستان کی دفاعی صنعتی شناخت بھی مضبوط ہو سکتی ہے۔ عالمی دفاعی منڈی میں مقابلہ سخت ضرور ہے، تاہم معیاری مصنوعات، مناسب قیمت، قابل اعتماد فراہمی اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج سے پاکستان اس میدان میں اپنے لیے مزید گنجائش پیدا کر سکتا ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** پی او ایف واہ کی ترقی کو ایک وسیع تر قومی صنعتی منصوبے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دفاعی اداروں کو ملک کی جامعات، تحقیقی مراکز اور نجی صنعتی شعبے کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے تاکہ مقامی انسانی وسائل اور علمی صلاحیتوں کو دفاعی تحقیق سے جوڑا جا سکے۔ پاکستان میں باصلاحیت انجینئرز، سائنس دان اور آئی ٹی ماہرین موجود ہیں؛ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان صلاحیتوں کو جدید دفاعی تحقیق اور صنعتی منصوبہ بندی کے ساتھ مربوط کیا جائے۔
دفاعی خود انحصاری دراصل قومی خود اعتمادی کی علامت بھی ہوتی ہے۔ جب کوئی ملک اپنی بنیادی دفاعی ضروریات خود پوری کرنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے تو اس کی خارجہ پالیسی اور قومی فیصلوں میں بھی زیادہ خودمختاری پیدا ہوتی ہے۔ بیرونی دباؤ کے مقابلے میں اس کی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے اور وہ اپنے قومی مفادات کا زیادہ مؤثر انداز میں تحفظ کر سکتا ہے۔
اسی لیے پی او ایف واہ میں پیداواری صلاحیت بڑھانے، نئے صنعتی پلانٹس قائم کرنے اور مقامی تیاری کو فروغ دینے کی کوششیں محض ایک ادارے کی ترقی نہیں بلکہ قومی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ان منصوبوں کی کامیابی کے لیے مستقل پالیسی، جدید مشینری، تربیت یافتہ افرادی قوت، تحقیق و ترقی اور مؤثر انتظامی نظام ضروری ہوگا۔
پاکستان کو دفاعی صنعت میں خود کفالت کے ساتھ ساتھ معیار کو بھی مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ عالمی سطح پر کسی بھی دفاعی مصنوعات کی کامیابی کا انحصار صرف اس بات پر نہیں ہوتا کہ وہ مقامی طور پر تیار ہوئی ہے بلکہ اس کا معیار، پائیداری، درستگی، قیمت اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا بھی ضروری ہے۔ اس لیے مقامی پیداوار کے ہر مرحلے پر معیار کی نگرانی اور جدید تکنیکی اصولوں کی پابندی ناگزیر ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پی او ایف واہ کا دورہ اسی عزم کی تجدید کرتا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان دفاعی پیداوار میں خود انحصاری، مقامی تیاری اور تکنیکی جدت کے راستے پر آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہے۔ مضبوط دفاع کے لیے جدید اور قابل اعتماد دفاعی صنعت بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے اور پاکستان کے لیے یہ شعبہ مستقبل میں مزید اہمیت اختیار کرے گا۔یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ مضبوط دفاع اور مضبوط معیشت ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ اگر دفاعی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، مقامی سپلائی چین کو فروغ دیا جائے، نجی شعبے کو مناسب مواقع فراہم کیے جائیں اور دفاعی مصنوعات کی برآمدات بڑھائی جائیں تو اس شعبے کو قومی اقتصادی ترقی کا مؤثر ذریعہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ میں دو نئے صنعتی پلانٹس کی تنصیب اور پیداوار میں اضافے کی کوششیں اسی وسیع تر وڑن کا حصہ بن سکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان منصوبوں کو محض پیداواری اہداف تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں تحقیق، اختراع، روزگار، ہنرمندی اور برآمدی صلاحیت کے ساتھ مربوط کیا جائے۔بالآخر پاکستان کی اصل قوت صرف اس کے ہتھیاروں کی تعداد میں نہیں بلکہ ان ہتھیاروں کے پیچھے موجود علم، ٹیکنالوجی، صنعتی صلاحیت اور قومی خود اعتمادی میں پوشیدہ ہے۔ پی او ایف واہ کی ترقی اسی خود اعتمادی کو صنعتی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ اس حوالے سے ایک واضح پیغام ہے کہ دفاعی خود انحصاری کو قومی سلامتی کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
اگر مقامی پیداوار، تکنیکی جدت، تحقیق و ترقی اور برآمدی حکمت عملی کو ایک مربوط منصوبے کے تحت آگے بڑھایا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی دفاعی ضروریات زیادہ مؤثر انداز میں پوری کر سکتا ہے بلکہ دفاعی صنعت کو قومی معیشت کے ایک مضبوط اور باوقار شعبے کے طور پر بھی ترقی دے سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو دفاعی اعتبار سے زیادہ خودمختار، صنعتی لحاظ سے زیادہ مضبوط اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ تیار بنا سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More