تجزیہ بی این پی
آزاد جموں و کشمیر میں طویل سیاسی تعطل کے بعد بالآخر ایک نئی سیاسی صبح طلوع ہوئی ہے۔ قانون ساز اسمبلی نے بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کو ریاست کا نیا وزیراعظم منتخب کر لیا ہے۔ انہیں 30 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مختار احمد عباسی 14 ووٹ حاصل کر سکے۔ قائم مقام صدر آزاد کشمیر چودھری طارق فاروق نے نومنتخب وزیراعظم سے حلف لیا۔ یوں آزاد کشمیر میں حکومت سازی کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہو گیا، لیکن یہ سمجھنا قبل از وقت ہوگا کہ سیاسی بحران ختم ہو چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم کا انتخاب اختتام نہیں بلکہ ایک نئے اور زیادہ اہم مرحلے کا آغاز ہے، جہاں نئی قیادت کو سیاسی اختلافات، انتظامی کمزوریوں، معاشی مشکلات اور عوامی توقعات کا سامنا کرنا ہوگا۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کا سیاسی سفر بھی اس انتخاب کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ عام انتخابات میں وہ مظفرآباد سے مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترے تھے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مختار احمد عباسی سے شکست کھا گئے۔ بعد ازاں وہ ٹیکنو کریٹ کی مخصوص نشست پر قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنے اور اب اسی اسمبلی نے انہیں وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ ان کے انتخاب کے بعد یہ سوال سیاسی حلقوں میں زیر بحث آنا فطری ہے کہ عمومی نشست پر شکست کھانے والا امیدوار وزارت عظمیٰ کے منصب تک کیسے پہنچ سکتا ہے۔ تاہم پارلیمانی نظام میں اصل اہمیت اس امر کی ہوتی ہے کہ امیدوار اسمبلی کا رکن ہو اور اسے ایوان کی مطلوبہ اکثریت حاصل ہو۔ اس لحاظ سے ان کا انتخاب آئینی اور پارلیمانی دائرے میں آتا ہے۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ماضی میں آزاد کشمیر کی سیاست میں مخصوص نشست کے ذریعے وزیراعظم منتخب ہونے کی مثال موجود ہے۔ لہٰذا موجودہ انتخاب کو صرف اس بنیاد پر متنازع بنانے کی کوشش کہ نومنتخب وزیراعظم عمومی نشست سے کامیاب نہیں ہوئے، شاید سیاسی طور پر تو قابل بحث ہو، مگر آئینی طور پر اس اعتراض کی حیثیت محدود ہے۔ جمہوری نظام میں انتخابات کے بعد اسمبلی کے اندر اکثریت کا فیصلہ ہی حکومت سازی کی بنیاد بنتا ہے۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ بیرسٹر افتخار گیلانی اس منصب کے ساتھ انصاف کیسے کرتے ہیں۔ اقتدار حاصل کرنا سیاست کا ایک مرحلہ ہے، مگر اقتدار کو عوامی خدمت میں تبدیل کرنا اصل امتحان ہے۔ آزاد کشمیر اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے وہاں محض سیاسی نعروں اور رسمی اعلانات سے کام نہیں چلے گا۔ ریاست کو ایسی حکومت درکار ہے جو فیصلے کرے، ان پر عمل درآمد کرائے اور عوام کو محسوس ہو کہ ان کی زندگی میں واقعی کوئی تبدیلی آ رہی ہے۔
مسلم لیگ ن کو 53 رکنی قانون ساز اسمبلی میں 32 ارکان کی حمایت حاصل ہے، اس لحاظ سے نئی حکومت کو ایک مضبوط پارلیمانی پوزیشن حاصل ہے۔ نومنتخب وزیراعظم کو مسلم لیگ ن کے علاوہ عوامی دست و بازو اور جمعیت علمائے اسلام کے ایک، ایک رکن کی حمایت بھی ملی۔ عددی اعتبار سے حکومت کو قانون سازی اور حکومتی امور چلانے کے لئے مناسب گنجائش حاصل ہے، مگر سیاست میں صرف اعداد فیصلہ کن نہیں ہوتے۔ حکمران جماعت کے اندر موجود اختلافات بھی حکومت کی مضبوطی یا کمزوری کا تعین کرتے ہیں۔
مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر کا اپنی جماعت کے امیدوار کو ووٹ نہ دینا اس داخلی اختلاف کی ایک نمایاں مثال ہے۔ وزارت عظمیٰ کے لئے مختلف نام زیر گردش رہے اور خود شاہ غلام قادر بھی اس منصب کے مضبوط امیدوار سمجھے جاتے تھے۔ سیاسی فیصلے کے آخری مرحلے میں بیرسٹر افتخار گیلانی کو امیدوار بنائے جانے پر بعض حلقوں میں تحفظات کا اظہار بھی ہوا۔ یہ اختلاف اگر صرف انتخابی مرحلے تک محدود رہے تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں، لیکن اگر یہ حکومتی امور میں مستقل کشمکش کا روپ اختیار کر گیا تو اس کے اثرات ریاستی انتظامیہ تک پہنچ سکتے ہیں۔
نئی حکومت کے لئے سب سے پہلی ضرورت یہی ہے کہ مسلم لیگ ن کے اندرونی اختلافات کو حکومتی کارکردگی کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔ سیاست میں اختلاف رائے فطری امر ہے، لیکن اقتدار سنبھالنے کے بعد جماعتی مفاد کو ریاستی مفاد پر ترجیح دینا کسی بھی حکومت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم کو اپنی جماعت کے تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وزارت عظمیٰ کسی ایک گروپ یا شخصیت کی نہیں بلکہ پورے آزاد کشمیر کی نمائندگی ہے۔
یہی اصول اپوزیشن کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چودھری محمد یاسین کو قائد حزب اختلاف مقرر کیا گیا ہے۔ ایک فعال، ذمہ دار اور بااصول اپوزیشن جمہوری نظام کے لئے ناگزیر ہوتی ہے۔ حکومت کو اپوزیشن کی تنقید سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اسے اصلاح کا ذریعہ سمجھنا چاہئے اور اپوزیشن کو بھی یہ احساس رکھنا چاہئے کہ ہر معاملے کو سیاسی تصادم میں تبدیل کرنا عوامی مفاد میں نہیں۔
نومنتخب وزیراعظم نے اپنی پہلی تقریر میں تمام ارکان کے تعاون کی ضرورت پر زور دے کر ایک مثبت سیاسی سمت کا اشارہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آزاد کشمیر کی بہتری کے لئے سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ یہی طرز عمل موجودہ حالات میں سب سے زیادہ موزوں دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر ریاستی ترقی کے بنیادی اہداف پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا ہے۔
آزاد کشمیر کے عوام کو اس وقت سب سے زیادہ روزگار اور معاشی مواقع کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کی تلاش میں ہے۔ سرکاری ملازمتیں محدود ہیں اور ہر نوجوان کو سرکاری شعبے میں جگہ دینا ممکن بھی نہیں۔ اس لئے نئی حکومت کو روزگار کے مسئلے کو محض بھرتیوں تک محدود کرنے کے بجائے معیشت کے نئے شعبوں پر توجہ دینا ہوگی۔
سیاحت آزاد کشمیر کی معیشت کے لئے ایک قدرتی اثاثہ ہے۔ دنیا کے خوبصورت ترین پہاڑی مناظر، جھیلیں، وادیاں اور تاریخی مقامات اس خطے کو سیاحت کا بڑا مرکز بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن سیاحت صرف خوبصورت مناظر سے فروغ نہیں پاتی۔ بہتر سڑکیں، مواصلاتی نظام، انٹرنیٹ، ہوٹلنگ، صفائی، سکیورٹی، تربیت یافتہ افرادی قوت اور جدید تشہیری حکمت عملی بھی ضروری ہے۔ اگر حکومت سیاحت کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دے کر نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرے تو ہزاروں نوجوانوں کے لئے براہ راست اور بالواسطہ روزگار پیدا ہو سکتا ہے۔
اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے لئے معاشی انقلاب کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ جغرافیائی مشکلات کے باوجود ڈیجیٹل دنیا نے فاصلے کم کر دیے ہیں۔ اگر تیز رفتار انٹرنیٹ، تربیتی مراکز اور جدید ڈیجیٹل سہولیات فراہم کی جائیں تو آزاد کشمیر کے نوجوان گھر بیٹھے عالمی مارکیٹ میں اپنی خدمات فروخت کر سکتے ہیں۔ فری لانسنگ، سافٹ ویئر، آن لائن تعلیم اور ڈیجیٹل کاروبار کے شعبے ریاست کی معیشت کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔
بیرسٹر افتخار گیلانی نے ڈیجیٹل معیشت کو اپنی ترجیحات میں شامل کر کے درست سمت کی طرف اشارہ کیا ہے، لیکن اس کے لئے عملی منصوبہ بندی درکار ہوگی۔ صرف ڈیجیٹل معیشت کا اعلان کافی نہیں، اس کے لئے انفراسٹرکچر، تربیت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ تک رسائی کے مکمل نظام کی ضرورت ہوگی۔
میرٹ اور شفافیت کا وعدہ بھی موجودہ حکومت کے لئے ایک بڑا امتحان ہوگا۔ آزاد کشمیر سمیت ملک کے ہر حصے میں سرکاری بھرتیوں اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے سیاسی اثر و رسوخ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ اگر نئی حکومت واقعی میرٹ کو یقینی بنانا چاہتی ہے تو اسے بھرتیوں کے عمل کو مکمل طور پر شفاف، قابلِ نگرانی اور سیاسی مداخلت سے پاک بنانا ہوگا۔ نوجوانوں کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ان کا مستقبل سفارش نہیں بلکہ اہلیت سے وابستہ ہے۔
کرپشن کے خلاف عدم برداشت کا اعلان بھی خوش آئند ہے، لیکن کرپشن کے خاتمے کے لئے صرف سخت بیانات کافی نہیں ہوتے۔ اداروں کو مضبوط کرنا، اختیارات کی نگرانی، سرکاری اخراجات میں شفافیت اور احتساب کے غیر جانب دار نظام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ احتساب اگر سیاسی انتقام کا ذریعہ بن جائے تو اس کی ساکھ ختم ہو جاتی ہے۔ اس لئے نئی حکومت کو احتساب کا ایسا نظام قائم کرنا ہوگا جس میں حکومت کے حامی اور مخالف دونوں یکساں معیار کے تحت جواب دہ ہوں۔
وزیراعظم کی جانب سے ”بولو کشمیر” کے نام سے شہری پورٹل کے قیام کا اعلان اس حوالے سے ایک قابل ذکر اقدام ہے۔ جدید طرز حکمرانی میں شہریوں اور حکومت کے درمیان براہ راست رابطہ نہایت اہم ہو چکا ہے۔ اگر کوئی شہری سرکاری دفتر کے چکر لگائے بغیر اپنی شکایت درج کرا سکے، اس شکایت کی پیش رفت دیکھ سکے اور متعلقہ افسر سے جواب طلب کیا جا سکے تو یہ انتظامی نظام میں ایک نمایاں تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم اس نظام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ شکایت درج ہونے کے بعد کیا ہوتا ہے۔ اگر پورٹل صرف شکایات جمع کرنے کا ذریعہ بن کر رہ گیا تو اس کا مقصد فوت ہو جائے گا۔ ضروری ہے کہ ہر شکایت کے لئے وقت مقرر ہو، ذمہ دار افسر کا تعین ہو اور شہری کو کارروائی سے آگاہ رکھا جائے۔ یہی ڈیجیٹل گورننس کا اصل امتحان ہوگا۔
پونچھ اور سدھنوتی کی سات نشستوں پر انتخابات میں تاخیر بھی فوری توجہ چاہتی ہے۔ قانون ساز اسمبلی اس وقت تک مکمل طور پر نمائندہ نہیں کہی جا سکتی جب تک تمام نشستوں پر انتخابی عمل مکمل نہ ہو۔ ان حلقوں کے عوام کو بھی اپنے نمائندے منتخب کرنے کا مساوی حق حاصل ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہئے کہ انتخابی عمل کو جلد از جلد مکمل کرائیں تاکہ سیاسی نظام کو مکمل استحکام حاصل ہو۔
آزاد کشمیر میں حکومت اور عوام کے درمیان تعلق کو مضبوط بنانے کے لئے محض اسمبلی کے اندر اکثریت کافی نہیں ہوگی۔ حالیہ سیاسی حالات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عوامی جذبات اور مطالبات کو نظر انداز کرنا کسی حکومت کے لئے آسان نہیں۔ مختلف سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کے ساتھ مسلسل رابطہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہونا چاہئے۔کالعدم ایکشن کمیٹی سمیت مختلف حلقوں کے ساتھ رابطے بحال کرنے کی ضرورت بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا جمہوری نظام کی مضبوطی کی علامت ہے۔ البتہ ہر سیاسی یا عوامی سرگرمی آئین اور قانون کے دائرے میں ہونی چاہئے۔ حکومت کو طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے، مفاہمت اور قانون کی حکمرانی کو ترجیح دینا ہوگی۔
مسئلہ کشمیر نئی حکومت کی سیاسی ترجیحات کا لازمی حصہ رہے گا۔ بیرسٹر افتخار گیلانی نے واضح کیا ہے کہ کشمیر محض زمین کے ایک ٹکڑے کا مسئلہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے 5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات کی بھی مذمت کی۔ اس حوالے سے آزاد کشمیر کی حکومت کو پاکستان کی سفارتی کوششوں کے ساتھ اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوگا۔
تاہم کشمیر کاز کی مضبوطی کا ایک پہلو خود آزاد کشمیر کی ترقی اور خوشحالی بھی ہے۔ ایک ایسا خطہ جہاں تعلیم، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر اور حکمرانی کے شعبوں میں نمایاں بہتری ہو، وہ مسئلہ کشمیر کے مقدمے کو زیادہ مؤثر اخلاقی قوت فراہم کرتا ہے۔ دنیا کے سامنے ایک خوشحال اور مستحکم آزاد کشمیر کشمیری عوام کی سیاسی اور جمہوری صلاحیتوں کا بھی بہتر اظہار ہوگا۔
نومنتخب وزیراعظم نے افواج پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خطے میں امن و سلامتی کے حوالے سے ان کے کردار کو سراہا ہے۔ آزاد کشمیر کی حساس جغرافیائی حیثیت کے باعث دفاع اور سلامتی کے معاملات اپنی جگہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، تاہم ریاستی معاملات میں مؤثر حکمرانی، مضبوط سول ادارے اور عوامی شمولیت بھی اسی قدر ضروری ہیں۔ سلامتی اور ترقی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔
وزیراعظم کی جانب سے پنجاب میں مریم نواز کے طرز حکمرانی سے رہنمائی لینے کا اعلان بھی قابل توجہ ہے۔ دوسرے علاقوں کے کامیاب انتظامی تجربات سے استفادہ کرنا اچھی حکمت عملی ہو سکتی ہے، مگر آزاد کشمیر کی اپنی جغرافیائی، معاشی اور انتظامی ضروریات ہیں۔ اس لئے کسی بھی ماڈل کو من و عن نقل کرنے کے بجائے مقامی حالات کے مطابق ڈھالنا زیادہ مفید ہوگا۔آزاد کشمیر کی نئی حکومت کے سامنے اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ وہ اپنے ابتدائی وعدوں کو کتنی جلد عملی شکل دیتی ہے۔ روزگار، میرٹ، شفافیت، کرپشن کے خاتمے، ڈیجیٹل معیشت، عوامی شکایات کے ازالے اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار جیسے شعبوں میں اگر نمایاں پیش رفت ہوئی تو حکومت عوامی اعتماد حاصل کر سکتی ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** بیرسٹر افتخار گیلانی کے لئے یہ موقع غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ ایک ایسے وقت میں وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں جب عوام سیاسی کشمکش سے زیادہ عملی کارکردگی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے پاس اسمبلی میں عددی قوت موجود ہے، لیکن سیاسی استحکام کے لئے عددی اکثریت کے ساتھ وسیع تر سیاسی مفاہمت بھی ضروری ہے۔ اگر وہ اپنی جماعت کے اندر اختلافات کو قابو میں رکھتے ہوئے اپوزیشن، عوامی حلقوں اور مختلف سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں تو ان کی حکومت زیادہ مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو سکتی ہے۔
آزاد کشمیر کے عوام کے لئے نئی حکومت سے توقعات غیر معمولی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ سیاست محض اقتدار کے حصول کا ذریعہ نہ رہے بلکہ ان کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کا وسیلہ بنے۔ نوجوان روزگار چاہتے ہیں، طلبہ بہتر تعلیمی مواقع چاہتے ہیں، مریض معیاری طبی سہولیات کے منتظر ہیں، تاجر سازگار کاروباری ماحول چاہتے ہیں اور عام شہری شفاف اور جواب دہ انتظامیہ کا خواہاں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نئی حکومت کو اپنی ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے سیاسی وفاداریوں سے زیادہ عوامی ضرورتوں کو سامنے رکھنا ہوگا۔ اگر حکومت نے پہلے سو دنوں میں واضح سمت، قابلِ عمل منصوبہ بندی اور انتظامی رفتار کا مظاہرہ کر دیا تو اس کے لئے عوامی اعتماد کی بنیاد مضبوط ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر سیاسی اختلافات ایک بار پھر ریاستی معاملات پر غالب آ سکتے ہیں۔آخرکار آزاد کشمیر میں وزیراعظم کا انتخاب ایک سیاسی واقعہ ضرور ہے، مگر اس کی اصل اہمیت اس انتخاب کے بعد سامنے آئے گی۔ بیرسٹر افتخار گیلانی کو اب ثابت کرنا ہوگا کہ وہ محض ایک سیاسی جماعت کے امیدوار نہیں بلکہ پورے آزاد کشمیر کے وزیراعظم ہیں۔ ان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اختلاف کو دشمنی نہ بننے دیں، اپوزیشن کو ریاستی عمل کا حصہ سمجھیں، میرٹ اور شفافیت کو عملی اصول بنائیں اور عوامی مسائل کے حل کو اپنی حکومت کا مرکزی محور قرار دیں۔
آزاد کشمیر کو اس وقت سیاسی کشمکش سے زیادہ سیاسی بصیرت، نعروں سے زیادہ عملی اقدامات اور وعدوں سے زیادہ نتائج کی ضرورت ہے۔ اگر نئی حکومت اس ضرورت کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئی تو موجودہ سیاسی تبدیلی ریاست کے لئے ایک نئے دور کا نقط? آغاز بن سکتی ہے۔ لیکن اگر اقتدار ایک بار پھر جماعتی مفادات، اندرونی اختلافات اور سیاسی محاذ آرائی کی نذر ہو گیا تو عوام کی امیدیں مایوسی میں تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔
نئی حکومت کے پاس موقع بھی ہے اور اختیار بھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس موقع کو تاریخ بنانے کے لئے استعمال کرتی ہے یا محض سیاسی اقتدار کے ایک اور باب کا اضافہ کرتی ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام یقیناً اب فیصلے تقریروں سے نہیں، کارکردگی سے کریں گے۔