jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

حکمران بدلتے رہے مگرعوام کا مقدر وہیں کیوں رہا؟

تحریر:رشیداحمدنعیم

قوموں کی تاریخ میں بعض سوال ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوتے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔ پاکستان بھی آج ایسے ہی ایک سوال کے سامنے کھڑا ہے کہ اقتدار بدلتا رہا، حکمران بدلتے رہے، حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں، نعرے بدلتے رہے، منشور بدلتے رہے مگر عوام کا مقدر کیوں نہیں بدلا؟ ایوانِ اقتدار میں چراغوں کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوئی مگر عام آدمی کے گھر کا چولہا آج بھی معاشی بے یقینی کی دھند میں جلتا ہے۔ حکمرانوں کے قافلے بدلتے رہے مگر غریب کی گلی کا منظر وہی رہا۔ چہرے نئے آتے رہے، وعدے نئے ہوتے رہے مگر عوام کی زندگی پرانے سوالوں کی گرفت سے آزاد نہ ہو سکی۔یہ سوال کسی ایک حکومت، ایک سیاسی جماعت یا ایک حکمران کے خلاف فردِ جرم نہیں۔یہ پورے نظامِ حکمرانی کے سامنے ایک آئینہ ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اقتدار کی تبدیلی کو ہی تبدیلی سمجھ لیا۔ کبھی ایک جماعت امید بن کر آئی۔ کبھی دوسری نجات دہندہ قرار پائی۔کبھی کسی نئے چہرے سے انقلاب کی توقع وابستہ کی گئی مگر اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد اکثر حکومتیں انہی مسائل کے سامنے بے بس دکھائی دیں جنہیں حل کرنے کے وعدے پر وہ اقتدار تک پہنچی تھیں۔
قیامِ پاکستان کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اس وطن کے قیام کے پیچھے لاکھوں انسانوں کی ہجرت، قربانیاں، بچھڑتے خاندان، اجڑتے گھر اور بے شمار جانوں کا لہو شامل تھا۔ ایک ایسا ملک حاصل کیا گیا تھا جہاں قانون کی بالادستی ہوگی۔ انصاف دولت اور طاقت کا محتاج نہیں ہوگا۔ محنت عزت کا ذریعہ بنے گی۔ نوجوان کو روزگار کے لیے سفارش نہیں بلکہ صلاحیت پر موقع ملے گا۔ کسان اپنی پیداوار کا مناسب معاوضہ پائے گا اور ریاست اپنے شہری کو بنیادی سہولتیں فراہم کرے گی مگر سات دہائیوں سے زائد کا سفر طے کرنے کے باوجود ہم آج بھی ان بنیادی سوالات کے گرد گھوم رہے ہیں۔اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ ہم نے سیاست کو خدمت کی بجائے اقتدار کا کھیل بنا دیا۔ انتخاب آتا ہے تو عوام مرکزِ نگاہ بن جاتے ہیں۔منشور میں غریب، مزدور، کسان، نوجوان، خواتین اور پسے ہوئے طبقات کے لیے بڑے بڑے وعدے لکھے جاتے ہیں۔ جلسوں میں مستقبل کے حسین نقشے دکھائے جاتے ہیں۔ مگر اقتدار ملتے ہی ترجیحات بدلنے لگتی ہیں۔ سیاسی مفادات، اتحادیوں کی ضرورتیں، طاقت کے مراکز، انتظامی مصلحتیں اور فوری سیاسی فائدے اکثر طویل المدت قومی مفاد پر غالب آ جاتے ہیں۔
نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ مہنگائی عام آدمی کی کمر توڑ رہی ہے۔ بجلی کا بل گھر کے بجٹ کو ہلا دیتا ہے۔ بچوں کی تعلیم متوسط طبقے کے لیے مسلسل بڑھتا ہوا بوجھ بن چکی ہے۔ علاج کی معمولی ضرورت بھی کئی خاندانوں کی جمع پونجی نگل سکتی ہے۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ کسان کبھی فصل کی قیمت کے لیے پریشان ہے اور کبھی پیداواری اخراجات کے ہاتھوں بے بس دکھائی دیتا ہے۔ مزدور کی اجرت بڑھتی ہوئی ضروریات کے سامنے چھوٹی پڑ جاتی ہے۔ یہ وہ پاکستان ہے جو سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ بازار، گلی، گھر اور چولہے کی زبان میں سمجھ آتا ہے۔سب سے زیادہ اذیت متوسط طبقہ برداشت کر رہا ہے۔ یہی طبقہ ٹیکس دیتا ہے۔بچوں کو پڑھاتا ہے۔ کرایہ یا گھر کی قسط ادا کرتا ہے۔علاج کا بندوبست کرتا ہے اور ہر بحران میں اپنی ضروریات کا گلا گھونٹ کر گھر چلاتا ہے مگر اس طبقے کے لیے زندگی اب ترقی کی دوڑ نہیںبقا کی جدوجہد بنتی جا رہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خواہش دولت نہیں صرف یہ ہے کہ آمدنی اور اخراجات کے درمیان اتنا فاصلہ ضرور باقی رہے کہ انسان عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنے میں بخل نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کے مسائل صرف حکمرانوں کے آنے جانے سے حل نہیں ہوں گے۔ حکومتیں بدلنے سے زیادہ ضروری حکمرانی کا طریقہ بدلنا ہے۔ ادارے مضبوط ہوں۔ قانون سب کے لیے یکساں ہو۔میرٹ سفارش سے بلند ہو۔احتساب سیاسی انتقام کی بجائے اصول بنے اور ریاستی وسائل ذاتی یا جماعتی مفاد کی بجائے قومی ضرورت کے مطابق استعمال ہوں۔ جس دن یہ بنیادی اصول مضبوط ہو گئے اس دن حکومتیں بدلنے سے ملک کا راستہ نہیں بدلے گا۔ ملک کا نظام حکومتوں کو بہتر راستہ اختیار کرنے پر مجبور کرے گا۔ہماری بدقسمتی یہ بھی ہے کہ ہم نے اداروں کی اصلاح کی بجائے شخصیات سے امیدیں وابستہ کر لیں۔ ہمیں ہر چند سال بعد ایک ایسا مسیحا درکار ہوتا ہے جو آکر سب کچھ ٹھیک کر دے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ قومیں افراد کے سہارے نہیںمضبوط اداروں کے ذریعے ترقی کرتی ہیں۔ فرد اچھا ہو تو ایک دور بہتر گزر سکتا ہے مگر ادارہ مضبوط ہو تو نسلوں کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے۔
پاکستان کو ایسے حکمران درکار ہیں جو اقتدار کو اعزاز نہیں امانت سمجھیں۔ ایسے ادارے درکار ہیں جو شخصیات کے تابع نہیںقانون کے تابع ہوں۔ ایسی سیاست درکار ہے جو اگلے انتخاب سے زیادہ اگلی نسل کی فکر کرے۔ ہمیں ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جن کا فائدہ آج کے جلسے میں تالیاں نہ سمیٹے بلکہ کل کے پاکستان کو مضبوط بنا دے۔تاریخ حکومتوں کی تعداد نہیں گنتی ہے۔ وہ قوموں کے سفر کی سمت دیکھتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اگلی حکومت کون بنائے گا؟ سوال یہ ہے کہ اگلی حکومت عام آدمی کی زندگی میں کیا بدلے گی؟ اگر ایک ماں کے لیے بچوں کی تعلیم آسان نہیں ہوتی، اگر ایک باپ کے لیے گھر کا خرچ عزت کے ساتھ چلانا مشکل رہتا ہے، اگر نوجوان کو روزگار کے لیے سفارش تلاش کرنا پڑتی ہے، اگر مریض علاج کے لیے اپنی جمع پونجی بیچنے پر مجبور ہے اور اگر قانون طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ محسوس ہوتا ہے تو پھر اقتدار کی تبدیلی خواہ کتنی ہی بار کیوں نہ ہو اسے حقیقی تبدیلی نہیں کہا جا سکتا۔حکمران بدلنے سے تاریخ نہیں بدلتی حکمرانی بدلنے سے تاریخ کا رخ بدلتا ہے۔پاکستان کو اب چہروں کی تبدیلی نہیں طرزِ حکمرانی کی تبدیلی درکار ہے۔ ورنہ ایوانوں میں اقتدار کی کرسیاں گردش کرتی رہیں گی۔جھنڈے بدلتے رہیں گے مگر گلی کا چراغ مدہم ہی جلتا رہے گا۔چولہا بجھتا رہے گا اور عوام وہیں کھڑے رہے گی ہاتھ میں ووٹ اور آنکھوں میں ایک ہی سوال لیے کہ اقتدار تو بدلتا رہا مگر ہمارا مقدر آخر کب بدلے گا؟؟؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More