تجزیہ بی این پی
ملک میں مہنگائی کے خلاف حکومتی اقدامات اور دعوے اپنی جگہ، مگر عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر نظر ڈالی جائے تو حالات کسی مختلف تصویر کی عکاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بنیادی ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں مسلسل دباؤ میں ہیں اور سب سے زیادہ متاثر وہ طبقہ ہو رہا ہے جس کی آمدنی محدود، اخراجات مقرر اور بچت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک طرف روٹی جیسی بنیادی غذا سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی ہے اور دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے آمدورفت، خوراک، ادویات اور دیگر ضروریات کو مزید مہنگا کر دیا ہے۔ یوں مہنگائی محض ایک معاشی اصطلاح نہیں رہی بلکہ عام گھرانے کے ماہانہ بجٹ، معیارِ زندگی اور معاشی تحفظ کا مسئلہ بن چکی ہے۔
پنجاب میں 100 گرام وزن کی روٹی کی سرکاری قیمت 14 روپے مقرر ہے، لیکن متعدد علاقوں میں یہی روٹی 20 سے 25 روپے تک فروخت ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کسی بنیادی غذا کا نرخ مقرر کرتی ہے تو اس پر عمل درآمد کرانا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ صوبے میں پرائس کنٹرول، انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ سمیت متعدد ادارے موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود اگر بازار میں سرکاری نرخوں کی کھلے عام خلاف ورزی جاری رہے تو یہ محض چند دکانداروں کی منافع خوری کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے نگرانی کے نظام کی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ تنور مالکان اپنے اخراجات میں اضافے کو مہنگی روٹی کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق گندم، آٹے، گیس اور دیگر پیداواری اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مقررہ نرخ پر روٹی فروخت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس موقف میں اگر کچھ وزن ہے تو حکومت کو محض جرمانوں اور گرفتاریوں تک محدود رہنے کے بجائے مسئلے کی جڑ تک پہنچنا ہوگا۔ گندم سے آٹے اور آٹے سے روٹی تک پوری سپلائی چین کا جامع جائزہ ضروری ہے۔ اگر پیداواری مرحلے پر قیمت ایک سطح پر ہے اور صارف تک پہنچتے پہنچتے کئی گنا بڑھ جاتی ہے تو اس اضافے کی وجوہات کا تعین اور ذمہ دار عناصر کی نشاندہی ناگزیر ہے۔
روٹی کی قیمت میں چند روپے کا اضافہ بظاہر معمولی محسوس ہو سکتا ہے، لیکن کم آمدنی والے گھرانے کے لیے یہ اضافہ روزانہ کے بجٹ میں نمایاں فرق پیدا کرتا ہے۔ ایسے خاندان جہاں کئی افراد کے کھانے کا انحصار تنور کی روٹی پر ہو، وہاں فی روٹی چند روپے کا اضافی بوجھ ماہانہ بنیادوں پر خاصی رقم بن جاتا ہے۔ مہنگائی کا اصل المیہ بھی یہی ہے کہ چھوٹے چھوٹے اضافے مل کر عام آدمی کی قوتِ خرید کو اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں جہاں بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
اسی صورتحال کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل صرف گاڑیوں کا ایندھن نہیں بلکہ پوری معیشت کے پہیے کو حرکت دینے والے بنیادی وسائل ہیں۔ جب ان کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کے اثرات محض پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں، اشیائے خورونوش کی ترسیل مہنگی ہوتی ہے، زرعی پیداوار کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، صنعت کے پیداواری لاگت بڑھتی ہے اور بالآخر ان تمام اضافی اخراجات کا بوجھ صارف کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
حالیہ عرصے میں پٹرول کی قیمت میں 12 روپے 90 پیسے کا اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا جب عوام پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات کے بار بار بڑھتے نرخوں سے شدید متاثر ہیں۔ ایک طرف عام شہری کے لیے موٹر سائیکل یا گاڑی چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور دوسری طرف پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں کو بھی کرایوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یوں پٹرول کی قیمت میں اضافہ براہِ راست اور بالواسطہ دونوں طریقوں سے گھر کے بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔
حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا ایک بڑا جواز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو قرار دیا جاتا ہے۔ بلاشبہ عالمی مارکیٹ کے رجحانات کا ملکی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ حکومت اس اثر کو عوام تک کس حد تک منتقل کرتی ہے اور خود کتنی قربانی دیتی ہے۔ اگر عالمی منڈی میں قیمت بڑھنے کا پورا بوجھ صارف پر ڈال دیا جائے اور قیمت کم ہونے کے فوائد فوری طور پر عوام تک منتقل نہ ہوں تو حکومتی پالیسی کی شفافیت پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔
مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر مختلف ٹیکسوں، ڈیوٹیز اور لیوی کی بلند شرح بھی قیمت میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق حکومت پٹرول پر تقریباً 114 روپے اور ڈیزل پر تقریباً 100 روپے فی لیٹر ٹیکس و دیگر محصولات وصول کر رہی ہے، جن میں پٹرولیم لیوی بھی شامل ہے۔ ماہرین کی جانب سے لیوی میں کمی کی تجاویز بھی سامنے آتی رہی ہیں، مگر مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت کے لیے اس ذریعے سے حاصل ہونے والی آمدنی چھوڑنا آسان نہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستی مالیاتی ترجیحات اور عوامی مشکلات ایک دوسرے کے مقابل کھڑی نظر آتی ہیں۔ حکومت کو محصولات کی ضرورت ہے، لیکن محصولات اکٹھے کرنے کا ایسا طریقہ جو بنیادی ضروریات کو مسلسل مہنگا کرتا جائے، طویل مدت میں معیشت اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر بلند محصولات سے وقتی طور پر سرکاری خزانے کو سہارا مل سکتا ہے، مگر اگر اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ، خوراک، صنعت اور زراعت کے اخراجات بڑھتے جائیں تو مجموعی معاشی سرگرمی بھی متاثر ہوتی ہے۔
یہاں حکومت کے اخراجات اور غیر ترقیاتی مصارف کا سوال بھی اہم ہے۔ عام آدمی سے قربانی مانگنے سے پہلے ریاستی اداروں اور حکمران طبقے کو اپنے اخراجات میں کفایت شعاری کی مثال قائم کرنا ہوگی۔ اگر مالی مشکلات کے نام پر عوام پر بالواسطہ ٹیکس بڑھائے جائیں، بجلی اور پٹرول مہنگا کیا جائے اور دوسری طرف سرکاری مراعات، غیر ضروری اخراجات اور انتظامی بوجھ میں خاطر خواہ کمی نہ آئے تو عوام میں بے اعتمادی بڑھنا لازمی ہے۔
مہنگائی کے مسئلے کا حل صرف نرخ مقرر کرنے یا چھاپے مارنے میں نہیں۔ حکومت کو ایک مربوط پالیسی اختیار کرنا ہوگی جس میں پیداوار، ترسیل، ذخیرہ اندوزی، منافع خوری، ٹیکسوں، توانائی کی قیمتوں اور مارکیٹ نگرانی کو ایک ہی معاشی فریم ورک میں دیکھا جائے۔ روٹی کے نرخ پر قابو پانے کے لیے گندم اور آٹے کی مارکیٹ کو منظم کرنا ہوگا، جبکہ پٹرولیم قیمتوں کے لیے ایسی قیمتوں کا نظام وضع کرنا ہوگا جو عالمی منڈی کے اثرات کو مناسب حد تک جذب کرے اور ہر اتار چڑھاؤ کا فوری بوجھ عوام پر منتقل نہ کرے۔سب سے بڑھ کر حکومت کو اپنے اعلانات اور عملی اقدامات کے درمیان فاصلے کو ختم کرنا ہوگا۔ اگر سرکاری نرخ 14 روپے ہے تو شہری کو 20 یا 25 روپے میں روٹی کیوں مل رہی ہے؟ اگر حکومت پٹرولیم قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے تو پھر اسی دوران بھاری اضافہ کیوں کیا جاتا ہے؟ ایسے سوالات کے واضح اور قابلِ قبول جواب عوام کا بنیادی حق ہیں۔معاشی استحکام کا پیمانہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر، کرنٹ اکاؤنٹ یا مالیاتی اعداد و شمار نہیں۔ اصل معاشی استحکام اس وقت محسوس ہوتا ہے جب ایک متوسط یا کم آمدنی والا شہری اپنی ماہانہ آمدنی میں گھر کا راشن، بچوں کی تعلیم، علاج، سفر اور دیگر بنیادی ضروریات باعزت انداز میں پوری کر سکے۔ اگر معاشی اشاریے بہتر ہونے کے باوجود عام آدمی کی پلیٹ میں روٹی مہنگی، سفر مشکل اور بجٹ مسلسل خسارے میں ہو تو معاشی ترقی کے ثمرات کے بارے میں سوال اٹھنا فطری ہے۔
حکومت کے لیے وقت آ گیا ہے کہ وہ مہنگائی کو محض انتظامی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے ایک جامع معاشی چیلنج کے طور پر لے۔ روٹی کے سرکاری نرخ پر حقیقی عمل درآمد، گندم اور آٹے کی سپلائی چین کی نگرانی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی، پٹرولیم لیوی اور محصولات پر نظرثانی، سرکاری اخراجات میں کمی اور عوامی ریلیف کے قابلِ عمل منصوبے ایک مربوط حکمتِ عملی کا حصہ ہونے چاہئیں۔
عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ روٹی اور پٹرول دونوں ایسی بنیادی ضروریات ہیں جن کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی زندگی کے دوسرے شعبوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے حکومت کو اعداد و شمار اور دعووں سے آگے بڑھ کر عام آدمی کے تجربے کو اپنی معاشی پالیسی کا مرکز بنانا ہوگا۔ ریاست اگر بروقت فیصلے کرتی ہے، غیر ضروری بوجھ کم کرتی ہے اور قیمتوں کی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کرتی ہے تو موجودہ دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں صرف گھر کے بجٹ کو نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی کمزور کرتی رہیں گی۔ آخرکار کسی بھی حکومت کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہی ہے کہ اس کے دور میں عام آدمی کو زندگی گزارنے میں آسانی کتنی ہوئی، نہ کہ سرکاری فائلوں میں کتنے دعوے درج ہوئے۔