تجزیہ بی این پی
لاہور جیسے بڑے شہر میں ٹریفک کا بے ہنگم ہونا کوئی نئی بات نہیں، مگر اس وقت صورتحال اس حد تک تشویشناک ہو چکی ہے کہ سڑکوں پر چند منٹ کی بدنظمی بھی انسانی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ گزشتہ روز برکی روڈ پر ٹریفک جام کے باعث ایک نوجوان کو بروقت ہسپتال نہ پہنچایا جا سکا اور وہ ایمبولینس ہی میں دم توڑ گیا۔ اطلاعات کے مطابق مریض کو لے جانے والی ایمبولینس تقریباً ایک گھنٹہ ٹریفک کے اڑدحام میں پھنسی رہی، مگر اس دوران ٹریفک کو رواں رکھنے یا ایمبولینس کے لیے راستہ بنانے کے لیے کوئی متعلقہ اہلکار موقع پر موجود نہ تھا۔ یہ واقعہ محض ایک ٹریفک جام نہیں بلکہ شہری انتظامیہ اور ٹریفک مینجمنٹ کے پورے نظام کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر کسی سڑک پر ایک ایمبولینس ایک گھنٹے تک پھنسی رہے اور اسے راستہ دینے کے لیے ٹریفک پولیس کا کوئی اہلکار بروقت نہ پہنچ سکے تو پھر ٹریفک پولیس کی اصل ترجیح کیا ہے؟ اگر ٹریفک وارڈن کا بنیادی کام شہریوں کو محفوظ، منظم اور رواں ٹریفک فراہم کرنا ہے تو پھر سڑکوں پر ان کی موجودگی کا مقصد صرف گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے چالان کرنا کیوں بنتا جا رہا ہے؟ قوانین کی پابندی یقیناً ضروری ہے، لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے کا مقصد شہریوں کو سہولت دینا، حادثات کو روکنا اور ٹریفک کو منظم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
سٹی ٹریفک پولیس لاہور کے مبینہ اعدادوشمار کے مطابق صرف اگست کے دوران چار لاکھ سے زائد چالان کیے گئے۔ یہ تعداد بظاہر قانون کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا چالانوں کی تعداد بڑھنے سے ٹریفک کا نظام بھی بہتر ہوا؟ کیا سڑکوں پر ٹریفک جام کم ہوئے؟ کیا حادثات میں کمی آئی؟ کیا ایمبولینسوں، فائر بریگیڈ اور دیگر ہنگامی گاڑیوں کے لیے راستے محفوظ ہوئے؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر محض چالانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کامیابی کا معیار قرار دینا مناسب نہیں۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** ٹریفک پولیس کی کارکردگی کو صرف اس بنیاد پر نہیں پرکھا جانا چاہیے کہ اس نے ایک ماہ میں کتنے چالان کیے، بلکہ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ اس نے شہریوں کو کتنی محفوظ اور رواں سڑکیں فراہم کیں۔ ایک کامیاب ٹریفک پولیس وہ ہے جو چالان کرنے سے پہلے ٹریفک کو سمجھتی ہے، رش کے مقامات کی نشاندہی کرتی ہے، حادثات کی صورت میں فوری رسپانس دیتی ہے، ایمبولینس کے لیے راستہ بناتی ہے اور شہریوں کو غیر ضروری تاخیر سے بچاتی ہے۔یہ امر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں عام آدمی پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں، گاڑیوں کے اخراجات، مرمت، ٹائر، پرزہ جات، ٹیکس اور روزمرہ ضروریات نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے سفر کرنا بھی ایک مشکل عمل بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر شہری معمولی یا غیر ضروری خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانوں کا سامنا کریں تو ان کے لیے مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ اپنی جگہ درست ہے، لیکن قانون کے نفاذ میں انصاف، تناسب اور انسانی ہمدردی کا پہلو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
خصوصاً ایسے شہری جو روزانہ روزگار کے لیے موٹر سائیکل یا گاڑی استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے ٹریفک جرمانہ محض ایک رقم نہیں بلکہ ان کے پورے دن یا کئی دن کی آمدنی پر اثر ڈال سکتا ہے۔ رکشہ ڈرائیور، ڈیلی ویجز کارکن، چھوٹے کاروباری افراد، ڈلیوری رائیڈرز اور دیگر محنت کش طبقہ پہلے ہی محدود آمدنی میں اپنے گھر کا نظام چلا رہا ہے۔ اگر ٹریفک قوانین کی آگاہی اور سہولت فراہم کرنے کے بجائے ہر چوک پر جرمانے کو ترجیح دی جائے گی تو عوام میں قانون کے احترام کے بجائے اداروں کے بارے میں بے اعتمادی پیدا ہونے کا خدشہ رہے گا۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی حوصلہ افزائی ہرگز نہیں کی جا سکتی۔ ون وے کی خلاف ورزی، تیز رفتاری، غلط پارکنگ، سگنل توڑنا، ہیلمٹ یا سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ کرنا اور دیگر خطرناک حرکات نہ صرف قانون شکنی ہیں بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ ایسے معاملات میں کارروائی ہونی چاہیے اور قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ تاہم قانون پر عمل درآمد اور شہریوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے میں واضح فرق موجود ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹریفک مینجمنٹ کا تصور محض چالان کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ایک مصروف شاہراہ پر ٹریفک جام ہو تو اہلکاروں کو موقع پر موجود ہونا چاہیے۔ کسی اہم سڑک پر تعمیراتی کام ہو تو متبادل راستوں کا انتظام ہونا چاہیے۔ کسی حادثے کی صورت میں فوری طور پر ٹریفک بحال کرنے کا نظام فعال ہونا چاہیے۔ اسکولوں، ہسپتالوں، بازاروں اور دفاتر کے اوقات میں رش کی پیشگی منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہنگامی گاڑیوں کے لیے واضح اور فوری راستہ فراہم کرنے کا مربوط نظام موجود ہونا چاہیے۔
برکی روڈ کا واقعہ اسی بنیادی کمزوری کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ ایک مریض کی جان بچانے کے لیے ہر منٹ قیمتی ہوتا ہے۔ ایمبولینس کا سائرن محض آواز نہیں بلکہ مدد کی فوری پکار ہوتا ہے۔ اگر ایک ایمبولینس ٹریفک جام میں پھنس جائے اور اسے راستہ نہ ملے تو یہ صرف ٹریفک کی خرابی نہیں بلکہ انسانی جان کے تحفظ کے نظام کی ناکامی ہے۔ ایسے واقعات سے سبق نہ سیکھا گیا تو خدانخواستہ مستقبل میں بھی کسی خاندان کا فرد صرف اس وجہ سے زندگی سے محروم ہو سکتا ہے کہ سڑک پر ٹریفک کو بروقت منظم نہیں کیا گیا۔**تجزیہ بی این پی کے مطابق** وزیراعلیٰ پنجاب کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور ٹریفک پولیس کی مجموعی کارکردگی کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا چاہیے۔ یہ دیکھا جائے کہ مختلف اضلاع میں کتنے چالان کیے جا رہے ہیں، ان میں سے کتنے سنگین خلاف ورزیوں پر ہیں، کتنے معاملات میں شہریوں کی جانب سے شکایات موصول ہو رہی ہیں اور ٹریفک جام ختم کرنے، حادثات پر رسپانس دینے اور ہنگامی گاڑیوں کو راستہ فراہم کرنے کے لیے اہلکاروں کی تعیناتی کس حد تک مؤثر ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب اگر واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہیں تو انہیں ٹریفک پولیس کے لیے واضح ہدایات جاری کرنی چاہئیں کہ چالان کو کارکردگی کا واحد پیمانہ نہ بنایا جائے۔ ٹریفک وارڈنز کو یہ باور کرایا جائے کہ ان کی پہلی ذمہ داری ٹریفک کو رواں رکھنا، شہریوں کی رہنمائی کرنا اور انسانی جانوں کا تحفظ ہے۔ جہاں کوئی اہلکار اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے بلاجواز چالان کرتا ہے وہاں محکمانہ کارروائی بھی ہونی چاہیے۔ قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو جرمانہ ضرور ہو، مگر کسی شہری کو محض ہدف پورا کرنے کے لیے چالان کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
اسی طرح پنجاب ٹریفک پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسا نظام وضع کرنا چاہیے جس میں ٹریفک کے دباؤ کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔ بڑے شہروں میں رش کے مقامات کی نگرانی، ہنگامی راستوں کی حفاظت، حادثات پر فوری رسپانس اور ایمبولینسوں کی ترجیحی نقل و حرکت کو ٹریفک مینجمنٹ کا بنیادی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ چالان بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے شفاف انداز میں کیے جائیں تاکہ شہری اور اہلکار دونوں غیر ضروری تنازع سے محفوظ رہیں۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ٹریفک قوانین کے بارے میں شہریوں میں آگاہی پیدا کی جائے۔ ہر خلاف ورزی کا جواب صرف جرمانہ نہیں ہونا چاہیے۔ کئی مرتبہ شہری قانون سے لاعلمی، غلط رہنمائی یا سڑک کے غیر واضح انتظام کی وجہ سے بھی مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔ واضح سائن بورڈز، درست لین مارکنگ، پارکنگ کی مناسب سہولت، پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ راستے اور سگنلز کا مؤثر نظام ٹریفک نظم و ضبط میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کو چاہیے کہ وہ ٹریفک پولیس کے لیے ایک جامع کارکردگی نظام متعارف کرائیں جس میں چالانوں کے ساتھ ساتھ ٹریفک روانی، شہری شکایات کے ازالے، حادثات پر رسپانس ٹائم، ایمبولینسوں کی سہولت اور ٹریفک جام میں کمی کو بھی کارکردگی کا حصہ بنایا جائے۔ اس طرح اہلکاروں کی توجہ صرف جرمانے وصول کرنے کے بجائے حقیقی عوامی خدمت کی طرف منتقل ہو سکتی ہے۔
حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ٹریفک جرمانوں میں اضافے کا مقصد اصلاح ہے یا محض آمدن میں اضافہ۔ جرمانہ ایک اصلاحی ذریعہ ہونا چاہیے، آمدنی کا متبادل نہیں۔ اگر جرمانے اتنے زیادہ ہوں کہ عام شہری انہیں ادا کرنے میں شدید مشکلات محسوس کرے اور اس کے باوجود ٹریفک کا نظام بہتر نہ ہو تو پالیسی پر نظرثانی ضروری ہو جاتی ہے۔ قانون کا احترام اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب شہری محسوس کرے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے اور اس کا نفاذ انصاف کے ساتھ ہو رہا ہے۔
پنجاب کے عوام کو ایک ایسے ٹریفک نظام کی ضرورت ہے جو انہیں خوف نہیں بلکہ تحفظ کا احساس دے۔ سڑک پر ٹریفک وارڈن نظر آئے تو شہری کو یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ کسی حادثے یا ہنگامی صورتحال میں مدد ملے گی، نہ کہ سب سے پہلے یہ خدشہ پیدا ہو کہ اب چالان ہونے والا ہے۔ ٹریفک پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ اسی وقت مضبوط ہو گا جب نفاذِ قانون کے ساتھ خدمتِ عامہ کو برابر اہمیت دی جائے گی۔
برکی روڈ کا المناک واقعہ ایک خاندان کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے، مگر اس سانحے کو ایک بڑے انتظامی سبق میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت اس واقعے کی سنجیدہ تحقیقات کرے، ذمہ داری کا تعین کرے اور ٹریفک مینجمنٹ کے نظام میں خامیوں کو دور کرے تو مستقبل میں کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب سے عوامی توقع یہی ہے کہ وہ ٹریفک پولیس کی چالان مہم کا فوری نوٹس لیں، بلاجواز اور غیر ضروری چالانوں کی شکایات کی تحقیقات کرائیں، اختیارات کے غلط استعمال کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں اور ٹریفک پولیس کو واضح طور پر یاد دلائیں کہ اس ادارے کا مقصد شہریوں سے جرمانے وصول کرنا نہیں بلکہ شہریوں کی حفاظت اور سہولت یقینی بنانا ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کو مزید مالی بوجھ سے بچانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
آخرکار ریاست کی اصل طاقت اس بات میں نہیں کہ وہ کتنے جرمانے عائد کر سکتی ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو کتنی سہولت، تحفظ اور انصاف فراہم کرتی ہے۔ ٹریفک پولیس اگر سڑکوں پر نظم و ضبط قائم کرے، ٹریفک کو رواں رکھے، ہنگامی گاڑیوں کو فوری راستہ دے اور قانون پر منصفانہ انداز میں عمل کرائے تو شہری خود بھی قوانین کی پابندی کی طرف زیادہ مائل ہوں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو اس معاملے کو محض ایک خبر سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے؛ یہ عوامی زندگی، انتظامی کارکردگی اور انسانی جانوں کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ آج بروقت اصلاح کی جائے گی تو کل کسی اور ایمبولینس کو ایک گھنٹے تک ٹریفک جام میں نہیں رکنا پڑے گا۔