jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

آصف زرداری، نواز شریف، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی سیاسی بصیرت؛ مضبوط اتحاد، مستحکم پاکستان کی ضمانت

تجزیہ بی این پی
پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان سیاسی قربت اور باہمی رابطوں کا تازہ مرحلہ ملکی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔ گورنر ہاؤس لاہور میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی کوآرڈینیشن کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں اتحادی حکومت کو مستحکم رکھنے، باہمی مشاورت جاری رکھنے اور ملک کے سیاسی و معاشی استحکام کے لیے مل کر آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار اس امر کی علامت ہے کہ قومی سیاست میں اختلافِ رائے کے باوجود وسیع تر ملکی مفاد کو ترجیح دینے کا جذبہ موجود ہے۔ یہ پیش رفت اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ پاکستان جیسے جمہوری ملک میں سیاسی استحکام ہی معاشی ترقی، ادارہ جاتی تسلسل اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کی بنیادی شرط ہے۔
صدر آصف علی زرداری، مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں حمزہ شہباز شریف کا سیاسی تجربہ اور دور اندیشی اس پورے عمل میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ان رہنماؤں نے مختلف سیاسی ادوار، بحرانوں اور اختلافات کے باوجود اس حقیقت کو بارہا محسوس کیا ہے کہ جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے، مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ بہرحال کھلا رہنا چاہیے۔ سیاست میں اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کر دینا قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اسی لیے موجودہ سیاسی قربت کو ایک ایسے مثبت رجحان کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو ملک کو سیاسی تصادم کے بجائے استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان کو اس وقت جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، وہ محض حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلاف نہیں بلکہ مجموعی طور پر قومی معیشت، روزگار، توانائی، مہنگائی، زرعی مسائل، سرمایہ کاری، برآمدات اور امن و امان جیسے بنیادی معاملات ہیں۔ ان مسائل کا مقابلہ کسی ایک جماعت یا حکومت کے لیے تنہا ممکن نہیں۔ قومی مسائل کے حل کے لیے سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا ہوگا، اختلافات کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوگا اور ایسے فیصلے کرنا ہوں گے جن کا فائدہ براہ راست عوام تک پہنچ سکے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان رابطہ اسی ضرورت کا عملی اظہار بن سکتا ہے۔
گورنر ہاؤس لاہور میں ہونے والے اجلاس میں دونوں جماعتوں کی قیادت اور اہم رہنماؤں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ اتحاد محض رسمی نوعیت کا نہیں بلکہ اسے سیاسی رابطہ کاری کے ایک منظم نظام میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اجلاس میں گزشتہ فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ، آئندہ اجلاس جلد بلانے پر اتفاق اور اتحادی حکومت کو مستحکم رکھنے کا عزم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں جماعتیں اپنے باہمی تعلق کو زیادہ مربوط بنانا چاہتی ہیں۔ سیاسی اتحاد اس وقت ہی نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے جب اس کے پیچھے مستقل مشاورت، اعتماد اور ایک دوسرے کے تحفظات کو سننے کا حوصلہ موجود ہو۔
یہ امر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سیاسی اتحاد میں اختلافات کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ اجلاس کے دوران بلدیاتی انتخابات، مہنگائی، کسانوں کے مسائل، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پیپلزپارٹی کی جانب سے تحفظات کا اظہار اسی سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ کسی اتحادی جماعت کا عوامی مسائل پر اپنی رائے دینا یا حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانا جمہوری نظام کے خلاف نہیں بلکہ جمہوری سیاست کی روح ہے۔ اصل کامیابی اس میں ہے کہ اختلافات کو تصادم کی طرف لے جانے کے بجائے انہیں مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف جیسے تجربہ کار سیاسی رہنماؤں کی بصیرت فیصلہ کن اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔
آصف علی زرداری کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو مفاہمت اور سیاسی رابطہ کاری رہا ہے۔ دوسری طرف میاں نواز شریف نے بھی ملکی سیاست میں طویل تجربے کے دوران بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ قومی معاملات میں سیاسی استحکام کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی انتظامی صلاحیت اور مختلف سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش بھی موجودہ صورتحال میں اہم ہے، جبکہ حمزہ شہباز شریف نئی نسل کی سیاسی قیادت کے طور پر مسلم لیگ (ن) کے سیاسی رابطوں اور پنجاب کی سطح پر عوامی معاملات سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ ان چاروں رہنماؤں کے سیاسی تجربے اور باہمی مشاورت کو اگر قومی مفاد کے لیے مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے تو اس کے مثبت نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق سیاسی استحکام کا براہ راست تعلق معاشی استحکام سے ہے۔ سرمایہ کار ایسے ماحول میں سرمایہ لگانے کو ترجیح دیتے ہیں جہاں حکومتوں کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کم ہو، پالیسیوں میں تسلسل ہو اور سیاسی کشیدگی ملکی معیشت کو مفلوج نہ کرتی ہو۔ صنعت، تجارت، برآمدات اور روزگار کے مواقع اسی وقت بڑھتے ہیں جب ملک میں پالیسی کا تسلسل برقرار رہے۔ اگر سیاسی جماعتیں کم از کم ان معاملات پر اتفاق پیدا کر لیں جو قومی معیشت سے براہ راست متعلق ہیں تو پاکستان کو موجودہ معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے زیادہ مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکتی ہے۔
اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے لیے سب سے اہم امتحان یہ ہے کہ اتحادی جماعتوں کے تحفظات کو محض سیاسی بیانات سمجھنے کے بجائے ان کے اندر موجود عوامی مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، بجلی کی لوڈشیڈنگ، کسانوں کے مسائل اور مہنگائی ایسے معاملات ہیں جن کا براہ راست اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔ حکومت اگر ان مسائل پر قابلِ عمل اقدامات کرتی ہے تو نہ صرف اتحادی جماعتوں کے درمیان اعتماد بڑھے گا بلکہ عوام میں بھی حکومت کے بارے میں مثبت تاثر پیدا ہوگا۔
بلدیاتی انتخابات کا معاملہ بھی اسی تناظر میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ جمہوریت صرف قومی اور صوبائی اسمبلیوں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل جڑیں مقامی سطح پر موجود ہوتی ہیں۔ جب شہریوں کو اپنے علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے منتخب نمائندے میسر آتے ہیں تو جمہوری نظام عوام کے قریب ہوتا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے ارادے کو عملی شکل دینا اس حوالے سے ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ مقامی حکومتوں کا مؤثر نظام نہ صرف شہری سہولتوں میں بہتری لا سکتا ہے بلکہ سیاسی جماعتوں کو عوامی سطح پر جواب دہ بھی بناتا ہے۔
نئے صوبوں کے معاملے پر رانا ثناء اللہ کا مؤقف بھی موجودہ سیاسی بحث میں قابلِ توجہ ہے کہ اس مسئلے پر فیصلہ پارلیمنٹ کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ملک کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی ایک حساس اور دور رس معاملہ ہے جسے سیاسی جذبات کے بجائے آئینی، انتظامی، معاشی اور عوامی تقاضوں کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر عوام کی حقیقی خواہش، انتظامی ضرورت اور قومی مفاد کسی نئے انتظامی یونٹ کے قیام کا تقاضا کرتے ہوں تو اس پر پارلیمنٹ میں کھلے اور سنجیدہ انداز میں بحث ہونی چاہیے۔ یہی جمہوری طریقہ ہے اور یہی سیاسی استحکام کے لیے زیادہ موزوں راستہ بھی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بڑی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو مکمل طور پر برداشت کرنے سے انکار کرتی ہیں تو اس کا نقصان بالآخر ریاستی اداروں، معیشت اور عوام کو پہنچتا ہے۔ اس کے برعکس جب سیاسی قیادت اختلافات کے باوجود قومی معاملات پر مشترکہ راستہ تلاش کرتی ہے تو جمہوری نظام مضبوط ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان تعاون اسی وسیع تر جمہوری ضرورت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
آصف علی زرداری، میاں نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی بصیرت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے اپنے سیاسی حلقوں کو مفاہمت، برداشت اور آئینی اداروں کے احترام کا پیغام دیں۔ اسی طرح حمزہ شہباز شریف سمیت مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی نئی نسل کے رہنماؤں کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ سیاسی اختلاف کو ذاتی محاذ آرائی میں تبدیل کرنے کے بجائے عوامی مسائل کے حل کا ذریعہ بنائیں گے۔ نئی نسل کی سیاست اگر تجربہ کار قیادت کی بصیرت اور جدید تقاضوں کے شعور سے جڑ جائے تو ملک کے سیاسی نظام میں ایک مثبت تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ اتحاد صرف اقتدار برقرار رکھنے کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قربت کو حقیقی معنوں میں قومی مفاد کا وسیلہ بنانا ہے تو دونوں جماعتوں کو عوامی مسائل کے حل کے لیے واضح مشترکہ ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔ روزگار، تعلیم، صحت، زراعت، توانائی، صنعت، برآمدات اور امن و امان جیسے شعبوں میں ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن کے نتائج عام شہری کو محسوس ہوں۔ عوام سیاسی نعروں سے زیادہ عملی کارکردگی دیکھنا چاہتے ہیں۔موجودہ حالات میں پاکستان کو سیاسی استحکام، معاشی تسلسل اور جمہوری برداشت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے سے رابطہ رکھنا، اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا اور پارلیمنٹ کو قومی فیصلوں کا مرکزی فورم تسلیم کرنا جمہوری نظام کے لیے نیک شگون ہے۔ اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) اپنی موجودہ قربت کو محض وقتی سیاسی ضرورت کے بجائے طویل المدت قومی حکمت عملی میں تبدیل کر لیتی ہیں تو اس کے اثرات حکومت کی مدت سے کہیں آگے تک جا سکتے ہیں۔
میاں نواز شریف، آصف علی زرداری، شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف جیسے رہنماؤں کے لیے یہ موقع اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ وہ سیاسی اختلافات کے باوجود پاکستان کے جمہوری مستقبل کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کی دور اندیشی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ وقتی سیاسی فائدے سے بلند ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ مضبوط جمہوری روایتیں اسی وقت قائم ہوتی ہیں جب سیاسی قیادت اختلاف کو برداشت کرے، آئینی راستہ اختیار کرے اور اقتدار کو عوامی خدمت کا وسیلہ سمجھے۔اگر موجودہ سیاسی قربت اعتماد، مشاورت اور عوامی خدمت کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہے تو اس سے نہ صرف اتحادی حکومت کو استحکام مل سکتا ہے بلکہ ملک میں سیاسی بے یقینی کم، معاشی سرگرمی زیادہ اور جمہوری ادارے مضبوط ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کو آج ایسی ہی بالغ، سنجیدہ اور دور اندیش سیاست کی ضرورت ہے جو اختلاف کو دشمنی نہیں بننے دیتی اور اقتدار کو مقصد کے بجائے قومی خدمت کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت اگر اس سوچ کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ قربت محض دو جماعتوں کے درمیان سیاسی مفاہمت نہیں رہے گی بلکہ پاکستان کی جمہوری بنیادوں کو مزید مضبوط کرنے کی ایک اہم کوشش ثابت ہوگی۔ یہی راستہ ملک کو سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور جمہوری تسلسل کی شاہراہ پر آگے لے جا سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More