jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس، بیرونِ ملک پاکستانیوں کا بڑھتا اعتماد

تجزیہ بی این پی
پاکستانی معیشت میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہمیشہ سے ایک مضبوط معاشی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی جانب سے وطن بھیجی جانے والی ترسیلات زر نہ صرف لاکھوں خاندانوں کی ضروریات پوری کرتی ہیں بلکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور معیشت کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی تناظر میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کا قیام ایک ایسی پالیسی پیش رفت ثابت ہوا ہے جس نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کو پاکستان کے مالیاتی نظام سے براہ راست جوڑنے کے ساتھ ساتھ انہیں بینکاری، سرمایہ کاری اور مختلف مالیاتی سہولیات تک آسان رسائی فراہم کی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے موصول ہونے والی رقم کے تازہ اعدادوشمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کا پاکستان کے مالیاتی نظام پر اعتماد مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اگست 2026 تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 13 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زائد رقم موصول ہو چکی ہے۔ صرف اگست کے ایک ماہ کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے 25 کروڑ 90 لاکھ ڈالر جمع کرائے۔ یہ اعداد محض مالیاتی حجم کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ اس اعتماد کی بھی علامت ہیں جو دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم پاکستانی اپنے وطن کے معاشی مستقبل کے حوالے سے رکھتے ہیں۔ اگر کسی مالیاتی نظام میں مسلسل سرمایہ آ رہا ہو، نئے اکاؤنٹس کھل رہے ہوں اور سرمایہ کاری کے مختلف راستے استعمال کیے جا رہے ہوں تو یہ اس نظام کی افادیت اور اعتماد دونوں کا اظہار ہوتا ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق اگست میں 9 ہزار 354 نئے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کھولے گئے، جس کے بعد ان اکاؤنٹس کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 66 ہزار 144 ہو گئی ہے۔ تقریباً دس لاکھ اکاؤنٹس تک پہنچ جانا اس منصوبے کی وسعت اور عوامی قبولیت کی ایک اہم علامت ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانی صرف روایتی طریقوں سے رقم بھیجنے تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ وہ ایسے جدید مالیاتی ذرائع سے فائدہ اٹھانے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں جو انہیں پاکستان میں اپنے سرمائے کے بہتر استعمال اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر سکیں۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی سب سے اہم خصوصیت یہی ہے کہ اس نے بیرونِ ملک پاکستانیوں اور پاکستان کے مالیاتی نظام کے درمیان فاصلے کو کم کیا ہے۔ ماضی میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پاکستان میں بینکاری اور سرمایہ کاری کے معاملات میں عملی رکاوٹیں موجود رہتی تھیں، لیکن ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ان مشکلات کو بڑی حد تک کم کیا گیا ہے۔ اب بیرونِ ملک بیٹھا پاکستانی اپنے وطن میں اکاؤنٹ کھولنے، رقم منتقل کرنے اور مختلف سرمایہ کاری کے ذرائع سے فائدہ اٹھانے کے عمل کو زیادہ سہولت کے ساتھ انجام دے سکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی کامیابی کو صرف اس رقم سے نہیں پرکھنا چاہیے جو ان میں جمع ہوئی ہے، بلکہ اس امر کو بھی اہمیت دینی چاہیے کہ اس رقم کا کتنا حصہ ملکی معیشت میں استعمال ہوا اور کس حد تک اسے سرمایہ کاری میں تبدیل کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ان اکاؤنٹس کے ذریعے اب تک 2 ارب 13 کروڑ ڈالر واپس بھیجے جا چکے ہیں، جبکہ مقامی سطح پر بھی بڑی مقدار میں رقم استعمال کی گئی ہے۔ اگست کے دوران 16 کروڑ 40 لاکھ ڈالر اور مجموعی طور پر 8 ارب 70 کروڑ ڈالر مقامی سطح پر استعمال کیے جانے کا اعدادوشمار اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ سرمایہ محض اکاؤنٹس میں پڑا نہیں رہتا بلکہ ملکی اقتصادی سرگرمی کا حصہ بھی بنتا ہے۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے سرمایہ کاری کے مختلف شعبوں میں بھی بیرونِ ملک پاکستانیوں کی دلچسپی قابلِ ذکر ہے۔ نیا پاکستان روایتی سرٹیفیکیٹس میں مجموعی طور پر 71 کروڑ 60 لاکھ ڈالر جبکہ نیا پاکستان اسلامی سرٹیفیکیٹس میں ایک ارب 33 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی آمد اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانی اپنی مالی ترجیحات کے مطابق سرمایہ کاری کے مختلف مواقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اسلامی مالیاتی مصنوعات میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری خاص طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شریعت کے مطابق مالیاتی ذرائع بھی بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے قابلِ کشش سرمایہ کاری کا راستہ بن چکے ہیں۔
اسی طرح روشن ایکوئٹی انویسٹمنٹ کے ذریعے 16 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری بھی اہم پیش رفت ہے۔ گزشتہ چھ برس کے دوران روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے مجموعی طور پر 2 ارب 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ اس منصوبے نے ترسیلات زر کو محض گھریلو اخراجات کی تکمیل کے بجائے سرمایہ کاری کے ایک مؤثر ذریعے میں تبدیل کرنے کی بنیاد فراہم کی ہے۔ اگر اس رجحان کو مزید فروغ دیا جائے تو مستقبل میں بیرونِ ملک پاکستانیوں کا سرمایہ ملکی پیداواری شعبوں، کاروبار، صنعت اور مختلف ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے بیرونِ ملک پاکستانیوں کی مالی شمولیت اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے معیشت کو نسبتاً مستحکم اور مستقل نوعیت کے بیرونی وسائل حاصل ہوتے ہیں۔ عالمی معاشی حالات میں اتار چڑھاؤ، درآمدی دباؤ اور زرمبادلہ کی ضروریات کے باعث پاکستان کو ایسے ذرائع کی ضرورت رہتی ہے جو بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکیں۔ اس حوالے سے ترسیلات زر اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کو ایک وسیع تر معاشی حکمت عملی کا حصہ بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
حکومت کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں اگر بیرونِ ملک پاکستانیوں کا اعتماد بحال اور مضبوط ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف زرمبادلہ تک محدود نہیں رہتے۔ اس اعتماد سے پاکستان کی مالیاتی مارکیٹ کو وسعت ملتی ہے، بینکاری نظام میں ڈیجیٹل شمولیت بڑھتی ہے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کو محض ایک بینکاری سہولت سمجھنے کے بجائے بیرونِ ملک پاکستانیوں کو ملکی معیشت کے ساتھ مستقل طور پر جوڑنے کے ایک جامع ذریعے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ تقریباً تین ارب ڈالر کے قریب رقم روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں واجب الادا جمع ہونے کی صورت میں موجود ہے۔ اس سرمایہ کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے پیداواری اور طویل المدت شعبوں کی طرف راغب کرنے کے لیے مزید پرکشش مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ حکومت اور مرکزی بینک اگر سرمایہ کاری کی مصنوعات کو مزید متنوع، شفاف اور سہل بنائیں تو بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے سرمایہ کاری کا حجم مستقبل میں مزید بڑھ سکتا ہے۔
اس سلسلے میں اعتماد بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ بیرونِ ملک پاکستانی اپنے سرمائے کے تحفظ، منافع، شفافیت اور رقم کی واپسی کے طریقہ کار کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ چنانچہ حکومت کو چاہیے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے کامیاب تجربے کو مزید وسعت دیتے ہوئے ایسی مالیاتی سہولیات متعارف کرائے جو بیرونِ ملک پاکستانیوں کو طویل المدت سرمایہ کاری کی طرف راغب کریں۔ اگر انہیں یہ یقین حاصل ہو کہ ان کا سرمایہ محفوظ بھی ہے، منافع بخش بھی اور ملکی معیشت میں مثبت کردار بھی ادا کر رہا ہے تو اس پروگرام کے ذریعے آنے والی رقوم میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے ذریعے آنے والے اربوں ڈالر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بیرونِ ملک پاکستانی پاکستان کے معاشی مستقبل میں اپنا کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان کے اعتماد کو مستقل معاشی پالیسی، شفاف مالیاتی نظام اور بہتر سرمایہ کاری کے مواقع کے ذریعے مزید مضبوط کیا جائے۔ اگر حکومت اس سرمایہ کو محض زرمبادلہ کے ایک ذریعے کے بجائے قومی ترقی کے شراکت دار کے طور پر دیکھے تو بیرونِ ملک پاکستانی پاکستان کی معیشت کے لیے ایک غیر معمولی قوت بن سکتے ہیں۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کا تجربہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس نے ٹیکنالوجی، بینکاری اور قومی معیشت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کر دیا ہے۔ اب اگلا مرحلہ اس کامیابی کو مزید مستحکم کرنے کا ہے۔ پاکستان کو ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو بیرونِ ملک پاکستانیوں کو صرف رقم بھیجنے والا طبقہ نہیں بلکہ سرمایہ کاری، کاروبار اور معاشی ترقی کا فعال شراکت دار بنائیں۔ 13 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زائد کی مجموعی آمد اس سفر کی اہم کامیابی ہے، مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ اعتماد مزید بڑھے، سرمایہ کاری کا حجم وسیع ہو اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کا سرمایہ پاکستان کی پیداواری معیشت میں زیادہ سے زیادہ کردار ادا کرے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More