jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی، عالمی برادری کو کردار ادا کرنا ہوگا

تجزیہ بی این پی
پاکستان ایک عرصے سے دہشت گردی کے خلاف ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس کی قیمت ملک نے اپنے بہادر سپاہیوں، پولیس اہلکاروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کی قیمتی جانوں کی صورت میں ادا کی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اس طویل جدوجہد نے نہ صرف پاکستان کے داخلی امن کو متاثر کیا بلکہ ملکی معیشت، ترقیاتی عمل اور معاشرتی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس کے باوجود پاکستان نے عالمی امن اور سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے کبھی پہلو تہی نہیں کی۔ آج جب افغانستان سے منسلک دہشت گردی کا خطرہ ایک مرتبہ پھر سنگین صورت اختیار کر رہا ہے اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز مسلسل سرحد پار سے آنے والے خطرات کا سامنا کر رہی ہیں تو عالمی برادری کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
حالیہ واقعات نے اس مسئلے کی سنگینی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں، پولیس چوکیوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ دہشت گردی محض چند افراد کی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے علاقائی اور بین الاقوامی اثرات بھی موجود ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے درازندہ کے علاقے میں پولیس چوکی پر خودکش حملہ اور امدادی کارروائی میں مصروف ایمبولینس پر فائرنگ کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں اسی سلسلے کی ایک دردناک مثال ہیں۔ ڈیرہ بگٹی اور دکی کے واقعات نے بھی واضح کیا ہے کہ دہشت گرد عناصر ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ محنت کش پاکستانیوں کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کر رہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا قومی عزم ہے، تاہم صرف قومی سطح پر قربانیاں دینا کافی نہیں۔ عالمی برادری کو بھی اس خطرے کے اسباب، سہولت کاری کے ذرائع اور سرحد پار موجود ممکنہ پناہ گاہوں کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور بعض دیگر مسلح گروہ افغانستان میں موجود ٹھکانوں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں بھی افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھایا اور افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔
یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات میں افغانستان کی صورتحال اور افغان سرزمین سے دہشت گردی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کے جاری کردہ پاکستانی پریس ریلیز کے مطابق سیکرٹری جنرل نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور بین الاقوامی امن و سلامتی میں اس کے کردار کو سراہا۔ یہ اعتراف اہم ضرور ہے، لیکن موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی سطح پر اظہارِ یکجہتی کو عملی سفارتی کوششوں میں بھی تبدیل کیا جائے۔
پاکستان کا مؤقف صرف یہ نہیں کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات خراب کیے جائیں یا افغان عوام کو کسی مشکل میں مبتلا کیا جائے۔ اس کے برعکس بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین کو دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ یہ اصول عالمی قانون اور بین الاقوامی امن کے بنیادی تصور سے ہم آہنگ ہے۔ پاکستان اور افغانستان دونوں کے عوام ایک دوسرے کے قریب ہیں، دونوں معاشروں کے درمیان تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور معاشی روابط موجود ہیں۔ اسی لیے افغانستان میں امن اور استحکام پاکستان کے بھی مفاد میں ہے۔ لیکن افغانستان کا امن اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب اس کی سرزمین سے ہمسایہ ملک میں دہشت گردی کے الزامات مسلسل سامنے آتے رہیں۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر معمولی انسانی اور معاشی نقصان برداشت کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے تقریباً ایک لاکھ قیمتی جانوں کے ضیاع اور 150 ارب ڈالر سے زائد کے معاشی نقصانات کا حوالہ دیا۔ اسی خطاب میں انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین کو ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج اور بعض دیگر مسلح گروہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔یہ اعداد و شمار محض اعداد نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی داستانِ غم ہیں۔ کسی سپاہی کی شہادت کے بعد ایک گھر کا چراغ بجھتا ہے، کسی پولیس اہلکار کی شہادت کے بعد اس کے بچے اپنے باپ سے محروم ہوتے ہیں، کسی مزدور کے اغوا یا قتل کے بعد ایک خاندان کا معاشی سہارا ختم ہو جاتا ہے۔ دہشت گردی کے اثرات اسی لیے صرف سکیورٹی کے اعداد و شمار تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کرتے ہیں۔
عالمی برادری کو اس مسئلے پر غیر جانب دارانہ، اصولی اور قابلِ عمل طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر کسی ملک کی سرزمین سے دوسرے ملک میں دہشت گردی کے شواہد سامنے آتے ہیں تو ان کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ متعلقہ حکومتوں سے جواب طلبی ہونی چاہیے، دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت اور نقل و حرکت کے ذرائع کی نگرانی ہونی چاہیے اور جہاں ضروری ہو وہاں اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے ذریعے تصدیقی نظام وضع کیا جانا چاہیے۔ محض کسی واقعے کے بعد تعزیتی بیان جاری کرنا دہشت گردی کے بنیادی مسئلے کا حل نہیں۔یہاں پاکستان کی اپنی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں ریاست کو قانون، شواہد اور واضح قومی پالیسی کے اصولوں پر قائم رہنا ہوگا۔ سفارتی سطح پر پاکستان کو عالمی برادری کے سامنے قابلِ تصدیق شواہد پیش کرتے رہنا چاہیے تاکہ اس کے مؤقف کو مؤثر بین الاقوامی حمایت حاصل ہو۔ اسی طرح افغانستان کے ساتھ رابطے کے دروازے مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے واضح شرائط، باہمی ذمہ داریوں اور قابلِ تصدیق اقدامات پر مبنی سفارتی راستہ بھی تلاش کیا جانا چاہیے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** پاکستان کا اصل مفاد افغانستان کے ساتھ مستقل محاذ آرائی میں نہیں بلکہ ایک ایسے مستحکم اور پْرامن ہمسایہ ملک میں ہے جہاں سے دہشت گردی کی بجائے تجارت، رابطہ کاری اور معاشی تعاون کے راستے کھلیں۔ پاکستان وسطی ایشیا تک تجارتی رسائی، علاقائی رابطہ کاری اور معاشی تعاون کے منصوبوں میں افغانستان کو اہم جغرافیائی کڑی سمجھتا ہے۔ لیکن یہ سب منصوبے اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب سرحدیں محفوظ ہوں اور دہشت گردی کے خطرات کم ہوں۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی عالمی سطح پر یہی مؤقف پیش کیا ہے کہ افغانستان سے پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی روکنے کے لیے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے افغان طالبان پر بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے پر زور دیا۔ اس مطالبے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ افغانستان کا استحکام پورے خطے کے معاشی اور سکیورٹی ماحول سے جڑا ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کا کردار اس معاملے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ کی عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی کا مقصد ہی یہ ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ بین الاقوامی تعاون کے ذریعے کیا جائے۔ اگر پاکستان کسی مخصوص دہشت گردی کے خطرے کی نشاندہی کرتا ہے تو عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اسے محض دوطرفہ تنازع سمجھ کر نظرانداز نہ کریں بلکہ دستیاب شواہد اور اپنے نگرانی کے نظام کے ذریعے صورتِ حال کا جائزہ لیں۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں عام شہریوں کے مسائل، انسانی ضروریات اور معاشی استحکام کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ پائیدار امن صرف عسکری اقدامات سے حاصل نہیں ہوتا۔پاکستان نے ہمیشہ یہ واضح کیا ہے کہ اس کا مسئلہ افغان عوام سے نہیں بلکہ دہشت گرد عناصر اور ان کے لیے کسی بھی ممکنہ محفوظ ماحول سے ہے۔ یہی فرق عالمی سطح پر بھی واضح رہنا چاہیے۔ افغانستان کے عام شہری پہلے ہی طویل جنگ، معاشی مشکلات اور انسانی بحرانوں سے متاثر ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا مقصد افغان عوام کو مزید مشکلات سے دوچار کرنا نہیں بلکہ خطے کے تمام ممالک کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرنا ہونا چاہیے۔دوسری جانب افغانستان کی عبوری حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے وعدوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ پاکستان کے عسکری حکام بھی مسلسل یہی مطالبہ دہرا رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے حالیہ بیان میں کہا کہ پاکستان کی بنیادی تشویش افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر دہشت گردی ہے اور افغان حکام کو اس حوالے سے مؤثر اقدامات کرنا چاہئیں۔
یہ معاملہ کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کا نہیں بلکہ ریاست اور قوم کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاقِ رائے برقرار رہنا ضروری ہے۔ حکومت، اپوزیشن، پارلیمان، عسکری ادارے، میڈیا اور سول سوسائٹی سب کو اس امر پر متفق ہونا چاہیے کہ معصوم شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اس کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کو بھی اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا ہوگا۔ اگر دہشت گردی ایک خطے سے دوسرے خطے تک پہنچ سکتی ہے تو اس کا اثر بالآخر پوری دنیا تک پہنچتا ہے۔ آج اگر کسی ملک میں موجود دہشت گرد نیٹ ورک کو محض اس لیے نظرانداز کیا جائے کہ اس کے حملے کسی دوسرے ملک کو متاثر کر رہے ہیں تو کل یہی مسئلہ کسی اور خطے کے لیے پیدا ہو سکتا ہے۔ عالمی امن کا اصول یہی ہے کہ دہشت گردی کو جغرافیائی حدود، سیاسی مصلحتوں اور وقتی ترجیحات کی بنیاد پر مختلف پیمانوں سے نہ پرکھا جائے۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں اور اب بھی اس کے سکیورٹی ادارے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان قربانیوں کو صرف بیانات میں خراجِ تحسین پیش کرنے کے بجائے ایک مؤثر عالمی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا جائے۔ افغانستان سے دہشت گردی کے مسئلے پر کابل، اسلام آباد اور عالمی اداروں کے درمیان ایسا قابلِ تصدیق نظام قائم ہونا چاہیے جس کے ذریعے دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، نقل و حرکت اور مالی معاونت کی نگرانی کی جا سکے۔آخرکار خطے کا مستقبل مستقل کشیدگی میں نہیں بلکہ امن، تجارت اور تعاون میں ہے۔ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کا خواہاں ہے کیونکہ ایک پْرامن افغانستان پاکستان، وسطی ایشیا اور پورے خطے کے لیے معاشی امکانات پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ عالمی برادری کو اس اصول کی حمایت کرنا ہوگی اور پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے جائز سکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق آج ضرورت کسی نئے محاذ کی نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عالمی عزم کی ہے۔ پاکستان نے امن کے لیے جو قیمت ادا کی ہے، اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا اگر واقعی دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کی خواہاں ہے تو اسے پاکستان کے تجربے، قربانیوں اور موجودہ خدشات کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ افغانستان کے عوام کے ساتھ ہمدردی اور افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی، دونوں ایک ساتھ ممکن ہیں۔ یہی متوازن راستہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More