انقرہ (این این آئی)ترکیہ کی حکمران جماعت نے اتوار کے روز اپنی ایک نائب سربراہ کا استعفی قبول کر لیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سٹاک مارکیٹ کے بحران سے کچھ ہی دیر قبل کروڑوں ڈالر مالیت کے حصص فروخت کیے تھے۔ 16 ستمبر کو ترکیہ کے سٹاکس میں شدید مندی دیکھی گئی تھی۔ اس کی وجہ حصص کی قیمتوں میں مشتبہ ہیرا پھیری تھی۔صدر رجب طیب ایردوآن کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی(اے کے پی)کی نائب سربراہ فاطمہ بتول سایان کایا نے اپنے فرائض سے سبکدوش ہونے کی درخواست کی تھی۔ اے کے پی کے ترجمان عمر چلیک نے کہا کہ ایردوآن نے کایا کا استعفی قبول کر لیا۔ چلیک نے مزید کہاکہ ہم اعلان کرتے ہیں کہ بے ضابطگیوں، بدعنوانی، اختیارات کے غلط استعمال یا کسی بھی نقصان دہ عمل میں ملوث افراد کا احتساب کیا جائے گا۔