jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

پاکستان کو محاذ آرائی نہیں، سیاسی مفاہمت درکار ہے

تجزیہ بی این پی
پاکستان اس وقت جس نازک داخلی و خارجی صورتحال سے گزر رہا ہے، اس میں سیاسی کشیدگی، محاذ آرائی اور مسلسل احتجاج کی سیاست کسی صورت ملک کے وسیع تر مفاد میں نہیں۔ حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان اختلافات جمہوری نظام کا حصہ ہیں اور ان اختلافات کے اظہار کا حق بھی ہر سیاسی جماعت کو حاصل ہے، تاہم جمہوریت کا اصل حسن یہی ہے کہ اختلاف کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جائے اور مسائل کا حل مذاکرات، مفاہمت اور آئینی طریقہ? کار کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ موجودہ حالات میں یہی راستہ پاکستان کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہے۔
حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دینا ایک مثبت اور قابلِ تحسین اقدام تھا۔ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے حکومت نے جو سات نکات سامنے رکھے، ان میں بادی النظر میں کوئی ایسا مطالبہ یا اقدام شامل نہیں تھا جس پر کسی جمہوری سیاسی جماعت کے لیے اصولی طور پر بات چیت نہ کی جا سکتی ہو۔ اگر کسی معاملے پر تحفظات موجود تھے تو ان کا حل بھی مذاکرات کی میز پر ہی تلاش کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اگر مذاکرات کی پیشکش کو ہی مسترد کر دیا جائے اور سیاسی اختلاف کو احتجاج، مارچ اور سڑکوں کی سیاست کے ذریعے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا جائے تو اس سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق اس وقت پاکستان کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ سیاسی استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور قومی سطح پر اعتماد کی بحالی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ سیاسی کامیابی اور قومی کامیابی ایک دوسرے سے الگ تصورات نہیں۔ کسی جماعت کی سیاسی فتح اگر ملک کے استحکام کی قیمت پر حاصل ہو تو وہ دیرپا کامیابی نہیں کہلا سکتی۔ اسی طرح حکومت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ سیاسی مخالفین کو محض مخالف سمجھنے کے بجائے انہیں جمہوری عمل کا لازمی فریق تصور کرے۔
پاکستان تحریک انصاف کو بھی اپنی موجودہ حکمت عملی پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرنی چاہیے۔ احتجاج، جلسہ اور مارچ سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق ہیں، لیکن ہر حق کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ اگر مذاکرات کا دروازہ کھلا ہو، حکومت بات چیت کی دعوت دے رہی ہو اور سیاسی مطالبات پر گفتگو کی گنجائش موجود ہو تو ایسی صورتحال میں براہِ راست تصادم کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینا زیادہ دانش مندانہ سیاسی حکمت عملی ہوگی۔ سات نکات پر مکمل انکار کی پوزیشن اختیار کرنے کے بجائے پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ ان نکات کا تفصیلی جائزہ لے، جہاں اختلاف ہو وہاں متبادل تجاویز پیش کرے اور جہاں اتفاق ممکن ہو وہاں پیش رفت کا راستہ ہموار کرے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات اگر کسی نتیجے تک نہیں پہنچتے تو اس کی ذمہ داری یک طرفہ طور پر کسی ایک فریق پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ مذاکرات کامیاب کرنے کے لیے دونوں جانب سے لچک، اعتماد اور سیاسی بالغ نظری درکار ہوتی ہے۔ حکومت اگر مذاکرات کی میز پر بیٹھی ہے تو اسے بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ محض وقت گزارنے کے لیے نہیں بلکہ حقیقی سیاسی حل کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔ اسی طرح اپوزیشن کو بھی یہ واضح کرنا ہوگا کہ اس کا مقصد حکومت کو غیر مستحکم کرنا نہیں بلکہ اپنے سیاسی اور آئینی مطالبات کو مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھانا ہے۔
موجودہ صورتحال میں سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ سیاسی اختلافات اب قومی معاملات پر بھی اثرانداز ہونے لگتے ہیں۔ پاکستان کو ایک طرف معاشی دباؤ، مہنگائی، بے روزگاری اور سرمایہ کاری کے چیلنجز کا سامنا ہے، دوسری طرف دہشت گردی کے خطرات اور علاقائی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال بھی غیر معمولی توجہ کی متقاضی ہے۔ ایسے وقت میں ملک مسلسل سیاسی احتجاج اور دارالحکومت کی طرف مارچ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایک احتجاج ختم ہوتے ہی دوسرے احتجاج کی تیاری شروع ہو جائے تو ریاستی اداروں، انتظامیہ، کاروباری طبقے اور عام شہری سب کے لیے بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** لانگ مارچ کو سیاسی طاقت کے اظہار کے بجائے مذاکرات کی میز پر حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی اگر اپنے لانگ مارچ کو ختم یا مؤخر کرکے حکومت کے ساتھ بامقصد مذاکرات کا راستہ اختیار کرتی ہے تو اس سے اس کی سیاسی پوزیشن کمزور نہیں ہوگی بلکہ ایک ذمہ دار سیاسی قوت کی حیثیت سے اس کا تاثر مضبوط ہو سکتا ہے۔ سیاسی جماعتیں صرف احتجاج سے نہیں بلکہ مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل تجاویز دینے، عوامی مشکلات کو سمجھنے اور قومی مفاد میں مشکل فیصلے کرنے سے بھی اپنی سیاسی ساکھ بناتی ہیں۔خیبر پختونخوا کی صورتحال اس بحث کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔ صوبے کے عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو مسلسل تیسری مرتبہ حکومت کا مینڈیٹ دیا ہے۔ یہ مینڈیٹ محض ایک سیاسی کامیابی نہیں بلکہ ایک بڑی عوامی ذمہ داری بھی ہے۔ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح امن و امان، صحت، تعلیم، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کی بہتری ہونی چاہیے۔ خیبر پختونخوا پہلے ہی دہشت گردی کے سنگین چیلنج سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں صوبے کی سیاسی اور انتظامی توانائیاں مسلسل وفاقی محاذ آرائی میں صرف ہونا عوام کے مفاد میں نہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی جماعت کی سیاسی وابستگی کے ساتھ ساتھ پورے صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کو سامنے رکھیں۔ انہیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ایک صوبے کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے فیصلوں کا اثر صرف پارٹی سیاست تک محدود نہیں رہتا بلکہ صوبے کے لاکھوں شہریوں کی زندگی پر پڑتا ہے۔ اگر صوبائی قیادت اپنی سیاسی توانائی کا بڑا حصہ وفاقی حکومت کے ساتھ کشمکش میں صرف کرے گی تو گورننس کے بنیادی معاملات پس منظر میں چلے جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر صوبائی حکومت مرکز کے ساتھ آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے بات چیت کرے تو زیادہ مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
یہاں وفاقی حکومت کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اقتدار کے ایوانوں میں موجود قوت کے ساتھ سیاسی حکمت اور تحمل بھی ضروری ہے۔ اگر حکومت اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتی ہے تو اسے مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔ سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات، گرفتاریوں یا ایسے اقدامات جن سے مخالف جماعت میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو، ان پر بھی سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ حکومت کے پاس ریاستی اختیار موجود ہے، اس لیے مفاہمت کے ماحول کو آگے بڑھانے میں اس کا کردار زیادہ اہم ہے۔تاہم حکومت کی طرف سے یہ توقع رکھنا بھی بجا ہے کہ اپوزیشن آئینی اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے اپنی سیاست کرے۔ احتجاج کا حق تسلیم شدہ ہے لیکن ایسا احتجاج جو قومی معیشت، کاروباری سرگرمیوں، تعلیمی نظام، شہری آمدورفت اور معمولاتِ زندگی کو مسلسل متاثر کرے، بالآخر عوام کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ عام شہری سیاسی نعروں سے زیادہ اپنے گھر کے اخراجات، بچوں کی تعلیم، علاج، روزگار اور روزمرہ ضروریات کے بارے میں فکر مند ہے۔ اس لیے سیاسی جماعتوں کو یہ فیصلہ کرتے ہوئے عوامی مشکلات کو اولین ترجیح دینی چاہیے کہ ان کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کیا ہوگی۔
پاکستان کی معیشت کے لیے بھی سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ سرمایہ کار ایسے ماحول کو ترجیح دیتے ہیں جہاں پالیسیوں میں تسلسل ہو، حکومتیں اپنی مدت اور فیصلوں کے بارے میں واضح ہوں اور سیاسی اختلافات ریاستی نظام کو مفلوج نہ کریں۔ جب مسلسل احتجاج، دھرنے اور لانگ مارچ کی خبریں سامنے آتی ہیں تو ملکی معیشت کے بارے میں غیر یقینی کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سرمایہ کاری کے فیصلے متاثر ہو سکتے ہیں اور کاروباری طبقہ محتاط رویہ اختیار کرتا ہے۔ بالآخر اس صورتحال کا نقصان سیاسی جماعتوں کو نہیں بلکہ عام شہری کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی قیادت موجودہ اختلافات کو قومی سلامتی کے معاملات سے الگ رکھے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف ایک واضح اور متحد قومی موقف کی ضرورت ہے۔ سرحدی صورتحال، داخلی سلامتی اور ملک کے دفاع جیسے معاملات میں سیاسی اختلافات کو حائل نہیں ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو حکومت گرانے یا بنانے کی سیاست اپنی جگہ جاری رکھنے کا حق حاصل ہے، لیکن ملک کے دفاع، ریاستی سلامتی اور قومی بقا کے بنیادی معاملات پر کم از کم اتفاقِ رائے برقرار رہنا چاہیے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق موجودہ تعطل سے نکلنے کا راستہ کسی ایک فریق کی فتح یا شکست میں نہیں بلکہ سیاسی مکالمے میں پوشیدہ ہے۔ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ حکومت کی مذاکراتی پیشکش کو دوبارہ سنجیدگی سے لے، سات نکات پر تفصیلی بات چیت کرے، اپنے تحفظات واضح کرے اور جہاں ضروری ہو متبادل تجاویز دے۔ حکومت کو بھی اپنی طرف سے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے ماحول کی تشکیل کرنی چاہیے جس میں اپوزیشن کو یہ اعتماد ہو کہ مذاکرات محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ حقیقی سیاسی حل کی کوشش ہیں۔لانگ مارچ کو ختم کرنا یا مؤخر کرنا کسی سیاسی جماعت کے لیے پسپائی کی علامت نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا کی جمہوری سیاست میں سیاسی جماعتیں اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرتی ہیں، حکمت عملی تبدیل کرتی ہیں اور قومی حالات کے مطابق راستہ اختیار کرتی ہیں۔ اصل سیاسی دانش یہی ہے کہ جب حالات تصادم کے بجائے مکالمے کا تقاضا کریں تو سیاسی قیادت اپنی حکمت عملی کو بھی حالات کے مطابق ڈھالے۔ پی ٹی آئی اگر اس مرحلے پر مذاکرات کا راستہ اختیار کرتی ہے تو وہ اپنے مطالبات کو زیادہ مؤثر انداز میں آگے بڑھا سکتی ہے اور ساتھ ہی ملک کو ایک نئے سیاسی بحران سے بچانے میں بھی کردار ادا کر سکتی ہے۔
پاکستان اس وقت کسی نئے محاذ آرائی کے بجائے استحکام کا متقاضی ہے۔ حکومت کو اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی، اپوزیشن کو اپنی احتجاجی سیاست کے دائرہ? کار پر غور کرنا ہوگا، صوبائی حکومتوں کو عوامی مسائل پر توجہ دینا ہوگی اور تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد کو اپنی جماعتی ترجیحات پر فوقیت دینا ہوگی۔ سیاسی اختلاف ختم نہیں کیے جا سکتے، مگر انہیں سیاسی نظام کے اندر رہتے ہوئے منظم ضرور کیا جا سکتا ہے۔لہٰذا موجودہ حالات میں بہترین راستہ یہی ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں، باہمی تحفظات دور کریں، قابلِ عمل نکات پر اتفاقِ رائے پیدا کریں اور لانگ مارچ سمیت تمام ایسے اقدامات سے گریز کریں جو ملک کو مزید بے یقینی کی طرف لے جائیں۔ پاکستان کو اس وقت سیاسی فتح کے نعروں سے زیادہ سیاسی تدبر کی ضرورت ہے۔ اگر قیادت یہ سمجھ لے کہ ملک کا استحکام ہی تمام سیاسی جماعتوں کی اصل کامیابی ہے تو موجودہ بحران بھی ایک نئے قومی مکالمے کا آغاز بن سکتا ہے۔ یہی وقت ہے کہ اختلاف کو تصادم کے بجائے مکالمے میں، احتجاج کو مذاکرات میں اور سیاسی کشیدگی کو قومی اتفاقِ رائے میں تبدیل کیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More