تحریر: اسرار محمد کھیتران

عالمی یومِ صحافت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ صحافت محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ سچ کی حفاظت اور عوامی شعور کی بیداری کا ایک طاقتور وسیلہ ہے۔ یہ دن دنیا بھر میں اُن صحافیوں کی جدوجہد، قربانیوں اور عزم کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے، جنہوں نے ہر طرح کے دباؤ اور خطرات کے باوجود سچ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ مگر بلوچستان کے تناظر میں یہی دن ایک سنجیدہ سوال بن کر سامنے آتا ہے کہ کیا یہاں صحافت واقعی محفوظ اور مستحکم ہے؟
بلوچستان میں حالیہ عرصے میں میڈیا سے متعلق جو پالیسیاں زیرِ بحث ہیں، خصوصاً ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ کے نام پر کیے جانے والے اقدامات، ان کے اثرات پرنٹ میڈیا کے لیے تشویشناک دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہر انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ قرار دیا جا رہا ہے، مگر حقیقت میں یہ خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ کہیں یہ اقدامات روایتی اخبارات کو بتدریج کمزور کر کے انہیں منظر سے ہٹانے کا ذریعہ نہ بن جائیں۔
یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ایک اخبار صرف چند صفحات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظام ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے رپورٹرز، سب ایڈیٹرز، ایڈیٹرز، ڈیزائنرز، کمپوزرز، پرنٹنگ پریس کے کارکنان، سرکولیشن اسٹاف اور اخبار فروشوں کی ایک پوری زنجیر ہوتی ہے۔ یہ تمام افراد مل کر نہ صرف خبریں عوام تک پہنچاتے ہیں بلکہ معاشرے میں فکری رہنمائی کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ اگر یہ نظام متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایک ادارے تک محدود نہیں رہتے بلکہ ہزاروں خاندانوں کی معاشی حالت بھی اس سے جڑی ہوتی ہے۔
بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کو درپیش معاشی مشکلات پہلے ہی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ یہاں نہ بڑی صنعتیں موجود ہیں اور نہ ہی فیکٹریاں، جس کے باعث پرائیویٹ اشتہارات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اخبارات کا زیادہ تر انحصار سرکاری اشتہارات پر ہوتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ کلاسیفائیڈ اشتہارات، جن میں تلاشِ گمشدگی، ملازمت، جائیداد، حق نامہ، قانونی نوٹس، درستگی یا تردیدی اعلانات اور دیگر عوامی نوعیت کے اشتہارات شامل ہوتے ہیں، وہ بھی اکثر لوگ اخبار کے دفاتر یا ایڈیٹرز کے نمبرز تلاش کر کے مفت شائع کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس عمل کے باعث اخبارات کی وہ معمولی آمدن بھی متاثر ہو جاتی ہے جو ایسے اشتہارات سے حاصل ہو سکتی تھی۔
ایسے حالات میں جب نجی اشتہارات نہ ہونے کے برابر ہوں اور کلاسیفائیڈ اشتہارات سے بھی خاطر خواہ آمدن حاصل نہ ہو رہی ہو، تو اگر سرکاری اشتہارات کو بھی محدود کر دیا جائے، تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مقامی اخبارات کے لیے اپنی بقا برقرار رکھنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔
یہاں ایک اور اہم سوال بھی جنم لیتا ہے کہ دیگر صوبوں میں پرنٹ میڈیا کے لیے مختص فنڈز اربوں روپے تک پہنچتے ہیں، جبکہ بلوچستان میں یہی فنڈز چند کروڑ تک محدود ہیں۔ یہ رقم نہ صرف ضروریات کے مقابلے میں انتہائی کم ہے بلکہ اسے بجا طور پر “اونٹ کے منہ میں زیرہ” کہا جا سکتا ہے۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس محدود فنڈ کا بڑا حصہ بھی مقامی اخبارات کے بجائے قومی سطح کے بڑے اخبارات کو چلا جاتا ہے، جس کے باعث بلوچستان کے لوکل اخبارات کو وہ سہارا نہیں مل پاتا جس کے وہ اصل حقدار ہیں۔
نتیجتاً مقامی میڈیا، جو اس خطے کے مسائل اور عوام کی حقیقی آواز ہے، مزید کمزور ہوتا جا رہا ہے، جبکہ وسائل کا بڑا حصہ ان اداروں کو مل رہا ہے جو پہلے ہی نسبتاً مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ یہ عدم توازن نہ صرف ناانصافی کو جنم دیتا ہے بلکہ صوبے کے اندر صحافتی ڈھانچے کو بھی متاثر کرتا ہے۔
اگر کوئی اخبار مالک اپنی مرضی سے کسی رپورٹر کو اپنے ادارے میں شامل بھی کر لے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اسے خود بخود صحافتی برادری میں مکمل قبولیت حاصل ہو جائے یا اسے پریس کلب کوئٹہ کی ممبرشپ مل جائے۔ یہاں صورتحال یہ ہے کہ ممبرشپ کے سخت اور محدود طریقہ کار کی وجہ سے اکثر نئے اور ابھرتے ہوئے صحافی اسی مرحلے پر رک جاتے ہیں اور باضابطہ صحافتی پلیٹ فارم تک ان کی رسائی نہیں ہو پاتی۔ نتیجتاً وہ مرکزی صحافتی دھارے سے باہر رہ جاتے ہیں، جہاں سے اصل شناخت اور نمائندگی ملتی ہے۔ مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ پریس کلب کوئٹہ میں مجموعی ممبران کی تعداد بمشکل 130 کے لگ بھگ ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں یہی صحافتی ادارے ہزاروں ممبران پر مشتمل وسیع نیٹ ورک رکھتے ہیں۔ یہ فرق صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ صحافتی مواقع، نمائندگی اور نوجوان صحافیوں کے مستقبل کے درمیان ایک واضح خلیج کی نشاندہی کرتا ہے، جو یہاں کے صحافتی نظام پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان چھوڑ دیتا ہے۔
ایک اور نہایت اہم اور اکثر نظر انداز کیا جانے والا پہلو یہ ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے میڈیا ڈیپارٹمنٹس سے ہر سال درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں طلبہ صحافت کی ڈگری لے کر نکلتے ہیں۔ یہ نوجوان اپنے اندر خواب، جذبہ اور کچھ کر دکھانے کی تڑپ رکھتے ہیں۔ مگر یہ سمجھ لینا کہ ان سب کا رخ صرف سوشل میڈیا یا مین اسٹریم میڈیا کی طرف ہوگا، حقیقت سے بعید ہے۔
ان میں ایسے نوجوان بھی ہوتے ہیں جو اپنی الگ پہچان بنانا چاہتے ہیں—کوئی اخبار نکالنے کا خواب دیکھتا ہے، کوئی رپورٹر بن کر میدان میں سچ کی تلاش میں نکلنا چاہتا ہے، کوئی ایڈیٹر یا نیوز ایڈیٹر بن کر ادارتی سطح پر کردار ادا کرنا چاہتا ہے، کوئی آرٹیکل رائٹر بن کر قلم کے ذریعے معاشرے کی رہنمائی کرنا چاہتا ہے، جبکہ کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے دور دراز اضلاع میں نامہ نگار بن کر عوام کی آواز بننا چاہتے ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ اگر مقامی اخبارات کا وجود ہی ختم کر دیا جائے تو ان خوابوں کا کیا بنے گا؟ کہاں جائیں گے یہ نوجوان؟ کس دروازے پر دستک دیں گے؟ ایسے فیصلے نہ صرف ان کے مستقبل کو تاریک کرتے ہیں بلکہ صحافت کے اس پورے ڈھانچے کو کمزور کر دیتے ہیں جس کی بنیاد انہی مقامی اداروں پر قائم ہے۔ یہ محض روزگار کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک نسل کے خوابوں اور اس صوبے کے فکری مستقبل کا سوال ہے۔
افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض ایسے افراد، جنہوں نے اپنی صحافتی تربیت انہی مقامی اخبارات سے حاصل کی، آج انہی اداروں کے خلاف کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اس نظام کے ساتھ ناقدری بھی ہے جس نے انہیں پہچان دی۔
بلوچستان کے اخبارات اس خطے کی تاریخ، ثقافت اور عوامی مسائل کے عکاس رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ عوام کی آواز کو حکومتی ایوانوں تک پہنچایا اور معاشرے میں فکری بیداری پیدا کی۔ اسی طرح ہفت روزہ اور ماہنامہ رسائل نے ادبی اور ثقافتی شعور کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اگرچہ ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے مسائل بھی واضح ہیں، جیسے غیر مصدقہ معلومات اور افواہوں کا پھیلاؤ۔ اس کے برعکس پرنٹ میڈیا میں خبر کی تصدیق، ادارتی نگرانی اور ذمہ داری کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے سنجیدہ اور معتبر صحافت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اگر میڈیا کمزور ہو جائے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ یکطرفہ معلومات، اختلاف رائے کی کمی اور فکری جمود جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ بلوچستان جیسے حساس صوبے میں میڈیا کی کمزوری مزید پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے۔
آج عالمی یومِ صحافت کے موقع پر یہ ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرے۔ ایسے اقدامات کیے جائیں جو پرنٹ میڈیا کو سہارا دیں، نہ کہ اسے مزید مشکلات میں دھکیلیں۔ مقامی اخبارات کے مسائل کو سمجھا جائے، ان کے ساتھ مشاورت کی جائے اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ صحافت ایک آزاد اور باشعور معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر اس بنیاد کو کمزور کیا گیا تو اس کے اثرات پورے نظام پر مرتب ہوں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ صحافت کو اس کا جائز مقام دیا جائے، تاکہ سچ کی آواز مضبوط رہے اور معاشرہ درست سمت میں آگے بڑھ سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *