اسلام آباد……. نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے 26 سے 31 مئی تک ملک بھر میں متوقع موسمی صورتحال کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا ہے، جس میں بارشوں، ژالہ باری، سیلابی صورتحال، لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے خطرات سے خبردار کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق شمالی علاقہ جات میں درجہ حرارت میں اضافے اور تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کئی رابطہ سڑکیں اور اہم شاہراہیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
خیبرپختونخوا میں 26 سے 31 مئی کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش اور بعض مقامات پر ژالہ باری متوقع ہے۔ چترال، دیر، منگورہ، ہنگو، سوات، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور اور پاراچنار میں بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی 26 سے 31 مئی کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش اور بعض مقامات پر ژالہ باری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ گلگت، اسکردو، ہنزہ، استور، نیلم ویلی، مظفرآباد، باغ، کوٹلی اور بھمبر متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔
پنجاب کے مختلف اضلاع میں 28 سے 31 مئی کے دوران بارشوں اور ژالہ باری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ راولپنڈی، اسلام آباد، مری، اٹک، چکوال، جہلم، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ساہیوال، اوکاڑہ، فیصل آباد، قصور، بہاولپور، بہاولنگر اور ملتان میں بارش متوقع ہے۔
بلوچستان میں 30 اور 31 مئی کو کوئٹہ، ژوب، زیارت، چمن، خضدار اور تربت میں بارش جبکہ بعض علاقوں میں ژالہ باری کا امکان ہے۔ سندھ میں بھی 30 اور 31 مئی کو ٹھٹہ، بدین، مٹھی، حیدرآباد اور کراچی میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے نے گلگت بلتستان، بالائی خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے شدید خطرے کے پیش نظر خصوصی الرٹ جاری کیا ہے۔ ہنزہ، نگر، گلگت، چلاس، استور، شگر، چترال، کالام، اپر کوہستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں پہاڑی تودے گرنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
شمشال ویلی، عطاآباد جھیل، کریم آباد، گل میت، ششکت بالا اور پاسو کے درمیان رابطہ سڑکوں کو حساس قرار دیا گیا ہے، جبکہ شگر ویلی روڈ، اسکردو روڈ، دیوسائی روڈ اور قراقرم ہائی وے پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث راستے بند ہونے کا خدشہ ہے۔ متاثر ہونے والی اہم شاہراہوں میں قراقرم ہائی وے، ناران روڈ اور جگلوٹ اسکردو روڈ شامل ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق کالام، اوشو، کندول، ارنگ کیل، داسو، پٹن اور چترال ویلی کے پہاڑی مقامات پر سیاحتی سرگرمیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ درکوٹ، لاشت، اشکومن، پنڈورو، ریشن، بونی، بدسوات، شسپر، گلکن، ہنارچی، روشن اور کمراٹ سمیت متعدد علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ادارے نے ہنزہ، غذر، دیامیر، استور، گھانچے، شگر، کھرمنگ، وادی نیلم، باغ، سدھنوتی، چترال، دیر، سوات اور کوہستان کے علاقوں میں بھی سیلابی صورتحال کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔
این ڈی ایم اے نے تمام صوبائی اور ضلعی اداروں کو حساس شاہراہوں اور پہاڑی علاقوں میں الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاح اور مسافر شمالی علاقوں کا سفر کرنے سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال ضرور چیک کریں۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ بروقت معلومات کے لیے این ڈی ایم اے کی آفیشل ایپ “پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ” سے استفادہ کریں۔
