لاہور (بیورو رپورٹ) پنجاب بھر کے مدارس ایک ہی رجسٹریشن نظام کے تحت لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مدارس کی مالیات، انتظام، غیر ملکی طلبہ و اساتذہ سمیت تمام ریکارڈ حکومت کو فراہم کرنا ہوگا،علمائے کرام سے مشاورت کر لی گئی ہے،دہشت گردی، انتہاپسندی اور کالعدم تنظیموں سے لاتعلقی کا حلف نامہ لازمی، 15 صفحات پر مشتمل مجوزہ فریم ورک تیار کر لیا گیا ہے۔
حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر کے دینی مدارس کی رجسٹریشن اور دستاویزی ریکارڈ کے لیے ایک جامع اور دور رس فریم ورک تیار کر لیا ہے جس کے تحت مدارس کی انتظامیہ، مالی معاملات، انفرااسٹرکچر، تعلیمی سرگرمیوں، اساتذہ، طلبہ، غیر ملکی شہریوں اور فنڈنگ کے ذرائع سمیت وسیع پیمانے پر معلومات حاصل کی جائیں گی۔
اس مقصد کے لیے مختلف مکاتبِ فکر کے علما، دینی تنظیموں اور وفاق آلمدارس سے مشاورت جاری ہے تاکہ اتفاقِ رائے سے حتمی نظام مرتب کیا جا سکے۔
میڈیا کو حاصل دستاویزات کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے تیار کردہ مجوزہ رجسٹریشن پیکیج پر مذہبی تنظیموں، مدارس کے وفاقوں اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے علما کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
مسودے کے مطابق رجسٹریشن کے خواہشمند ہر مدرسے کو اپنے آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن اور میمورنڈم آف ایسوسی ایشن کی مصدقہ نقول، انتظامی عہدیداروں کے قومی شناختی کارڈز، 2500 روپے رجسٹریشن فیس کی بینک چالان کی تصدیق شدہ کاپی اور مدرسے کے زیر استعمال اراضی یا عمارت کی ملکیت، لیز، وقف یا دیگر قانونی حیثیت سے متعلق دستاویزی ثبوت جمع کرانا ہوں گے۔
مجوزہ فریم ورک میں مدرسہ، جامعہ یا دارالعلوم کی واضح تعریف بھی دی گئی ہے۔ اس کے مطابق وہ ادارے جو دینی تعلیم کے ساتھ رہائش اور طعام کی سہولت فراہم کرتے ہوں یا کسی تسلیم شدہ دینی وفاق، تنظیم یا رابطہ سے وابستہ ہوں اور انہی نظاموں کے تحت امتحانات لے کر اسناد جاری کرتے ہوں، مدرسے کی تعریف میں شامل ہوں گے۔
مسودے میں واضح کیا گیا ہے کہ مدارس کی ذیلی شاخوں کو الگ رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم متعدد کیمپس چلانے والے اداروں کو ہر ذیلی شاخ کی مکمل تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔
