تجزیہ بی این پی
قدرتی گیس کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر اور بڑھتی ہوئی طلب نے پاکستان کے توانائی کے شعبے کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں متبادل ایندھن کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ماضی میں ایل پی جی کو صرف ایک اضافی یا متبادل ایندھن سمجھا جاتا تھا، لیکن آج یہ لاکھوں گھریلو صارفین، ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، چھوٹے کاروباروں، تجارتی مراکز اور صنعتوں کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ سردیوں کے موسم میں قدرتی گیس کی لوڈشیڈنگ ہو یا دور دراز علاقوں میں گیس کی فراہمی کا فقدان، ہر صورت میں ایل پی جی ہی وہ سہارا بنتی ہے جس پر عوام کا انحصار قائم رہتا ہے۔ ایسے حالات میں اگر ایل پی جی کی درآمد، ترسیل یا تقسیم کا نظام متاثر ہو جائے تو اس کے اثرات صرف ایک صنعت تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری قومی معیشت، کاروباری سرگرمیوں اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔
حالیہ دنوں آل پاکستان ایل پی جی انڈسٹری کی جانب سے مختلف مسائل کے حل نہ ہونے کی صورت میں ہڑتال کی دھمکی نے اس معاملے کی سنگینی کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ درآمدی لاگت میں اضافہ، بین الاقوامی فریٹ ریٹس کی بلند سطح، بلوچستان میں سکیورٹی چیلنجز، طویل سپلائی روٹس، ٹرانسپورٹرز کو درپیش مشکلات اور مختلف ضابطہ جاتی پیچیدگیاں ایسے عوامل ہیں جنہوں نے اس صنعت پر اضافی دباؤ ڈال رکھا ہے۔ اگر ان مسائل کو بروقت حل نہ کیا گیا تو ملک میں ایل پی جی کی شدید قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جس کا سب سے بڑا نقصان عام صارفین اور ملکی معیشت کو برداشت کرنا پڑے گا۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان میں توانائی کے شعبے کی منصوبہ بندی طویل عرصے سے بنیادی اصلاحات کی منتظر ہے۔ قدرتی گیس کے ذخائر میں مسلسل کمی ایک حقیقت ہے، جبکہ آبادی میں اضافہ، شہری آبادی کی توسیع اور صنعتی سرگرمیوں کے پھیلاؤ نے توانائی کی طلب کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ایل پی جی اب عارضی متبادل نہیں بلکہ قومی توانائی کے نظام کا مستقل حصہ بن چکی ہے۔ اس لیے اس شعبے کو وقتی اقدامات کے بجائے مستقل اور جامع پالیسی کی ضرورت ہے۔
ایل پی جی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ عوامی پریشانی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اگرچہ سرکاری سطح پر فی کلو قیمت تقریباً 241 روپے مقرر کی گئی ہے، لیکن ملک کے مختلف شہروں میں یہی گیس 350 سے 400 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔ اس واضح فرق سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیمتوں کے تعین اور ان پر عمل درآمد کے نظام میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔ اس صورتحال میں عام آدمی نہ صرف معاشی دباؤ کا شکار ہوتا ہے بلکہ حکومتی قیمتوں کا اعلان بھی اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ اگر سرکاری نرخ صرف کاغذوں تک محدود رہ جائیں اور بازار میں من مانی قیمتیں وصول کی جائیں تو عوام کا اعتماد متاثر ہونا ایک فطری امر ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ایل پی جی کی قیمت صرف درآمدی لاگت سے متاثر نہیں ہوتی بلکہ سپلائی چین کے ہر مرحلے پر اضافی اخراجات اس کی قیمت میں اضافہ کرتے ہیں۔ بندرگاہ سے ڈپو تک، ڈپو سے ڈسٹری بیوٹر تک اور وہاں سے ریٹیل مارکیٹ تک ہر مرحلے پر ٹرانسپورٹ، ذخیرہ اندوزی، کمیشن، سکیورٹی اخراجات اور دیگر عوامل قیمت میں اضافہ کرتے ہیں۔ اگر ان مراحل میں شفافیت نہ ہو تو صارف تک پہنچنے والی قیمت غیر ضروری طور پر بڑھ جاتی ہے۔
بلوچستان اس صنعت کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ملک میں پیدا ہونے والی ایل پی جی کا ایک بڑا حصہ اسی صوبے سے حاصل ہوتا ہے۔ تاہم وہاں امن و امان کی صورتحال، دشوار گزار راستے، ٹرانسپورٹ کی مشکلات اور بعض علاقوں میں سکیورٹی خدشات سپلائی کے عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ جب بھی کسی شاہراہ پر رکاوٹ پیدا ہوتی ہے یا نقل و حمل متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر ملک بھر میں ایل پی جی کی دستیابی اور قیمت دونوں پر پڑتا ہے۔ اس لیے بلوچستان میں امن و استحکام صرف قومی سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ توانائی کے تحفظ کا بھی اہم تقاضا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی پاکستان جیسے درآمدی ممالک کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ عالمی سطح پر فریٹ ریٹس میں اضافہ، کرنسی کی قدر میں کمی اور درآمدی اخراجات بڑھنے سے مقامی مارکیٹ پر دباؤ آتا ہے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ بیرونی عوامل کو ہر قیمت اضافے کا جواز نہ بنایا جائے بلکہ مقامی سطح پر موجود غیر ضروری اخراجات، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کو بھی ختم کیا جائے۔
ایل پی جی کی مارکیٹ میں سب سے تشویشناک پہلو نگرانی کے مؤثر نظام کا فقدان ہے۔ کئی مقامات پر سرکاری نرخ نام کی چیز رہ گئے ہیں اور صارفین کو اپنی ضرورت کے تحت مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ بعض علاقوں میں مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتیں مزید بڑھا دی جاتی ہیں، جبکہ بعض ڈیلرز مقررہ نرخوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اگر ضلعی انتظامیہ، متعلقہ ریگولیٹری ادارے اور صارفین کے تحفظ کے ذمہ دار محکمے فعال کردار ادا کریں تو اس صورتحال میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
ایل پی جی صرف گھریلو استعمال تک محدود نہیں بلکہ ہزاروں چھوٹے کاروبار بھی اس پر انحصار کرتے ہیں۔ ہوٹل، چائے خانے، بیکریاں، ریسٹورنٹس، کیٹرنگ سروسز، ورکشاپس، زرعی سرگرمیاں اور متعدد چھوٹی صنعتیں ایل پی جی کے ذریعے اپنا نظام چلاتی ہیں۔ جب اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو کاروباری لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہو جاتا ہے۔ یوں مہنگی ایل پی جی اشیائے خورونوش سمیت متعدد خدمات کی قیمتوں میں اضافے کا بھی سبب بنتی ہے۔
صنعتی شعبہ بھی اس صورتحال سے محفوظ نہیں۔ کئی صنعتیں ایل پی جی کو بطور متبادل ایندھن استعمال کرتی ہیں تاکہ پیداواری عمل بلا تعطل جاری رہے۔ اگر ایل پی جی مہنگی یا نایاب ہو جائے تو پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے مقامی مصنوعات عالمی منڈی میں کم مسابقتی رہ جاتی ہیں۔ برآمدات بڑھانے کے قومی اہداف بھی اسی صورت میں حاصل کیے جا سکتے ہیں جب صنعتوں کو مناسب قیمت پر توانائی دستیاب ہو۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق موجودہ بحران کو صرف قیمتوں کے مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے قومی توانائی کی پالیسی کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو ایسی مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جس میں مقامی پیداوار، درآمدات، ذخیرہ اندوزی کے ضوابط، قیمتوں کا شفاف نظام، محفوظ نقل و حمل اور صارفین کے تحفظ کو ایک ہی پالیسی کے تحت مربوط کیا جائے۔ یہی طریقہ مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بچنے کی ضمانت بن سکتا ہے۔
ریگولیٹری نظام میں اصلاحات بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ مختلف اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم، اجازت ناموں کے پیچیدہ مراحل اور غیر ضروری بیوروکریٹک رکاوٹیں نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہیں بلکہ قیمتوں میں اضافے کا سبب بھی بنتی ہیں۔ اگر قوانین کو آسان، شفاف اور مؤثر بنایا جائے تو سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، سپلائی بہتر ہوگی اور صارفین کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہیے کہ ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرے۔ جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ، آن لائن قیمتوں کی نگرانی، ضلعی سطح پر خصوصی ٹیموں کی تشکیل اور فوری کارروائی کا نظام عوام کے اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تو مارکیٹ میں استحکام پیدا ہوگا۔طویل المدتی بنیادوں پر پاکستان کو متبادل توانائی کے ذرائع پر بھی بھرپور توجہ دینا ہوگی۔ شمسی توانائی، ہوا سے بجلی، بائیو گیس اور دیگر قابل تجدید ذرائع نہ صرف درآمدی ایندھن پر انحصار کم کر سکتے ہیں بلکہ ملکی زرمبادلہ کی بچت اور ماحولیاتی تحفظ میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔ توانائی کے متنوع ذرائع ہی مستقبل کے پائیدار معاشی استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
عوامی شعور کی بیداری بھی اس مسئلے کے حل کا ایک اہم حصہ ہے۔ صارفین کو مقررہ سرکاری قیمتوں، شکایتی نظام اور اپنے قانونی حقوق سے آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ ناجائز منافع خوری کے خلاف متعلقہ اداروں سے رجوع کر سکیں۔ میڈیا، سول سوسائٹی اور صارفین کی تنظیمیں بھی اس حوالے سے مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایل پی جی کا بحران صرف ایک تجارتی یا انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ قومی معیشت، توانائی کے تحفظ اور عوامی فلاح سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اگر حکومت، صنعت، درآمد کنندگان، ڈیلرز اور ریگولیٹری ادارے مشترکہ طور پر سنجیدہ اور بروقت اقدامات کریں تو نہ صرف موجودہ بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں توانائی کے شعبے کو زیادہ مستحکم، شفاف اور عوام دوست بنایا جا سکتا ہے۔ آج کی بروقت منصوبہ بندی ہی آنے والے برسوں میں توانائی کے تحفظ، معاشی استحکام اور عوامی ریلیف کی بنیاد ثابت ہوگی، جبکہ مؤثر نگرانی، شفاف پالیسی اور منصفانہ قیمتوں کا نظام ہی وہ راستہ ہے جس سے عوام کا اعتماد بحال ہوگا اور ملک ایک مضبوط، متوازن اور پائیدار توانائی نظام کی جانب پیش قدمی کر سکے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
