تجزیہ بی این پی
پاکستانی نوجوان ہمیشہ سے محنت، صلاحیت، ہمت اور عزم کا استعارہ رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، ٹیکنیشنز، نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور ہنرمند کارکن نہ صرف اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہے ہیں بلکہ اپنے خاندانوں اور وطن کی معیشت کو بھی سہارا دے رہے ہیں۔ حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران 3 لاکھ 17 ہزار 436 پاکستانی روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک گئے۔ بظاہر یہ تعداد ملک سے افرادی قوت کے بیرون ملک جانے کی ایک بڑی تصویر پیش کرتی ہے، لیکن اگر اس رجحان کو مثبت اور دور رس تناظر میں دیکھا جائے تو اس کے اندر پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے کئی اہم امکانات بھی پوشیدہ ہیں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ قابل غور ہے کہ بہتر روزگار، زیادہ آمدن، پیشہ ورانہ ترقی اور محفوظ مستقبل کی تلاش میں پاکستانی شہری بیرون ملک جا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں روزگار کی منڈی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کو ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے نوجوانوں کے پاس تعلیم، ہنر اور محنت کا وہ سرمایہ موجود ہے جسے عالمی سطح پر بہتر مواقع مل سکتے ہیں۔ اگر ہمارے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو عالمی منڈی میں استعمال کرکے نہ صرف اپنے خاندانوں بلکہ اپنے وطن کے لیے بھی معاشی وسائل پیدا کرتے ہیں تو یہ پاکستان کے لیے ایک مثبت پیش رفت بن سکتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون 2026ئ کے دوران 3 لاکھ 17 ہزار 436 پاکستانی بیرون ملک روزگار کے لیے گئے۔ ان میں ڈاکٹرز، سافٹ ویئر انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، پٹرولیم اور مکینیکل انجینئرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور مختلف شعبوں کے ٹیکنیشنز شامل ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی افرادی قوت صرف غیر ہنرمند یا کم اجرت والے شعبوں تک محدود نہیں بلکہ ملک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور فنی طور پر تربیت یافتہ نوجوان بھی عالمی روزگار کی منڈی میں جگہ بنا رہے ہیں۔
سعودی عرب پاکستانی کارکنوں کے لیے سب سے اہم منزل بن کر سامنے آیا ہے جہاں ایک لاکھ 83 ہزار 951 پاکستانی روزگار کے لیے گئے۔ متحدہ عرب امارات میں 50 ہزار 773، قطر میں 34 ہزار 25، بحرین میں 13 ہزار 329 اور ترکیہ میں 4 ہزار 673 پاکستانی کارکن گئے۔ اس کے علاوہ قبرص، یونان، برطانیہ اور ملائیشیا بھی پاکستانی ورکرز کے لیے اہم ممالک رہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستانی افرادی قوت کے لیے عالمی سطح پر روزگار کے دروازے کھلے ہیں اور اگر مناسب حکمت عملی اختیار کی جائے تو اس رجحان کو قومی معاشی طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
اس معاملے کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی اپنی محنت کی کمائی وطن بھیجتے ہیں۔ ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی جب اپنے خاندانوں کو رقوم بھیجتے ہیں تو اس سے نہ صرف گھریلو اخراجات پورے ہوتے ہیں بلکہ ملک میں زرِ مبادلہ بھی آتا ہے۔ یہی زرِ مبادلہ درآمدات، کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور مجموعی معاشی استحکام میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابل توجہ ہے۔ بیرون ملک جانے والا نوجوان صرف ملازمت نہیں کرتا بلکہ وہ نئی مہارتیں سیکھتا، جدید ٹیکنالوجی سے واقف ہوتا، بین الاقوامی کاروباری ماحول کو سمجھتا اور مختلف ممالک کے صنعتی و انتظامی نظام کا تجربہ حاصل کرتا ہے۔ یہی تجربہ مستقبل میں پاکستان کے لیے قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آج کا نوجوان اگر بیرون ملک جا کر مہارت حاصل کرتا ہے اور کل وطن واپس آ کر اپنا کاروبار، صنعت، ٹیکنالوجی کمپنی یا فنی ادارہ قائم کرتا ہے تو اس کا فائدہ صرف ایک فرد یا خاندان تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری معیشت اس سے مستفید ہوتی ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستانی نوجوانوں کا بیرون ملک جانا صرف ”ہجرت” کے لفظ میں محدود کرکے دیکھنا مناسب نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس عمل کو قومی ترقی کی قوت کیسے بناتے ہیں۔ اگر حکومت بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کی مکمل سرپرستی کرے، ان کے لیے شفاف اور آسان نظام وضع کرے، ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور وطن واپسی پر ان کے تجربے اور سرمائے کو استعمال کرنے کے لیے خصوصی مواقع پیدا کرے تو یہ افرادی قوت پاکستان کی معاشی ترقی کا ایک مضبوط ستون بن سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں بیرون ملک سے واپس آنے والا نوجوان اپنی جمع پونجی محفوظ اور منافع بخش انداز میں سرمایہ کاری کر سکے۔ اگر ایک پاکستانی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین یا کسی دوسرے ملک میں کئی برس محنت کرکے سرمایہ جمع کرتا ہے تو وطن واپس آنے کے بعد اسے کاروبار شروع کرنے کے لیے غیر ضروری رکاوٹوں، پیچیدہ کاغذی کارروائی اور غیر یقینی صورت حال کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ اسے آسان قرض، ون ونڈو سہولت، ٹیکس میں مناسب رعایت، کاروباری رہنمائی اور قانونی تحفظ فراہم کیا جائے تو یہی بیرون ملک کمانے والا پاکستانی مستقبل میں روزگار فراہم کرنے والا کاروباری شخص بن سکتا ہے۔
پاکستان کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، انجینئرنگ اور جدید فنی شعبوں میں مہارت رکھتی ہے۔ دنیا میں ان شعبوں کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اگر پاکستان اپنے نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت فراہم کرے اور ان کے لیے بین الاقوامی روزگار کے مواقع پیدا کرے تو بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر بیٹھ کر آن لائن خدمات فراہم کرنے والے نوجوان بھی غیر ملکی زرِ مبادلہ کما سکتے ہیں۔
یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ بیرون ملک جانے والے پاکستانی صرف اپنے لیے بہتر مستقبل تلاش نہیں کر رہے بلکہ ان کی کامیابی بالآخر پاکستان کے لیے بھی نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔ ایک نوجوان بیرون ملک ملازمت حاصل کرتا ہے، اپنے خاندان کی مالی حالت بہتر بناتا ہے، گھر تعمیر کرتا ہے، بچوں کو تعلیم دلاتا ہے اور کچھ عرصے بعد کاروبار کے لیے سرمایہ جمع کرتا ہے۔ یہی سرمایہ اگر وطن میں لگایا جائے تو ایک نئی صنعت، دکان، ٹیکنالوجی کمپنی، ورکشاپ یا زرعی منصوبے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ یوں ایک فرد کی بیرون ملک محنت پاکستان میں کئی افراد کے لیے روزگار کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں کی اہمیت کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک جامع سرمایہ کاری پالیسی مرتب کرے جس کے تحت بیرون ملک سے آنے والی رقوم کو محض گھریلو اخراجات کے بجائے پیداواری شعبوں میں لگانے کی ترغیب دی جائے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، آئی ٹی، زراعت، ہاؤسنگ، توانائی، صنعتی پیداوار اور برآمدی شعبے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اسی طرح بیرون ملک روزگار کے خواہش مند نوجوانوں کے لیے تربیتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بھی ضروری ہے۔ عالمی روزگار کی منڈی اب صرف ڈگری نہیں بلکہ عملی مہارت، زبان، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر پاکستان جانے سے پہلے نوجوانوں کو مطلوبہ شعبے کی مکمل تربیت، زبان کی بنیادی تعلیم، بین الاقوامی قوانین اور ملازمت کے حقوق سے آگاہی فراہم کرے تو انہیں بیرون ملک بہتر ملازمتیں مل سکتی ہیں اور وہ زیادہ آمدن حاصل کرسکتے ہیں۔
اسی طرح بیرون ملک پاکستانیوں کو دھوکہ دہی، غیر قانونی ایجنٹوں اور جعلی بھرتیوں سے محفوظ رکھنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سرکاری اداروں کو روزگار کے مواقع کی تصدیق، معاہدوں کی جانچ، فیسوں کے شفاف نظام اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے جدید نظام تشکیل دینا چاہیے۔ بیرون ملک جانے والے ہر پاکستانی کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے۔
ائیرپورٹس پر مسافروں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ اگر ایک نوجوان اپنی قابلیت اور محنت کے بل پر بیرون ملک روزگار حاصل کرتا ہے تو اسے غیر ضروری تاخیر، پیچیدہ کارروائی یا غیر واضح ضوابط کے باعث پریشانی کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ امیگریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ، ڈیجیٹل نظام اور ون ونڈو سہولت اس عمل کو آسان بنا سکتے ہیں۔تاہم اس پورے معاملے کا ایک طویل المدتی پہلو بھی ہے۔ پاکستان کو ایسا ملک بنانا ہوگا جہاں نوجوان صرف مجبوری کے تحت بیرون ملک جانے کے بجائے اپنی مرضی اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے عالمی سطح پر مواقع تلاش کریں۔ اس مقصد کے لیے ملک کے اندر روزگار، کاروبار، تحقیق، صنعت، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ ہمارا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ جو نوجوان بیرون ملک جائیں وہ پاکستان کے لیے معاشی پل بنیں، اور جو وطن میں رہیں انہیں بھی ترقی کے بھرپور مواقع حاصل ہوں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر بیرون ملک جانے والا پاکستانی مستقل طور پر وطن سے دور نہیں رہتا۔ دنیا کے کئی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی دوسری اور تیسری نسل بھی اپنے آبائی ملک کے ساتھ مضبوط تعلق رکھتی ہے۔ اگر پاکستان اپنے اوورسیز شہریوں کے ساتھ اعتماد کا رشتہ مزید مضبوط کرے، انہیں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سہولت دے اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرے تو بیرون ملک مقیم پاکستانی مستقبل میں پاکستان کی ترقی کے سفیر بن سکتے ہیں۔
تجزیہ بی این پی کی نظر میں 3 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کا چھ ماہ میں بیرون ملک روزگار کے لیے جانا ہمیں مایوسی کے بجائے ایک بڑے قومی موقع کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ نوجوان پاکستان کا انسانی سرمایہ ہیں۔ ان کی تعلیم، ہنر، تجربہ اور محنت کو عالمی منڈی میں بہتر قیمت مل رہی ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ریاست اس انسانی سرمائے کو منظم انداز میں قومی معاشی پالیسی کا حصہ بنائے۔
پاکستان کے لیے سب سے خوش آئند منظر وہ ہوگا جب آج بیرون ملک جانے والا ہنرمند نوجوان کل اپنی کامیابی، تجربے اور سرمائے کے ساتھ وطن واپس آئے اور یہاں ایک نیا ادارہ قائم کرے۔ اس ادارے میں دس افراد کو روزگار ملے، پھر وہ ادارہ سو افراد کے لیے روزگار پیدا کرے اور یوں بیرون ملک ایک فرد کی محنت وطن میں معاشی سرگرمی کا ذریعہ بن جائے۔ اسی طرح بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات اگر پیداواری سرمایہ کاری میں تبدیل ہوں تو ملک کی درآمدی ضروریات کم اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
یہی وہ سوچ ہے جو پاکستان کے معاشی مستقبل کو نئی سمت دے سکتی ہے۔ نوجوان اگر عالمی سطح پر کامیابی حاصل کریں، اپنے خاندانوں کو بہتر زندگی دیں، پاکستان میں سرمایہ بھیجیں اور مناسب مواقع ملنے پر وطن میں کاروبار اور صنعت قائم کریں تو یہ عمل قومی ترقی کے لیے ایک طاقتور ذریعہ بن سکتا ہے۔
پاکستان کو اپنے نوجوانوں کو روکنے کے بجائے انہیں آگے بڑھنے کے مواقع دینے چاہئیں۔ جو نوجوان بیرون ملک جانا چاہتے ہیں، ان کے لیے قانونی اور محفوظ راستے کھولے جائیں؛ جو نوجوان ملک میں رہنا چاہتے ہیں، انہیں تعلیم، روزگار اور کاروبار کے مواقع دیے جائیں؛ اور جو بیرون ملک کامیابی حاصل کرکے وطن واپس آنا چاہتے ہیں، ان کے لیے سرخ فیتے کے بجائے سہولت اور اعتماد کا ماحول پیدا کیا جائے۔بالآخر قومیں صرف قدرتی وسائل سے نہیں بلکہ اپنے انسانی سرمائے سے ترقی کرتی ہیں۔ پاکستان کے نوجوان ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں۔ ان کی صلاحیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جانا دراصل پاکستان کی صلاحیت کا اعتراف ہے۔ اگر اس صلاحیت کو درست پالیسی، بہتر تربیت، محفوظ روزگار، مؤثر سفارتی تعاون اور سرمایہ کاری کے مواقع سے جوڑ دیا جائے تو آج کا بیرون ملک جانے والا نوجوان کل پاکستان کی صنعت، تجارت، ٹیکنالوجی اور معیشت کا معمار بن سکتا ہے۔
لہٰذا 3 لاکھ 17 ہزار سے زائد پاکستانیوں کا بیرون ملک روزگار کے لیے جانا محض افرادی قوت کے اخراج کا اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک ایسے انسانی اور معاشی سرمائے کی نشاندہی بھی ہے جسے پاکستان اپنے مستقبل کی تعمیر میں استعمال کرسکتا ہے۔ امید یہی ہے کہ یہ نوجوان جہاں بھی جائیں پاکستان کا نام روشن کریں،
اپنی محنت سے خاندانوں کا معیار زندگی بلند کریں، وطن کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ کمائیں اور وقت آنے پر اپنے تجربے اور سرمائے کے ساتھ پاکستان واپس آکر ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد صرف آج کے فیصلوں سے نہیں بلکہ آج کے نوجوانوں کے خوابوں، محنت اور صلاحیتوں سے بھی رکھی جائے گی۔ اگر ریاست، نجی شعبہ اور بیرون ملک پاکستانی مل کر اس انسانی سرمائے کو قومی ترقی کی سمت دے دیں تو پاکستان کے لیے آنے والا وقت یقیناً زیادہ روشن، مستحکم اور خوشحال ہو سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- پاکستان میں قومی ترقی میں شراکت اور احتساب کا مضبوط نظام
- بہتر مستقبل کی تلاش، پاکستانی نوجوانوں کی عالمی منڈی میں پیش قدمی اور وطن کی ترقی کی نئی امید
- پاکستان میں معیشت سنبھلنے لگی، اب استحکام کو پائیدار بنانا ہوگا
- پاکستان میں ذہنی صحت۔قومی ترجیح اور مثبت معاشرے کی بنیاد
- پاکستان میں کھلے گٹروں میں گرتے بچے، ذمہ دار کون؟
- پاکستان میں خصوصی بچوں کے لیے سہولتیں، ریاست کی ذمہ داری
- پاکستان، آئینی اداروں کی تکمیل، جمہوری استحکام کی ضمانت
- اقلیتیں معاشرے کا حسن، عزت اور تحفظ پر سمجھوتا نہیں ہوگا، مریم نواز
- صدر مملکت نے مختلف ہائیکورٹس میں ججز کی تقرری و توثیق کی منظوری دیدی
- وزیر اعظم شہبازشریف کا کولمبیا میں تباہ کن زلزلے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہارِ افسوس