تجزیہ بی این پی
بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ دنیا کی معیشت محض زمینی سرحدوں، منڈیوں اور صنعتی مراکز سے نہیں بلکہ محفوظ اور بلا رکاوٹ سمندری راستوں سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ یمن کے قریب تجارتی جہازوں پر حملوں کے واقعات، خصوصاً ایسے واقعے میں تین پاکستانی شہریوں کی شہادت اور ایک کے زخمی ہونے کی اطلاعات، نہ صرف پاکستان کیلئے تشویش کا باعث ہیں بلکہ عالمی بحری تجارت، انسانی سلامتی اور بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ بحیرہ احمر، خلیج عدن اور آبنائے باب المندب عالمی تجارت کے ان اہم راستوں میں شامل ہیں جن میں پیدا ہونے والی معمولی رکاوٹ بھی دنیا کے مختلف خطوں کی معیشتوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پاکستان نے اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے تجارتی بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کی حمایت کی ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے سعودی حکام اور یمنی حکومت سے رابطہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان مسئلے کو محض سلامتی کے تناظر میں نہیں بلکہ سفارتی اور علاقائی تعاون کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستانی سمندری مفادات کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دینا بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف اصولی ہے کہ عالمی سمندری راستوں کو کسی بھی فریق کی سیاسی یا عسکری کشمکش کا میدان نہیں بننا چاہیے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق بحیرہ احمر میں موجودہ صورتحال کو صرف یمن یا مشرق وسطیٰ کا علاقائی مسئلہ سمجھنا ایک بڑی غلطی ہوگی۔ اس کے اثرات عالمی سطح پر تجارت، توانائی، درآمدات و برآمدات، مال برداری کے اخراجات اور بالآخر عام صارفین تک پہنچ سکتے ہیں۔ دنیا کی بڑی معیشتیں اپنی صنعتی ضروریات کیلئے خام مال اور توانائی کے بڑے حصے کی ترسیل سمندری راستوں کے ذریعے کرتی ہیں۔ اسی طرح ایشیا، یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے درمیان تجارتی سامان کی ایک بڑی مقدار اہم بحری گزرگاہوں سے گزرتی ہے۔ اگر ان راستوں میں مستقل عدم تحفظ پیدا ہو جائے تو جہاز رانی کی لاگت میں اضافہ، بیمہ کی شرحوں میں بلند اضافہ اور ترسیل کے دورانیے میں غیر معمولی توسیع ناگزیر ہو سکتی ہے۔
آبنائے باب المندب اس حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے اور ایشیا و یورپ کے درمیان سمندری تجارت کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ اگر یہاں تجارتی جہازوں کو مسلسل خطرات لاحق رہیں تو جہاز رانی کی کمپنیاں متبادل راستوں پر غور کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔ اس صورت میں بحری جہازوں کو افریقہ کے جنوبی سرے کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔ بظاہر یہ ایک انتظامی فیصلہ محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کے معاشی نتائج انتہائی وسیع ہو سکتے ہیں۔ طویل راستے کا مطلب زیادہ ایندھن، زیادہ وقت، زیادہ عملہ، زیادہ بیمہ اور زیادہ مال برداری کے اخراجات ہے، جو بالآخر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
عالمی سپلائی چین پہلے ہی مختلف بحرانوں کے باعث دباؤ کا شکار رہی ہے۔ کورونا وبا کے بعد پیدا ہونے والی ترسیلی مشکلات، مختلف خطوں میں جنگی تنازعات، توانائی کے بحران اور تجارتی پابندیوں نے عالمی معیشت کو یہ سبق دیا ہے کہ سپلائی چین کا معمولی سا تعطل بھی کس قدر بڑے معاشی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ ایسے میں اگر بحیرہ احمر جیسا اہم تجارتی راستہ بھی طویل عرصے کیلئے غیر محفوظ ہو جائے تو اس کے اثرات محض شپنگ کمپنیوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ صنعت، زراعت، خوردہ تجارت اور عام صارف تک منتقل ہوں گے۔
پاکستان کیلئے اس صورتحال کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ ملک اپنی توانائی اور متعدد صنعتی و تجارتی ضروریات کیلئے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ اگر سمندری راستوں کے ذریعے آنے والے تیل، خام مال یا دیگر اشیا کی ترسیل مہنگی ہو جائے تو اس کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑے گا۔ پہلے ہی مہنگائی، زرمبادلہ کے دباؤ اور محدود مالی وسائل جیسے مسائل سے دوچار معیشت کیلئے درآمدی لاگت میں اضافے کا مطلب مزید مشکلات پیدا ہونا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات، صنعتی خام مال اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ بالآخر عام شہری کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔
اسی لیے بحیرہ? احمر کے تحفظ کو پاکستان کیلئے صرف خارجہ پالیسی یا دفاعی مسئلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ معاشی استحکام اور قومی مفاد کا بھی اہم معاملہ ہے۔ پاکستان کو ایک طرف اپنے بحری مفادات کے تحفظ کیلئے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں اور دوسری جانب علاقائی و عالمی سطح پر سفارتی کوششوں کو مزید مؤثر بنانا چاہیے۔ سعودی عرب سمیت خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم کسی بھی بحری انتظام کو محض عسکری ردعمل تک محدود رکھنے کے بجائے اس کے سفارتی، قانونی اور انسانی پہلوؤں کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔
30 جولائی کو سعودی دارالحکومت ریاض میں 14 ممالک پر مشتمل کثیرالقومی بحری دفاعی اتحاد کے قیام پر اتفاق کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس اتحاد کا بنیادی مقصد آبنائے باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے ذریعے جہاز رانی کے عالمی راستوں کی حفاظت بتایا گیا ہے۔ اگر یہ انتظام مؤثر، شفاف اور واضح قواعد و ضوابط کے تحت کام کرتا ہے تو تجارتی جہازوں کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ بحری سلامتی کیلئے قائم کیا جانے والا کوئی بھی اتحاد خود علاقائی طاقتوں کے باہمی تصادم کا ذریعہ نہ بنے۔
بحری راستوں کا تحفظ ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی ریاست یا گروہ کو تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت روکنے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح بحری سلامتی کے نام پر ایسی کارروائیاں بھی نہیں ہونی چاہئیں جو کشیدگی کو مزید بڑھا دیں۔ عالمی برادری کو ایک متوازن پالیسی اختیار کرنا ہوگی جس میں تجارتی جہازوں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے اور کشیدگی کے بنیادی اسباب کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش بھی جاری رکھی جائے۔
خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی صورتحال نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگر ایک طرف آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی رسد متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہو اور دوسری جانب باب المندب بھی غیر محفوظ ہو جائے تو عالمی تجارت کیلئے ایک انتہائی سنگین صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتیں تیل، گیس اور دیگر توانائی کے ذرائع کی مسلسل فراہمی پر انحصار کرتی ہیں۔ ان دونوں اہم بحری راستوں میں بیک وقت عدم استحکام عالمی معیشت کیلئے ایک ایسا جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے جس کے اثرات کئی برس تک محسوس کیے جائیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق موجودہ حالات میں طاقت کے استعمال سے زیادہ اہمیت دانشمندانہ سفارت کاری کی ہے۔ عسکری طاقت کسی جہاز کو ایک مخصوص وقت کیلئے تحفظ فراہم کر سکتی ہے، لیکن مستقل امن اور محفوظ جہاز رانی کیلئے سیاسی مسئلے کا حل ضروری ہے۔ اگر مختلف فریق ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں تو ہر نئی کارروائی جوابی ردعمل کو جنم دے گی اور یوں کشیدگی کا دائرہ وسیع ہوتا چلا جائے گا۔ اس کے برعکس اگر علاقائی ممالک اور بڑی عالمی طاقتیں مذاکرات اور سفارتی رابطوں کو ترجیح دیں تو صورتحال کو قابو میں رکھنے کے امکانات زیادہ روشن ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں کے مطابق اس بحران میں تعمیری کردار ادا کرے۔ پاکستان کے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، جبکہ یمن سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی سفارتی روابط موجود ہیں۔ ان تعلقات کو کسی ایک فریق کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے امن، تجارت اور علاقائی استحکام کیلئے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر بھی اس اصول کی حمایت کر سکتا ہے کہ تجارتی جہازوں اور سمندری عملے کو کسی بھی تنازع میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
تین پاکستانی شہریوں کی شہادت کا واقعہ اس بحران کے انسانی پہلو کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ عالمی تجارت کے اعداد و شمار میں بحری جہازوں، کنٹینرز اور اربوں ڈالر کی تجارت کا ذکر ضرور ہوتا ہے، لیکن ان جہازوں پر کام کرنے والے انسان اکثر ہماری نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔ ملاح، عملہ اور مختلف ممالک کے شہری اپنی روزی کمانے کیلئے سمندر میں سفر کرتے ہیں۔ کسی بھی تنازع میں ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا انسانی اعتبار سے ناقابل قبول ہے۔ عالمی برادری کو بحری عملے کے تحفظ کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ عالمی تجارت کے تحفظ کے نام پر پیدا ہونے والی صورتحال کو مہنگائی کے نئے بحران کا سبب نہ بننے دیا جائے۔ اگر جہاز رانی کے اخراجات مسلسل بڑھتے ہیں تو اس کا اثر ترقی پذیر ممالک پر زیادہ پڑے گا۔ امیر ممالک کسی حد تک اضافی اخراجات برداشت کر سکتے ہیں، لیکن پاکستان جیسے ممالک جہاں عوام پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہوں، وہاں درآمدی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی گھریلو بجٹ کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے عالمی بحری سلامتی دراصل عالمی معاشی انصاف سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر متعلقہ عالمی ادارے بحیرہ احمر، خلیج عدن، باب المندب اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مؤثر سفارتی رابطوں کو آگے بڑھائیں۔ علاقائی ممالک کو بھی اپنے اختلافات کو وسیع تر جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کیلئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگر مختلف فریق یہ اصول تسلیم کر لیں کہ تجارتی جہاز رانی، انسانی جانوں اور عالمی سپلائی چین کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جائے گا تو بحران کو محدود کرنے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔
دنیا آج ایک دوسرے سے پہلے سے کہیں زیادہ معاشی طور پر جڑی ہوئی ہے۔ ایک خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی دوسرے خطے میں ایندھن کی قیمت، کسی تیسرے ملک میں صنعتی پیداوار اور کسی چوتھے ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی لیے بحیرہ? احمر کے بحران کو کسی ایک ملک یا خطے کا مسئلہ قرار دینا درست نہیں۔ یہ عالمی معیشت اور عالمی امن دونوں کیلئے ایک مشترکہ چیلنج ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب سمیت تمام اہم بحری گزرگاہوں کو تنازعات سے محفوظ رکھنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر سفارتی کوششیں کی جائیں۔ بحری اتحاد اگر قائم کیے جاتے ہیں تو ان کا مقصد تجارتی جہازوں کا تحفظ اور کشیدگی میں کمی ہونا چاہیے، نہ کہ کسی نئی محاذ آرائی کو جنم دینا۔ پاکستان نے اپنے سمندری مفادات اور تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ اب خطے کے دیگر ممالک اور عالمی طاقتوں کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
بحیرہ احمر میں پیدا ہونے والی صورتحال ایک واضح تنبیہ ہے کہ دنیا مزید کسی بڑے معاشی اور عسکری بحران کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اگر آج سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی تعاون کو ترجیح دی جاتی ہے تو کل ممکنہ طور پر ایک بڑے عالمی بحران سے بچا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر سمندری راستے مسلسل کشیدگی اور حملوں کی زد میں رہے تو اس کے اثرات صرف بحری جہازوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی منڈیوں، توانائی کی فراہمی، سپلائی چین اور کروڑوں انسانوں کی معاشی زندگی تک پہنچیں گے۔ اس لیے دانشمندی کا راستہ یہی ہے کہ بحیرہ احمر کو جنگ کا میدان بنانے کے بجائے امن، تجارت اور بین الاقوامی تعاون کا راستہ برقرار رکھا جائے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- بحیرہ احمر کا بحران اور عالمی تجارت کو درپیش خطرات
- پاکستان میں امن و استحکام کے لیے سیاسی برداشت اور قانون کی بالادستی ضروری
- لاہور،تھانے کی چار دیواری میں موت، قانون کی بالادستی کا امتحان
- پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، صنعتی خودکفالت کی جانب اہم پیش رفت
- نوجوانوں کے خوابوں کو قومی طاقت بنانے کی جانب اہم قدم
- 14 آگست اور ایک عام آدمی کی ٹاٹ کے سکول سے ورلڈ ریکارڈ تک کا سفر
- پاکستان میں قومی ترقی میں شراکت اور احتساب کا مضبوط نظام
- بہتر مستقبل کی تلاش، پاکستانی نوجوانوں کی عالمی منڈی میں پیش قدمی اور وطن کی ترقی کی نئی امید
- پاکستان میں معیشت سنبھلنے لگی، اب استحکام کو پائیدار بنانا ہوگا
- پاکستان میں ذہنی صحت۔قومی ترجیح اور مثبت معاشرے کی بنیاد