jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

سفید سونا:پاکستان کی بدلتی معاشی تقدیر

شاکرفانی

آج کی تیز رفتار ڈیجیٹل دنیا میں جہاں اسمارٹ فونز،لیپ ٹاپ اور الیکٹرک گاڑیاں ہماری زندگی کا اٹوٹ حصہ بن چکی ہیں ایک خاص معدنیات پسِ پردہ رہ کر اس پوری ٹیکنالوجی کو توانائی فراہم کر رہی ہے اور وہ ہے لیتھیئم کی معدنیات، جسے آج کی دنیا میں “سفید سونا” (White Gold) کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے،لیتھیئم صرف ایک دھات نہیں، بلکہ جدید ٹیکنالوجی کا وہ خاموش سپاہی ہے جس پر ہماری موجودہ اور مستقبل کی پوری توانائی کا ڈھانچہ کھڑا ہے

لیتھیئم ایک نرم، چاندی جیسی سفید دھات ہے جو دیگر تمام دھاتوں سے ہلکی اور بے حد فعال ہے اس کی منفرد خصوصیات خاص طور پر توانائی کو طویل عرصے تک ذخیرہ کرنے اور تیز رفتاری سے خارج کرنے کی صلاحیت نے اسے جدید بیٹری ٹیکنالوجی کے لیے ناگزیر بنا دیا ہے چاہے وہ ہاتھ میں پکڑا ہوا اسمارٹ فون ہو، گھروں میں استعمال ہونے والا انورٹر، یا سڑکوں پر دوڑتی ہوئی برقی کار، ہر جگہ لیتھیئم آئن بیٹریاں ہی توانائی کا بنیادی ذریعہ ہیں،

اس کی عالمی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا کا سکتا ہے کہ دنیا کے بڑے ممالک اور ملٹی نیشنل کمپنیاں لیتھیئم کے ذخائر حاصل کرنے کے لیے سرگرداں ہیں،اُسے “مستقبل کا ایندھن “سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ” فوسل فیولز (تیل اور گیس) پر انحصار کم کرنے اور کلین انرجی کی طرف بڑھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے جب دنیا الیکٹرک وہیکلز (EVs) کی طرف مائل ہو رہی ہے تو لیتھیئم کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،

عالمی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو آسٹریلیا، چلی، چین اور ارجنٹائن لیتھیئم کے سب سے بڑے پروڈیوسرز ہیں ان ممالک کے پاس اس قیمتی معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں جو نہ صرف ان کی معیشت کو مستحکم کر رہے ہیں بلکہ انہیں عالمی سیاست میں بھی ایک اہم مقام دلا رہے ہیں، لیتھیئم کی بڑھتی ہوئی مانگ نے عالمی منڈی میں اس کی قیمتوں میں بھی بھاری اضافہ کر دیا ہے،جس نے اسے سونا اور دیگر قیمتی دھاتوں سے بھی زیادہ اہم بنا دیا ہے

اس تناظر میں پاکستان کے لیے بھی ایک انتہائی خوش آئند خبر سامنے آئی ہے۔ پہلے خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں لیتھیئم کے ذخائر کی دریافت کی رپورٹس تھیں اور اب حالیہ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع خیرپور میں بھی لیتھیئم کے وسیع ذخائر کی دریافت ہوئی ہے یہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی معاشی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے، ماہرین کے مطابق ان ذخائر کی کھدائی اور اس کا موثر استعمال ملک کے لیے اہم معاشی فوائد لا سکتا ہے اگر صحیح منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ان ذخائر کو نکالا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی داخلی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ لیتھیئم کا ایک اہم برآمد کنندہ ملک بن کر بھاری غیر ملکی زرِ مبادلہ بھی کما سکتا ہے یہ دریافتیں ملکی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہیں

لیتھیئم کے استعمال صرف الیکٹرک وہیکلز تک محدود نہیں ہیں یہ ٹیکنالوجی موبائل فون، لیپ ٹاپ ڈیجیٹل کیمرے، پاور ٹولز اور حتیٰ کہ طبي آلات جیسے کہ پیس میکر (Pacemaker) میں بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے انورٹرز اور سولر انرجی اسٹوریج سسٹمز میں بھی لیتھیئم آئن بیٹریاں ہی سب سے اہم عنصر ہیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ لیتھیئم ہماری جدید زندگی کے ہر پہلو میں سما چکا ہے،

تاہم لیتھیئم کی کھدائی اور پروسیسنگ کے عمل کے کچھ منفی پہلو بھی ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے اس کے اخراج کا عمل پیچیدہ ہے اور اس کے لیے پانی کی بھاری مقدار درکار ہوتی ہے اگر مناسب انتظام نہ کیا جائے تو یہ ماحول اور پانی کے وسائل کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے اس لیے لیتھیئم کے ذخائر کی تلاش کے ساتھ ساتھ، اس کے نکالنے اور پروسیسنگ کے لیے ماحول دوست طریقے اپنانے کی ضرورت ہے،

اِس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ لیتھیئم آج کی ٹیکنالوجیکل ترقی کا ایک اہم ستون ہے اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور مانگ نے اسے دنیا کی اہم ترین دھاتوں میں شامل کر دیا ہے پاکستان کے لیے چترال اور اب خیرپور میں اس کے ذخائر کی دریافت ایک سنہری موقع ہے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مربوط حکمت عملی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ماحول دوست اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس “سفید سونے” کے ذریعے پاکستان کی معاشی خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے یہ نہ صرف پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالنے میں مدد دے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کا وقار بلند کرے گا…

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More