jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

سیاسی اختلاف سے مفاہمت تک

تجزیہ بی این پی
پاکستان کی سیاست میں اختلاف کوئی نئی بات نہیں۔ جمہوری نظام میں مختلف سیاسی جماعتوں کا اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہنا، حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنا، عوام کے سامنے متبادل پروگرام پیش کرنا اور انتخابات میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا جمہوریت کا بنیادی حسن ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سیاسی اختلاف ذاتی دشمنی، الزام تراشی، انتقام اور مستقل محاذ آرائی میں تبدیل ہو جائے۔ ایسی صورت میں اختلافِ رائے ایک صحت مند جمہوری عمل کے بجائے قومی انتشار کا سبب بننے لگتا ہے۔ موجودہ سیاسی حالات میں مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے یہ کہنا کہ سیاسی اختلاف کو کسی صورت ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہئے، اسی اعتبار سے ایک اہم، بروقت اور قابلِ غور پیغام ہے۔
نواز شریف نے مری میں آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج کے بعد پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے مخالفین سے ہمیشہ اچھا سلوک کیا ہے اور سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں اپنی جماعت کی کامیابی کو عوام کے اعتماد کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) نے عوام کے مسائل حل نہ کیے ہوتے اور کارکردگی نہ دکھائی ہوتی تو لوگ اسے کامیابی سے ہمکنار نہ کرتے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دی اور اس امر پر زور دیا کہ آزاد کشمیر کی ترقی کے لئے زیادہ سے زیادہ وسائل فراہم کیے جائیں، وہاں سڑکیں اور ہسپتال تعمیر ہوں اور نئی نسل کو جدید سہولتیں میسر آئیں۔ ان کا یہ کہنا بھی اہم ہے کہ آزاد کشمیر کا بچہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ ہو۔ اس ایک جملے میں دراصل نئی نسل کی بدلتی ہوئی ضروریات اور ترقی کے جدید تقاضوں کی پوری تصویر سامنے آ جاتی ہے۔
آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات غیر معمولی حالات میں ہوئے۔ انتخابی عمل مختلف مراحل میں مکمل کیا گیا جبکہ بعض حلقوں میں امن و امان کی صورتحال اور سکیورٹی خدشات کے باعث پولنگ ملتوی بھی ہوئی۔ بعض پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ ووٹنگ کرانا پڑی۔ اس کے باوجود انتخابی عمل کو آگے بڑھایا گیا اور بالآخر مسلم لیگ (ن) نے سادہ اکثریت حاصل کرتے ہوئے حکومت سازی کا اعلان کیا۔ اس کامیابی نے نہ صرف پارٹی کارکنوں میں نیا جوش پیدا کیا بلکہ نواز شریف کی سیاسی سرگرمیوں میں بھی دوبارہ نمایاں اضافہ دکھائی دیا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے نسبتاً کم سیاسی سرگرمیوں کے بعد ان کا دوبارہ متحرک ہونا اس امر کی علامت سمجھا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آنے والے سیاسی مرحلے میں اپنی جماعتی اور حکومتی سیاست کو مزید منظم انداز میں آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
آزاد کشمیر کی صورتحال محض ایک انتخابی کامیابی یا حکومت سازی تک محدود نہیں ہونی چاہئے۔ وہاں کے عوام کو روزگار، صحت، تعلیم، سڑکوں، مواصلات، سیاحت اور جدید ٹیکنالوجی سمیت بنیادی سہولتوں کی ضرورت ہے۔ اگر انتخابات کے بعد سیاسی قیادت واقعی عوام کے اعتماد کو مضبوط بنانا چاہتی ہے تو اسے انتخابی نعروں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ نواز شریف کی جانب سے آزاد کشمیر کو زیادہ فنڈز دینے، سڑکیں اور ہسپتال بنانے اور نوجوانوں کو جدید سہولتیں فراہم کرنے پر زور اسی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ انتخابات میں کامیابی یقیناً سیاسی جماعت کے لئے اہم ہوتی ہے، لیکن اصل امتحان حکومت سنبھالنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے جس جماعت کو اختیار دیتے ہیں، اس سے کارکردگی اور خدمت کی توقع رکھتے ہیں۔
یہی اصول قومی سیاست پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ ملک کے معاشی، داخلی اور انتظامی مسائل اس امر کے متقاضی ہیں کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو مکمل طور پر دشمن سمجھنے کے بجائے اختلاف کے باوجود مکالمے کا راستہ کھلا رکھیں۔ حکومت اور اپوزیشن کا وجود جمہوریت کے لئے لازم ہے، لیکن حکومت اور اپوزیشن کا مطلب ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنا نہیں۔ پارلیمنٹ میں اختلاف ہونا چاہئے، بحث ہونی چاہئے، حکومت سے سوال پوچھے جانے چاہئیں اور اپوزیشن کو تنقید کا حق ملنا چاہئے، لیکن اس پورے عمل میں قومی مفاد، پارلیمانی روایات اور سیاسی شائستگی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی مقابلہ بھی نمایاں رہا۔ دونوں جماعتوں کی قیادت نے بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد بعض مواقع پر تلخ بیانات اور تند و تیز سیاسی گفتگو نے اتحادی جماعتوں کے باہمی تعلقات کے حوالے سے سوالات بھی پیدا کیے۔ تاہم سیاسی کشیدگی کو مستقل تنازع بننے سے روکنا سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے۔ انتخابات میں ایک جماعت جیتتی ہے اور دوسری کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ آج کا فاتح کل شکست سے دوچار ہو سکتا ہے اور آج کا مخالف کل عوامی حمایت حاصل کر سکتا ہے۔ اس لئے انتخابی نتائج کو سیاسی دشمنی کا مستقل عنوان بنانا کسی بھی جماعت کے مفاد میں نہیں۔
نواز شریف کا یہ کہنا کہ انہیں پیپلز پارٹی کی طرف سے شکایت کا موقع ملنے کی توقع نہیں تھی، دراصل موجودہ سیاسی تعلقات کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی وفاقی سطح پر سیاسی تعاون کے مختلف مراحل سے گزرتی رہی ہیں۔ ایسے میں باہمی اختلافات کا سامنے آنا غیر معمولی نہیں، لیکن یہ ضرور ضروری ہے کہ اختلافات اس حد تک نہ بڑھیں کہ سیاسی تعاون کے دروازے بند ہو جائیں۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کو بات چیت، مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ ایک ذمہ دار سیاسی قیادت کا امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ کشیدگی کے وقت درجہ حرارت کم کرے، نہ کہ اسے مزید بڑھائے۔
بی این پی کے مطابق نواز شریف کا موجودہ بیان محض ایک سیاسی ردعمل نہیں بلکہ پاکستانی سیاست کے ایک بنیادی مسئلے کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں سیاسی اختلافات نے جس شدت کی شکل اختیار کی، اس کے اثرات سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ریاستی اداروں، پارلیمانی ماحول اور معاشرتی رویوں تک بھی پہنچے۔ سیاسی کارکن ایک دوسرے کے مخالف ہونے کے بجائے بعض اوقات ایک دوسرے کے دشمن دکھائی دینے لگے۔ سوشل میڈیا پر سیاسی اختلاف ذاتی حملوں میں بدل گیا اور سیاسی گفتگو میں برداشت کی جگہ غصے نے لے لی۔ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو جمہوری نظام کی بنیادی روح متاثر ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے مواقع بھی موجود ہیں جب شدید اختلاف رکھنے والی جماعتوں نے قومی مفاد کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ میثاقِ جمہوریت اس کی نمایاں مثال ہے۔ اس معاہدے نے یہ تصور مضبوط کیا کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی حریف ضرور ہو سکتی ہیں لیکن ریاست اور جمہوریت کے بنیادی مفادات پر مشترکہ سوچ پیدا کر سکتی ہیں۔ سیاسی اختلاف ختم کرنا ضروری نہیں، بلکہ اختلاف کو مہذب اور آئینی دائرے میں رکھنا ضروری ہے۔ اختلاف باقی رہ سکتا ہے، لیکن دشمنی ختم کی جا سکتی ہے۔نواز شریف کی طویل سیاسی زندگی میں بھی ایسے کئی ادوار آئے جب انہیں شدید سیاسی مخالفت، اقتدار سے محرومی، جلاوطنی، مقدمات اور سیاسی تصادم کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے پاکستانی سیاست کے عروج و زوال دونوں دیکھے ہیں۔ اس تجربے کی بنیاد پر اگر وہ آج مفاہمت، برداشت اور سیاسی رواداری کی بات کرتے ہیں تو اسے وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک تجربہ کار سیاستدان یہ جانتا ہے کہ سیاسی طاقت مستقل نہیں ہوتی۔ حالات بدلتے ہیں، حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں، عوام کے رجحانات تبدیل ہوتے ہیں اور کل کا مخالف آج کا اتحادی بھی بن سکتا ہے۔ اس لئے سیاست میں مستقل دشمنی کی گنجائش کم اور مستقل قومی مفاد کی اہمیت زیادہ ہونی چاہئے۔
تاہم مفاہمت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ سیاسی جماعتیں اپنے اصولی مؤقف سے دستبردار ہو جائیں۔ جمہوری مفاہمت دراصل اختلاف کے باوجود بات چیت کا نام ہے۔ اگر حکومت کوئی غلط فیصلہ کرے تو اپوزیشن کو اس پر تنقید کا حق ہونا چاہئے۔ اگر اپوزیشن کوئی غیر مناسب مطالبہ کرے تو حکومت کو اسے مسترد کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن دونوں کے درمیان رابطے کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہئے۔ پارلیمنٹ اسی لئے قائم کی جاتی ہے کہ مختلف نقطہ ہائے نظر ایک ہی فورم پر سامنے آئیں اور قانون سازی اور قومی معاملات پر بحث کے ذریعے راستہ نکالا جائے۔
آج پاکستان کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جس میں حکومت اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دے اور اپوزیشن موثر مگر ذمہ دارانہ نگرانی کا کردار ادا کرے۔ اگر سیاسی جماعتیں ہر معاملے کو انا کا مسئلہ بنا لیں گی تو عوامی مسائل پس منظر میں چلے جائیں گے۔ مہنگائی، روزگار، تعلیم، صحت، توانائی، زراعت، صنعت، برآمدات اور نوجوانوں کے مستقبل جیسے مسائل کسی ایک جماعت کے نہیں بلکہ پورے ملک کے مسائل ہیں۔ ان کے حل کے لئے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ مسلسل سیاسی محاذ آرائی سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمی، حکومتی فیصلوں اور عوام کے اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔
نواز شریف نے شہباز شریف کی حکومت کے حوالے سے بھی کہا کہ جب شہباز شریف نے حکومت سنبھالی تو ملکی حالات خراب تھے، تاہم اب ملک بہتری کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے پنجاب میں ترقی کی بنیاد شہباز شریف سے منسوب کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز اس سلسلے کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے بیانات اپنی جگہ، لیکن حکومت کی اصل کامیابی کا پیمانہ عوامی زندگی میں آنے والی بہتری ہے۔ سڑکیں، ہسپتال، تعلیمی ادارے، روزگار، صنعتی ترقی اور جدید سہولتیں اسی وقت معنی رکھتی ہیں جب عام آدمی کو ان کے فوائد محسوس ہوں۔ عوام صرف دعوے نہیں بلکہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔
آزاد کشمیر کے عوام بھی اسی معیار پر اپنی نئی حکومت کو جانچیں گے۔ وہاں کے عوام کے مسائل اپنی نوعیت کے اعتبار سے اہم ہیں۔ دور دراز علاقوں تک سڑکوں کی تعمیر، صحت کی سہولتوں کی فراہمی، تعلیمی اداروں کی بہتری، نوجوانوں کے لئے روزگار، سیاحت کے فروغ اور ڈیجیٹل سہولتوں کی فراہمی ایسے شعبے ہیں جہاں فوری اور مستقل توجہ درکار ہے۔ اگر نئی حکومت واقعی عوامی اعتماد کو مضبوط بنانا چاہتی ہے تو اسے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ترقیاتی ایجنڈے کو ترجیح دینا ہوگی۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق سیاسی مفاہمت کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ اس سے قومی توانائی غیر ضروری محاذ آرائی کے بجائے تعمیر و ترقی کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انتخابات پانچ سالہ حکومت بنانے کا ذریعہ ضرور ہیں، مگر ریاست اور قوم کا سفر اس سے کہیں طویل ہے۔ آج جو جماعت اقتدار میں ہے، اسے کل اپوزیشن میں بیٹھنا پڑ سکتا ہے، اور آج جو جماعت اپوزیشن میں ہے، وہ کل حکومت میں آ سکتی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اس حقیقت کو تسلیم کر لیں تو سیاسی زبان میں بھی شائستگی آئے گی اور باہمی تعلقات میں بھی بہتری پیدا ہوگی۔
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی قیادت ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر مستقبل کی طرف دیکھے۔ اختلاف رائے کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے ختم کرنا جمہوریت کے لئے مفید ہے۔ لیکن اختلاف کو دلیل، مکالمے اور آئینی حدود کے اندر رکھا جا سکتا ہے۔ سیاسی مخالف کو دشمن سمجھنے کے بجائے اسے ایک ایسے حریف کے طور پر دیکھا جانا چاہئے جس کا مؤقف مختلف ہے مگر جسے سیاسی عمل میں برابر کا حق حاصل ہے۔ یہی سوچ جمہوریت کو مضبوط کرتی ہے۔
نواز شریف کی مفاہمت کی بات اسی لئے اہم ہے کہ اس میں موجودہ سیاسی ماحول کے لئے ایک واضح سبق موجود ہے۔ سیاسی اختلاف رہے، مقابلہ بھی ہو، حکومت پر تنقید بھی ہو اور انتخابات میں بھرپور مقابلہ بھی کیا جائے، لیکن قومی مفاد کی لکیر عبور نہ ہو۔ سیاسی جماعتوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ اقتدار حاصل کرنا ان کا مقصد ہو سکتا ہے مگر اقتدار ہی سب کچھ نہیں۔ ریاست کی مضبوطی، جمہوری تسلسل، معاشی استحکام اور عوام کی خوش حالی اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔
پاکستان کو آج ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو اختلاف کو برداشت کرے، مخالف کی بات سنے اور قومی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ اگر بڑی سیاسی جماعتیں اپنے باہمی اختلافات کے باوجود کم از کم ان بنیادی امور پر اتفاق کر لیں جو ریاست کے مستقبل سے وابستہ ہیں تو ملک کے سیاسی ماحول میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ سیاسی مفاہمت کسی ایک جماعت کی فتح یا کسی دوسری جماعت کی شکست نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام کی کامیابی ہے۔
آخرکار سیاست میں کامیابی صرف انتخابات جیتنے کا نام نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ سیاسی قیادت عوام کے اعتماد کو ترقی، امن، روزگار اور بہتر حکمرانی میں تبدیل کرے۔ آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کو جو سیاسی موقع ملا ہے، اس کے ساتھ بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی مقابلہ جمہوریت کا حصہ ہے، مگر مستقل محاذ آرائی جمہوریت کو کمزور کرتی ہے۔
مفاہمت کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن یہی راستہ قوموں کو آگے لے جاتا ہے۔ اختلاف کو دشمنی بننے سے روکنا، مخالف کو برداشت کرنا، مکالمے کا دروازہ کھلا رکھنا اور قومی مفاد کو جماعتی مفاد پر ترجیح دینا ہی پائیدار سیاسی استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اگر ملک کی بڑی سیاسی قیادت اس سوچ کو عملی سیاست کا حصہ بنا لے تو پاکستان نہ صرف موجودہ سیاسی کشیدگی سے نکل سکتا ہے بلکہ ایک ایسے جمہوری ماحول کی طرف بھی بڑھ سکتا ہے جہاں حکومتیں تبدیل ہوں، سیاسی جماعتیں مقابلہ کریں، اختلافات بھی ہوں، مگر ریاست اور عوام کا مفاد ہر سیاسی تنازع سے بالاتر رہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More