تجزیہ بی این پی
افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے پانچ برس مکمل ہونے کے بعد ملک کی مجموعی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو ایک پیچیدہ اور تشویشناک منظرنامہ سامنے آتا ہے۔ جنگ کے طویل دور سے نکلنے کے باوجود افغان عوام آج بھی غربت، بے روزگاری، غذائی قلت، بنیادی سہولیات کی کمی اور انسانی حقوق سے متعلق سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کی رپورٹس اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ افغانستان میں انسانی بحران بدستور موجود ہے اور خصوصاً خواتین، بچیوں اور بچوں کی صورتِ حال خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔
افغانستان کا مسئلہ صرف سیاسی اقتدار کی تبدیلی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پورے معاشرے کے مستقبل کا سوال ہے۔ کسی بھی ملک میں دیرپا امن اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب عام شہری خود کو محفوظ محسوس کریں، انہیں تعلیم اور روزگار کے مواقع میسر ہوں، صحت کی بنیادی سہولیات دستیاب ہوں اور ان کی عزت و وقار کو تحفظ حاصل ہو۔ اگر امن کے ساتھ انسانی ترقی کا سفر شروع نہ ہو تو سیاسی استحکام بھی دیرپا نتائج پیدا نہیں کرسکتا۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد خواتین اور بچیوں پر عائد مختلف پابندیاں عالمی سطح پر مسلسل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ? خواتین کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کے حوالے سے سو سے زائد احکامات اور ہدایات جاری کی گئیں، جن کے نتیجے میں خواتین کی تعلیم، ملازمت اور معاشرتی سرگرمیوں میں شرکت محدود ہوئی ہے۔ یہ صورتحال محض خواتین کے موجودہ حقوق کا مسئلہ نہیں بلکہ افغانستان کے مستقبل کے انسانی وسائل کا معاملہ بھی ہے۔
ایک ملک کی نصف آبادی کو اگر تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع سے دور رکھا جائے تو اس کے اثرات پوری قومی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ خواتین اگر ڈاکٹر، استاد، نرس، انجینئر، محقق یا کاروباری شخصیت بننے کے مواقع سے محروم ہوجائیں تو نقصان صرف انفرادی سطح پر نہیں ہوتا بلکہ ملک اپنی ایک بڑی افرادی قوت کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔ افغانستان جیسے ملک کے لیے، جو پہلے ہی ماہر افرادی قوت کی کمی کا شکار ہے، یہ مسئلہ مزید سنگین اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** افغانستان کو اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے اپنے تمام انسانی وسائل کو بروئے کار لانا ہوگا۔ خواتین اور بچیوں کو تعلیم اور روزگار سے دور رکھ کر ایک مضبوط معیشت کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔ معاشی ترقی کسی ایک طبقے کی شرکت سے نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی صلاحیت سے وجود میں آتی ہے۔ اگر افغانستان واقعی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتا ہے تو اسے تعلیم یافتہ، ہنرمند اور صحت مند افرادی قوت کی ضرورت ہوگی، اور اس مقصد کے لیے خواتین کی صلاحیتوں کو نظر انداز کرنا کسی صورت دانش مندانہ پالیسی نہیں ہوسکتی۔
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیادی اینٹ ہے۔ افغانستان میں بچیوں کی تعلیم کے محدود ہونے کے اثرات آنے والے برسوں میں مزید نمایاں ہوسکتے ہیں۔ آج جو بچی تعلیم سے محروم ہوگی، وہ کل ایک ماہر استاد، ڈاکٹر، سائنس دان یا کسی دوسرے شعبے کی ماہر بننے سے محروم ہوسکتی ہے۔ یوں ایک فرد کا تعلیمی نقصان مستقبل میں پورے معاشرے کے لیے افرادی قوت کے نقصان میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ موجودہ پابندیاں برقرار رہنے کی صورت میں 2030 تک افغانستان میں خواتین اساتذہ اور طبی شعبے سے وابستہ کارکنوں کی تعداد میں پچیس ہزار سے زائد کی کمی ہوسکتی ہے۔ یہ اعداد و شمار افغانستان کے پہلے سے کمزور تعلیم اور صحت کے نظام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر خواتین اساتذہ اور طبی کارکنوں کی تعداد کم ہوتی گئی تو اس کا براہِ راست اثر بچوں اور خواتین سمیت عام شہریوں کی بنیادی سہولیات تک رسائی پر پڑے گا۔
افغانستان کا صحت کا نظام پہلے ہی محدود وسائل اور ماہر افرادی قوت کی کمی کا شکار ہے۔ ایسے میں خواتین طبی کارکنوں کی کمی ایک اضافی مشکل پیدا کرسکتی ہے۔ بہت سے معاشروں میں خواتین مریضوں کے علاج کے لیے خواتین ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یہ شعبہ کمزور ہوتا ہے تو خواتین کے لیے علاج معالجے تک رسائی مزید مشکل ہوسکتی ہے۔ اس لیے خواتین کو صحت کے شعبے سے الگ کرنا دراصل پورے معاشرے کے صحت کے نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔
افغانستان کا دوسرا بڑا بحران غذائی قلت ہے، جو ملک کے مستقبل کے لیے نہایت خطرناک صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ عالمی ادارہ? خوراک کے مطابق افغانستان میں لاکھوں افراد خوراک کے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔ تقریباً سینتیس لاکھ بچے اور بارہ لاکھ سے زائد حاملہ خواتین شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی بھی حساس معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہونے چاہئیں۔
بچوں میں غذائی قلت کے اثرات صرف بھوک تک محدود نہیں رہتے۔ مناسب غذا کی عدم دستیابی ان کی جسمانی نشوونما، ذہنی صلاحیت اور مستقبل کی تعلیمی کارکردگی کو متاثر کرسکتی ہے۔ ایک ایسا بچہ جو زندگی کے ابتدائی برسوں میں مناسب خوراک سے محروم رہتا ہے، اس کے لیے صحت مند اور فعال زندگی گزارنا مشکل ہوسکتا ہے۔ یوں آج کی غذائی قلت کل کی کمزور افرادی قوت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
حاملہ خواتین کی غذائی ضروریات پوری نہ ہونا بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ایک صحت مند ماں ہی صحت مند نسل کو جنم دے سکتی ہے۔ اگر حاملہ خواتین مناسب خوراک اور طبی سہولیات سے محروم رہیں تو آنے والی نسل کی صحت متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے افغانستان میں غذائی بحران کو محض موجودہ انسانی ضرورت نہیں بلکہ مستقبل کی قومی سلامتی اور انسانی ترقی کا مسئلہ سمجھنا چاہیے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق** افغانستان میں غذائی بحران کا مستقل حل صرف ہنگامی امداد کی فراہمی سے ممکن نہیں۔ فوری طور پر خوراک اور طبی امداد پہنچانا ناگزیر ہے، لیکن اس کے ساتھ زرعی شعبے کی بحالی، روزگار کے مواقع میں اضافہ، چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی، مقامی پیداوار میں اضافہ اور بنیادی معاشی ڈھانچے کی مضبوطی بھی ضروری ہے۔ اگر افغان شہری اپنے خاندانوں کے لیے مستقل آمدنی حاصل کرنے کے قابل ہوجائیں تو بیرونی امداد پر انحصار بتدریج کم کیا جاسکتا ہے۔
افغانستان کی معیشت کو مضبوط بنانے میں خطے کے ممالک بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ افغانستان جغرافیائی اعتبار سے ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تجارت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اگر ملک میں امن و استحکام برقرار رہتا ہے اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جاتا ہے تو افغانستان علاقائی تجارت اور رابطے کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔
اس مقصد کے لیے سڑکوں، ریلوے، بجلی، مواصلات اور سرحدی تجارت کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ افغانستان کی زرعی پیداوار، معدنی وسائل اور دیگر معاشی امکانات کو بھی منظم اور شفاف طریقے سے بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہوگا جب ملک میں انسانی وسائل بھی موجود ہوں اور نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
افغانستان میں انسانی بحران کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کئی برس کی جنگ اور بدامنی نے معاشرے کے اندر گہرے زخم چھوڑے ہیں۔ بڑی تعداد میں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے، لاکھوں افراد نے غربت کا سامنا کیا اور کئی نسلوں نے معمول کی زندگی کے بجائے تنازع اور عدم استحکام دیکھا۔ اب اگر ملک میں نسبتاً امن کا موقع پیدا ہوا ہے تو اس موقع کو انسانی ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
امن صرف بندوقوں کی خاموشی کا نام نہیں۔ حقیقی امن وہ ہے جس میں ایک بچے کو اسکول جانے کا حق حاصل ہو، ایک نوجوان کو روزگار کی امید ہو، ایک ماں کو اپنے بچے کے علاج کی سہولت میسر ہو اور ایک خاندان کو دو وقت کی مناسب خوراک کے لیے پریشان نہ ہونا پڑے۔ اگر یہ بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں تو خاموشی کو مکمل امن قرار دینا مشکل ہوگا۔
عالمی برادری کی ذمہ داری بھی اسی تناظر میں اہم ہوجاتی ہے۔ افغانستان کو انسانی بحران کے دوران تنہا چھوڑ دینا مسئلے کا حل نہیں۔ سیاسی اختلافات اور سفارتی معاملات اپنی جگہ اہم ہوسکتے ہیں، لیکن بچوں کی خوراک، خواتین کی صحت، تعلیم، بنیادی طبی سہولیات اور انسانی امداد جیسے معاملات کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھنا چاہیے۔ افغان عوام نے کئی دہائیوں تک جنگ اور عدم استحکام کی قیمت ادا کی ہے اور انہیں مزید انسانی مشکلات میں چھوڑنا کسی کے مفاد میں نہیں۔اس کے ساتھ افغان حکام کی ذمہ داریاں بھی واضح ہیں۔ ایک ریاست کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں کی جان، عزت، صحت اور مستقبل کا تحفظ ہے۔ خواتین اور بچیوں کی تعلیم، صحت اور معاشی سرگرمیوں میں شرکت کے حوالے سے ایسی پالیسیاں اختیار کرنا ضروری ہے جو افغانستان کو ترقی کی طرف لے جائیں۔ اسی طرح بچوں کو غذائی قلت سے بچانا اور صحت کے نظام کو مضبوط بنانا ریاستی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
افغانستان کے لیے ابھی بھی امید کے دروازے کھلے ہیں۔ ملک کے پاس نوجوان آبادی، زرعی امکانات، قدرتی وسائل اور اہم جغرافیائی محل وقوع موجود ہے۔ اگر ان وسائل کو انسانی ترقی کے ساتھ مربوط کیا جائے تو افغانستان بتدریج اپنی مشکلات سے نکل سکتا ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان، ہنرمند خواتین، تربیت یافتہ طبی کارکن، بہتر زرعی پیداوار اور علاقائی تجارت افغانستان کو ایک مختلف سمت میں لے جاسکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانستان کے مستقبل کو صرف سیاسی اور سلامتی کے زاویے سے نہ دیکھا جائے۔ افغانستان ایک ملک ہے جہاں کروڑوں انسان رہتے ہیں، جن کی اپنی خواہشات، خواب اور مستقبل کی امیدیں ہیں۔ بچوں کو بہتر زندگی، نوجوانوں کو روزگار اور خواتین کو تعلیم و صحت کے مواقع فراہم کرنا کسی بیرونی ایجنڈے کا حصہ نہیں بلکہ ایک مہذب اور مستحکم معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** افغانستان کی پائیدار ترقی کا راستہ انسانی صلاحیتوں کو محدود کرنے سے نہیں بلکہ انہیں بروئے کار لانے سے نکلے گا۔ اگر ملک میں خواتین کو تعلیم اور روزگار کے مواقع، بچوں کو مناسب خوراک، نوجوانوں کو ہنر اور روزگار، اور عام شہریوں کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کردی جائیں تو افغانستان کی معاشی اور سماجی بحالی کی بنیاد مضبوط ہوسکتی ہے۔ انسانی بحران کو مستقل بحران بننے سے روکنے کے لیے فوری امداد کے ساتھ طویل المدت منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔
طالبان کے اقتدار کے پانچ برس افغانستان کے لیے ایک اہم تاریخی مرحلہ ہیں۔ اس عرصے سے یہ سبق اخذ کیا جاسکتا ہے کہ سیاسی اقتدار کا استحکام اپنی جگہ، لیکن ریاست کی اصل کامیابی اس وقت ثابت ہوتی ہے جب عام شہری کی زندگی بہتر ہو۔ ایک مضبوط افغانستان وہی ہوگا جہاں امن کے ساتھ تعلیم، صحت، روزگار، خوراک اور انسانی وقار بھی محفوظ ہوں۔افغانستان کو مستقبل میں ایک ایسے راستے کا انتخاب کرنا ہوگا جو اسے تنہائی، غربت اور انسانی بحران سے نکال کر ترقی، استحکام اور علاقائی تعاون کی طرف لے جائے۔ اس راستے میں عالمی اداروں کی امداد، خطے کے ممالک کا تعاون اور افغان حکام کی ذمہ دارانہ پالیسی تینوں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
افغان عوام نے بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ اب وقت ہے کہ ان کے مستقبل کو ماضی کے زخموں کے بجائے ترقی کی امید سے جوڑا جائے۔ افغانستان کے بچوں کے ہاتھ میں کتاب، نوجوانوں کے ہاتھ میں ہنر اور روزگار، خواتین کے لیے تعلیم و صحت کے مواقع اور خاندانوں کے لیے مناسب خوراک وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک مستحکم افغانستان تعمیر ہوسکتا ہے۔
آخرکار افغانستان کا مستقبل اس بات سے طے ہوگا کہ وہاں کے عوام کو اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کے کتنے مواقع ملتے ہیں۔ اگر انسانی حقوق، تعلیم، صحت اور معاشی ترقی کو قومی ترجیحات بنایا جائے تو افغانستان نہ صرف موجودہ انسانی بحران سے نکل سکتا ہے بلکہ خطے میں امن، تجارت اور معاشی رابطے کا ایک اہم مرکز بھی بن سکتا ہے۔ یہی وہ مثبت راستہ ہے جس پر چل کر افغانستان اپنے ماضی کے بحرانوں سے نکل کر ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭