واشنگٹن(اے ایف بی)سابق امریکی سفیر جوئی ہڈ نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے ساتھ فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے رہی ہے، امریکی پابندیاں ایران کو اچانک اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کریں گی۔
عرب میڈیا کو دئیے گئے انٹرویو میں جوئی ہڈ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی حملوں کی حدود کو واضح طور پر سمجھ لیا ہے لیکن ایران کے رویے میں تبدیلی کیلئے صرف اقتصادی پابندیاں کافی نہیں ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ 2015 کے جوہری معاہدے کے لیے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں تقریبا 2 سال کی پابندیوں کا وقت لگا تھا۔
سابق امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِحال میں چین اور روس مکمل طور پر امریکا کے موقف کے ساتھ نہیں ہیں جس کے باعث ایران پر دباؤ ڈالنے کی امریکی حکمتِ عملی پہلے جیسا نتیجہ نہیں دے سکتی۔
جوئی ہڈ نے کہا ایران یہ بھی جانتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد ایرانی حکومت کی تبدیلی ہے، اس لیے موجودہ حالات میں ایران کا امریکا کے ساتھ آسانی سے مذاکرات کی جانب آنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔