Welcome to jahan-e-imroz   Click to listen highlighted text! Welcome to jahan-e-imroz
jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

سعودی عرب کو تین ارب ڈالر کی زرعی برآمدات، خواب سے حقیقت تک کا سفر

تجزیہ بی این پی
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی روابط یا رسمی خیرسگالی تک محدود نہیں بلکہ تاریخ، مذہب، معیشت، دفاع اور عوامی سطح پر گہری وابستگیوں پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں سے قائم برادرانہ تعلقات نے وقت کے ساتھ ساتھ ایک وسیع تر سٹرٹیجک شراکت داری کی شکل اختیار کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زرعی اور غذائی تجارت کو آئندہ دو برس میں تین ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف سامنے آتا ہے تو اسے محض ایک تجارتی اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ پاکستان کی زرعی معیشت، برآمدی صلاحیت، دیہی روزگار اور مجموعی معاشی استحکام کے لیے ایک اہم موقع بن سکتا ہے، بشرطیکہ اس مرتبہ اعلانات عملی منصوبوں میں تبدیل ہوں۔
حالیہ مذاکرات میں چاول، گوشت، پھل، سبز چارہ اور پانی کے مؤثر استعمال پر مبنی زرعی ٹیکنالوجیز کو ترجیحی شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی زرعی و غذائی مصنوعات کی درآمد بڑھانے میں دلچسپی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کے پاس ایک بڑی اور قابلِ قدر منڈی تک رسائی بڑھانے کا حقیقی امکان موجود ہے۔ سعودی عرب اپنی غذائی ضروریات کے ایک بڑے حصے کے لیے بیرونی ذرائع پر انحصار کرتا ہے، جبکہ پاکستان زرعی پیداوار، افرادی قوت، زمین اور مختلف النوع فصلوں کے اعتبار سے نمایاں صلاحیت رکھتا ہے۔ مسئلہ صلاحیت کی کمی سے زیادہ اس صلاحیت کو منظم، معیاری اور مسابقتی برآمدی نظام میں تبدیل کرنے کا ہے۔
اعدادوشمار اس امکان کو مزید واضح کرتے ہیں۔ پاکستان نے 2025ء میں سعودی عرب کی منڈی کو تقریباً ایک لاکھ انہتر ہزار ٹن چاول فراہم کیے جن کی مالیت تقریباً 163 ملین ڈالر رہی۔ اگر چاول کی برآمدی مقدار اور ویلیو چین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تو اس شعبے میں مزید وسعت کی خاصی گنجائش موجود ہے۔ سعودی فریق نے بھی چاول کی دوطرفہ تجارت بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو صرف خام زرعی پیداوار کی فروخت تک محدود رہنے کے بجائے معیاری پیکنگ، برانڈنگ، پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کی طرف بھی بڑھنا ہوگا تاکہ ایک ہی مقدار کی پیداوار سے زیادہ زرمبادلہ حاصل کیا جا سکے۔
گوشت کا شعبہ بھی پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے سالانہ تقریباً 30 ہزار ٹن گوشت، جس کی مالیت تقریباً 167 ملین ڈالر بتائی گئی ہے، سعودی عرب کو فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ سعودی فریق نے پاکستانی گوشت کی درآمد کو بتدریج دوگنا کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ پاکستان کے پاس مویشیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، لیکن گوشت کی عالمی منڈی میں اس کا حصہ اس کی حقیقی استعداد کے مقابلے میں محدود ہے۔ حلال گوشت کی عالمی مانگ بڑھ رہی ہے اور سعودی عرب اس شعبے میں ایک اہم منڈی ہے۔ اگر پاکستان جانوروں کی صحت، ذبح کے جدید نظام، کولڈ چین، حفظانِ صحت کے اصولوں، سرٹیفکیشن اور برآمدی معیار کو یقینی بنا لے تو گوشت کی برآمد میں خاطرخواہ اضافہ ممکن ہے۔
پھلوں کے شعبے میں بھی امکانات کم نہیں۔ پاکستان آم، کینو، کھجور، امرود اور دیگر پھلوں کی پیداوار میں نمایاں مقام رکھتا ہے، مگر عالمی منڈی میں کامیابی صرف اچھی فصل پیدا کرنے سے حاصل نہیں ہوتی۔ جدید دنیا میں صارف معیار، یکساں سائز، محفوظ پیکنگ، ٹریس ایبلٹی، بروقت ترسیل اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن کو بھی بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں دور کرنا ہوگا۔ اگر پھلوں کی برآمد کو محض موسمی سرگرمی کے بجائے مستقل اور منظم کاروبار بنایا جائے تو سعودی منڈی پاکستان کے لیے ایک مضبوط اور دیرپا ذریعہ آمدن بن سکتی ہے۔
سبز چارہ بھی بظاہر ایک محدود شعبہ دکھائی دیتا ہے لیکن اس میں طویل المدتی تجارتی شراکت داری کے امکانات موجود ہیں۔ سعودی وفد نے اسے تجارت کی توسیع کے لیے امید افزا شعبہ قرار دیا ہے۔ پاکستان اگر چارے کی معیاری اقسام، خشک چارے، محفوظ پیکنگ اور باقاعدہ سپلائی چین کے ذریعے اس منڈی میں قدم مضبوط کرتا ہے تو یہ شعبہ بھی زرعی برآمدات کے مجموعی حجم میں قابلِ ذکر اضافہ کر سکتا ہے۔
اس تعاون کا ایک اور اہم پہلو پانی کے مؤثر استعمال پر مبنی زرعی ٹیکنالوجی ہے۔ پاکستان خود پانی کی قلت، آبپاشی کے فرسودہ طریقوں اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ پنجاب کے ضلع بھکر میں پانی کے مؤثر استعمال پر مبنی آبپاشی پروگرام کے پہلے مرحلے کی کامیابی اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے دوسرے مرحلے میں دلچسپی اس امر کی علامت ہے کہ پاک سعودی تعاون صرف اشیا کی خرید و فروخت تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ جدید زرعی ٹیکنالوجی اور تجربات کے تبادلے تک بھی پھیلنا چاہیے۔ اگر کم پانی سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے طریقے پاکستانی کاشتکار تک پہنچائے جائیں تو اس کا فائدہ برآمدات کے ساتھ ساتھ ملک کی غذائی سلامتی کو بھی ہوگا۔
تاہم تین ارب ڈالر کا ہدف اپنے اندر ایک بڑا چیلنج بھی رکھتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے کئی مواقع گزر چکے ہیں جب بڑے سرمایہ کاری منصوبوں، مفاہمتی یادداشتوں اور تجارتی معاہدوں کا اعلان تو پورے جوش و خروش سے ہوا مگر عملی سطح پر مطلوبہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ فروری 2019ئ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے موقع پر تقریباً 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلانات ہوئے تھے۔ ان میں گوادر میں تقریباً دس ارب ڈالر مالیت کی آئل ریفائنری کا منصوبہ بھی شامل تھا، مگر برسوں گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ تین ارب ڈالر کے ہدف کے بارے میں خوش فہمی کے بجائے حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق اصل کامیابی کسی معاہدے، مشترکہ اعلامیے یا مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے میں نہیں بلکہ اس وقت ہوگی جب پاکستانی مصنوعات سعودی منڈی میں مستقل بنیادوں پر پہنچیں، برآمد کنندگان کو بروقت ادائیگیاں ملیں، کاشتکار کو اپنی پیداوار کی بہتر قیمت حاصل ہو اور قومی خزانے میں حقیقی زرمبادلہ آئے۔ تین ارب ڈالر کا ہدف ایک مضبوط سمت ضرور فراہم کرتا ہے، لیکن اسے حاصل کرنے کے لیے حکومتی اداروں، نجی شعبے، کاشتکاروں، برآمد کنندگان اور مالیاتی اداروں کو ایک مربوط نظام کے تحت کام کرنا ہوگا۔
پاکستان کو سب سے پہلے اپنی برآمدی پیداوار کے معیار کو عالمی سطح پر قابلِ قبول بنانا ہوگا۔ سعودی منڈی میں رسائی بڑھانے کے لیے معیار کی سرٹیفکیشن کی باہمی منظوری کی حوصلہ افزائی ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کے لیے ملکی سطح پر لیبارٹریز، سرٹیفکیشن اداروں اور معائنہ کار نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔ اگر ایک پاکستانی برآمد کنندہ مختلف مراحل پر غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا کرے گا تو وہ عالمی مسابقت میں پیچھے رہ جائے گا۔ اسی طرح برآمدی اجازت ناموں، کسٹمز، فوڈ سیفٹی اور دیگر ضابطہ جاتی امور کو آسان، شفاف اور تیز بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
دوسری بنیادی ضرورت زرعی پیداوار میں ویلیو ایڈیشن ہے۔ پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ صرف چاول، پھل اور گوشت کا خام مال برآمد کرے گا یا عالمی معیار کی پیک شدہ اور پراسیسڈ مصنوعات بھی تیار کرے گا۔ زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ سے نہ صرف برآمدی آمدن بڑھتی ہے بلکہ دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ فوڈ پراسیسنگ، کولڈ اسٹوریج، پیکیجنگ، ریفریجریٹڈ ٹرانسپورٹ اور جدید گوداموں کا نیٹ ورک مضبوط کیے بغیر زرعی برآمدات میں بڑی چھلانگ لگانا مشکل ہوگا۔چھوٹے کاشتکاروں کو اس پورے عمل کا مرکز بنانا بھی ناگزیر ہے۔ پاکستان کی زرعی معیشت بڑی تعداد میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں پر مشتمل ہے۔ اگر برآمدی ترقی کا فائدہ صرف بڑے کاروباری اداروں تک محدود رہا تو اس کے سماجی و معاشی اثرات محدود رہ جائیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کو جدید بیج، بہتر آبپاشی، زرعی مشاورت، ذخیرہ کاری، قرض اور منڈی تک رسائی فراہم کرے تاکہ وہ برآمدی معیار کے مطابق پیداوار دے سکیں۔ کسان کی آمدن بڑھے گی تو دیہی معیشت مضبوط ہوگی اور ملکی طلب و رسد کا نظام بھی بہتر ہوگا۔
سعودی عرب کی جانب سے اکتوبر 2026ء میں ریاض میں ہونے والی 43ویں سعودی زرعی نمائش میں پاکستان کو شرکت کی دعوت بھی ایک اہم موقع ہے۔ پاکستان کے نجی شعبے کو اس فورم سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ محض سرکاری وفود کی شرکت کافی نہیں؛ پاکستانی کمپنیوں، زرعی کاروباری اداروں، گوشت برآمد کنندگان، چاول کے تاجروں، پھلوں کے پروڈیوسروں اور فوڈ پراسیسنگ کمپنیوں کو وہاں اپنی مصنوعات، صلاحیت اور سرمایہ کاری تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔ کاروباری رابطوں اور میچ میکنگ کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے باقاعدہ فالو اَپ نظام بھی ضروری ہوگا۔
اسی طرح لائیو اسٹاک، زرعی فوڈ پراسیسنگ اور چاول کی ویلیو چین میں پاکستانی نجی شعبے کی سرمایہ کاری تجاویز کا جائزہ لیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل کی شراکت داری صرف برآمدات تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ مشترکہ سرمایہ کاری تک بھی پھیل سکتی ہے۔ سعودی عرب کا وڑن 2030ئ اور پاکستان کی زرعی و غذائی برآمدات کی ضروریات میں موجود ہم آہنگی کو عملی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
**تجزیہ بی این پی** یہ واضح کرتا ہے کہ تین ارب ڈالر کا ہدف نہ تو ناقابلِ حصول ہے اور نہ ہی ایسا ہدف ہے جسے صرف اعلانات کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس زمین، فصلیں، مویشی، محنت کش افرادی قوت اور زرعی تجربہ موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، معیار، تحقیق اور موثر انتظامی نظام کے ساتھ جوڑا جائے۔ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ پیش رفت پاکستان کے لیے ایک ایسا موقع ہے جس سے زرعی معیشت کو برآمدی معیشت میں تبدیل کرنے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ حکومت کو اعلانات کے بعد عملدرآمد کا واضح نظام وضع کرنا ہوگا، اہداف کو سہ ماہی بنیادوں پر جانچنا ہوگا، متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہوگا اور نجی شعبے کو غیر ضروری رکاوٹوں سے نجات دینا ہوگی۔ اگر پاکستان تین ارب ڈالر کے ہدف کو محض ایک عدد کے بجائے ایک قومی برآمدی منصوبے کے طور پر لے اور اس کے لیے واضح ذمہ داریاں، ٹائم لائن اور احتساب کا نظام قائم کرے تو سعودی عرب کی منڈی پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان کو اب مفاہمتی یادداشتوں کے ذخیرے سے آگے بڑھ کر عملی نتائج کی معیشت تشکیل دینا ہوگی۔ سعودی عرب کے ساتھ زرعی تجارت کا یہ موقع اسی وقت حقیقی کامیابی میں تبدیل ہوگا جب پاکستانی کھیت سے پیدا ہونے والی فصل عالمی معیار کی پیکنگ کے ساتھ سعودی صارف تک پہنچے، پاکستانی گوشت معیار اور حلال سرٹیفکیشن کے باعث اعتماد حاصل کرے، پھلوں کی برآمد میں تسلسل آئے، جدید آبپاشی سے کسان کی لاگت کم ہو اور ہر سال برآمدی اعدادوشمار میں حقیقی اضافہ دکھائی دے۔ یہی وہ مرحلہ ہوگا جب تین ارب ڈالر کا ہدف محض ایک سرکاری اعلان نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت، کسان اور برآمدی شعبے کی کامیابی کی ایک قابلِ ذکر داستان بن جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Click to listen highlighted text!