jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے پیشگی حکمت عملی، اجتماعی تعاون سے ہی کامیابی ممکن

تجزیہ بی این پی
فضائی آلودگی اور سموگ آج محض موسمی مسئلہ نہیں رہے بلکہ یہ شہری زندگی، صحت، ماحول اور معیشت پر براہِ راست اثر انداز ہونے والا ایک اہم چیلنج بن چکے ہیں۔ خصوصاً پنجاب کے بڑے شہروں میں موسم سرما کی آمد کے ساتھ فضائی آلودگی میں اضافہ معمول بن چکا ہے، جس کے باعث حکومتوں کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ سموگ کے آغاز کے بعد ردِعمل دینے کے بجائے پہلے ہی مؤثر اور جامع اقدامات کا آغاز کریں۔ اسی تناظر میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے نومبر میں متوقع سموگ سیزن سے قبل پیشگی انتظامات مکمل کرنے، گزشتہ برس کی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانے اور فضائی آلودگی کے پھیلاؤ کے تمام ذرائع کو روکنے کی ہدایات ایک بروقت اور قابلِ توجہ اقدام ہیں۔
لاہور کا عالمی فضائی انڈیکس میں آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سولہویں نمبر پر آنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگرچہ گزشتہ برس کے مقابلے میں صورتحال میں بہتری کے آثار موجود ہیں، تاہم چیلنج ابھی ختم نہیں ہوا۔ فضائی آلودگی کسی ایک محکمے یا ادارے کی کارروائی سے ختم نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے انتظامیہ، متعلقہ محکموں، صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ، کاروباری طبقے اور عام شہریوں کو ایک مشترکہ ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے اسی وسیع تر تناظر میں مختلف شعبوں کو ہدایات دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت سموگ کو ایک ہمہ گیر مسئلے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق گزشتہ برس کی حکمت عملی سے حاصل ہونے والے تجربات کو بنیاد بنا کر اس سال پہلے سے زیادہ سخت نگرانی اور عملدرآمد کا فیصلہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک بہتر انتظامی approach کی عکاسی کرتا ہے۔ سموگ کے تین ماہ محض کارروائیوں کے نہیں بلکہ مسلسل نگرانی، بروقت فیصلوں اور عوامی تعاون کے امتحان کا عرصہ ہوتے ہیں۔ اگر متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں، قوانین کی خلاف ورزی پر بلاامتیاز کارروائی ہو اور شہری بھی احتیاطی تدابیر اختیار کریں تو فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔

فضائی آلودگی کے اسباب پر نظر ڈالی جائے تو اس میں کئی عوامل شامل ہیں۔ موسم کی صورتحال، ہواؤں کا رخ، نمی، ٹریفک، صنعتی دھواں، اینٹوں کے بھٹے، فصلوں کی باقیات جلانا اور بعض کاروباری سرگرمیاں مجموعی طور پر فضا کے معیار کو متاثر کرتی ہیں۔ ماہرین موسمیات کے مطابق بھارت سے آنے والی ہواؤں کے رخ میں تبدیلی کے باعث لاہور، فیصل آباد، رحیم یار خان اور پنجاب کے دیگر اضلاع کے فضائی آلودگی کے انڈیکس میں معمولی اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ فضائی آلودگی کے مسئلے کا ایک حصہ مقامی اور دوسرا موسمی و علاقائی نوعیت کا ہے، اس لیے اس کا حل بھی وسیع اور مربوط حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے۔
اگلے ہفتے لاہور میں بارش کی پیش گوئی بھی فضائی آلودگی میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ بارش اور ہواؤں کی رفتار میں اضافہ فضا میں موجود آلودہ ذرات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، تاہم محض موسمی تبدیلی کو مستقل حل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب آلودگی پیدا کرنے والے ذرائع پر مستقل بنیادوں پر قابو پایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے گزشتہ سال کے اینٹی سموگ ایس او پیز پر عملدرآمد مزید سخت کرنے کا فیصلہ اہمیت رکھتا ہے۔فصلوں کی باقیات جلانا پنجاب میں فضائی آلودگی کے بڑے اسباب میں شمار ہوتا ہے۔ کسانوں کے لیے فصل کی باقیات کو آگ لگانے کے بجائے جدید مشینری کے ذریعے تلف یا مفید انداز میں استعمال کرنے کے مواقع پیدا کرنا ایک پائیدار حل ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو جدید مشینری کے استعمال اور فصلوں کی باقیات نہ جلانے کو یقینی بنانے کی ہدایت اس مسئلے کے بنیادی سبب کو ہدف بنانے کے مترادف ہے۔ کسانوں کو صرف پابندیوں کا سامنا کرانے کے بجائے انہیں متبادل سہولتیں فراہم کی جائیں تو قانون پر عملدرآمد کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
اسی طرح پلاسٹک کو جلانے کا رجحان بھی انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ پلاسٹک کے جلنے سے پیدا ہونے والا دھواں فضا کو آلودہ کرنے کے ساتھ انسانی صحت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے پلاسٹک جلانے اور پلاسٹک سے تیار کردہ مصنوعات کے باعث انسانی زندگی کو لاحق خطرات کے خاتمے پر زور دینا ماحولیاتی تحفظ کے وسیع تر تصور سے ہم آہنگ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام میں بھی اس حوالے سے مسلسل آگاہی پیدا کی جائے تاکہ ماحولیاتی تحفظ صرف سرکاری کارروائی نہیں بلکہ اجتماعی طرزِ عمل بن سکے۔
اینٹوں کے بھٹوں کی نگرانی بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ زگ زیگ ٹیکنالوجی کا استعمال بھٹوں سے خارج ہونے والے دھوئیں اور آلودگی میں کمی لانے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے زگ زیگ ٹیکنالوجی سے محروم بھٹوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کو محض کاغذی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے عملی سطح پر نافذ کیا جارہا ہے۔ تاہم کارروائی کے ساتھ ساتھ بھٹہ مالکان کو جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنے کے لیے مناسب رہنمائی اور سہولت بھی فراہم کی جائے تو اس پالیسی کے نتائج مزید بہتر ہوسکتے ہیں۔
شہری علاقوں میں ریستورانوں اور باربی کیو آؤٹ لیٹس سے اٹھنے والا دھواں بھی بعض اوقات فضائی آلودگی میں اضافہ کرتا ہے۔ اس لیے ایسے مقامات کی نگرانی اور معائنہ مؤثر بنانا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح لاہور کے داخلی راستوں پر بڑی اور چھوٹی گاڑیوں کی جانچ اور ان کے سموگ اخراج کی سخت پڑتال شہری فضائی معیار بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ ٹرانسپورٹ سے پیدا ہونے والا دھواں بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کا نمایاں ذریعہ ہے، اس لیے گاڑیوں کے فٹنس معیار اور اخراج کے قواعد پر مؤثر عملدرآمد وقت کی ضرورت ہے۔
موٹر سائیکلوں کے دھوئیں کی مانیٹرنگ پر خصوصی توجہ بھی قابلِ ذکر ہے۔ پنجاب کے شہروں میں موٹر سائیکلوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، اس لیے اگر ان کے دھوئیں کے اخراج کو بہتر انداز میں کنٹرول کیا جائے تو مجموعی فضائی معیار پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے محض جرمانوں کے بجائے شہریوں میں گاڑیوں کی بروقت دیکھ بھال، انجن ٹیوننگ اور ماحولیاتی ذمہ داری کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا بھی اسی پالیسی کا ایک اہم حصہ ہونا چاہیے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق سموگ کے خلاف پنجاب حکومت کی موجودہ حکمت عملی کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس میں آلودگی کے ایک ہی ذریعے پر انحصار نہیں کیا جارہا بلکہ فصلوں کی باقیات، پلاسٹک، بھٹوں، ریستورانوں، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سمیت مختلف ذرائع کو بیک وقت مانیٹر کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ سیف سٹی کیمروں، تھرمل امیجنگ اور جدید مصنوعی ذہانت کے نظام کے ذریعے نگرانی بڑھانے کا فیصلہ روایتی انتظامی طریقہ کار کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی کوشش ہے۔ اگر ان نظاموں کو درست اعداد و شمار، فوری کارروائی اور مؤثر فیلڈ ٹیموں کے ساتھ مربوط کردیا جائے تو ماحولیاتی نگرانی کی صلاحیت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
ٹیکنالوجی کا استعمال سموگ کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتا ہے۔ سیف سٹی کیمروں اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسے مقامات کی نشاندہی ممکن ہے جہاں مسلسل آلودگی پھیل رہی ہو۔ تھرمل امیجنگ کے ذریعے بعض ایسے واقعات کا بھی سراغ لگایا جاسکتا ہے جنہیں عام نگرانی میں نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح حکومت کے پاس صرف شکایات کی بنیاد پر کارروائی کرنے کے بجائے شواہد پر مبنی فیصلوں کا مؤثر نظام موجود ہوسکتا ہے۔
تاہم ہر حکومتی پالیسی کی کامیابی کا اصل پیمانہ اس کا عملی نفاذ ہوتا ہے۔ اگر کسی علاقے میں فصلوں کی باقیات جلائی جارہی ہوں، کوئی بھٹہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہو یا دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں سڑکوں پر رواں ہوں تو صرف اعلانات کافی نہیں ہوں گے۔ مسلسل نگرانی، فوری کارروائی اور قوانین کا بلاامتیاز نفاذ ہی پالیسی کو نتیجہ خیز بنا سکتا ہے۔ اس حوالے سے انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
عوامی تعاون اس پورے عمل کا سب سے اہم جزو ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا یہ کہنا کہ سموگ کے تین ماہ میں انتظامیہ اور محکموں کی کارروائیوں میں عوام بھرپور ساتھ دے کر کامیابی کی نئی مثال قائم کریں گے، دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ حکومت اکیلے اس چیلنج پر قابو نہیں پاسکتی۔ شہری اگر کچرا، پلاسٹک اور دیگر مواد جلانے سے گریز کریں، اپنی گاڑیوں کی مناسب دیکھ بھال کریں، ماحولیاتی قوانین کی پابندی کریں اور خلاف ورزیوں کی نشاندہی کریں تو حکومتی اقدامات کی افادیت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔فضائی آلودگی کے خلاف اقدامات کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ماحول کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ صاف ہوا صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بہتر شہری زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ صاف ستھرے ماحول کے نتیجے میں بیماریوں کے امکانات کم ہوسکتے ہیں، شہریوں کی روزمرہ زندگی بہتر ہوسکتی ہے اور بڑے شہروں میں رہنے کے معیار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے سموگ کے خلاف موجودہ اقدامات کو صرف تین ماہ کی مہم کے بجائے ایک طویل المدتی ماحولیاتی پالیسی کے طور پر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
راولپنڈی میں گرین بس سے ٹکرا کر کمسن بچی کے جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے نوٹس اور کمشنر راولپنڈی سے رپورٹ طلب کرنا بھی انتظامی جواب دہی کے حوالے سے اہم ہے۔ معصوم بچی کی موت پر اظہارِ افسوس کے ساتھ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا عزم اس بات کی علامت ہے کہ عوامی تحفظ کو انتظامی معاملات میں بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ شہریوں کے لیے بہتر ٹرانسپورٹ کی فراہمی اسی وقت کامیاب سمجھی جاسکتی ہے جب اس کے ساتھ سڑکوں پر حفاظت، ٹریفک نظم و ضبط اور مسافروں و پیدل چلنے والوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔
دوسری جانب بلوچستان کے اضلاع خاران اور واشوک میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 11 دہشت گردوں کی ہلاکت پر وزیراعلیٰ پنجاب کا اظہارِ تشکر بھی قومی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ملک میں امن و استحکام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں قابلِ تحسین ہیں۔ پائیدار ترقی، بہتر شہری سہولتیں اور مضبوط معیشت اسی وقت ممکن ہیں جب ملک میں امن و امان کی صورتحال مستحکم ہو۔مجموعی طور پر پنجاب میں سموگ کے خلاف موجودہ پیشگی اقدامات ایک ایسے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش ہیں جس کے لیے عزم کے ساتھ ساتھ تسلسل بھی ضروری ہے۔ فضائی آلودگی کے تمام ذرائع کی نگرانی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام، بھٹوں کی اصلاح، گاڑیوں کے اخراج کی جانچ اور شہری آگاہی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اقدامات ہیں۔ ان سب کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا جائے تو پنجاب کے شہریوں کو نسبتاً صاف اور صحت مند فضا فراہم کرنے کا ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔تجزیہ بی این پی کے مطابق سموگ کے خلاف کامیابی کا بہترین راستہ سختی اور شعور کے متوازن امتزاج میں ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے، مگر ساتھ ہی عام شہری، کسان، صنعت کار، ٹرانسپورٹر اور کاروباری طبقہ بھی یہ محسوس کرے کہ ماحولیاتی تحفظ ان کے اپنے مفاد میں ہے۔ جب ریاستی اداروں کی مؤثر نگرانی، جدید ٹیکنالوجی، قانون کی بالادستی اور عوامی تعاون ایک ہی سمت میں آگے بڑھیں گے تو سموگ جیسے پیچیدہ مسئلے پر قابو پانا زیادہ ممکن ہوگا۔
پنجاب کے لیے یہ موقع ہے کہ گزشتہ تجربات کو بنیاد بنا کر سموگ کے خلاف ایک مستقل اور جدید ماحولیاتی نظم و نسق تشکیل دیا جائے۔ اگر نومبر سے پہلے کیے جانے والے پیشگی انتظامات مؤثر ثابت ہوتے ہیں اور گزشتہ برس کے مقابلے میں فضائی معیار مزید بہتر ہوتا ہے تو یہ نہ صرف پنجاب بلکہ ملک کے دوسرے صوبوں کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید مثال بن سکتا ہے۔ صاف ہوا ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اور اس حق کے تحفظ کے لیے حکومت اور عوام کا مشترکہ عزم ہی وہ قوت ہے جو پنجاب کو آلودگی کے اس چیلنج سے مستقل نجات کی طرف لے جاسکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More