jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

کیا انتھروپک ریسرچر کا استعفیٰ اے آئی سیفٹی کا ایک تیار شدہ ڈرامہ تھا؟

اے آئی سیفٹی ریگولیشنز: انتھروپک کے محقق کے استعفے کے پیچھے چھپی حقیقت
مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں تحفظ اور قوانین (Regulations) کی بحث دن بہ دن شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، لیکن حال ہی میں پیش آنے والے ایک واقعے نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا یہ پورا بیانیہ خود سے تیار کیا گیا ہے؟ 8 ستمبر کو مشہور اے آئی کمپنی انتھروپک (Anthropic) میں پری ٹریننگ شعبے سے وابستہ محقق جیکب (Jacob) نے اچانک ٹویٹ کر کے اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ اپنے ٹویٹ میں اس نے ادعا کیا کہ یہ اے آئی لیبز بالکل بھی ذمہ دار نہیں ہیں اور سپر انٹیلی جنس بنانے کے چکر میں انسانی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں۔

وائرل ٹویٹ اور پرکر (Parker) کے تحقیقاتی انکشافات
جیکب کے اس ٹویٹ نے سوشل میڈیا پر سنسنی پھیلا دی اور اس پر 140 ملین سے زائد ویوز حاصل ہوئے جبکہ ہزاروں لوگوں نے اسے ری پوسٹ کیا۔ تاہم، پرکر نامی فرد کی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے اس واقعے کے پیچھے چند عجیب و غریب حقائق کو بے نقاب کیا۔
تحقیق کے مطابق اس وائرل ٹویٹ کو سب سے پہلے ری پوسٹ کرنے والے تین افراد ناتھن (Nathan)، پیٹر (Peter) اور ڈینیئل (Daniel) تھے۔ یہ تینوں افراد ‘اے آئی ڈومرز’ (AI Doomers) غیر منافع بخش تنظیموں کے سربراہ ہیں۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ ان تینوں تنظیموں کو فنڈ دینے والا مرکزی سرمایہ کار یان تلین (Jaan Tallinn) ہے۔ یان تلین خود انتھروپک کا بورڈ ممبر اور اہم سرمایہ کار ہے۔ یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ جس کمپنی کو ایکسپوز کیا جا رہا ہے، اس کا اپنا ہی سرمایہ کار اس پوسٹ کو وائرل کرنے میں پیش پیش تھا۔

میڈیا کوریج، سیاستدان اور قانونی پیش رفت
واقعات کے اس تسلسل نے مزید سوالات جنم دیے ہیں:
  • وال اسٹریٹ جرنل کا انٹرویو: جیکب کے ٹویٹ کے منظر عام پر آنے سے محض 18 منٹ پہلے وال اسٹریٹ جرنل میں اس کا ایک خصوصی انٹرویو شائع ہو چکا تھا۔
  • سیاستدانوں کا ردعمل: اب تک 22 سیاستدان اس ٹویٹ پر ردعمل ظاہر کر چکے ہیں اور اے آئی پر سخت قوانین نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
  • برنی سائنڈرز کا بل: امریکی سیاستدان برنی سائنڈرز (Bernie Sanders) سپر انٹیلی جنس پر پابندی لگانے کے لیے ایک بل متعارف کروانے والے ہیں، جس کے بعد ایک نیا اے آئی ایڈوائزری بورڈ (AI Advisory Board) تشکیل دیا جائے گا۔
اس پورے معاملے پر ایلون مسک (Elon Musk) نے بھی تبصرہ کرتے ہوئے معاملے کی گہرائی کی طرف اشارہ کیا ہے۔

کیا یہ ایک انجینئرڈ نیریٹو (Engineered Narrative) ہے؟
ان تمام کڑیوں کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ایک منصوبہ بند ‘انجینئرڈ نیریٹو’ ہو سکتا ہے، جو تین مراحل پر مبنی ہے:
  1. مرحلہ 1: سب سے پہلے عوام کے اندر سپر انٹیلی جنس کا خوف پیدا کرنا۔
  2. مرحلہ 2: حکومت سے مطالبہ کرنا کہ وہ اے آئی پر سخت قوانین اور ضوابط عائد کرے۔
  3. مرحلہ 3: جب سرکاری اے آئی ایڈوائزری بورڈ بنے تو اس میں اپنے ہی ماہرین کو بٹھا کر اختیار حاصل کرنا۔
اگرچہ مصنوعی ذہانت سے خطرات پہلے بھی موجود تھے، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے، لیکن یہ سوال اب بھی برقرار ہے کہ کیا یہ ٹویٹ پہلے سے پلان کیا گیا تھا یا اس ملازم کو کسی بڑے مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

بار بار پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال 1: جیکب کون ہے اور اس نے انتھروپک سے کیوں استعفیٰ دیا؟
جواب: جیکب انتھروپک میں پری ٹریننگ کا محقق تھا۔ اس نے 8 ستمبر کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے استعفیٰ دیا کہ اے آئی لیبز غیر ذمہ دار ہیں اور سپر انٹیلی جنس کے لیے انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
سوال 2: جیکب کے وائرل ٹویٹ کے بارے میں کیا انکشافات سامنے آئے؟
جواب: تحقیقات کے مطابق اس ٹویٹ کو سب سے پہلے ری پوسٹ کرنے والے تینوں افراد اے آئی ڈومر این جی اوز کے سربراہ تھے جنہیں انتھروپک کے اپنے بورڈ ممبر اور سرمایہ کار یان تلین کی فنڈنگ حاصل تھی۔ اس کے علاوہ ٹویٹ سے 18 منٹ قبل وال اسٹریٹ جرنل میں ان کا انٹرویو بھی شائع ہو چکا تھا۔
سوال 3: اے آئی سیفٹی سے متعلق تین مرحلہ وار بیانیہ (3-Step Narrative) کیا ہے؟
جواب: اس بیانیے کے تین مراحل یہ ہیں: پہلے عوام میں خوف پیدا کرنا، پھر حکومت سے ریگولیشنز کا مطالبہ کرنا، اور آخر میں بننے والے سرکاری اے آئی ایڈوائزری بورڈ میں اپنے ماہرین کو شامل کروانا

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More