تجزیہ بی این پی کے مطابق
دنیا پہلے ہی سیاسی، معاشی اور تزویراتی بحرانوں کی ایک طویل فہرست سے دوچار ہے۔ کہیں جنگ جاری ہے، کہیں اقتصادی پابندیوں نے معیشتوں کو دباؤ میں رکھا ہوا ہے اور کہیں توانائی کے محفوظ ذرائع اور عالمی تجارت کے راستوں کو خطرات لاحق ہیں۔ ایسے میں مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی نئی کشیدگی محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑے معاشی اور انسانی بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات پہلے ہی عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے تھے کہ یمن میں حوثی فورسز کی جانب سے بحیرہ? احمر اور باب المندب کے اہم علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی اطلاعات نے خطرے کی ایک نئی گھنٹی بجا دی ہے۔
بحیرہ? احمر عالمی تجارت کا ایک نہایت اہم راستہ ہے۔ یہ خطہ خلیج عدن، بحر ہند اور نہر سویز کے ذریعے ایشیا، یورپ اور دیگر عالمی منڈیوں کو باہم جوڑتا ہے۔ اسی لیے اس راستے میں طویل عرصے تک پیدا ہونے والی کوئی بھی رکاوٹ صرف یمن، سعودی عرب یا مشرقِ وسطیٰ کو متاثر نہیں کرے گی بلکہ اس کے اثرات دنیا کے ان ممالک تک پہنچیں گے جو ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھے اپنی صنعت، تجارت اور روزمرہ ضروریات کے لیے عالمی سپلائی چین پر انحصار کرتے ہیں۔ خصوصاً تیل اور گیس کی ترسیل میں خلل پیدا ہوا تو اس کا براہِ راست اثر عالمی منڈی اور عام صارف کی زندگی پر پڑ سکتا ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** موجودہ صورتحال کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی مختلف اہم بحری گزرگاہیں ایک ہی وقت میں خطرات کی زد میں آ رہی ہیں۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک راستے پر بھی طویل عرصے کے لیے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں تو دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں، بحری کرایوں، انشورنس اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر دونوں راستے بیک وقت غیر محفوظ ہو گئے تو صورتحال کے سنگین معاشی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
یہ خطرہ پاکستان کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ پاکستان کے درآمدی بل پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوں تو اس کے اثرات صرف گاڑی کے ایندھن تک محدود نہیں رہتے بلکہ بجلی، صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں تک پہنچتے ہیں۔ یوں مشرقِ وسطیٰ کا ایک عسکری یا جغرافیائی بحران بالآخر پاکستان کے عام شہری کے گھریلو بجٹ کو متاثر کر سکتا ہے۔
اسی تناظر میں سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات اور توانائی کی ترسیل کے نظام کو لاحق خطرات انتہائی حساس معاملہ ہیں۔ مشرقی صوبے میں واقع ابقیق کے آئل فیلڈ سے مغربی ساحل پر ینبع کی بندرگاہ تک جانے والی اہم پائپ لائن سعودی عرب کو اپنے تیل کی ترسیل کے لیے ایک متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں کسی ممکنہ رکاوٹ کی صورت میں اس راستے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر ایک طرف آبنائے ہرمز دباؤ میں ہو اور دوسری طرف بحیرہ? احمر اور باب المندب میں بھی عدم تحفظ پیدا ہو جائے تو عالمی توانائی کے نظام پر دباؤ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔یہاں یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ سعودی عرب محض ایک تیل پیدا کرنے والا ملک نہیں بلکہ مسلم دنیا کے لیے غیر معمولی روحانی اور مذہبی اہمیت رکھتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں خانہ? کعبہ اور مدینہ منورہ میں روضہ? رسول ? موجود ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان ان مقدس مقامات سے عقیدت اور محبت رکھتے ہیں اور سعودی سرزمین کو حرمین شریفین کی نسبت سے خصوصی احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اسی لیے سعودی عرب میں امن و سلامتی کا مسئلہ صرف ایک ریاست کی داخلی سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے جذبات سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ یمن کے بحران کے اپنے تاریخی، سیاسی اور معاشی اسباب ہیں اور ہر فریق اپنے مؤقف اور شکایات رکھتا ہے۔ تاہم کسی بھی سیاسی یا عسکری اختلاف کو ایسے مقام تک پہنچا دینا جہاں مقدس مقامات، عام شہریوں، عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی خطرے میں پڑ جائے، کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔ اختلافات کا حل طاقت کے ذریعے تلاش کرنے کے بجائے مذاکرات کی میز پر تلاش کرنا ہی زیادہ دانش مندانہ راستہ ہے۔ مسلمان ممالک کے درمیان تنازعات کا طویل ہونا پہلے ہی مسلم دنیا کو سیاسی، معاشی اور انسانی سطح پر بہت نقصان پہنچا چکا ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** حوثیوں سمیت خطے کے تمام فریقوں کو یہ احساس کرنا ہوگا کہ جنگ کا سب سے بڑا نقصان عام انسان اٹھاتا ہے۔ میزائل اور حملے چند لمحوں میں سرخیاں بن جاتے ہیں، مگر ان کے نتیجے میں مہنگا ہونے والا تیل، بڑھتی ہوئی مہنگائی، متاثر ہونے والی تجارت اور روزگار کے محدود ہوتے مواقع کا بوجھ برسوں تک عوام اٹھاتے ہیں۔ اگر توانائی کی عالمی سپلائی متاثر ہوئی تو ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، کیونکہ ان کی معیشتیں پہلے ہی مہنگی درآمدات، قرضوں اور محدود مالی وسائل کے دباؤ میں ہیں۔
دنیا اس وقت ایسے مرحلے پر کھڑی ہے جہاں ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ تیل کی قیمت میں اضافہ ہو تو پیداواری لاگت بڑھتی ہے، پیداواری لاگت بڑھے تو اشیائ مہنگی ہوتی ہیں، اشیائ مہنگی ہوں تو مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور مہنگائی بڑھے تو عام شہری کی قوتِ خرید کم ہوتی ہے۔ اسی طرح بحری راستے غیر محفوظ ہونے سے سامان کی ترسیل میں تاخیر اور اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا اثر عالمی تجارت اور بالآخر صارفین تک پہنچتا ہے۔ اس لیے بحیرہ? احمر کی موجودہ صورتحال کو صرف ایک فوجی مسئلے کے طور پر دیکھنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔
اس بحران میں پاکستان کا کردار بھی اہم ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے حوالے سے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے، تاہم اسلام آباد کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی سفارتی حیثیت کو بروئے کار لاتے ہوئے مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرے۔ پاکستان کی تاریخ میں سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ اگر پاکستان امریکہ، ایران، سعودی عرب اور یمن کے متعلقہ فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کوئی قابلِ عمل سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی مثبت پیش رفت ہوگی۔
اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ایسے بیانیے کی ہے جو اشتعال کے بجائے تدبر کو فروغ دے۔ مذہب کے نام پر جذبات کو بھڑکانے کے بجائے یہ سوچ پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اسلام امن، انسانی جان کے احترام اور معاملات کو حکمت کے ساتھ حل کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ حرمین شریفین کی سرزمین کی حفاظت اور مسلم ممالک میں امن کا قیام پوری امت کی مشترکہ خواہش ہے۔ اس لیے کسی بھی اختلاف کو اس حد تک نہیں بڑھنا چاہیے کہ اس سے مقدس مقامات، عام شہری یا عالمی امن خطرے میں پڑ جائے۔ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے پہلے ہی دنیا کو شدید تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اگر اس کشیدگی کے ساتھ یمن اور بحیرہ? احمر کا بحران بھی مسلسل بڑھتا رہا تو مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسا وسیع تر تنازع جنم لے سکتا ہے جس کے اثرات کئی براعظموں تک پہنچیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی ذمہ داری محض اپنے اپنے اتحادیوں کی حمایت تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ انہیں جنگ بندی، مذاکرات اور سیاسی حل کے لیے مؤثر سفارتی دباؤ بھی استعمال کرنا چاہیے۔
چین سمیت عالمی طاقتوں کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے انسانی اور معاشی نقصانات پر تشویش کا اظہار اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا کو اب محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو بھی ایسے بحرانوں میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ عالمی برادری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تیل کے راستوں کی حفاظت، بحری تجارت کا تحفظ اور علاقائی امن ایک دوسرے سے جدا مسائل نہیں بلکہ ایک ہی عالمی سلامتی کے نظام کے مختلف پہلو ہیں۔
حوثی قیادت کے لیے بھی یہ لمحہ غور و فکر کا ہے۔ اپنے سیاسی مطالبات اور شکایات کے اظہار کا حق اپنی جگہ، لیکن ان مطالبات کے حصول کے لیے ایسا راستہ اختیار نہیں کیا جانا چاہیے جس سے سعودی عرب، یمن یا دیگر ممالک کے عام شہری متاثر ہوں اور پوری دنیا کی معیشت خطرے میں پڑ جائے۔ مسائل چاہے کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوں، ان کا مستقل حل بالآخر مذاکرات ہی سے نکلتا ہے۔ طاقت وقتی دباؤ پیدا کر سکتی ہے، لیکن پائیدار امن پیدا نہیں کر سکتی۔
مسلم دنیا کو بھی اس موقع پر جذباتی تقسیم کے بجائے اتحاد، حکمت اور سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب اور یمن کے عوام دونوں مسلمان ہیں اور دونوں معاشروں کے عام شہری امن، روزگار اور بہتر مستقبل کے خواہاں ہیں۔ کسی بھی تنازع میں عام لوگوں کو فریق بنا دینا یا انہیں جنگ کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کرنا انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ اختلافات حکومتوں، سیاسی قیادتوں اور مذاکراتی میز پر موجود نمائندوں کے درمیان رہنے چاہئیں، عوام کو اس کا ایندھن نہیں بننا چاہیے۔آج دنیا کو سب سے بڑا خطرہ صرف کسی ایک ملک کی جنگ سے نہیں بلکہ مختلف بحرانوں کے ایک دوسرے سے جڑ جانے سے ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایک محدود کشیدگی اگر تیل، بحری تجارت اور عالمی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو اس کے اثرات ایک نئے عالمی معاشی بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس صورتحال میں پہلے سے منصوبہ بندی، توانائی کے متبادل ذرائع، سفارتی سرگرمیوں اور معاشی استحکام کی کوششیں مزید ضروری ہو جاتی ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق اپنی اپنی فتح کے بجائے خطے اور دنیا کی اجتماعی سلامتی کو ترجیح دیں۔ سعودی عرب کی سلامتی، یمن کے عوام کا امن، حرمین شریفین کا تقدس، عالمی تجارت کا تحفظ اور توانائی کی مسلسل فراہمی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کی مشترکہ ضرورت ہے۔ اس لیے جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے، بحری گزرگاہوں کو محفوظ رکھنے اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے فوری اور مخلصانہ کوششیں ہونی چاہئیں۔بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیا کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ جنگ کے شعلے کبھی ایک سرحد تک محدود نہیں رہتے۔ ان کی تپش عالمی منڈیوں، صنعتوں، گھروں اور عام شہریوں تک پہنچتی ہے۔ آج اگر عالمی برادری نے بروقت سفارتی اقدامات نہ کیے تو کل تیل کا بحران، مہنگائی اور عالمی تجارت میں خلل ایک نئے معاشی بحران کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ طاقت کے بجائے مذاکرات، انتقام کے بجائے مفاہمت اور تصادم کے بجائے امن کو ترجیح دی جائے۔ مشرقِ وسطیٰ کو ایک اور جنگ نہیں بلکہ ایک ایسے سنجیدہ سیاسی حل کی ضرورت ہے جو خطے کے تمام فریقوں کو محفوظ مستقبل دے اور دنیا کو ایک نئے عالمی بحران سے بچا سکے۔