jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

بال بوائے سے عالمی فاتح تک: ہاشم خان کی وہ لازوال داستان جس نے پاکستان کو اسکواش کی دنیا کا بادشاہ بنایا

بال بوائے سے عالمی فاتح تک: ہاشم خان کی وہ داستان جس نے پاکستان کو اسکواش کا بادشاہ بنایا

پشاور کے ایک برطانوی کلب کے کچے کورٹ میں باہر گرنے والی گیندیں پکڑنے والا ایک عام سا بال بوائے، آگے چل کر دنیا کے سب سے بڑے اسکواش ٹورنامنٹ کو 7 مرتبہ جیت کر ایک ناقابل تسخیر سلطنت کی بنیاد رکھے گا—اس کا تصور شاید اُس وقت کسی برطانوی افسر نے بھی نہیں کیا تھا۔ یہ داستان ہے پاکستان کے پہلے عالمی اسکواش لیجنڈ ہاشم خان کی، جن کی انتھک جدوجہد نے پاکستان کو دہائیوں تک کھیل کی دنیا میں ناقابل شکست رکھا۔

غربت، یتیمی اور کورٹ کی صفائی: ابتدائی زندگی

ہاشم خان پشاور کے قریب نواکلی کے ایک سادہ پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد برطانوی فوجی افسروں کے کلب میں ملازم تھے۔ ابھی ہاشم چھوٹے ہی تھے کہ والد ایک المناک حادثے میں چل بسے۔

گھر کی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے رسمی تعلیم چھوٹ گئی اور انہوں نے اسی کلب میں بطور بال بوائے اور کورٹ سویپر کام شروع کر دیا۔ برطانوی افسر دن بھر کھیلتے، ہاشم کورٹ کے کونے میں کھڑے گیندیں اٹھا کر دیتے اور ہر شاٹ، فٹ ورک اور اینگل کو گہری نگاہوں سے اپنے ذہن میں محفوظ کرتے رہے۔

ٹوٹے ہوئے ریکٹ اور دیوار سے مقابلہ: خاموش ریاضت

ہاشم خان کے پاس نہ کوئی مہنگی اکیڈمی تھی، نہ کوچنگ اور نہ معیاری سامان۔ جب شام کو کورٹ خالی ہو جاتا اور انگریز افسران چلے جاتے، تو یہ کمسن لڑکا ہاتھ میں ٹوٹا ہوا پرانا ریکٹ لے کر کورٹ میں اتر آتا۔

  • وہ دن بھر دیکھے گئے شاٹس کو من و عن دہراتے۔

  • تنہائی میں کورٹ کی دیوار کو اپنا حریف بناتے اور گھنٹوں گیند کو ہٹ کرتے۔

  • کھیل کو سمجھنے کی گہری صلاحیت اور غیر معمولی جسمانی سٹیمنا ان کا اصل ہتھیار بنا۔

خاموشی سے کی گئی اس محنت نے بال بوائے کو خطے کے بہترین کھلاڑی میں تبدیل کر دیا۔

قومی سطح پر ناقابل شکست آغاز (1944–1949)

1944 میں ہاشم خان نے پہلی بار آل انڈیا اسکواش چیمپئن شپ جیت کر کھیل کے پنڈتوں کو حیران کر دیا اور اگلے دو برس تک مسلسل اپنے اس ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کیا۔

قیامِ پاکستان کے بعد وہ پاکستان ایئر فورس (PAF) سے وابستہ ہو گئے، جہاں انہیں سرپرستی حاصل ہوئی۔ 1949 میں انہوں نے نئے نویلے ملک کی پہلی قومی اسکواش چیمپئن شپ جیت کر ثابت کیا کہ ان کا کوئی ثانی نہیں۔ تاہم، عالمی سطح پر اب بھی ان کی صلاحیتوں سے دنیا بے خبر تھی۔

1951 کا برٹش اوپن: 37 سال کی عمر میں عالمی اپ سیٹ

1951 میں حکومتِ پاکستان نے ہاشم خان کو اسکواش کی سب سے بڑی اور غیر سرکاری عالمی چیمپئن شپ برٹش اوپن کھیلنے کے لیے انگلستان بھیجا۔

اس وقت ہاشم خان کی عمر لگ بھگ 37 برس تھی—وہ عمر جس میں دورِ حاضر کے ایتھلیٹس ریٹائرمنٹ لے چکے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب فائنل میں ان کے مدمقابل مصر کے عالمی چیمپئن محمود کریم تھے، جو پچھلے چار برسوں سے ٹائٹل اپنے نام کر رہے تھے۔

فائنل میچ میں ہاشم خان نے دفاعی چیمپئن کو یکطرفہ مقابلے کے بعد آؤٹ کلاس کرتے ہوئے شکست دی:

  • پہلا سیٹ: 9-5

  • دوسرا سیٹ: 9-0

  • تیسرا سیٹ: 9-0

ایک نامعلوم پاکستانی نے عالمی سطح پر ایسی تاریخی جیت درج کی جس کی گونج دنیا بھر کے کھیلوں کے ایوانوں میں سنی گئی۔

مسلسل 7 برٹش اوپن ٹائٹلز اور ناقابل تسخیر حکمرانی

ہاشم خان کی کامیابی کوئی حادثہ نہیں تھی۔ انہوں نے کھیل کی تاریخ میں اپنی برتری کو مسلسل فتوحات سے ثابت کیا:

سال ایونٹ نتیجہ
1951–1956 برٹش اوپن مسلسل 6 مرتبہ عالمی چیمپئن
1958 برٹش اوپن ساتویں بار عالمی چیمپئن شپ کا اعزاز

پاکستانی اسکواش بادشاہت کی پہلی اینٹ

وسائل کی کمی کے باوجود ہاشم خان نے عالمی سطح پر پاکستان کا پرچم اس وقت بلند کیا جب ملک اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا۔

ہاشم خان کی اس کامیابی نے پشاور کے گاؤں نواکلی سے عالمی چیمپئنز کی ایک ایسی نرسری تیار کی جس کے بعد:

  • اعظم خان اور روشن خان نے میدان سنبھالا۔

  • قمر زمان نے برتری برقرار رکھی۔

  • بعد ازاں جہانگیر خان (مسلسل 555 میچز جیتنے والے لیجنڈ) اور جان شیر خان نے عالمی اسکواش پر پاکستان کا پرچم دہائیوں تک لہرائے رکھا۔

عالمی اسکواش کی اس عظیم الشان بادشاہت کی سب سے پہلی اینٹ پشاور کے اسی بال بوائے نے رکھی تھی، جس نے وسائل کی کمی کو کبھی خوابوں کے آگے رکاوٹ نہیں بننے دیا۔

عمومی سوالات

س: ہاشم خان نے کتنی بار برٹش اوپن جیتا؟

ج: ہاشم خان نے مجموعی طور پر 7 مرتبہ برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ جیتی (1951 سے 1956 تک مسلسل 6 بار، اور آخری بار 1958 میں)۔

س: ہاشم خان نے کس عمر میں پہلا برٹش اوپن جیتا تھا؟

ج: ہاشم خان نے اپنا پہلا برٹش اوپن ٹائٹل 1951 میں تقریباً 37 سال کی عمر میں جیتا تھا۔

س: ہاشم خان کا تعلق پاکستان کے کس علاقے سے تھا؟

ج: ہاشم خان کا تعلق خیبر پختونخوا کے شہر پشاور کے نواحی علاقے نواکلی سے تھا، جو بعد میں عالمی اسکواش چیمپئنز کا گڑھ بنا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More