jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

خیبرپختونخوا میں بڑھتی سیاسی کشیدگی، ملک کسی نئے تصادم کا متحمل نہیں

تجزیہ. راجا محمد الیاس کیانی
خیبرپختونخوا ایک بار پھر ملک کی سیاسی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صورتحال کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں گورنر راج، ایمرجنسی، اسمبلی تحلیل اور وزیراعلیٰ کی تبدیلی جیسے مختلف آئینی و سیاسی امکانات پر کھلے عام گفتگو ہو رہی ہے۔ ایک طرف وفاقی حکومت صوبے کی امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی اور سیاسی کشیدگی کو تشویش کا باعث قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت اور تحریک انصاف اپنے سیاسی مؤقف پر قائم رہنے اور احتجاجی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کا اعلان کر رہی ہیں۔یہ صورتحال صرف ایک صوبے کی سیاسی کشمکش نہیں بلکہ پورے ملک کے سیاسی، انتظامی اور معاشی استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان پہلے ہی دہشت گردی، معاشی دباؤ، سیاسی عدم اعتماد اور ادارہ جاتی کشیدگی جیسے متعدد مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں وفاق اور ایک بڑے صوبے کے درمیان مسلسل محاذ آرائی کسی بھی صورت ملک کے وسیع تر مفاد میں نہیں ہو سکتی۔تجزیہ بی این پی کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ دونوں جانب سے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ خیبرپختونخوا حکومت کو بھی ایسے اقدامات اور بیانات سے احتراز کرنا چاہیے جو وفاق کے ساتھ محاذ آرائی کو مزید شدید کریں، جبکہ وفاقی حکومت کو بھی ایسے غیر معمولی اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن سے صوبے میں سیاسی بے چینی اور تصادم کا ماحول پیدا ہو۔ اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن اختلاف کو ریاستی اور آئینی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنا سیاسی قیادت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
وفاقی حکومت کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے مطابق خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا آپشن موجود ہے، تاہم ابھی اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق آئینی طور پر بعض مخصوص حالات میں صوبے میں گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے اور ان کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال میں اس آپشن پر غور کی گنجائش موجود ہے۔دوسری طرف خیبرپختونخوا حکومت کا مؤقف بالکل مختلف ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اپنے سیاسی پروگرام کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف جانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے کارکنوں اور سیاسی ساتھیوں کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ مشکلات کے باوجود سیاسی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی کشیدگی مزید حساس ہو جاتی ہے۔ اگر وفاقی حکومت ایک طرف گورنر راج کو ممکنہ آپشن قرار دے اور دوسری طرف صوبائی حکومت اسمبلی تحلیل کرنے یا دیگر سیاسی راستے اختیار کرنے پر غور کرے تو سیاسی بحران کسی بھی وقت آئینی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔تاہم کسی بھی غیر معمولی آئینی اقدام سے قبل اس کے سیاسی، قانونی اور انتظامی اثرات کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ گورنر راج یا اسمبلی کی تحلیل جیسے اقدامات معمول کی سیاسی سرگرمیاں نہیں بلکہ غیر معمولی نوعیت کے فیصلے ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کے استعمال سے پہلے نہ صرف آئینی تقاضوں کو دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ایسے فیصلے صوبے اور ملک کے سیاسی استحکام پر کیا اثر ڈال سکتے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے موجودہ حالات کا ایک اہم پہلو امن و امان بھی ہے۔ صوبہ گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی اور سکیورٹی کے مسائل سے متاثر رہا ہے۔ افغانستان سے ملحقہ سرحدی صورتحال، دہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی اداروں کے لیے درپیش چیلنجز ایسے معاملات ہیں جن پر وفاق اور صوبے کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔اگر وفاق اور صوبائی حکومت ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی اختلافات کے باوجود سکیورٹی کے معاملات پر تعاون جاری رکھتے ہیں تو اس سے عوام کو ایک مثبت پیغام مل سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر امن و امان کا معاملہ بھی سیاسی اختلافات کی نذر ہو جائے تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے وفاقی حکومت سے پشاور میں وفاقی کابینہ کا اجلاس بلانے کی درخواست بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ گورنر نے صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر وفاقی سطح پر غور کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت وفاق کی بعض پالیسیوں اور اقدامات پر اعتراضات اٹھا رہی ہے۔ایسے حالات میں سیاسی بیانات کی شدت کم کرکے عملی رابطے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اگر وزیراعلیٰ، گورنر اور وفاقی حکومت کے درمیان براہ راست رابطہ قائم رہے تو کئی ایسے معاملات بھی حل کیے جا سکتے ہیں جو فی الحال سیاسی تنازع کی شکل اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی کی جانب سے ارکان اسمبلی، وزراء مشیروں اور دیگر پارلیمانی عہدیداروں سے متعلق پولیس کارروائیوں کا ریکارڈ طلب کرنا بھی موجودہ ماحول کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسمبلی سیکرٹریٹ نے گرفتاریوں، حراست، چھاپوں، تلاشیوں اور متعلقہ مقدمات سے متعلق تفصیلات طلب کی ہیں۔پارلیمانی ارکان کے استحقاق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات کے درمیان توازن ایک اہم آئینی معاملہ ہے۔ اگر کسی رکن اسمبلی کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہو تو وہ قانون کے مطابق ہونی چاہیے، اور اگر پارلیمانی استحقاق کا معاملہ ہو تو اسمبلی کے متعلقہ فورمز پر اسے دیکھا جانا چاہیے۔ اداروں کے درمیان واضح حدود اور باہمی احترام ہی سیاسی کشیدگی کو بڑھنے سے روک سکتا ہے۔موجودہ حالات میں 4 اکتوبر کی مجوزہ سیاسی سرگرمی بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے اسلام آباد جانے کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک انصاف اپنے سیاسی دباؤ کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ جمہوری نظام میں سیاسی احتجاج اور اختلاف رائے بنیادی سیاسی سرگرمیاں ہیں، تاہم بڑے اجتماعات اور مارچ کے دوران قانون، شہریوں کی نقل و حرکت اور امن و امان کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور ریاستی اداروں کے درمیان تصادم کی صورت میں نقصان بالآخر عام شہریوں کا ہوتا ہے۔ راستے بند ہوتے ہیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، تعلیمی اور دفتری امور میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر سیاسی تقسیم مزید گہری ہو جاتی ہے۔ اس لیے سیاسی قیادت کو احتجاج کے حق اور شہری زندگی کے تسلسل کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
خیبرپختونخوا حکومت کے لیے بھی موجودہ صورتحال میں یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے سیاسی مؤقف کو ضرور پیش کرے لیکن ایسی زبان اور حکمت عملی سے اجتناب کرے جس سے وفاقی حکومت کے ساتھ براہ راست تصادم کا تاثر مضبوط ہو۔ سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی وقتی طور پر کارکنوں کو متحرک کر سکتی ہے، مگر اگر اس کے نتیجے میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان عملی تعاون متاثر ہو تو نقصان صوبے اور عوام کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسی طرح وفاقی حکومت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ صوبائی حکومت کے ساتھ سیاسی اختلاف کو انتظامی یا آئینی تصادم کی طرف نہ لے جائے۔ گورنر راج ایک غیر معمولی اقدام ہے اور اس حوالے سے کسی بھی فیصلے کے دور رس سیاسی اثرات ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اگر وفاق کے پاس صوبائی حکومت کے خلاف آئینی یا قانونی اعتراضات ہیں تو انہیں متعلقہ آئینی و قانونی فورمز پر واضح کرنا زیادہ مؤثر راستہ ہوگا۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق موجودہ بحران میں کسی ایک فریق کی سیاسی فتح سے زیادہ اہم ملک میں سیاسی اور آئینی استحکام ہے۔ اگر صوبائی حکومت اپنے سیاسی مطالبات کے لیے آئینی اور پارلیمانی راستہ اختیار کرتی ہے اور وفاق بھی سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔خیبرپختونخوا کے عوام اس وقت سیاسی نعروں سے زیادہ امن اور استحکام چاہتے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات نے پہلے ہی صوبے کے شہریوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ہزاروں خاندان بدامنی کے اثرات سے گزر چکے ہیں اور صوبے کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی کا مسئلہ آج بھی اہم ہے۔ ایسے حالات میں سیاسی بحران کو مزید بڑھانا عوامی مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی معاشی صورتحال ایسی نہیں کہ ملک طویل سیاسی محاذ آرائی کا متحمل ہو سکے۔ سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمی، روزگار اور حکومتی پالیسیوں کا تسلسل سیاسی استحکام سے جڑا ہوتا ہے۔ اگر مرکز اور صوبے کے درمیان مسلسل تصادم رہے تو اس کے اثرات انتظامی امور سے نکل کر معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔
اس لیے خیبرپختونخوا حکومت سے یہ توقع کی جانی چاہیے کہ وہ اپنے آئینی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مفاہمت اور مذاکرات کے راستے کو بھی کھلا رکھے۔ وفاقی حکومت کو کسی ایسے اقدام کی طرف جانے کے لیے مجبور کرنے والی صورتحال پیدا کرنا، جس سے ملک میں بدامنی یا ادارہ جاتی تصادم کا خدشہ بڑھ جائے، کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ اسی طرح وفاقی حکومت کو بھی یہ یقینی بنانا چاہیے کہ صوبے کے سیاسی مینڈیٹ اور آئینی اداروں کا احترام برقرار رہے اور کوئی بھی غیر معمولی قدم صرف واضح آئینی بنیاد اور ناگزیر ضرورت کی صورت میں زیر غور آئے۔سیاسی اختلافات کو ختم کرنا ممکن نہیں اور نہ ہی جمہوری نظام میں ان کا خاتمہ ضروری ہے۔ اصل ضرورت اختلافات کو برداشت کرنے اور انہیں آئینی دائرے میں حل کرنے کی ہے۔ وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت اگر ایک دوسرے کو سیاسی مخالف کے بجائے آئینی نظام کے دو حصوں کے طور پر دیکھیں تو موجودہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
گورنر، وزیراعلیٰ، صوبائی اسمبلی، وفاقی حکومت اور پارلیمان سب ریاستی و آئینی نظام کے اہم حصے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک ادارے کا کمزور ہونا پورے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں اداروں کے درمیان ٹکراؤ کے بجائے ادارہ جاتی رابطہ زیادہ ضروری ہے۔موجودہ بحران کا حل سڑکوں، دھمکیوں یا غیر معمولی اقدامات کے بجائے مذاکرات، پارلیمانی عمل اور آئینی فورمز میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ خیبرپختونخوا حکومت اگر اپنے سیاسی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے وفاق کے ساتھ بات چیت کا راستہ کھلا رکھتی ہے تو کشیدگی کو کم کرنے کی گنجائش موجود رہے گی۔ وفاقی حکومت بھی اگر سیاسی دباؤ کا جواب مزید سیاسی اور آئینی مکالمے سے دیتی ہے تو صورتحال کو کسی بڑے تصادم سے بچایا جا سکتا ہے۔تجزیہ بی این پی کے مطابق آج خیبرپختونخوا اور وفاق دونوں کے سامنے اصل چیلنج یہ نہیں کہ کون اپنے سیاسی مخالف کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرتا ہے، بلکہ اصل چیلنج یہ ہے کہ ملک کو مزید سیاسی اور انتظامی بے یقینی سے کیسے بچایا جائے۔ صوبے میں پہلے ہی امن و امان کے مسائل موجود ہیں اور عوام کسی نئے بحران کے متحمل نہیں ہو سکتے۔اس لیے موجودہ مرحلے پر دونوں حکومتوں کو اپنے اپنے سیاسی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ خیبرپختونخوا حکومت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو وفاقی حکومت کے ساتھ براہ راست تصادم کی فضا پیدا کریں، جبکہ وفاقی حکومت کو بھی ایسے فیصلوں سے احتراز کرنا چاہیے جو صوبے میں سیاسی عدم اعتماد اور عوامی بے چینی کو بڑھا دیں۔
ملک کو اس وقت تصادم نہیں، سیاسی استحکام درکار ہے؛ اداروں کے درمیان جنگ نہیں، آئینی تعاون درکار ہے؛ اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ کی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا کے موجودہ بحران سے نکلنے کا راستہ بھی یہی ہے کہ سیاسی قیادت اختلاف کو برقرار رکھتے ہوئے مکالمہ جاری رکھے اور ہر ایسا قدم سوچ سمجھ کر اٹھائے جس کے اثرات صرف ایک حکومت یا جماعت تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک پر پڑ سکتے ہیں۔
بالآخر سیاسی فیصلے وقتی طور پر کسی ایک فریق کے لیے فائدہ یا نقصان کا باعث بن سکتے ہیں، لیکن ریاستی اور آئینی بحران کے اثرات طویل عرصے تک محسوس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ ضرورت ذمہ دارانہ سیاسی طرز عمل، آئینی حدود کی پابندی اور باہمی مذاکرات کی ہے۔ خیبرپختونخوا ہو یا وفاق، کسی بھی فریق کے لیے یہ مناسب نہیں کہ سیاسی کشمکش کو اس مقام تک لے جایا جائے جہاں ملک میں بدامنی، ادارہ جاتی تصادم یا وسیع تر سیاسی بحران کا خطرہ پیدا ہو۔تجزیہ بی این پی کے مطابق، موجودہ حالات میں سب سے مؤثر سیاسی راستہ وہی ہوگا جو آئین، پارلیمان، مذاکرات اور عوامی مفاد کو مرکز میں رکھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More