jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

ملک میں گندم کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر اس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ناگزیر

بارانی علاقوں کے کاشتکار گندم کی بوائی کیلئے 40 تا50 کلوگرام فی ایکڑ بیج استعمال کریں ،محکمہ زراعت

مکو آ نہ (این این آئی)گندم ہماری خوراک کا بنیادی جزو ہے۔گندم خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کے معاشی استحکام کا باعث بھی بنتی ہے۔ غذائی تحفظ کی ضمانت کے پیش نظر اور مہنگائی خصوصا غذائی اجناس کے بڑھتے ہوئے رحجان کے تناظر میں گندم کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ ملک میں گندم کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر اس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب نے بارانی علاقوں کے کاشتکاروں کو گندم کی زیادہ پیداوار کیلئے محکمہ زراعت پنجاب کی منظور شدہ اقسام کاشت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس ضمن میں کاشتکارگندم کی زیادہ پیداوار کے لئیشیراز23-،عروج 22-،نشان 21-،ایم اے21-،مرکز19-،بارانی17-،فتح جنگ16- اورپاکستان13- کاشت کریں۔محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق بارانی علاقوں میں گندم کا وقت کاشت 15 اکتوبر تا15 نومبر ہے۔بارانی علاقوں کے کاشتکار گندم کی بوائی کیلئے 40 تا50 کلوگرام فی ایکڑ بیج استعمال کریں نیزبیج کے اگا کی شرح 85 فیصد سے کم نہیں ہونی چاہیے۔بصور ت دیگر شرح بیج میں مناسب اضافہ کرلینا چاہیے۔ گندم کی فصل کو مختلف بیماریوں مثلا کانگیاری، کرنال بنٹ، گندم کی بلاسٹ اور اکھیڑا وغیرہ کے تدارک کے لئے بیج کو کاشت سے پہلے تھائیوفنیٹ میتھائل بحساب دو تا اڑھائی گرام یا امیڈا کلوپرڈ + ٹیبوکونازول بحساب 2 ملی لیٹر فی کلوگرام بیج لگائیں۔ بہتر ہے کہ بیج کو زہر لگانے کے لئے گھومنے والا ڈرم استعمال کریں اگر یہ میسر نہ ہو تو پلاسٹک کی ایک بوری میں وزن شدہ بیج اور سفارش کردہ زہر ڈال کر بوری کا منہ باندھیں اوردونوں طرف سے پکڑ کر اچھی طرح ہلائیں تاکہ بیج کے ہر دانے کو زہر لگ جائے خیال رہے کہ بوری کو تقریبا آدھا بھرا جائے تاکہ دوائی اچھی طرح بیج کے ساتھ لگ سکے۔ کاشتکاربیج، کھاد اور زرعی زہروں و دیگر مداخل کے استعمال کے لئے مقدار کا تعین کرتے وقت اپنے کھیت کی پیمائش کو مدنظر رکھیں۔ گندم کی کاشت سے قبل عام ہل چلائیں اور سہاگہ دیں تاکہ اگنے والی جڑی بوٹیاں تلف ہو جائیں۔کاشتکار بوائی سے قبل دو مرتبہ عام ہل چلائیں اور بھاری سہاگہ دیں تاکہ وتر زمین کی اوپر والی تہہ میں آجائے اور بذریعہ ڈرل گندم کی کاشت یقینی بنائیں۔ گندم کی کاشت سے قبل ضرورت کے مطابق ہل چلا کر سہاگہ دیں تاکہ اگنے والی جڑی بوٹیاں تلف ہو سکیں اور زمین پر بھربھری مٹی کی تہہ بن جائے اور زمین کے اندر جذب ہونے والا پانی محفوظ رہ سکے۔بوائی سے پہلے دو مرتبہ عام ہل چلائیں اور بھاری سہاگہ دیں تاکہ وتر زمین کی اوپر والی تہہ میں آ جائے۔ گندم بذریعہ ڈرل کاشت کریں سفارش کردہ کھاد کی ساری مقدار بوائی سے پہلے زمین کی تیاری کے وقت ڈالیں۔ ڈرل کے ذریعہ کاشت اور بوائی کے وقت ڈالی جانے والی کھاد کے استعمال کی صورت میں کھادوں کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔ کھاد چونکہ پودوں کی جڑوں کے قریب گرتی ہے اور اس طرح فصل کھاد کا ہر دانہ استعمال کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ فصل کا اگا یکساں اور زیادہ ہوتا ہے۔ ڈرل سے کاشت کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ بیج زیادہ گہرائی تک نہیں جانا چاہیے کیونکہ اس طرح بیج دیر سے اگتا ہے اور شگوفے بھی کم بنتے ہیں۔ استعمال سے پہلے ایک دفعہ ڈرل مشین کی کیلی بریشن کر لیں یعنی اس کی بیج گرانے کی شرح کو جانچ لیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ بیج بکس میں بیج ڈالیں۔ ہر سید ٹیوب کے آگے پلاسٹک کا لفافہ چڑھا لیں۔ ڈرل کو ٹریکٹر کے ذریعے تھوڑا اوپر اٹھا کر اس طرح چلائیں کہ ڈرل کو گھمانے والا پہیہ زمین کے ساتھ لگ کر چلتا رہے اور بیج گر کر سید ٹیوبوں کے آگے لگے ہوئے لفافوں میں جمع ہوتا رہے۔ کچھ فاصلے پر جا کر ڈرل کو روک دیں اور لفافوں میں جمع شدہ بیج کا وزن کر لیں۔ ڈرل کی چوڑائی اور طے کردہ فاصلے کو ضرب دے کر رقبہ معلوم کر لیں۔ لفافوں سے حاصل شدہ بیج کے وزن کو اس رقبہ پر تقسیم کریں تو بیج کی شرح فی اکائی رقبہ معلوم ہو جائے گا اور پتہ چل جائے گاکہ یہ ڈرل ایک ایکڑ میں کتنا بیج گرائے گی۔ اس طرح سفارش کے مطابق بیج کی شرح کم یا زیادہ کرنے کے لئے ڈرل کی گیج کو ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔ کم بارش والے علاقوں(راجن پور،لیہ،ڈیرہ غازی خان،مظفرگڑھ،بھکر،میانوالی،جنڈ، پنڈی گھیب اور خوشاب کے بارانی علاقہ جات)میں بوائی سے قبل زمین کی تیاری کے وقت ایک بوری ڈی اے پی،ایک بوری یوریا اورآدھی بوری ایس او پی یا ایم او پی فی ایکڑ ڈالیں جب کہ درمیانی بارش والے علاقوں (چکوال،تلہ گنگ اور پنڈ دادن خان کے علاقہ جات)میں سوا بوری ڈی اے پی،سوا بوری یوریا اور آدھی بوری ایس او پی فی ایکڑ ڈالیں۔ زیادہ بارش والے علاقہ جات (راولپنڈی، اٹک، جہلم، ناروال، سوہاوہ،ناروال، گجرات، کھاریاں اور شکرگڑھ کے علاقہ جات) میں ڈیرھ بوری ڈی اے پی اورڈیرھ بوری یوریا اورایک بوری ایس او پی یا ایم او پی فی ایکڑ استعمال کریں۔ بارانی گندم کے کاشتکار جڑی بوٹیوں کی تلفی پر خصوصی توجہ دیں۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے فصلوں کا ادل بدل کریں۔ اگر تھوڑا رقبہ ہو تو فصل کے اگا کے بعد کھرپے یا کسولے سے خشک گوڈی کر کے فصل کو جڑی بوٹیوں سے پاک کیا جا سکتا ہے۔ یہ عمل کافی مثر ہے بشرطیکہ کاشتکار کے پاس افرادی قوت میسر ہو۔ جڑی بوٹیوں کے کیمیائی انسداد کے لئے محکمہ زراعت توسیع یا پیسٹ وارننگ کے عملہ کے مشورہ سے سفارش کردہ جڑی بوٹی مار زہروں کا استعمال کریں۔ زہر کے چھڑکا کے بعد جڑی بوٹیوں کو چارہ کے طور پر ہرگز استعمال نہ کریں۔ سپرے ہمیشہ مشین کی کیلیبریشن کر کے کریں، پانی کی مقدار 100 تا 120 لیٹر فی ایکڑ رکھیں۔ کسی جگہ دوہری سپرے نہ کریں اور نہ ہی کوئی جگہ خالی رہنے دیں۔ سپرے کے لئے مخصوص نوزل فلیٹ فین یا ٹی جیٹ استعمال کریں۔ تیز ہوا، دھند یا بارش میں سپرے نہ کریں۔ ترجیحا سپرے دھوپ میں کریں۔ ریتلے اور کلراٹھے علاقوں میں جڑی بوٹی مار زہروں کا استعمال احتیاط سے کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More