jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

عمران خان کا مینڈیٹ ہی پارٹی کے فیصلوں کی بنیاد ہے، علی امین گنڈاپور

صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار بھی عمران خان کی ہدایت کے بغیر استعمال نہیں کیا جاسکتا، لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی قیادت جو ہدایات دیگی، عمل کیا جائے گا

ڈیرہ اسماعیل خان (اے ایف بی)سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ عمران خان کا مینڈیٹ ہی پارٹی کے فیصلوں کی بنیاد ہے، خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار بھی بانی کی ہدایت کے بغیر استعمال نہیں کیا جاسکتا، لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی قیادت جو ہدایات دے گی، ان پر عمل کیا جائے گا۔ ایک انٹرویو میں علی امین گنڈاپور نے لانگ مارچ کے اخراجات سے متعلق سوال پر کہا کہ انہوں نے ماضی میں پارٹی کی احتجاجی سرگرمیوں اور لانگ مارچ کے لئے ذاتی وسائل بھی استعمال کئے، اس مقصد کے لئے قرضے لئے اور جائیدادیں تک فروخت کیں، انہوں نے کہا کہ انہیں اس وقت دکھ ہوا جب ان کی بہن علیمہ خان نے ان اخراجات سے متعلق طنزیہ انداز میں سوال کیا، حالانکہ وہ جانتی ہیں کہ میں نے پارٹی کیلئے مالی طور پر کتنا تعاون کیا ہے۔گنڈاپور کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر انہیں اپنا موقف درست ثابت کرنے کیلئے اہم دستاویزات بھی شیئر کرنا پڑیں۔لانگ مارچ کی تیاریوں کے بارے میں سابق وزیراعلی نے کہا کہ انہیں لوگوں کی تعداد کا درست اندازہ نہیں، تاہم عمران خان سے محبت رکھنے والے کارکن نکلیں گے اور جو انتظامی ذمہ داریاں دی گئی ہیں انہیں پورا کیا جائے گا۔انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد سے متعلق کہا کہ یہ میلہ بھی ہے، جھمیلا بھی ہے، پارٹی بھی ہے اور جنگ بھی ہے اور کوشش جاری رکھنا اور کارکنوں کو متحرک کرنا ان کا کام ہے، باقی نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔علی امین گنڈاپور نے پارٹی کے اندرونی معاملات اور بعض رہنماؤں سے متعلق سوالات پرجواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ وقت کے ساتھ بہت کچھ سیکھ چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انسان کو اپنے تجربے کے ساتھ دوسروں کے تجربات سے بھی سیکھنا چاہیے، تاہم بعض معاملات پر وہ فی الحال گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔عمران خان کی جانب سے انہیں دوبارہ پارٹی یا حکومت کی ذمہ داری دئیے جانے سے متعلق سوال پر گنڈاپور نے کہا کہ اس بارے میں نورین خان، عمران خان یا ملاقات کرنے والے افراد ہی جواب دے سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ انہیں خود اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں۔کی ممکنہ تحلیل کے سوال پر علی امین گنڈاپور نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسمبلی عمران خان کے مینڈیٹ پر قائم ہے اور ان کی ہدایت کے بغیر اسے تحلیل نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے اپنے سابق دور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ کی منظوری کے معاملے پر بھی انہوں نے عمران خان کے مینڈیٹ کو مقدم رکھا تھا۔سابق وزیراعلی نے خیبرپختونخوا کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو دہشت گردی، امن و امان اور وسائل سمیت متعدد مسائل کا سامنا ہے افغانستان سے متصل طویل سرحد اور مختلف اضلاع میں سکیورٹی مسائل کے باعث صوبے کے عوام کے جذبات دیگر علاقوں سے مختلف ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کو زخمی اور قربانیاں دینے والے عوام کے جذبات کو سمجھنا چاہیے۔مولانا فضل الرحمان سے سیاسی تعاون کے معاملے پر علی امین گنڈاپور نے کہا کہ انہیں مولانا سے تعاون لینے پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم ان کا موقف ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمان کا اپنا مفاد نہ ہو تو وہ کسی دوسرے کیلئے بھی تعاون نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں انہوں نے اس معاملے پر اپنا موقف پیش کیا ہے۔گنڈاپور نے ہا کہ پارٹی کے اندر بعض ایسے عناصر موجود ہیں جو ان کے خلاف ہیں، تاہم انہوں نے اسے پارٹی کے اندرونی معاملات قرار دیتے ہوئے مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا۔لانگ مارچ کے مستقبل اور پارٹی قیادت کے فیصلوں کے بارے میں سابق وزیراعلی کا کہنا تھا کہ جن رہنماؤں کو عمران خان نے ذمہ داری دی ہے، وہ جو فیصلہ کریں گے، کارکن اس کے پابند ہوں گے۔ پارٹی کا مینڈیٹ عمران خان کے پاس ہے اور ان کے فیصلے ہی حتمی سمت متعین کریں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More