jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

حکومت اوراپوزیشن مذاکرات کی ناکامی، سیاسی مفاہمت کا راستہ پھر بھی کھلا ہے

تجزیہ بی این پی
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طویل عرصے بعد مذاکرات کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا، اس سے پیدا ہونے والی امیدوں کا اچانک دم توڑ دینا بلاشبہ ایک افسوس ناک سیاسی پیش رفت ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی نے خلوصِ نیت کے ساتھ بات چیت کی اور تقریباً 99 فیصد معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو چکا تھا، جبکہ ایک دو نکات پر اختلاف باقی تھا۔ ان کے بقول مذاکرات کے نتیجے میں ایک قابلِ عمل معاہدہ بھی تیار کر لیا گیا تھا جسے صدرِ مملکت اور وزیراعظم کے سامنے پیش کرنے کے لیے پیش رفت کی گئی، مگر بعد ازاں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نئی شرائط سامنے آنے کے باعث یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم کی رکن سینیٹر شیری رحمان کا بھی کہنا ہے کہ رات ساڑھے آٹھ بجے تک تقریباً تمام معاملات طے پا چکے تھے، تاہم اس کے بعد پشاور حکومت کی طرف سے نئی شرائط عائد ہونا مذاکراتی عمل کے لیے رکاوٹ بن گیا۔
یہ صورتحال اس لیے زیادہ تشویش ناک ہے کہ مذاکرات کسی معمول کے سیاسی ماحول میں نہیں ہو رہے تھے۔ ملک پہلے ہی سیاسی بے یقینی، احتجاجی سرگرمیوں، باہمی عدم اعتماد اور سکیورٹی کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہِ راست بات چیت کا آغاز بذاتِ خود ایک مثبت پیش رفت تھی۔ اگر یہ مذاکرات کسی باقاعدہ اتفاق رائے تک پہنچ جاتے تو نہ صرف سیاسی کشیدگی میں کمی آتی بلکہ ریاستی اداروں، سیاسی جماعتوں اور عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے بھی ایک اہم بنیاد فراہم ہوتی۔ بالخصوص ایسے وقت میں جب پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے خدشات موجود تھے، سیاسی قیادت اگر سڑک کے بجائے میز پر بیٹھ کر مسائل حل کرنے کا راستہ اختیار کرتی تو یہ جمہوری نظام کے لیے ایک مضبوط اور قابلِ تقلید مثال بنتی۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کو محض ایک فریق کی سیاسی فتح یا دوسرے فریق کی شکست قرار دینا مسئلے کی اصل نوعیت کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ مذاکرات میں اختلافات کا پیدا ہونا معمول کی بات ہے، لیکن اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب فریقین کسی ایک یا چند نکات پر متفق نہ ہوں۔ سیاسی دانش مندی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ بنیادی اتفاق رائے کو برقرار رکھتے ہوئے متنازع نکات پر مزید غور کیا جائے، ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھا جائے اور درمیانی راستہ تلاش کیا جائے۔ اگر 99 فیصد امور پر اتفاق ہو چکا تھا تو باقی ایک فیصد اختلاف کو مذاکرات کے خاتمے کی وجہ بنانا سیاسی عمل کے لیے یقیناً حوصلہ افزا مثال نہیں۔ اختلاف کو مذاکرات ختم کرنے کے بجائے مذاکرات جاری رکھنے کی وجہ بننا چاہیے۔
حکومت کی جانب سے جو نکات سامنے آئے ہیں، ان میں قومی سلامتی اور ریاستی ذمہ داری کا پہلو بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ خیبر پختونخوا اس وقت دہشت گردی سے شدید متاثر ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مسلسل دہشت گرد حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملک کے محافظوں پر حملے کسی سیاسی جماعت، حکومت یا صوبے کا داخلی معاملہ نہیں رہتے بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بن جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں وفاق اور صوبے کے درمیان مکمل تعاون، مربوط حکمت عملی اور واضح سیاسی مؤقف ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کا ابہام دشمن عناصر کے لیے حوصلہ افزائی کا سبب بن سکتا ہے۔

یہاں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور اس کی اعلیٰ قیادت کے لیے بھی ایک اہم سوال موجود ہے۔ اگر خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افواج کے اہلکار دہشت گردوں کے حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں تو صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری یہی بنتی ہے کہ وہ ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی ہو، دہشت گردی کی واضح اور دوٹوک مذمت کرے اور اپنے انتظامی دائر? اختیار میں امن و امان کے قیام کے لیے وفاق کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن قومی سلامتی کے معاملات پر ریاستی مؤقف میں ابہام کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
افغانستان کے حوالے سے بھی پاکستان کو ایک واضح، حقیقت پسندانہ اور قومی مفاد پر مبنی پالیسی کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ اگر افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر کو سہولت مل رہی ہے تو اس معاملے کو محض سیاسی اختلاف کی عینک سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو اس امر پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں انسانی، تاریخی اور برادرانہ پہلو اپنی جگہ، لیکن پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ افغان پالیسی کو جذبات کے بجائے قومی سلامتی، باہمی احترام اور دوطرفہ ذمہ داریوں کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا حکومت کو یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ صوبائی حکومت محض احتجاجی سیاست کا پلیٹ فارم نہیں ہوتی۔ اسے صوبے کے کروڑوں شہریوں کو امن، انتظام، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہوتی ہیں۔ اگر صوبائی حکومت ایک طرف وفاق کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی میں مصروف ہو اور دوسری طرف صوبہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہو تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو پہنچتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی اصل کامیابی اس میں نہیں کہ وہ کتنے بڑے اجتماعات منعقد کر سکتی ہیں یا کتنے افراد کو سڑکوں پر لا سکتی ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل اور جمہوری اداروں کے استحکام میں کس قدر کردار ادا کرتی ہیں۔
یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت میں مذاکرات کے لیے آمادگی پیدا ہوئی اور بیرسٹر گوہر کی جانب سے بات چیت کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی۔ یہی وہ پہلو ہے جسے مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایک طرف پارٹی کی مذاکراتی کمیٹی حکومت کے ساتھ بیٹھ رہی ہو اور دوسری طرف صوبائی سطح پر ایسے اقدامات سامنے آئیں جو مذاکراتی عمل کو کمزور کریں تو اس سے سیاسی حکمت عملی میں تضاد پیدا ہوتا ہے۔ ایک بڑی سیاسی جماعت کے لیے ضروری ہے کہ اس کے مرکزی اور صوبائی سیاسی مؤقف میں کم از کم قومی معاملات پر ہم آہنگی موجود ہو۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق موجودہ صورتحال میں حکومت کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ مذاکرات کی ناکامی کو آخری باب نہ بننے دے۔ سیاسی مفاہمت صرف اپوزیشن کی ضرورت نہیں بلکہ حکومت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کو ریاستی نظم و نسق، معاشی استحکام اور امن و امان کے لیے ایک نسبتاً پرسکون سیاسی ماحول درکار ہوتا ہے۔ اگر سیاسی کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات معیشت، سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی اعتماد تک پہنچتے ہیں۔ اس لیے حکومت کو اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے چاہئیں۔
دوسری جانب اپوزیشن کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ احتجاج جمہوری حق ضرور ہے، مگر احتجاج اور مذاکرات ایک دوسرے کی ضد نہیں ہونے چاہئیں۔ جمہوری نظام میں حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے احتجاج کیا جا سکتا ہے، لیکن جب مذاکرات کا راستہ کھل جائے تو اسے نتیجہ خیز بنانے کے لیے سنجیدگی، تحمل اور لچک کا مظاہرہ بھی ضروری ہوتا ہے۔ مطالبات منوانے کے لیے طاقت کا مظاہرہ وقتی سیاسی فائدہ دے سکتا ہے، لیکن دیرپا سیاسی کامیابی وہی جماعت حاصل کرتی ہے جو اپنے مخالفین کے ساتھ بیٹھنے، اختلاف سننے اور قابلِ قبول حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
یہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے کہ سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت اگر اپوزیشن کو مکمل طور پر نظرانداز کرے گی تو سیاسی خلیج وسیع ہوگی، اور اپوزیشن اگر ہر معاملے کا جواب احتجاج اور تصادم سے دے گی تو نظام میں عدم استحکام بڑھے گا۔ دونوں صورتوں میں نقصان ریاست اور عوام کا ہوگا۔ سیاسی عمل کی خوبصورتی ہی یہ ہے کہ شدید اختلاف کے باوجود بات چیت کا راستہ بند نہیں ہوتا۔
موجودہ مذاکراتی عمل کی ناکامی کے باوجود ایک اہم حقیقت سامنے آئی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت ممکن ہے۔ دونوں طرف کے نمائندے ایک میز پر بیٹھ سکتے ہیں، مشکل معاملات پر گفتگو کر سکتے ہیں اور بڑی تعداد میں نکات پر اتفاق بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ اس تجربے کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ اگر 99 فیصد امور پر اتفاق کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے تو باقی معاملات بھی سیاسی تدبر سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ اصل ضرورت اعتماد سازی کے ایسے ماحول کی ہے جس میں فریقین ایک دوسرے کے ارادوں پر مسلسل شک کرنے کے بجائے طے شدہ نکات کو آگے بڑھانے پر توجہ دیں۔
حکومت کو چاہیے کہ قومی سلامتی، دہشت گردی اور ریاستی رٹ سے متعلق اپنے مؤقف پر واضح اور مضبوط رہے، لیکن سیاسی اختلافات کے حل کے لیے نرم اور کشادہ رویہ اختیار کرے۔ اسی طرح تحریک انصاف کو بھی چاہیے کہ وہ احتجاجی سیاست کے ساتھ ساتھ پارلیمانی اور مذاکراتی راستے کو ترجیح دے، خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے وفاقی اداروں کے ساتھ تعاون کرے اور دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ افغانستان کے معاملے پر بھی قومی سلامتی کے تقاضوں کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔
مذاکرات کی ناکامی یقیناً ایک ضائع شدہ موقع ہے، لیکن اسے مستقل سیاسی تعطل کا عنوان نہیں بننا چاہیے۔ سیاست میں کوئی دروازہ ہمیشہ کے لیے بند نہیں ہوتا، بشرطیکہ فریقین دوبارہ دستک دینے پر آمادہ ہوں۔ موجودہ حالات میں ملک کو مزید تصادم، دھرنوں اور محاذ آرائی کے بجائے سیاسی استحکام، معاشی تسلسل اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنا چاہیے۔
سیاسی قیادت کے لیے اصل کامیابی مخالف کو شکست دینا نہیں بلکہ اختلاف کے باوجود ایسا راستہ نکالنا ہے جس سے ریاست مضبوط، جمہوریت مستحکم اور عوام مطمئن ہوں۔ احتجاج کا راستہ آئینی حق ہے، مگر قومی بحرانوں کا پائیدار حل مکالمے ہی سے نکلتا ہے۔ اس لیے موجودہ ناکامی کو مذاکرات کے اختتام کے بجائے ایک وقفہ سمجھا جائے۔ حکومت اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے بات چیت کی پیشکش برقرار رکھے اور اپوزیشن احتجاج کے بجائے مذاکرات کو اپنی ترجیح بنائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو سیاسی کشیدگی کو کم، قومی سلامتی کو مضبوط اور ملک کو بے یقینی کے موجودہ ماحول سے نکال سکتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت محاذ آرائی سے زیادہ مفاہمت، نعروں سے زیادہ سنجیدہ مکالمے اور سیاسی طاقت کے مظاہرے سے زیادہ قومی ذمہ داری کی ضرورت ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More