jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

بتایا جائے پی ٹی آئی وفد کے سامنے رکھے گئے مطالبات میں سے کونسا غیر آئینی تھا طارق فضل

مذاکرات میں پی ٹی آئی وفد کے پاس مینڈیٹ نہیں تھا، سہیل آفریدی خود یا کوئی صوبائی نمائندہ مذاکرات میں شامل ہوتا تو بہتر تھا، وفاقی وزیر کی گفتگو

اسلام آباد(اے ایف بی) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہیکہ پی ٹی آئی وفد کے سامنے رکھے گئے مطالبات سے متعلق بتایا جائے کہ ان میں سے کونسا مطالبہ غیر آئینی یا بس سے باہر ہے؟۔اپنے ایک بیان میں طارق فضل نے کہا کہ پہلا مطالبہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دہشتگردوں کی مذمت کرنا تھا، دوسرا مطالبہ صوبے میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ اور تیسرا افغانستان سے متعلق خارجہ پالیسی پر عمل درآمد تھا۔وفاقی وزیر نے مزید کہا چوتھا مطالبہ افغان مہاجرین کی واپسی، پانچواں مطالبہ کے پی پولیس ایکٹ پر نظرثانی، چھٹا مطالبہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں افواج کے ساتھ تعاون اور ساتواں مطالبہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل درآمد کرنا تھا۔طارق فضل کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں پی ٹی آئی وفد کے پاس مینڈیٹ نہیں تھا، سہیل آفریدی خود یا کوئی صوبائی نمائندہ مذاکرات میں شامل ہوتا تو بہتر تھا،اصل مقصد لانگ مارچ روکنا نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More