کوئٹہ (نمائندہ خصوصی):
حکومتی سبسڈی سکیم کے نفاذ کے دوران بجلی صارفین کے لیے ایک نئی خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ پاور ڈویژن نے تصدیق کی ہے کہ بجلی کے بلوں پر موجود QR کوڈ کی آڑ میں ہیکرز اور جرائم پیشہ عناصر صارفین کی ذاتی معلومات (CNIC، موبائل نمبر، بینک اکاؤنٹ وغیرہ) چوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق صارفین کو واٹس ایپ، سوشل میڈیا اور جعلی لنکس کے ذریعے سبسڈی حاصل کرنے کا لالچ دیا جا رہا ہے، جبکہ اصل QR کوڈ صرف بجلی بل پر موجود ہونا چاہیے۔
واقعہ کی تفصیلات
پاور ڈویژن نے ایک سرکاری ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کچھ عناصر حکومتی سبسڈی سکیم (Cross Subsidy Program 2026) کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صارفین کو جعلی لنکس بھیج رہے ہیں۔ ان لنکس پر چار مراحل میں ذاتی معلومات درج کرنے کے بعد 6 ہندسوں والا OTP کوڈ مانگا جاتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ:
سبسڈی کی تصدیق کے لیے صرف بل پر موجود QR کوڈ ہی استعمال کیا جائے۔
بل کے علاوہ کسی اور پلیٹ فارم، واٹس ایپ لنک یا کاغذ پر معلومات درج نہ کی جائیں۔
معلومات درج کرنے کا جو طریقہ کار جعلی لنکس پر استعمال ہو رہا ہے وہ غیر قانونی اور خطرناک ہے۔
ادارے نے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں (FIA سائبر ونگ سمیت) کو جرائم پیشہ عناصر کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔
حکومتی سبسڈی سکیم کیا ہے؟
مئی 2026 سے پاور ڈویژن نے بجلی بلوں پر QR کوڈ سسٹم متعارف کرایا ہے۔ اس کا مقصد شفافیت لانا اور سبسڈی صرف مستحق صارفین (خاص طور پر 200 یونٹس سے کم استعمال کرنے والوں) تک پہنچانا ہے۔ صارفین کو بل پر موجود QR کوڈ اسکین کر کے آفیشل پورٹل (css.pitc.com.pk) پر رجسٹریشن کروانی ہوتی ہے۔
تاہم، اس سہولت کا غلط استعمال کرتے ہوئے فراڈی عناصر فعال ہو گئے ہیں۔ وہ جعلی QR کوڈز یا لنکس بھیج کر صارفین کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
صارفین کے لیے اہم ہدایات
پاور ڈویژن نے صارفین کو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے:
صرف اپنے بجلی بل پر پرنٹ شدہ QR کوڈ ہی اسکین کریں۔
کوئی بھی واٹس ایپ لنک، SMS لنک یا سوشل میڈیا پوسٹ پر کلک نہ کریں۔
ذاتی معلومات (CNIC، فون نمبر، بینک تفصیلات) کسی بھی غیر آفیشل پلیٹ فارم پر شیئر نہ کریں۔
شک کی صورت میں اپنی بجلی کمپنی (LESCO، QESCO، MEPCO وغیرہ) کی آفیشل ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔
سبسڈی کے لیے کوئی بھی فیس یا چارج ادا نہ کریں — یہ مکمل طور پر مفت ہے۔
ماہرین کی رائے
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک کلاسک فشنگ اسکیم ہے جو حالیہ حکومتی ڈیجیٹل اقدامات کے ساتھ منسلک کر کے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ FIA سائبر کرائم ونگ نے ایسے متعدد کیسز رپورٹ کیے ہیں جن میں صارفین کے اکاؤنٹس ہیک ہوئے۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جہاں ڈیجیٹل آگاہی کم ہے، اس خطرے کا امکان زیادہ ہے۔ صوبائی حکومت کو بھی اس حوالے سے مزید آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔
نتیجہ
حکومت کی طرف سے سبسڈی کا شفاف نظام متعارف کروانا ایک مثبت اقدام ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ صارفین کی حفاظت بھی یقینی بنانا لازمی ہے۔ پاور ڈویژن کی ایڈوائزری ایک بروقت انتباہ ہے۔
روزنامہ جہان امروز کوئٹہ کا مؤقف ہے کہ بجلی صارفین کو انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔ حکومت کو بھی سائبر فراڈ کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے صارفین کو مکمل تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔ اگر آپ کو شک ہو تو فوری طور پر اپنی بجلی کمپنی سے رابطہ کریں اور جعلی لنکس کی اطلاع دیں۔
