تجزیہ بی این پی
ملک میں مہنگائی کی حالیہ صورتحال ایک مرتبہ پھر اس امر کی متقاضی ہے کہ حکومت، متعلقہ ادارے اور انتظامیہ قیمتوں میں اضافے کے اسباب کا محض جائزہ لینے تک محدود نہ رہیں بلکہ عوام کو حقیقی اور دیرپا ریلیف فراہم کرنے کیلئے ٹھوس، مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات کو یقینی بنائیں۔ رواں مالی سال کے دوسرے ماہ اگست کے پہلے ہفتے میں مہنگائی کی رفتار میں 0.28 فیصد اضافہ اور سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 9.29 فیصد تک پہنچ جانا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے رجحان کو سنجیدگی سے دیکھا جائے۔ بلاشبہ ایک ہفتے یا ایک ماہ کے اعداد و شمار سے معیشت کی مجموعی سمت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، تاہم عام آدمی کیلئے مہنگائی کی معمولی سی لہر بھی غیر معمولی مشکلات پیدا کر دیتی ہے، کیونکہ اس کی آمدنی محدود اور اخراجات پہلے ہی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 20 ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جن میں چکن کی قیمت 9.19 فیصد اور پیاز کی قیمت 10.14 فیصد بڑھنا خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ دال چنا، سرخ مرچ، چائے کی پتی، آٹا اور گھی سمیت دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار محض ایک معاشی رپورٹ کا حصہ نہیں بلکہ عام شہری کی روزمرہ زندگی کی حقیقی تصویر ہیں۔ جس گھرانے کی آمدنی پہلے ہی محدود ہو، اس کیلئے آٹے، دال، گھی، سبزی اور گوشت جیسی بنیادی اشیا کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ماہانہ بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ جب اسی بجٹ سے بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، سفری اخراجات اور دیگر ضروریات بھی پوری کرنا ہوں تو زندگی کے معاملات مزید دشوار ہو جاتے ہیں۔
مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ ہمیشہ کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ صاحبِ ثروت طبقہ قیمتوں میں اضافے کا کچھ نہ کچھ بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن ایک دیہاڑی دار مزدور، معمولی تنخواہ دار ملازم، چھوٹا دکاندار یا محدود وسائل رکھنے والا خاندان جب روزمرہ اشیائے ضروریہ خریدنے بازار کا رخ کرتا ہے تو اسے ہر بڑھتی ہوئی قیمت اپنے بجٹ میں ایک نئی کمی کی صورت میں محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی کو محض ایک شماریاتی مسئلہ سمجھنا درست نہیں۔ یہ براہِ راست عوام کی قوتِ خرید، معیارِ زندگی اور معاشرتی سکون سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔
ملک میں معاشی استحکام کیلئے حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے، صنعتی سرگرمیوں میں بہتری اور معاشی اصلاحات کے دعوے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن معاشی پالیسی کا حقیقی امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اس کے اثرات عام شہری کی زندگی میں محسوس ہوں۔ اگر مجموعی معاشی اشاریے بہتر ہونے کے باوجود عام آدمی کیلئے روزمرہ ضروریات کی خریداری مشکل ہوتی جائے تو معاشی ترقی کا فائدہ معاشرے کے وسیع طبقے تک نہیں پہنچ پاتا۔ اس لیے معاشی استحکام کے ساتھ عوامی ریلیف کو بھی حکومتی پالیسی کا بنیادی مقصد بنانا ہوگا۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق مہنگائی سے نمٹنے کیلئے سب سے پہلے ان عوامل کا تعین ضروری ہے جو قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ ہر شے کی قیمت میں اضافے کی وجہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض اشیا کی قیمتیں موسمی حالات، بعض طلب و رسد، بعض ٹرانسپورٹ اور توانائی کے اخراجات جبکہ بعض مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی وجہ سے بڑھتی ہیں۔ اگر حکومت ہر شعبے کے مسئلے کی نوعیت الگ الگ سمجھ کر اس کے مطابق حکمت عملی اختیار کرے تو قیمتوں پر زیادہ مؤثر انداز میں قابو پایا جا سکتا ہے۔
اشیائے خورونوش کی قیمتوں کا تعلق بنیادی طور پر پیداوار اور رسد کے نظام سے ہے۔ زرعی پیداوار میں کمی، موسمی حالات، پانی کی قلت، کھاد اور بیج کی قیمت، بجلی اور ایندھن کے اخراجات، مزدوری، ٹرانسپورٹ اور ذخیرہ کاری کی سہولتیں سب مل کر اشیا کی حتمی قیمت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اگر کسی علاقے میں پیداوار زیادہ ہو مگر اسے بروقت دوسرے علاقوں تک منتقل نہ کیا جا سکے تو ایک طرف کسان کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور دوسری طرف صارف کو مہنگی اشیا خریدنا پڑتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں ایک مربوط اور مؤثر سپلائی چین کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
ان دنوں ٹرکوں کی ہڑتال کے باعث اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ اگر سپلائی کا یہ سلسلہ زیادہ عرصے تک متاثر رہا تو منڈی میں اشیا کی دستیابی کم ہونے اور قیمتوں میں اضافے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ کو ایسے تمام عوامل کا فوری تدارک کرنا چاہیے جو خوراک اور ضروری اشیا کی ترسیل میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ عام آدمی پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ میں ہے، اس لیے کسی بھی اضافی مصنوعی بحران کا بوجھ اس پر ڈالنا مناسب نہیں ہوگا۔
صرف سرکاری نرخ مقرر کر دینا بھی مہنگائی کا مستقل حل نہیں۔ نرخ نامہ جاری کرنا اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن اصل ضرورت اس پر عملدرآمد کی ہے۔ اگر حکومت ایک قیمت مقرر کرے اور بازار میں صارف کو اس سے کہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے تو سرکاری نرخ کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے مارکیٹ مانیٹرنگ کے نظام کو فعال اور مؤثر بنانا ہوگا۔ انتظامیہ کو محض جرمانے عائد کرنے یا چند کارروائیوں کی خبریں جاری کرنے کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کہاں سے شروع ہوا اور اس کے پیچھے اصل محرک کیا ہے۔
ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف بھی مستقل بنیادوں پر کارروائی کی ضرورت ہے۔ مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتیں بڑھانے والے عناصر کسی بھی صورت میں عوامی مفاد کے ساتھ کھلواڑ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ حکومت کو ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنی چاہیے، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر کاروباری شخص کو محض شک کی بنیاد پر موردِ الزام نہ ٹھہرایا جائے۔ قیمتوں کے تعین، پیداواری لاگت اور منڈی کے حقیقی حالات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لے کر ہی کسی نتیجے تک پہنچنا زیادہ مؤثر اور منصفانہ طریقہ ہوگا۔
اسی تناظر میں پیداواری لاگت اور صارف قیمت کے درمیان فرق کا جائزہ بھی ناگزیر ہے۔ اگر کسان کو اپنی فصل کی مناسب قیمت نہیں ملتی لیکن وہی پیداوار صارف کو کئی گنا زیادہ نرخ پر دستیاب ہوتی ہے تو اس پورے سلسلے میں کہیں نہ کہیں ایک بنیادی خرابی موجود ہے۔ کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ ملنا چاہیے تاکہ وہ زرعی پیداوار جاری رکھنے اور بڑھانے پر آمادہ رہے، جبکہ صارف کو بھی غیر ضروری اضافی بوجھ سے محفوظ رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس کیلئے منڈیوں میں شفافیت، براہِ راست خرید و فروخت، جدید ذخیرہ کاری اور غیر ضروری واسطوں میں کمی کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔
طویل المدتی بنیادوں پر زرعی شعبے کو مضبوط کیے بغیر مہنگائی پر مستقل قابو پانا مشکل ہوگا۔ پاکستان کے پاس وسیع زرعی وسائل موجود ہیں، لیکن پیداوار میں اضافے کیلئے جدید ٹیکنالوجی، معیاری بیج، مناسب زرعی قرضوں، پانی کے مؤثر استعمال اور کسانوں کی جدید تربیت کی ضرورت ہے۔ سبزیوں، پھلوں اور دیگر جلد خراب ہونے والی اشیا کیلئے کولڈ اسٹوریج اور جدید گوداموں کا وسیع نیٹ ورک بھی ناگزیر ہے۔ اگر فصل کی پیداوار کے بعد مناسب ذخیرہ کاری نہ ہو تو کسان کو نقصان اور صارف کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کا مستقل حل ایک مربوط زرعی و غذائی پالیسی میں پوشیدہ ہے۔
مہنگائی کے مسئلے کا تعلق صرف قیمتوں سے نہیں بلکہ آمدنی اور روزگار سے بھی ہے۔ اگر کسی شخص کی آمدنی میں اضافہ قیمتوں کے اضافے کی رفتار سے کم ہو جائے تو اس کی حقیقی قوتِ خرید مسلسل گھٹتی رہتی ہے۔ نتیجتاً وہ اپنی ضروریات محدود کرنے، معیارِ زندگی پر سمجھوتہ کرنے یا قرض لینے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ یہی صورتحال وقت گزرنے کے ساتھ معاشی دباؤ کو سماجی بے چینی میں تبدیل کر سکتی ہے۔ اس لیے حکومت کو قیمتوں کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع، اجرتوں، ہنرمندی اور چھوٹے کاروباروں کے فروغ پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں کے حوالے سے عوام کو بروقت اور واضح معلومات فراہم کرنی چاہئیں۔ شفافیت اور مؤثر ابلاغ عوامی اعتماد کو مضبوط بناتے ہیں۔ اگر شہری کو معلوم ہو کہ کسی شے کی قیمت میں اضافہ کیوں ہوا، حکومت اس کے تدارک کیلئے کیا کر رہی ہے اور نتائج کب تک متوقع ہیں تو معاشی مشکلات کے باوجود اعتماد کی فضا قائم رہ سکتی ہے۔ اس کے برعکس صرف اعداد و شمار جاری کرنا اور زمینی حقائق کی وضاحت نہ کرنا عوامی تشویش کو کم نہیں کرتا۔
تجزیہ بی این پی یہ واضح کرتا ہے کہ مہنگائی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ، کسانوں، تاجروں اور صارفین سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کو ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں پیداوار بڑھے، کاروباری سرگرمیاں آسان ہوں، منڈی میں شفافیت اور مسابقت برقرار رہے، مصنوعی قلت کا راستہ روکا جائے اور صارف کو مناسب قیمت پر معیاری اشیا دستیاب ہوں۔ اس مقصد کیلئے قلیل مدتی ریلیف اور طویل المدتی اصلاحات دونوں ضروری ہیں۔
مہنگائی کی شرح میں حالیہ اضافہ بلاشبہ توجہ طلب ہے، لیکن اسے مایوسی کی علامت بنانے کے بجائے اصلاح اور بہتری کے ایک موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ حکومت اگر قیمتوں کے اسباب تک پہنچنے، سپلائی چین بہتر بنانے، زرعی پیداوار بڑھانے، ذخیرہ اندوزی روکنے اور عوام کی قوتِ خرید میں اضافے کیلئے مستقل مزاجی کے ساتھ اقدامات کرے تو موجودہ مشکلات میں بتدریج کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی معاشی مفاد کو ترجیح دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی حکومت کی معاشی کامیابی کا اصل پیمانہ محض بڑے معاشی اعداد و شمار نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی میں آنے والی آسانی ہے۔ جب ایک مزدور اپنے بچوں کیلئے مناسب خوراک خرید سکے، ایک متوسط ملازم بجلی کا بل ادا کرنے کے بعد گھر کے دیگر اخراجات بھی پورے کر سکے، ایک کسان اپنی پیداوار کی مناسب قیمت حاصل کر سکے اور ایک عام شہری مستقبل کے حوالے سے معاشی تحفظ محسوس کرے تو اسے حقیقی معاشی استحکام کہا جا سکتا ہے۔
مہنگائی ایک سنگین چیلنج ضرور ہے، مگر ناقابلِ حل مسئلہ نہیں۔ مضبوط منصوبہ بندی، بہتر پیداوار، شفاف منڈی، مؤثر نگرانی، مناسب ذخیرہ کاری، بہتر ترسیلی نظام اور عوام دوست معاشی پالیسی کے ذریعے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ حکومت مہنگائی کو محض ایک ہفتہ وار یا ماہانہ شماریاتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے عوام کی زندگی سے جڑا ہوا بنیادی مسئلہ تصور کرے۔ وقتی اقدامات کے ساتھ مستقل اصلاحات کا راستہ اختیار کیا جائے تو نہ صرف قیمتوں کے بے قابو ہونے کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال کیا جا سکتا ہے۔ یہی معاشی نظم و ضبط، عوامی ریلیف اور پائیدار خوشحالی کی وہ متوازن سمت ہے جس کی ملک کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- حکومت تمام سیاسی و جمہوری قوتوں کو ساتھ لے کر صوبے کی ترقی ،عوام کی خوشحالی کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے گی،وزیر اعلیٰ بلوچستان
- گورنر بلوچستان نیویارک میں منعقدہ یوتھ اینڈ آرٹیفیشل انٹلیجنس سمٹ میں پاکستان اور بلوچستان کے نوجوانوں کی نمائندگی کریں گے
- مکہ دفاعی معاہدہ: امن، سلامتی اور باہمی تعاون کا نیا باب
- پاکستان ترکی،سعودی عرب مکہ دفاعی معاہدہ۔مسلم دنیا کے اتحاد کی نئی بنیاد یا ایک نئے عہد کا آغاز
- مہنگائی پر قابو پانے کیلئے مؤثر حکمتِ عملی ناگزیر
- پاکستان بھر ڈینگی کا بڑھتا خطرہ اور ہماری ذمہ داریاں
- گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال، مہنگائی کے نئے طوفان کا خدشہ
- پنجاب میں غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی، قانون کی بالادستی کی جانب اہم قدم
- کپاس کی بحالی اور پنجاب کی متوازن ترقی
- مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت سے آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی: رانا ثناء اللہ