jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

پاکستان بھر ڈینگی کا بڑھتا خطرہ اور ہماری ذمہ داریاں

تجزیہ بی این پی
مون سون کی بارشیں جہاں موسم کی شدت میں کمی کا باعث بنتی اور خشک سالی کے امکانات کم کرتی ہیں، وہیں ان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال بعض اوقات صحت عامہ کے لیے سنگین مسائل بھی جنم دیتی ہے۔ بارش کے پانی کا جگہ جگہ جمع ہونا، نکاسی? آب کے ناقص انتظامات، صفائی کے مسائل اور مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول ایسے عوامل ہیں جو ڈینگی سمیت مختلف وبائی امراض کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔ موجودہ مون سون کے دوران ملک کے مختلف علاقوں سے ڈینگی کے ممکنہ خطرے کی اطلاعات سامنے آنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ متعلقہ ادارے کسی بڑے بحران کا انتظار کرنے کے بجائے ابھی سے مؤثر اور مربوط اقدامات کریں۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں مون سون کے آغاز سے اب تک متعدد مقامات پر ڈینگی لاروا کی موجودگی کی نشاندہی ہو چکی ہے اور ایسے کئی مقامات کے خلاف کارروائی بھی کی گئی ہے، جبکہ لاہور میں بھی ہزاروں ڈینگی ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پنجاب کے دیگر علاقوں کے علاوہ خیبر پختونخوا میں بھی ڈینگی کے کیسز سامنے آنا اس بات کی علامت ہے کہ حالیہ بارشوں کے بعد مچھروں کی افزائش کے لیے حالات سازگار ہوئے ہیں۔ اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو آنے والے دنوں میں ڈینگی کے کیسز میں اضافے کا امکان نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ڈینگی کا خطرہ ہر سال مون سون کے دوران ہمارے سامنے آتا ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ہماری حکمت عملی اب بھی بڑی حد تک ردعمل پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔ جب مریضوں کی تعداد بڑھتی ہے، ہسپتالوں پر دباؤ آتا ہے اور عوام میں تشویش پیدا ہوتی ہے تو بڑے پیمانے پر مہمات شروع کر دی جاتی ہیں، لیکن اس مرحلے تک پہنچنے سے پہلے مچھر کی افزائش کو روکنے کے لیے مستقل اور مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے۔ حالانکہ ڈینگی کے معاملے میں سب سے اہم اصول یہی ہے کہ بیماری کے پھیلنے سے پہلے اس کے اسباب کا خاتمہ کیا جائے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق ڈینگی محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ یہ شہری انتظام، صفائی، نکاسی آب، ماحولیاتی نظم و نسق اور عوامی شعور کے مجموعی معیار کا امتحان بھی ہے۔ اگر کسی شہر میں بارش کے بعد پانی کئی دن تک سڑکوں، گلیوں، خالی پلاٹوں یا تعمیراتی مقامات پر کھڑا رہے تو وہاں مچھروں کی افزائش کے امکانات خود بخود بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں صرف اسپرے کر دینا کافی نہیں ہوتا، کیونکہ اگر افزائش کے مقامات برقرار رہیں تو مچھر دوبارہ پیدا ہوتے رہیں گے۔ اس لیے ڈینگی کے خلاف جنگ کا بنیادی نقطہ مچھر کو ختم کرنے سے پہلے اس کے افزائشی ماحول کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
بارش کے بعد گھروں کی چھتوں، گملوں، پرانے ٹائروں، ٹوٹے ہوئے برتنوں، پانی کے کولروں، کھلے ڈرموں اور دیگر چھوٹی بڑی اشیا میں جمع ہونے والا پانی بظاہر معمولی مسئلہ محسوس ہوتا ہے، مگر یہی مقامات ڈینگی مچھر کی افزائش کے لیے موزوں ثابت ہو سکتے ہیں۔ زیر تعمیر عمارتوں میں بھی پانی جمع رہنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح مارکیٹوں، ورکشاپس، کباڑ خانوں اور ایسے مقامات جہاں بڑی تعداد میں پرانے ٹائر یا دیگر اشیا موجود ہوں، وہاں خصوصی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ان مقامات کی بروقت صفائی اور نگرانی کی جائے تو ڈینگی کے خطرے کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
یہاں سوال صرف حکومت کی ذمہ داری کا نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری کا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ نکاسی? آب کے نظام کو مؤثر بنائیں، نالوں اور برساتی گزرگاہوں کی صفائی یقینی بنائیں، حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی کریں، ڈینگی لاروا کی بروقت نشاندہی کریں اور جہاں ضرورت ہو وہاں مچھر مار سرگرمیاں انجام دیں۔ تاہم عوام کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر گھر کے اندر یا اردگرد پانی جمع ہے تو اسے ختم کرنا کسی سرکاری اہلکار کا انتظار کیے بغیر خود شہری کی ذمہ داری بھی ہے۔
پاکستان کے بڑے شہروں میں بارش کے بعد پانی جمع ہونے کا مسئلہ نیا نہیں۔ ہر سال مون سون سے قبل صفائی اور نکاسی آب کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر بارش ہوتے ہی متعدد علاقوں میں پانی کھڑا ہو جاتا ہے۔ کہیں نالے بند ہوتے ہیں، کہیں کچرے کے ڈھیر نکاسیآب کے راستے روک دیتے ہیں اور کہیں ناقص شہری منصوبہ بندی کے باعث پانی کے اخراج کا مناسب انتظام موجود نہیں ہوتا۔ یہی صورتحال ڈینگی سمیت دیگر بیماریوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتی ہے۔ اگر شہری انتظامیہ مستقل بنیادوں پر ان مسائل کا حل تلاش کرے تو نہ صرف ڈینگی بلکہ متعدد دیگر بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی میں اس پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ڈینگی کے خلاف محض موسمی مہمات کافی نہیں۔ ہمیں مستقل نگرانی اور سال بھر کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ مون سون سے چند ہفتے پہلے سرگرم ہونے کے بجائے ایسے علاقوں کی نشاندہی پورے سال جاری رہنی چاہیے جہاں ماضی میں ڈینگی لاروا یا مریضوں کی تعداد زیادہ رہی ہو۔ ان علاقوں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے، بارشوں سے پہلے خصوصی صفائی کرائی جائے اور مون سون کے دوران روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جائے۔ اس طرح انتظامیہ کو صورتحال بگڑنے کے بعد اقدامات کرنے کے بجائے پیشگی تیاری کا موقع ملے گا۔
ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے میں محکمہ صحت کے ساتھ ساتھ بلدیاتی اداروں کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ صحت کے ادارے مریضوں کی تشخیص اور علاج کر سکتے ہیں، لیکن مچھر کی افزائش روکنے کا بنیادی کام صفائی، نکاسی? آب اور ماحول کو بہتر بنانے سے متعلق اداروں کو کرنا ہوگا۔ اگر مختلف محکمے الگ الگ کام کرتے رہیں اور ان کے درمیان مؤثر رابطہ نہ ہو تو وسائل بھی ضائع ہوں گے اور مطلوبہ نتائج بھی حاصل نہیں ہوں گے۔ اس لیے ایک مربوط نظام کے تحت تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کو بھی اپنی ذمہ داری زیادہ فعال انداز میں ادا کرنا ہوگی۔ ہر ضلع میں ایسے علاقوں کی فہرست مرتب کی جانی چاہیے جہاں بارش کے بعد پانی جمع ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ وہاں خصوصی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور لاروا کی موجودگی کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے۔ صرف بڑے اور نمایاں علاقوں پر توجہ دینے کے بجائے گلی محلوں، نجی گھروں، سکولوں، ہسپتالوں، مارکیٹوں، پارکوں اور زیر تعمیر عمارتوں تک نگرانی کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا۔
دوسری طرف عوامی آگاہی کو بھی اس مہم کا بنیادی حصہ بنانا ضروری ہے۔ ڈینگی کے بارے میں معلومات محض اخبارات کے اشتہارات یا سرکاری پوسٹروں تک محدود نہیں ہونی چاہئیں۔ سکولوں، کالجوں، مساجد، بازاروں اور رہائشی علاقوں میں سادہ اور قابلِ عمل انداز میں لوگوں کو بتایا جائے کہ مچھر کی افزائش کیسے روکی جا سکتی ہے اور بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر کیا کرنا چاہیے۔ میڈیا اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم عوام کو خوف زدہ کرنے کے بجائے انہیں احتیاط، بروقت تشخیص اور ذمہ دارانہ رویے کی طرف راغب کرنا زیادہ ضروری ہے۔
گھروں میں صفائی کا اہتمام، پانی کے برتن ڈھانپ کر رکھنا، گملوں میں پانی جمع نہ ہونے دینا، چھتوں پر بارش کا پانی کھڑا نہ رہنے دینا، پرانے ٹائروں اور غیر ضروری اشیا کو کھلے میں نہ چھوڑنا اور گھر کے اردگرد کسی بھی ممکنہ افزائشی مقام کو ختم کرنا ایسے اقدامات ہیں جو بظاہر معمولی ہیں مگر اجتماعی سطح پر ان کے نتائج بہت اہم ہو سکتے ہیں۔ اگر ایک محلے کے سو گھر اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کریں تو پورے علاقے میں ڈینگی کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ڈینگی سے متعلق عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو درست معلومات کے ذریعے کم کیا جائے۔ بیماری کی علامات، احتیاطی تدابیر اور بروقت طبی معائنے کے حوالے سے مستند معلومات فراہم کی جائیں۔ عوام کو یہ شعور دیا جائے کہ بخار، جسم میں شدید درد، سر درد، آنکھوں کے پیچھے درد یا دیگر مشتبہ علامات کی صورت میں خود تشخیص یا غیر مستند علاج پر انحصار کرنے کے بجائے مستند طبی مشورہ لینا چاہیے۔ بروقت تشخیص مریض کی مناسب نگہداشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
ڈینگی کے خطرے کو صرف بڑے شہروں تک محدود سمجھنا بھی درست نہیں۔ دیہی علاقوں میں بھی بارش کے بعد پانی جمع ہونے، کھلے پانی کے ذخائر، جانوروں کے لیے رکھے گئے برتن اور نکاسی آب کے مسائل مچھروں کی افزائش کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے ڈینگی کنٹرول کی حکمت عملی میں شہری اور دیہی دونوں علاقوں کو یکساں اہمیت دی جانی چاہیے۔ بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت کو بھی اس حوالے سے تیار رکھا جائے تاکہ اگر کسی علاقے میں کیسز سامنے آئیں تو ان کی بروقت نشاندہی اور مناسب رہنمائی ممکن ہو۔
اس مسئلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ڈینگی کے خلاف اقدامات کے نتائج کو صرف سرگرمیوں کی تعداد سے نہیں بلکہ عملی نتائج سے جانچا جائے۔ کتنے مقامات پر اسپرے ہوا، کتنی ٹیمیں تشکیل دی گئیں یا کتنے آگاہی بینرز لگائے گئے، یہ اعداد و شمار اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ڈینگی کے افزائشی مقامات میں کتنی کمی آئی، لاروا کی موجودگی کتنی کم ہوئی اور مریضوں کی تعداد پر کیا اثر پڑا۔ سرکاری اداروں کو اپنی کارکردگی جانچنے کے لیے ایسے پیمانے اختیار کرنے چاہئیں جو حقیقی صورتحال کی عکاسی کریں۔ہر سال مون سون کے بعد ڈینگی کا خطرہ ہمارے سامنے آتا ہے۔ اگر ہم اسے محض ایک موسمی مسئلہ سمجھ کر چند ہفتوں کی کارروائی تک محدود رکھیں گے تو مسئلہ بار بار واپس آتا رہے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈینگی سے نمٹنے کے لیے مستقل نظام قائم کیا جائے جس میں سرویلنس، نکاسی? آب، صفائی، لاروا کی نگرانی، مچھر کنٹرول، طبی سہولیات اور عوامی آگاہی سب ایک دوسرے سے مربوط ہوں۔ اس کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر پالیسی بنانے کے ساتھ ضلعی سطح پر اس پر مؤثر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنا کوئی ناممکن کام نہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک نے مؤثر نگرانی، صفائی، نکاسی آب، عوامی تعاون اور بروقت طبی اقدامات کے ذریعے اس خطرے پر قابو پانے کے طریقے اختیار کیے ہیں۔ ہمارے لیے بھی بنیادی اصول یہی ہونا چاہیے کہ بیماری کے ظاہر ہونے کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ اس کے اسباب کو ختم کیا جائے۔ اگر کسی علاقے میں پانی کھڑا ہے تو اسے نکالنا، اگر لاروا موجود ہے تو اسے ختم کرنا اور اگر صفائی کا مسئلہ ہے تو اسے فوری حل کرنا ہی دانشمندانہ طرز عمل ہے۔
موجودہ مون سون میں وقت ضائع کیے بغیر حساس علاقوں کی نگرانی، پانی کی فوری نکاسی، لاروا سرویلنس اور عوامی آگاہی کو ترجیح دینا ہوگی۔ ہسپتالوں کو بھی ممکنہ مریضوں کے لیے تیار رکھا جائے تاکہ کسی بھی اچانک اضافے کی صورت میں طبی نظام پر غیر معمولی دباؤ نہ پڑے۔ اسی طرح عوام کو بھی یہ احساس دلانا ہوگا کہ ڈینگی کے خلاف جنگ صرف حکومت نہیں جیت سکتی؛ اس میں ہر گھر، ہر محلہ اور ہر شہری کا کردار ہے۔
آخرکار یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ڈینگی صرف ایک مچھر سے پھیلنے والی بیماری نہیں بلکہ یہ ہمارے شہری نظم و نسق اور اجتماعی شعور کا امتحان بھی ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں، گلیوں، بازاروں اور محلوں کو صاف رکھنے، پانی جمع نہ ہونے دینے اور متعلقہ اداروں کو بروقت اطلاع دینے کی عادت اپنا لیں تو اس خطرے کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مؤثر نظام فراہم کرے اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس نظام کے ساتھ تعاون کریں۔
مون سون کی بارشوں کو روکنا کسی کے اختیار میں نہیں، مگر بارش کے پانی کو وبائی خطرے میں تبدیل ہونے سے روکنا ہمارے اختیار میں ضرور ہے۔ آج کی معمولی احتیاط کل کے بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے۔ ڈینگی کے خلاف کامیابی صرف اسپرے کرنے میں نہیں بلکہ اس ماحول کو ختم کرنے میں ہے جہاں مچھر پیدا ہوتا ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے سرکاری اداروں، میڈیا اور عوام سب کو سمجھنا ہوگا۔ اگر اس مرحلے پر سنجیدگی، تسلسل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے تو ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے اور ہزاروں خاندانوں کو بیماری، پریشانی اور غیر ضروری مالی بوجھ سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More