تجزیہ بی این پی
پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران افغانستان میں پیدا ہونے والے حالات کے نتیجے میں لاکھوں افغان شہریوں کو اپنے ہاں پناہ دی۔ مشکل ترین معاشی حالات کے باوجود پاکستان نے انسانی ہمدردی کے تحت اپنے وسائل میں ان مہاجرین کو جگہ دی اور طویل عرصے تک ان کے قیام کو برداشت کیا۔ اس عرصے میں افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے پاکستان میں کاروبار کیا، روزگار حاصل کیا اور یہاں کے معاشرے کا حصہ بھی بنی۔ تاہم کسی بھی خودمختار ریاست کی طرح پاکستان کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ اس کی حدود میں مقیم ہر غیر ملکی کی قانونی حیثیت واضح ہو اور ملک میں داخلے اور قیام کے قوانین پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ہو۔ اسی تناظر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی کا عمل جاری ہے، جس میں پنجاب حکومت نے بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے فارن نیشنل سکیورٹی سیل کے مطابق صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائی جاری ہے اور اب تک ایک لاکھ 40 ہزار 468 افراد کو وطن واپس بھجوایا جا چکا ہے، جبکہ پاکستان سے مجموعی طور پر 26 لاکھ 89 ہزار 295 افغان باشندوں کی واپسی عمل میں آ چکی ہے۔ اعداد و شمار کی یہ تفصیل اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کی واپسی کے معاملے کو محض ایک وقتی کارروائی کے طور پر نہیں لیا بلکہ اسے ایک منظم انتظامی پالیسی کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
پنجاب حکومت کی یہ کاوش اس اعتبار سے قابلِ تحسین ہے کہ صوبے میں آبادی کا حجم، بڑے شہری مراکز، وسیع کاروباری سرگرمیاں اور لاکھوں افراد کی روزانہ نقل و حرکت کے باعث غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کی شناخت اور ان کی واپسی ایک پیچیدہ انتظامی عمل ہے۔ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور دیگر بڑے شہروں میں مختلف علاقوں اور کاروباری مراکز کی جانچ پڑتال کے لیے پولیس، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ داخلہ کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔ ایسے حالات میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد کی واپسی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ متعلقہ اداروں نے اس معاملے میں سنجیدگی اور تسلسل کا مظاہرہ کیا ہے۔
ریاستی نظم و نسق کا بنیادی اصول یہی ہے کہ ملک میں داخل ہونے اور قیام کے لیے مقررہ قوانین کی پابندی کی جائے۔ اگر کسی غیر ملکی شہری کے پاس قابل قبول ویزا یا قانونی دستاویز موجود نہیں تو اس کا قیام قانونی طور پر قابلِ جواز نہیں رہتا۔ حکومت پاکستان کی واضح پالیسی کے مطابق ایسے افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد کسی قوم یا برادری کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ملک میں قانونی اور غیر قانونی قیام کے درمیان واضح فرق قائم کرنا ہے۔ یہ فرق جتنا شفاف اور واضح ہوگا، اتنا ہی ریاستی اداروں کے لیے امن و امان، شہری انتظام اور قومی سلامتی کے معاملات کو بہتر انداز میں سنبھالنا ممکن ہوگا۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبے بھر میں رہائشی علاقوں اور مارکیٹوں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ اس عمل کی اپنی اہمیت ہے کیونکہ غیر ملکی شہریوں کی درست شناخت اور ان کے قانونی کوائف کی تصدیق کے بغیر کسی بھی پالیسی پر مؤثر عمل درآمد ممکن نہیں۔ تاہم اس سلسلے میں متعلقہ اداروں پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ شناخت اور دستاویزات کی جانچ کے دوران قانونی حیثیت رکھنے والے افراد کو بلاوجہ پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کسی شخص کی قومیت یا ظاہری شناخت محض کارروائی کی بنیاد نہیں ہونی چاہیے بلکہ فیصلہ اس کی قانونی دستاویزات اور سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے ہولڈنگ سنٹرز اس پورے عمل کا اہم حصہ ہیں۔ صوبے میں اس وقت 39 ہولڈنگ سنٹرز فعال ہیں جہاں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو ضروری کارروائی مکمل ہونے تک رکھا جاتا ہے۔ ان مراکز میں رجسٹریشن، عارضی رہائش اور وطن واپسی کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔ یہ ایک منظم طریقہ کار ہے جو اس امر میں مدد دیتا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی شناخت کے بعد انہیں فوری طور پر بے ہنگم انداز میں منتقل کرنے کے بجائے باقاعدہ انتظامی عمل سے گزارا جائے اور ان کی واپسی کو دستاویزی شکل دی جائے۔
یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ وطن واپسی کے لیے باقاعدہ طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے اور ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد افغان شہریوں کو طورخم بارڈر پر افغان حکام کے حوالے کیا جاتا ہے۔ کسی بھی ملک سے غیر ملکی شہریوں کی واپسی ایک حساس معاملہ ہوتا ہے، اس لیے اس میں دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون ضروری ہے۔ اگر واپسی کا عمل منظم اور دستاویزی بنیادوں پر جاری رہے تو اس سے مستقبل میں کسی بھی قسم کے انتظامی یا سفارتی تنازع کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی واپسی کے لیے اختیار کیا گیا انتظامی طریقہ مجموعی طور پر ایک اہم قدم ہے۔ ریاست کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سرحدوں، شہروں اور شہری انتظام پر مؤثر گرفت رکھے۔ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کی موجودگی سے نہ صرف دستاویزات اور شناخت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے بلکہ غیر قانونی کاروبار، غیر رجسٹرڈ رہائش، اسمگلنگ اور دیگر جرائم کی روک تھام بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ اس لیے قانونی حیثیت کے بغیر مقیم افراد کے خلاف کارروائی کو ریاستی نظم و نسق کا حصہ سمجھنا چاہیے۔
تاہم اس پورے عمل کا ایک انسانی پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں کئی افغان خاندان برسوں سے آباد ہیں۔ ان کے بچوں نے یہاں تعلیم حاصل کی، بعض افراد نے کاروبار قائم کیے اور بہت سے خاندانوں نے مقامی معاشرے کے ساتھ سماجی تعلقات استوار کیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قانونی حیثیت کی جانچ کے دوران ایسے افراد کو مناسب موقع دیا جائے جو اپنے قیام کو قانونی دستاویزات کے ذریعے ثابت کر سکتے ہوں۔ اسی طرح خواتین، بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کے معاملات میں خصوصی انسانی حساسیت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔
حکومت کی رٹ اور انسانی ہمدردی ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو قانون پر سختی سے عمل بھی کرائے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انسانی وقار کا تحفظ بھی کرے۔ غیر قانونی قیام کے خلاف کارروائی کا مقصد بھی یہی ہونا چاہیے کہ ریاستی قوانین کی بالادستی قائم ہو، نہ کہ کسی مخصوص قوم یا برادری کے خلاف عمومی تاثر پیدا ہو۔ پاکستان نے افغان عوام کے لیے کئی دہائیوں تک جس فراخ دلی کا مظاہرہ کیا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ واپسی کے عمل میں بھی شائستگی، احترام اور انسانی اصولوں کو ملحوظ رکھا جائے۔
قومی سلامتی کے تناظر میں بھی اس پالیسی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان ایک طویل اور حساس سرحد کا حامل ملک ہے اور افغانستان کے ساتھ اس کی سرحدی صورت حال ہمیشہ اہم رہی ہے۔ غیر قانونی آمدورفت کی روک تھام، اسمگلنگ کا سدباب، مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی اور شہریوں و غیر ملکیوں کے ریکارڈ کی درستگی قومی سلامتی کے بنیادی تقاضے ہیں۔ جب ریاست کو معلوم ہو کہ ملک میں کون داخل ہوا، کہاں مقیم ہے اور کب واپس گیا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے امن و امان برقرار رکھنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔
اسی لیے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے بھی ایک مضبوط نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ سرحدی نگرانی مزید مؤثر بنائی جائے، غیر ملکی شہریوں کی رجسٹریشن کا نظام جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، ویزا نظام میں شفافیت پیدا کی جائے اور ملک کے اندر غیر ملکی شہریوں کے قیام سے متعلق ریکارڈ کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جائے۔ کرایہ داری، کاروبار اور رہائش کے معاملات میں بھی قانونی دستاویزات کی تصدیق کے نظام کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
پنجاب حکومت کو اس سلسلے میں ایک اور اہم پہلو پر توجہ دینا ہوگی اور وہ یہ ہے کہ کارروائی صرف بڑے شہروں یا نمایاں علاقوں تک محدود نہ رہے بلکہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں بھی غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی درست نشاندہی کی جائے۔ اس مقصد کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ محکموں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا مؤثر نظام ضروری ہے۔ اگر مختلف اداروں کے ریکارڈ ایک دوسرے سے مربوط ہوں تو نہ صرف غیر قانونی قیام کی روک تھام ممکن ہوگی بلکہ قانونی حیثیت رکھنے والے غیر ملکی شہریوں کو بھی غیر ضروری مشکلات سے بچایا جا سکے گا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہولڈنگ سنٹرز میں بنیادی سہولیات کا معیار بلند رکھا جائے۔ کسی بھی شخص کو واپسی تک جس مرکز میں رکھا جائے وہاں خوراک، صاف پانی، طبی امداد اور مناسب رہائش کا انتظام ہونا چاہیے۔ خاص طور پر خواتین، بچوں اور بیمار افراد کے لیے الگ اور مناسب سہولتوں کا اہتمام ہونا چاہیے۔ اس عمل میں عالمی انسانی اصولوں کو مدنظر رکھنے سے پاکستان کا مؤقف مزید مضبوط ہوگا اور یہ واضح ہوگا کہ ملک قانون کی عمل داری کے ساتھ انسانی ذمہ داریوں سے بھی غافل نہیں۔
تجزیہ بی این پی یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اس معاملے کی کامیابی صرف اس بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے کہ کتنے افراد کو واپس بھیجا گیا بلکہ اصل کامیابی ایک ایسے مستقل نظام کے قیام میں ہے جو مستقبل میں غیر قانونی داخلے اور غیر قانونی قیام کے امکانات کو کم کر سکے۔ اگر ہر غیر ملکی شہری کی آمد، قیام اور روانگی کا مستند ریکارڈ موجود ہو، سرحدوں پر نگرانی مؤثر ہو اور متعلقہ ادارے ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں رہیں تو اس نوعیت کی بڑے پیمانے پر کارروائیوں کی ضرورت بھی کم ہو سکتی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے ایک لاکھ 40 ہزار 468 غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی وطن واپسی ایک بڑی انتظامی پیش رفت ہے۔ اس عمل میں محکمہ داخلہ، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی محنت شامل ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت نے اگر اس کارروائی کو قانون کی حدود میں رکھتے ہوئے تسلسل کے ساتھ جاری رکھا، شفافیت کو یقینی بنایا اور انسانی حقوق کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا تو اس کے دور رس مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی داخلی سلامتی، معاشی مفادات اور شہری نظم و نسق کے تحفظ کے لیے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرے۔ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ تاہم اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ قانونی اور غیر قانونی قیام کے درمیان فرق پوری احتیاط سے برقرار رکھا جائے، کسی قانونی دستاویز کے حامل فرد کو بلاوجہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور واپسی کے عمل میں انسانی وقار کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔
پنجاب حکومت کی موجودہ کارروائی کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی بڑی تعداد کی واپسی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور متعلقہ اداروں کو متحرک کیا ہے۔ اب اگلا مرحلہ اس پالیسی کو مستقل انتظامی نظام میں تبدیل کرنا ہے تاکہ پاکستان کی سرحدوں، شہروں اور شہری وسائل پر غیر ضروری دباؤ کم ہو اور ہر غیر ملکی شہری کی قانونی حیثیت واضح رہے۔
ریاست کی طاقت صرف گرفتاری اور اخراج میں نہیں بلکہ منصفانہ قانون کے نفاذ میں ہوتی ہے۔ اگر قانون سب کے لیے یکساں ہو، کارروائی شفاف ہو، انسانی وقار محفوظ رہے اور ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے ادا کریں تو غیر قانونی قیام کے خلاف مہم نہ صرف قومی سلامتی کے لیے مفید ثابت ہوگی بلکہ ریاستی نظم و نسق پر عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط کرے گی۔ پنجاب حکومت کی حالیہ پیش رفت اسی سمت میں ایک اہم قدم قرار دی جا سکتی ہے، جسے مزید شفافیت، تسلسل اور انسانی حساسیت کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- حکومت تمام سیاسی و جمہوری قوتوں کو ساتھ لے کر صوبے کی ترقی ،عوام کی خوشحالی کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے گی،وزیر اعلیٰ بلوچستان
- گورنر بلوچستان نیویارک میں منعقدہ یوتھ اینڈ آرٹیفیشل انٹلیجنس سمٹ میں پاکستان اور بلوچستان کے نوجوانوں کی نمائندگی کریں گے
- مکہ دفاعی معاہدہ: امن، سلامتی اور باہمی تعاون کا نیا باب
- پاکستان ترکی،سعودی عرب مکہ دفاعی معاہدہ۔مسلم دنیا کے اتحاد کی نئی بنیاد یا ایک نئے عہد کا آغاز
- مہنگائی پر قابو پانے کیلئے مؤثر حکمتِ عملی ناگزیر
- پاکستان بھر ڈینگی کا بڑھتا خطرہ اور ہماری ذمہ داریاں
- گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال، مہنگائی کے نئے طوفان کا خدشہ
- پنجاب میں غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی، قانون کی بالادستی کی جانب اہم قدم
- کپاس کی بحالی اور پنجاب کی متوازن ترقی
- مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت سے آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی: رانا ثناء اللہ
Prev Post