jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال، مہنگائی کے نئے طوفان کا خدشہ

تجزیہ بی این پی
ملک میں مہنگائی، معاشی بے یقینی اور کاروباری مشکلات پہلے ہی عام آدمی کے لیے مسلسل پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ ایسے حالات میں آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال اور سڑکوں پر دھرنوں کا اعلان ایک ایسا معاملہ ہے جس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے دائرے میں ملکی معیشت، صنعت، تجارت، زراعت اور بالآخر عام شہری کی روزمرہ زندگی بھی آ سکتی ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹ دراصل ملک کی معاشی سرگرمیوں کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک شہر سے دوسرے شہر تک خوراک، سبزیاں، پھل، ادویات، صنعتی خام مال، تعمیراتی سامان، تیار مصنوعات اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل اسی نظام کے ذریعے ہوتی ہے۔ اگر یہ پہیہ طویل عرصے تک رک جائے تو اس کے نتیجے میں سپلائی چین میں پیدا ہونے والا خلل چند روز ہی میں قیمتوں پر اثرانداز ہونا شروع ہو سکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق موجودہ صورتحال کو محض حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان ایک معمول کا اختلاف سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ مسئلہ ایک ایسے معاشی نظام سے جڑا ہوا ہے جس میں ایندھن کی قیمتیں، ٹرانسپورٹ کے اخراجات، ٹیکس، کاروباری لاگت، اشیا کی قیمتیں اور عوام کی قوتِ خرید ایک دوسرے سے براہ راست منسلک ہیں۔ اگر حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان بروقت اتفاق رائے پیدا نہ ہوا اور ملک گیر پہیہ جام کی نوبت آئی تو اس کے اثرات پہلے سے مہنگائی کا شکار عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کا مؤقف اپنی جگہ اہم ہے۔ کسی بھی کاروبار کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کے اخراجات کا اندازہ نسبتاً مستحکم بنیادوں پر لگایا جا سکے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایندھن سب سے اہم اخراجات میں شامل ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی سے ٹرانسپورٹرز کے لیے کرایوں، سفر کے اخراجات، گاڑیوں کی دیکھ بھال اور دیگر کاروباری معاملات کی منصوبہ بندی مشکل ہو جاتی ہے۔ ایک ٹرانسپورٹر جب ایک شہر سے دوسرے شہر تک سامان پہنچانے کا معاہدہ کرتا ہے تو اسے پہلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سفر پر کتنا ایندھن خرچ ہوگا، ڈرائیور اور عملے کے اخراجات کتنے ہوں گے اور دیگر اخراجات کیا ہوں گے۔ اگر دورانِ کاروبار ایندھن کی قیمتوں میں غیر یقینی صورت حال برقرار رہے تو اس کے لیے اپنے اخراجات اور آمدن میں توازن رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر مقرر کرنے کا فیصلہ اسی پس منظر میں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اصولی طور پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا اثر مقامی قیمتوں پر منتقل کرنا ایک معاشی طریقہ کار کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن اس نظام کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس میں شفافیت، پیش بینی اور کاروباری استحکام کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ اگر قیمتوں میں تبدیلی کا عمل اتنا تیز اور غیر یقینی ہو کہ کاروباری طبقے کے لیے اخراجات کا اندازہ لگانا دشوار ہو جائے تو اس کے نتیجے میں معاشی سرگرمیوں میں استحکام کے بجائے بے یقینی بڑھ سکتی ہے۔
یہاں حکومت کے مؤقف کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہیں اور پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے عالمی قیمتوں، شرح مبادلہ، ٹیکسوں اور دیگر عوامل کا اثر مقامی مارکیٹ پر پڑتا ہے۔ حکومت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر ایک ایسے مقام پر منجمد نہ کرے جہاں قومی خزانے پر ناقابل برداشت بوجھ پڑ جائے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قیمتوں کے تعین کا ایسا متوازن نظام وضع کیا جائے جس میں حکومت کے مالی تقاضے، عالمی مارکیٹ کی صورتحال، کاروباری طبقے کی ضروریات اور عوام کی قوتِ خرید سب کو مناسب وزن دیا جائے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا روزانہ قیمتوں کے تعین سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال کو کسی بہتر طریقہ کار کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب یقیناً ہاں میں ہونا چاہیے۔ حکومت اگر روزانہ قیمتوں کے تعین کی پالیسی کو مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہتی تو کم از کم ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروباری شعبوں کے لیے ایسا حفاظتی طریقہ کار ضرور متعارف کرا سکتی ہے جس کے ذریعے اچانک اضافے کے اثرات کو محدود کیا جا سکے۔ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مشاورت، کرایوں کے تعین کے لیے شفاف فارمولہ، ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اتار چڑھاؤ کی صورت میں مناسب ایڈجسٹمنٹ اور ٹرانسپورٹ کے شعبے پر غیر ضروری مالی بوجھ میں کمی ایسے اقدامات ہو سکتے ہیں جو مسئلے کا دیرپا حل تلاش کرنے میں مدد دیں۔
دوسری طرف ٹرانسپورٹرز کو بھی یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ان کی ہڑتال کا براہ راست اثر صرف حکومت پر نہیں پڑتا۔ گڈز ٹرانسپورٹ کا پہیہ رکنے کی صورت میں سب سے پہلے وہ کاروباری ادارے متاثر ہوں گے جو روزانہ کی بنیاد پر خام مال یا تیار مصنوعات کی ترسیل پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے بعد مارکیٹ میں اشیا کی دستیابی متاثر ہونے کا امکان پیدا ہوگا اور اگر رسد میں کمی واقع ہوئی تو قیمتوں میں اضافے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں ایک عام شہری، جو پہلے ہی اپنی آمدن اور اخراجات میں توازن قائم کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔
خصوصاً خوراک کی اشیا کے معاملے میں ٹرانسپورٹ کا کردار انتہائی اہم ہے۔ سبزیوں، پھلوں، دودھ، گوشت اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں صرف پیداوار کی لاگت سے طے نہیں ہوتیں بلکہ ان میں نقل و حمل کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر ایک شہر سے دوسرے شہر تک سامان کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہو تو مارکیٹ میں رسد کم ہو سکتی ہے۔ رسد میں کمی اور طلب میں تسلسل قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ یوں ایک ٹرانسپورٹ مسئلہ چند دنوں میں مہنگائی کے ایک بڑے مسئلے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
صنعتی شعبہ بھی اس بحران سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ملک کی بڑی اور چھوٹی صنعتیں خام مال کی مسلسل فراہمی پر منحصر ہیں۔ اگر خام مال فیکٹریوں تک بروقت نہ پہنچے تو پیداواری عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ پیداوار میں کمی کا اثر روزگار، برآمدات، مارکیٹ میں مصنوعات کی دستیابی اور کاروباری سرگرمیوں پر پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح بندرگاہوں سے صنعتی مراکز اور ملک کے مختلف علاقوں تک سامان کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہونے سے درآمدی و برآمدی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔
اس لیے حکومت کو اس مسئلے کو صرف امن و امان یا ہڑتال ختم کرانے کے زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اسے وسیع تر معاشی تناظر میں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مذاکرات کے لیے ٹرانسپورٹرز کو بلانا بلاشبہ ایک مثبت قدم ہے، لیکن مذاکرات محض رسمی کارروائی نہیں ہونے چاہئیں۔ فریقین کو ایک ایسا قابلِ عمل معاہدہ تشکیل دینا ہوگا جس میں ٹرانسپورٹرز کے حقیقی مسائل کا ازالہ بھی ہو اور عام شہری کے مفادات بھی محفوظ رہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق حکومت کو فوری طور پر ایک جامع مذاکراتی فریم ورک تشکیل دینا چاہیے جس میں وزارتِ خزانہ، وزارتِ پٹرولیم، متعلقہ ٹرانسپورٹ حکام اور ٹرانسپورٹرز کے نمائندے شامل ہوں۔ اس فورم پر ایندھن کی قیمتوں کے تعین، ٹرانسپورٹ کرایوں، ٹیکسوں، ٹول ٹیکس، گاڑیوں کی رجسٹریشن، فٹنس، اضافی اخراجات اور سپلائی چین سے متعلق تمام اہم مسائل پر غور کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی ایک مسئلے کو حل کر کے باقی مسائل کو نظرانداز کردیا گیا تو تنازع دوبارہ جنم لے سکتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت اور ٹرانسپورٹرز دونوں عوام کو اپنے اپنے فیصلوں کے اثرات سے آگاہ کریں۔ عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلی کی وجوہات کیا ہیں، ٹرانسپورٹرز کے اخراجات میں کتنا اضافہ ہوا ہے اور مجوزہ کرایوں میں تبدیلی کی بنیاد کیا ہے۔ شفافیت کے بغیر ہر فریق دوسرے کو ذمہ دار قرار دیتا رہے گا اور عوامی سطح پر بے چینی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔
حکومت کو یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ ٹرانسپورٹرز صرف کاروباری طبقے کا ایک حصہ نہیں بلکہ ملکی معیشت کے بنیادی ڈھانچے کا اہم جزو ہیں۔ سڑکوں پر چلنے والی ہزاروں گاڑیاں ملک کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں۔ کسان کی پیداوار منڈی تک، صنعت کا خام مال فیکٹری تک اور تیار مصنوعات صارف تک پہنچانے میں گڈز ٹرانسپورٹ بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس شعبے کے مسائل کا مستقل حل دراصل پوری معیشت کے مفاد میں ہے۔
تاہم ٹرانسپورٹرز کے لیے بھی ضروری ہے کہ احتجاج کے حق کو ایسے انداز میں استعمال کریں جس سے عام شہری کی زندگی متاثر نہ ہو۔ مطالبات منوانے کے لیے مذاکرات، علامتی احتجاج، نمائندہ وفود اور دیگر پرامن ذرائع زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ملک گیر پہیہ جام اگر طویل ہوجائے تو اس سے پیدا ہونے والا نقصان کسی ایک فریق تک محدود نہیں رہے گا۔ ٹرانسپورٹرز کا کاروبار، صنعتوں کی پیداوار، تاجروں کی سرگرمیاں اور عوام کی ضروریات سب متاثر ہوں گی۔
اس وقت ملک کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ معاشی استحکام اور پالیسیوں میں تسلسل ہے۔ ایک طرف حکومت مہنگائی کم کرنے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے دعوے کر رہی ہے، دوسری طرف اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ اخراجات اور سپلائی چین میں غیر یقینی بڑھتی رہی تو مہنگائی پر قابو پانے کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومتی فیصلے صرف فوری مالی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ کیے جائیں بلکہ ان کے ثانوی اور بالواسطہ اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں روزانہ مقرر کرنے کے فیصلے پر بھی سنجیدہ نظرثانی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ قیمتوں میں تبدیلی کے لیے کوئی ایسا درمیانی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے جس میں عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا اثر بھی شامل ہو اور کاروباری طبقے کو مناسب پیش بینی کا موقع بھی ملے۔ مثال کے طور پر قیمتوں میں تبدیلی کے لیے واضح اصول، مقررہ وقفہ اور پہلے سے اعلان کا نظام کاروباری بے یقینی کو کم کر سکتا ہے۔ اس سے ٹرانسپورٹرز اپنی لاگت کا بہتر اندازہ لگا سکیں گے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کا دباؤ بھی محدود کیا جا سکے گا۔
اسی طرح ٹرانسپورٹرز کو بھی اپنے مطالبات میں ترجیحات واضح کرنی چاہئیں۔ ایسے مطالبات جن کا تعلق براہ راست کاروباری استحکام اور اخراجات میں کمی سے ہے، انہیں فوری طور پر مذاکرات کی میز پر لایا جائے جبکہ طویل المدتی اصلاحات کے لیے الگ طریقہ کار وضع کیا جائے۔ اگر ہر مسئلے کو ایک ہی وقت میں حل کرنے پر اصرار کیا گیا تو مذاکرات پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ فوری نوعیت کے مسائل پر فوری فیصلہ اور ساختی مسائل کے لیے باقاعدہ ٹائم فریم مقرر کیا جائے۔
ملک گیر پہیہ جام کی صورت میں حکومت کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ ہسپتالوں، ادویات، خوراک اور دیگر انتہائی ضروری اشیا کی ترسیل متاثر نہ ہونے دے۔ اگرچہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے، تاہم کسی بھی ہنگامی صورت حال کے لیے متبادل انتظامات بھی موجود ہونے چاہئیں۔ قومی بحرانوں میں ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری عوام کو ضروری اشیا کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا ہوتی ہے۔
بالآخر یہ مسئلہ کسی ایک فریق کی فتح یا شکست کا نہیں بلکہ اجتماعی مفاد کا ہے۔ حکومت اگر صرف اپنی پالیسی پر اصرار کرے اور ٹرانسپورٹرز اگر صرف ہڑتال کو دباؤ کے ذریعے مطالبات منوانے کا ذریعہ سمجھیں تو نقصان دونوں صورتوں میں عوام کا ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں میں موجود کمزوریوں کو تسلیم کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز کے حقیقی مسائل کا حل تلاش کرے اور ٹرانسپورٹرز بھی احتجاج کے ایسے طریقے اختیار کریں جو قومی معیشت اور عام شہری کے لیے کم سے کم نقصان کا باعث بنیں۔
موجودہ صورتحال میں سب سے بہتر راستہ فوری، سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ اعتماد کی فضا قائم کرے، ان کے مطالبات پر مرحلہ وار فیصلے کرے اور ایندھن کی قیمتوں کے تعین کا ایسا نظام تشکیل دے جس میں عالمی معاشی حقائق کے ساتھ ملکی کاروباری ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ دوسری طرف ٹرانسپورٹرز کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کے عمل کو موقع دیں اور ملک گیر پہیہ جام سے گریز کریں۔
اگر دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف میں لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں تو موجودہ تنازع ایک بڑے بحران میں تبدیل ہونے کے بجائے اصلاحات کا موقع بن سکتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں شفاف کرایہ نظام، ایندھن کی قیمتوں میں پیش بینی، ٹیکس اور دیگر اخراجات میں مناسب توازن اور سپلائی چین کے بہتر انتظام سے نہ صرف ٹرانسپورٹرز کو ریلیف مل سکتا ہے بلکہ اس کے مثبت اثرات پوری معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔
ملک پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور محدود آمدن کے باعث مشکلات کا شکار عام شہری کے لیے ایک مشکل معاشی دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں کسی بھی ایسے فیصلے سے گریز ضروری ہے جو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا سبب بنے۔ حکومت اور ٹرانسپورٹرز کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ان کے درمیان اختلاف کا سب سے بھاری بوجھ بالآخر وہی شہری اٹھاتا ہے جو نہ پٹرولیم پالیسی بناتا ہے، نہ ٹرانسپورٹ کرایے طے کرتا ہے اور نہ ہی سپلائی چین کے مسائل کا ذمہ دار ہے۔
لہٰذا ملک گیر پہیہ جام سے پہلے حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان کسی نہ کسی قابلِ عمل سمجھوتے تک پہنچنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مسئلے کا حل طاقت، ضد یا طویل احتجاج میں نہیں بلکہ مذاکرات، باہمی اعتماد، شفاف پالیسی اور زمینی حقائق کو تسلیم کرنے میں ہے۔ اگر حکومت بروقت قدم اٹھاتی ہے اور ٹرانسپورٹرز قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے احتجاج مؤخر کرتے ہیں تو نہ صرف ایک ممکنہ معاشی بحران سے بچا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے تنازعات کے مستقل حل کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں یہی دانش مندی ہے کہ معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے، ٹرانسپورٹ کا پہیہ بھی رواں رہے اور عام آدمی پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ نہ پڑنے دیا جائے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More