تجزیہ بی این پی
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو چیف الیکشن کمشنر اور سندھ و بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی تقرری کے لیے لکھا گیا خط محض ایک سیاسی مراسلہ نہیں بلکہ پاکستان کے پارلیمانی اور جمہوری نظام کے لیے ایک اہم یاد دہانی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک کو سیاسی اختلافات، معاشی چیلنجز اور ادارہ جاتی اعتماد کے مختلف سوالات کا سامنا ہے، آئینی اداروں کو مکمل اور مضبوط رکھنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی مشترکہ ذمہ داری بن جاتی ہے۔ قائد حزب اختلاف کا یہ مطالبہ اسی آئینی ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتا ہے اور اسے مثبت جمہوری پیش رفت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق اچکزئی نے وزیراعظم کو خط میں فوری طور پر تقرریوں کا عمل شروع کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق مشاورت آگے بڑھانے پر زور دیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان ملک کے ان بنیادی آئینی اداروں میں شامل ہے جن کی غیر جانب داری، خودمختاری اور مؤثر فعالیت براہ راست جمہوری نظام کی ساکھ سے جڑی ہوئی ہے۔ انتخابات کسی بھی جمہوری معاشرے میں اقتدار کے حصول کا پرامن، آئینی اور عوامی راستہ ہوتے ہیں۔ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں اور یہی نمائندے ریاستی نظام کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس لیے انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے ادارے کی تشکیل، اس کی غیر جانب داری اور اس پر سیاسی جماعتوں کے اعتماد کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
چیف الیکشن کمشنر اور سندھ و بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے ارکان کی آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد ان عہدوں پر مستقل تقرری کا معاملہ طویل عرصے سے زیر بحث ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد موجودہ عہدیداروں کو نئے عہدیداروں کی تقرری تک فرائض جاری رکھنے کی اجازت کا انتظام موجود ہے، تاہم اس کا مقصد مستقل تقرری کے عمل کو غیر معینہ مدت تک مؤخر کرنا نہیں تھا۔یہی وجہ ہے کہ اب حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اس معاملے کو سیاسی اختلاف سے بالاتر ہو کر آئینی ذمہ داری کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** محمود خان اچکزئی کا خط حکومت کے لیے کسی تصادم کا پیغام نہیں بلکہ پارلیمانی مشاورت کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان آئینی تقرریوں کے حوالے سے براہ راست رابطہ دراصل پارلیمانی جمہوریت کے حسن کی علامت بن سکتا ہے۔ آئین نے خود چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان مشاورت کا راستہ متعین کیا ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کے صوبائی ارکان کی تقرری کے معاملے میں بھی یہی مشاورتی اصول بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کا وجود ایک دوسرے کی نفی نہیں بلکہ جمہوری نظام کی تکمیل کرتا ہے۔ حکومت ریاستی امور چلاتی ہے تو اپوزیشن حکومت کی نگرانی اور احتساب کا کردار ادا کرتی ہے۔ حکومت کو اپوزیشن کی تنقید سننی ہوتی ہے اور اپوزیشن کو بھی یہ سمجھنا ہوتا ہے کہ ہر حکومتی اقدام کو محض سیاسی مخالفت کی نظر سے دیکھنا جمہوری عمل کو مضبوط نہیں کرتا۔ جہاں قومی اور آئینی مفاد مشترک ہو وہاں حکومت اور اپوزیشن کا تعاون ہی سیاسی بلوغت کا ثبوت ہوتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں سب سے مثبت پہلو یہی ہو سکتا ہے کہ اس معاملے کو محاذ آرائی کے بجائے اتفاق رائے کی طرف لے جایا جائے۔ اگر وزیراعظم شہباز شریف اور قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اس معاملے پر براہ راست بیٹھ کر مشاورت کرتے ہیں اور قابل، غیر جانب دار، باصلاحیت اور اچھی شہرت رکھنے والے افراد کے نام سامنے لاتے ہیں تو اس کا فائدہ کسی ایک سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ پورے انتخابی نظام کو پہنچے گا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب ادارہ جاتی معاملات کو سیاسی کشمکش کی نذر کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف موجودہ حکومت یا اپوزیشن تک محدود نہیں رہتے۔ اس کے نتیجے میں عوام کے اندر بھی بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جب سیاسی قوتیں آئینی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرتی ہیں تو اس سے ریاستی اداروں کی ساکھ میں اضافہ ہوتا ہے اور جمہوری عمل زیادہ مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے حوالے سے یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ یہ کسی حکومت کا ادارہ نہیں۔ یہ پوری ریاست کا آئینی ادارہ ہے۔ اس کا کام کسی سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کو قانون کے مطابق یکساں انتخابی ماحول فراہم کرنا ہے۔ اسی لیے اس کے سربراہ اور ارکان کی تقرری میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد کی فضا پیدا ہونا نہایت ضروری ہے۔
ایک مضبوط اور غیر جانب دار الیکشن کمیشن صرف انتخابات منعقد نہیں کراتا بلکہ انتخابی فہرستوں، حلقہ بندیوں، انتخابی قوانین پر عمل درآمد، انتخابی عمل کی نگرانی اور مختلف انتخابی معاملات میں اہم آئینی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے۔ اس لیے کمیشن کی قیادت اور تشکیل میں کوئی غیر ضروری خلا ادارے کی مجموعی کارکردگی اور عوامی اعتماد دونوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن خود بھی اپنی ویب سائٹ پر اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریوں کے تحت مختلف انتخابی امور اور اقدامات کی تفصیلات فراہم کرتا ہے۔
یہاں حکومت کے لیے ایک سنہری موقع موجود ہے۔ اگر حکومت اس معاملے پر فوری پیش رفت کرتی ہے تو وہ یہ پیغام دے سکتی ہے کہ آئینی اداروں کی مضبوطی سیاسی مفاد سے بالاتر ہے۔ وزیراعظم اگر قائد حزب اختلاف کو مشاورت کے لیے مدعو کرتے ہیں، دونوں جانب سے نام زیر غور آتے ہیں اور میرٹ کی بنیاد پر قابل اعتماد شخصیات کا انتخاب کیا جاتا ہے تو یہ موجودہ سیاسی ماحول میں ایک مثبت مثال قائم کرے گا۔
اسی طرح اپوزیشن کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس عمل میں تعمیری کردار ادا کرے۔ اپوزیشن کا کام صرف حکومت پر تنقید کرنا نہیں بلکہ جب کوئی قومی اور آئینی معاملہ سامنے آئے تو متبادل راستہ بھی پیش کرنا ہے۔ اگر اپوزیشن میرٹ، غیر جانب داری اور آئینی طریقہ کار کو مقدم رکھتی ہے تو حکومت پر بھی مثبت انداز میں دباؤ بڑھے گا اور تقرریوں کا عمل زیادہ شفاف ہو سکے گا۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** پاکستان میں جمہوری استحکام کا اصل راستہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مستقل دشمنی نہیں بلکہ آئینی معاملات پر کم از کم اتفاق رائے پیدا کرنے میں ہے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے سیاسی حریف ضرور ہو سکتے ہیں، مگر ریاستی اداروں کی مضبوطی کے معاملے میں دونوں کا مفاد ایک ہونا چاہیے۔ آج جو جماعت حکومت میں ہے وہ مستقبل میں اپوزیشن میں آ سکتی ہے اور آج جو جماعت اپوزیشن میں ہے وہ کل اقتدار میں پہنچ سکتی ہے۔ اس لیے آئینی اداروں کی آزادی اور شفافیت کا تحفظ دراصل ہر سیاسی جماعت کے مستقبل کا تحفظ ہے۔
یہی اصول انتخابات کے معاملے میں بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر کسی جماعت کو آج یہ یقین ہو کہ انتخابی ادارہ غیر جانب دار، آزاد اور قانون کے مطابق کام کر رہا ہے تو کل اقتدار سے باہر ہونے کی صورت میں بھی اسے انتخابی عمل پر اعتماد برقرار رکھنے میں آسانی ہوگی۔ اسی طرح حکومت میں موجود جماعت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ایسے اداروں کو مضبوط کرے تاکہ مستقبل میں سیاسی تبدیلی کے باوجود نظام کا تسلسل قائم رہے۔
پاکستان میں جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کے لیے صرف انتخابات کا انعقاد کافی نہیں۔ انتخابات کے انعقاد سے پہلے، دوران اور بعد کے تمام مراحل میں اداروں کی غیر جانب داری، شفافیت اور قانون کی بالادستی ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی انتخابی اصلاحات پر سنجیدہ مکالمہ کرنا چاہیے۔ انتخابی قوانین میں موجود خامیوں کو دور کرنا، انتخابی تنازعات کے بروقت حل کے لیے مؤثر نظام بنانا، ووٹرز کا اعتماد بڑھانا اور ٹیکنالوجی کے شفاف استعمال کو یقینی بنانا ایسے اقدامات ہیں جو انتخابی نظام کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کے خط کو اسی وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ خط حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک ایسے رابطے کا ذریعہ بن سکتا ہے جس کے نتیجے میں محض تین عہدوں پر تقرریاں ہی نہیں بلکہ آئینی اداروں کی تکمیل کے حوالے سے ایک بہتر پارلیمانی روایت بھی قائم ہو۔ اگر وزیراعظم اس خط کا مثبت جواب دیتے ہوئے مشاورت کا عمل شروع کرتے ہیں تو یہ سیاسی ماحول میں ایک خوش آئند تبدیلی ہوگی۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلاف جمہوریت کے لیے نقصان دہ نہیں، بلکہ جمہوری نظام میں اختلاف رائے ایک فطری اور ضروری عنصر ہے۔ اصل مسئلہ اختلاف کو ذاتی دشمنی اور سیاسی محاذ آرائی میں تبدیل کرنا ہے۔ اگر اختلاف کے باوجود آئینی امور پر مکالمہ جاری رہے تو یہی جمہوریت کی اصل طاقت ہے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر موجود آئینی راستوں کو ترجیح دیتی ہیں۔
وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کا براہ راست رابطہ اسی لیے اہم ہے کہ یہ دونوں عہدے پارلیمانی نظام کے بنیادی کرداروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وزیراعظم حکومتی پالیسی اور انتظامی امور کی قیادت کرتے ہیں جبکہ قائد حزب اختلاف حکومت کے مقابل ایک آئینی و پارلیمانی آواز کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر دونوں اہم آئینی معاملات پر مشاورت کو معمول بنائیں تو اس سے سیاسی درجہ حرارت میں کمی اور پارلیمانی اداروں میں اعتماد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ تقرری کے عمل میں کسی بھی فریق کی طرف سے عجلت یا ذاتی پسند کو ترجیح نہ دی جائے۔ آئینی عہدوں پر فائز ہونے والے افراد کا کردار، تجربہ، دیانت، غیر جانب داری اور پیشہ ورانہ ساکھ بنیادی معیار ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتیں اگر ان اصولوں پر اتفاق کر لیں تو اختلاف کے باوجود اتفاق رائے پیدا کرنا مشکل نہیں ہوگا۔
پاکستان کو آج محاذ آرائی سے زیادہ ادارہ سازی کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتیں اگر ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے اداروں کو مضبوط بنانے کی دوڑ میں آگے بڑھیں تو اس کے نتیجے میں پورے ملک کو فائدہ ہوگا۔ مضبوط ادارے ہی پالیسیوں کا تسلسل، قانون کی حکمرانی اور سیاسی استحکام پیدا کرتے ہیں۔ کمزور اداروں کے ساتھ مضبوط معیشت اور مستحکم جمہوریت کا خواب پورا کرنا مشکل ہوتا ہے۔
اس لیے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی تقرری کو محض تین خالی عہدوں کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ معاملہ پاکستان میں آئینی حکمرانی، سیاسی اعتماد اور انتخابی نظام کی ساکھ سے جڑا ہوا ہے۔ حکومت اگر اس موقع کو سیاسی مفاہمت کے لیے استعمال کرتی ہے اور اپوزیشن بھی ذمہ دارانہ انداز میں تعاون کرتی ہے تو یہ ایک مثبت روایت کا آغاز ہو سکتا ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے اپنے سیاسی مؤقف برقرار رکھتے ہوئے آئینی معاملات پر اتفاق رائے کی راہ نکالیں۔ حکومت کو طاقت کے بجائے اعتماد کی سیاست کو فروغ دینا ہوگا اور اپوزیشن کو احتجاج کے ساتھ ساتھ پارلیمانی اداروں میں اپنا تعمیری کردار مزید مؤثر بنانا ہوگا۔ یہی وہ رویہ ہے جس سے جمہوری نظام میں پختگی پیدا ہوتی ہے۔
محمود خان اچکزئی کا وزیراعظم کو خط اس حوالے سے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ حکومت اگر اس کا جواب مثبت انداز میں دیتی ہے، فوری مشاورت شروع کرتی ہے اور میرٹ و غیر جانب داری کی بنیاد پر تقرریوں کا عمل مکمل کرتی ہے تو یہ موجودہ سیاسی ماحول میں ایک قابل ذکر پیش رفت ہوگی۔ اس سے نہ صرف الیکشن کمیشن کی ادارہ جاتی ساکھ بہتر ہوگی بلکہ سیاسی جماعتوں کو بھی یہ پیغام ملے گا کہ آئینی راستے آج بھی قومی معاملات کے حل کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔
پاکستان میں گڈ گورننس کا آغاز صرف معاشی منصوبوں، انتظامی اصلاحات یا ترقیاتی پروگراموں سے نہیں ہوتا بلکہ آئینی اداروں کو مضبوط بنانے سے بھی ہوتا ہے۔ ریاستی نظام میں موجود ہر وہ خلا جو مستقبل میں بحران پیدا کر سکتا ہے، اسے بروقت پْر کرنا ضروری ہے۔ آئینی عہدوں پر بروقت تقرریاں اسی انتظامی اور جمہوری ذمہ داری کا حصہ ہیں۔آخرکار جمہوریت صرف اکثریت کے اقتدار کا نام نہیں بلکہ اقلیت کے حقِ رائے، اپوزیشن کے کردار، اداروں کی آزادی، آئین کی بالادستی اور عوام کے اعتماد کا مجموعہ ہے۔ حکومت اور اپوزیشن اگر ان بنیادی اصولوں پر اتفاق کر لیں تو سیاسی اختلافات کے باوجود ملک کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ آج پاکستان کو ایسی ہی سیاسی بصیرت اور بالغ پارلیمانی رویے کی ضرورت ہے۔
لہٰذا وزیراعظم شہباز شریف کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ قائد حزب اختلاف کے خط کو سیاسی دباؤ کے بجائے آئینی تعاون کی دعوت سمجھیں اور مشاورت کا عمل فوری طور پر آگے بڑھائیں۔ اسی طرح اپوزیشن کو بھی اس معاملے میں میرٹ اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ اگر دونوں جانب سے مثبت رویہ اختیار کیا جاتا ہے تو چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کا معاملہ ایک طویل تعطل کے خاتمے کے ساتھ ساتھ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بہتر پارلیمانی رابطے کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
پاکستان کو آج ایسے ہی اقدامات کی ضرورت ہے جو اختلاف کو مکالمے میں، محاذ آرائی کو مشاورت میں اور سیاسی کشمکش کو آئینی تعاون میں تبدیل کر سکیں۔ ریاستیں مضبوط اداروں سے بنتی ہیں، جمہوریت شفاف عمل سے مستحکم ہوتی ہے اور عوام کا اعتماد اسی وقت بحال رہتا ہے جب انہیں یقین ہو کہ آئینی ادارے کسی فرد یا جماعت کے نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو مستحکم، ذمہ دار اور بااعتماد جمہوری مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- پاکستان میں قومی ترقی میں شراکت اور احتساب کا مضبوط نظام
- بہتر مستقبل کی تلاش، پاکستانی نوجوانوں کی عالمی منڈی میں پیش قدمی اور وطن کی ترقی کی نئی امید
- پاکستان میں معیشت سنبھلنے لگی، اب استحکام کو پائیدار بنانا ہوگا
- پاکستان میں ذہنی صحت۔قومی ترجیح اور مثبت معاشرے کی بنیاد
- پاکستان میں کھلے گٹروں میں گرتے بچے، ذمہ دار کون؟
- پاکستان میں خصوصی بچوں کے لیے سہولتیں، ریاست کی ذمہ داری
- پاکستان، آئینی اداروں کی تکمیل، جمہوری استحکام کی ضمانت
- اقلیتیں معاشرے کا حسن، عزت اور تحفظ پر سمجھوتا نہیں ہوگا، مریم نواز
- صدر مملکت نے مختلف ہائیکورٹس میں ججز کی تقرری و توثیق کی منظوری دیدی
- وزیر اعظم شہبازشریف کا کولمبیا میں تباہ کن زلزلے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہارِ افسوس