jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

پاکستان میں خصوصی بچوں کے لیے سہولتیں، ریاست کی ذمہ داری

تجزیہ بی این پی
کراچی میں آٹزم کا شکار بچوں کے لیے خصوصی رہائشی مرکز کا قیام ایک قابلِ تحسین اور امید افزا اقدام ہے۔ محترمہ آصفہ بھٹو زرداری کی جانب سے اس مرکز کا افتتاح اس امر کی علامت ہے کہ خصوصی بچوں کی ضروریات کو اب محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری کے طور پر دیکھنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ اس مرکز میں ڈھائی سو بچوں کو رہائش، تعلیم، تربیت اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی، جو ان بچوں اور ان کے والدین کے لیے یقیناً ایک بڑی سہولت ہے۔
تاہم اس اہم پیش رفت کو صرف ایک مرکز کے قیام تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ کراچی ایک وسیع آبادی والا شہر ہے اور یہاں خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کی تعداد بھی یقیناً بہت زیادہ ہے۔ ایک مرکز سینکڑوں بچوں کے لیے سہولت فراہم کرسکتا ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ خاندان ایسے ہیں جو اپنے بچوں کی تعلیم، تربیت، علاج اور بحالی کے لیے مناسب اداروں کی تلاش میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کو ایک بڑے اور جامع پروگرام کی بنیاد بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** خصوصی بچوں کے لیے سہولتوں کی فراہمی محض فلاحی کام نہیں بلکہ انسانی حقوق، سماجی انصاف اور قومی ترقی کا بنیادی تقاضا ہے۔ کسی معاشرے کی ترقی کا اندازہ صرف اس کی بلند عمارتوں، سڑکوں اور معاشی منصوبوں سے نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے ان شہریوں کے لیے کیا کررہا ہے جو خصوصی توجہ اور معاونت کے محتاج ہیں۔
آٹزم اور دیگر خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کو ہمارے معاشرے میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ مناسب اداروں کی کمی ہے۔ بڑے شہروں میں چند سرکاری و نجی مراکز موجود ہیں، مگر ان کی تعداد ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ دوسری طرف نجی اداروں کی فیس اکثر متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کی استطاعت سے باہر ہوتی ہے۔ نتیجتاً بہت سے والدین اپنے بچوں کو وہ سہولتیں فراہم نہیں کرپاتے جن کے ذریعے ان کی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔
بڑے شہروں سے باہر صورت حال مزید تشویش ناک ہے۔ حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور سندھ کے دیگر اضلاع میں خصوصی بچوں کے لیے معیاری اداروں کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔ یہی صورت حال ملک کے دیگر صوبوں اور دور دراز علاقوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ خصوصی بچوں کے لیے مراکز کا دائرہ صرف صوبائی دارالحکومتوں تک محدود نہ رکھے بلکہ ضلعی سطح تک ان سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائے۔
خصوصی بچوں کے لیے صرف ایک عمارت تعمیر کرنا کافی نہیں۔ ان مراکز میں تربیت یافتہ اساتذہ، ماہرینِ نفسیات، اسپیچ تھراپسٹ، بحالی کے ماہرین اور فنی تربیت دینے والے افراد بھی موجود ہونے چاہئیں۔ ہر بچے کی ضرورت مختلف ہوسکتی ہے، اس لیے انفرادی تربیتی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ جس بچے میں جس صلاحیت کا امکان ہو، اسے اسی شعبے میں آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ابتدائی تشخیص بھی اس پورے نظام کا اہم حصہ ہے۔ اگر بچے کی خصوصی ضرورت کا بروقت تعین ہوجائے تو ابتدائی عمر ہی سے مناسب تربیت شروع کی جاسکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے سرکاری ہسپتالوں، بنیادی مراکز صحت اور تعلیمی اداروں میں والدین کی رہنمائی کا مؤثر نظام ہونا چاہیے۔ والدین کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ وہ اپنے بچے کی نشوونما کے حوالے سے کسی مسئلے کی صورت میں کہاں رجوع کریں اور کس قسم کی مدد حاصل کرسکتے ہیں۔
معاشرتی رویوں میں تبدیلی بھی ناگزیر ہے۔ ہمارے ہاں بعض اوقات خصوصی بچوں اور ان کے خاندانوں کو غیر ضروری سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض لوگ خصوصی بچوں کو بوجھ سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مناسب مواقع ملنے پر ایسے بچے اپنی صلاحیتوں کا بہترین اظہار کرسکتے ہیں۔ انہیں ترس نہیں بلکہ احترام، محبت، تعلیم، تربیت اور برابر مواقع کی ضرورت ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** خصوصی بچوں پر خرچ ہونے والے وسائل کو اخراجات نہیں بلکہ مستقبل کی سرمایہ کاری سمجھا جانا چاہیے۔ اگر ایک بچے کو مناسب تعلیم، فنی تربیت اور بحالی کی سہولت ملتی ہے تو مستقبل میں وہ اپنی صلاحیت کے مطابق خود کفیل زندگی گزار سکتا ہے۔ اس طرح ریاست پر انحصار کم ہوتا ہے، خاندان کو سہارا ملتا ہے اور معاشرے کو ایک فعال فرد میسر آتا ہے۔فنی تربیت اس حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ ہر خصوصی بچہ ایک جیسی صلاحیت نہیں رکھتا۔ کسی میں کمپیوٹر کا ہنر نمایاں ہوسکتا ہے، کسی میں مصوری یا دستکاری کی صلاحیت ہوسکتی ہے، کوئی تکنیکی کام میں بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے اور کسی کے اندر دوسرے شعبے میں غیر معمولی صلاحیت موجود ہوسکتی ہے۔ ضروری یہ ہے کہ ان صلاحیتوں کو پہچانا جائے اور مناسب تربیت کے ذریعے انہیں عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔
نجی شعبے کو بھی اس قومی ذمہ داری میں شریک کیا جانا چاہیے۔ کاروباری اداروں اور کمپنیوں کو خصوصی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔ حکومت ٹیکس مراعات اور دیگر سہولتوں کے ذریعے ان اداروں کی حوصلہ افزائی کرسکتی ہے جو خصوصی افراد کو مناسب اور محفوظ ماحول میں ملازمت فراہم کریں۔ اس اقدام سے خصوصی افراد کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور معاشرے میں ان کی شمولیت مزید مضبوط ہوگی۔
خصوصی بچوں کے لیے رہائشی مراکز بھی کئی خاندانوں کی اہم ضرورت ہیں۔ بعض والدین کے لیے اپنے بچوں کی مسلسل نگہداشت اور تربیت ممکن نہیں ہوتی، خصوصاً جب بچے کو خصوصی نوعیت کی زیادہ توجہ درکار ہو۔ ایسے مراکز میں رہائش کے ساتھ تعلیم، علاج، تربیت، نفسیاتی معاونت اور فنی تعلیم کا جامع انتظام ہونا چاہیے۔ سب سے بڑھ کر بچوں کی عزتِ نفس اور تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اس پورے نظام میں والدین کی شمولیت بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ والدین اپنے بچوں کی عادات، صلاحیتوں اور مشکلات سے سب سے زیادہ واقف ہوتے ہیں۔ ان کی رائے کو تربیتی پروگراموں میں شامل کیا جائے اور انہیں بھی تربیت دی جائے کہ وہ گھر میں اپنے بچوں کی بہتر معاونت کیسے کرسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے والدین کے لیے باقاعدہ آگاہی اور رہنمائی پروگرام شروع کیے جاسکتے ہیں۔
تعلیمی نظام میں بھی خصوصی بچوں کے لیے زیادہ جامع پالیسی کی ضرورت ہے۔ جہاں خصوصی اداروں کی ضرورت ہو وہاں جدید مراکز قائم کیے جائیں، جبکہ جہاں ممکن ہو عام تعلیمی اداروں میں بھی خصوصی بچوں کے لیے معاون سہولتیں فراہم کی جائیں۔ اس سے خصوصی بچوں کو معاشرے سے الگ تھلگ رکھنے کے بجائے انہیں معاشرتی زندگی کا فعال حصہ بنانے میں مدد ملے گی۔
حکومت کو اس امر کی بھی نگرانی کرنی چاہیے کہ خصوصی بچوں کے لیے مختص فنڈز شفاف اور مؤثر انداز میں استعمال ہوں۔ مراکز کی تعمیر کے بعد ان کی کارکردگی، سہولتوں کے معیار، عملے کی تربیت اور بچوں کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ صرف منصوبے کا اعلان یا عمارت کا افتتاح کافی نہیں، اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب وہاں آنے والے بچوں کی زندگی میں مثبت اور قابلِ پیمائش تبدیلی پیدا ہو۔
کراچی میں قائم کیا جانے والا خصوصی رہائشی مرکز اس حوالے سے ایک اچھی ابتدا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ حکومت اس تجربے کو دوسرے شہروں تک وسعت دے اور وفاقی حکومت بھی ملک گیر پالیسی تشکیل دے۔ حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص سمیت دیگر بڑے شہروں میں ایسے مراکز قائم کیے جائیں اور پھر ضلعی سطح تک ان کا دائرہ پھیلایا جائے۔
خصوصی بچوں کو معاشرے کا بوجھ سمجھنا دراصل ان کی صلاحیتوں سے ناواقفیت ہے۔ یہ بچے بھی ہمارے مستقبل کا حصہ ہیں۔ اگر انہیں مناسب مواقع، تعلیم، تربیت اور معاون ماحول فراہم کیا جائے تو وہ اپنی صلاحیت کے مطابق معاشرے کی ترقی میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے لیے ایسا ماحول پیدا کرے جہاں انہیں اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا موقع ملے۔
اس لیے کراچی کے اس مرکز کو ایک منفرد منصوبے کے بجائے ایک قومی ماڈل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ **تجزیہ بی این پی** کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ خصوصی بچوں کے لیے جامع نظام تشکیل دیے بغیر ہم ایک مکمل اور مساوی معاشرے کا خواب پورا نہیں کرسکتے۔ تعلیم، صحت، بحالی، فنی تربیت اور روزگار کو ایک مربوط پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔
خصوصی بچوں کے لیے سہولتیں فراہم کرنا صرف حکومت کا کام نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طبقے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ میڈیا کو آگاہی پیدا کرنی چاہیے، تعلیمی اداروں کو معاون ماحول فراہم کرنا چاہیے، نجی شعبے کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں اور خاندانوں کو بھرپور معاونت دینی چاہیے۔
آج اگر ہم خصوصی بچوں کے لیے بہتر ادارے، تربیت یافتہ ماہرین اور محفوظ ماحول فراہم کرتے ہیں تو کل یہی بچے اپنی صلاحیتوں کے ذریعے معاشرے کے لیے قیمتی اثاثہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس لیے خصوصی بچوں کے مستقبل پر خرچ ہونے والا ہر قدم دراصل پاکستان کے زیادہ حساس، باصلاحیت اور مضبوط مستقبل کی تعمیر ہے۔ کراچی میں شروع ہونے والی یہ کوشش اسی بڑے مقصد کی جانب ایک اہم قدم بن سکتی ہے، بشرطیکہ اسے مستقل پالیسی اور ملک گیر پروگرام میں تبدیل کیا جائے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More