jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

پاکستان میں قومی ترقی میں شراکت اور احتساب کا مضبوط نظام

تجزیہ بی این پی
پاکستان کی تعمیر و ترقی کا سفر محض حکومتی اداروں، سیاسی قیادت یا کسی ایک طبقے کی کاوشوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشرے کے تمام طبقات کی محنت، قربانیاں اور خدمات شامل ہیں۔ ملک کے قیام سے لے کر آج تک اقلیتی برادری نے تعلیم، صحت، دفاع، تجارت، صنعت، سرکاری خدمات اور دیگر شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ خصوصاً ملکی دفاع کے لیے اقلیتی برادری کے افراد کی قربانیاں قومی تاریخ کا ایسا روشن باب ہیں جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اقلیتوں کے کردار اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اس قومی حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان سب شہریوں کا مشترکہ وطن ہے اور اس کی ترقی میں ہر پاکستانی کی شرکت یکساں اہمیت رکھتی ہے۔
ملک کو مضبوط بنانے کے لیے جہاں قومی یکجہتی، مذہبی ہم آہنگی اور مساوی مواقع ضروری ہیں، وہیں ریاستی اداروں میں شفافیت، احتساب اور قانون کی بالادستی بھی بنیادی تقاضا ہے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے امور سے متعلق اجلاس میں ملک بھر کے کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کا گزشتہ تین سال کا آزادانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ فیصلہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ ملکی معیشت میں درآمدات، کسٹمز ڈیوٹی، ٹیکس وصولی اور تجارتی سرگرمیوں کا نظام قومی خزانے سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ اگر اس نظام میں معمولی سی بے ضابطگی بھی طویل عرصے تک جاری رہے تو اس کا نقصان بالآخر عوام اور ملکی معیشت کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز دراصل ملکی تجارت کے ایک اہم حصے سے وابستہ ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ بانڈڈ تجارت ملک کی مجموعی درآمدات کا 16.5 فیصد ہے۔ یہ شرح اس شعبے کی اہمیت واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ ایسے میں ان گوداموں میں موجود مال، اس کی مقدار، نوعیت، ویلیوایشن، ریکارڈ اور قانونی حیثیت کی درست نگرانی نہایت ضروری ہوجاتی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے فزیکل اسٹاک ویریفیکیشن، ویلیوایشن ٹیسٹنگ، لائسنسنگ اور سیکیورٹی کے نظام کو بہتر بنانے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کا جائزہ لینے کی ہدایت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ حکومت محض کاغذی کارروائی کے بجائے عملی اصلاحات کی طرف بڑھنا چاہتی ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق کسی بھی ریاست میں ٹیکس اور کسٹمز کا نظام جتنا شفاف، مضبوط اور جدید ہوگا، قومی معیشت اتنی ہی مستحکم ہوگی۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں مالی وسائل کی ضرورت ہر شعبے میں شدت سے محسوس کی جاتی ہے، وہاں ٹیکس چوری، اسمگلنگ، غلط ویلیوایشن یا سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم احتساب کا عمل صرف اعلان تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے نتائج بھی سامنے آنے چاہئیں۔ تھرڈ پارٹی آڈٹ کی اصل افادیت اسی وقت ثابت ہوگی جب اس کے نتائج کی بنیاد پر خامیوں کی نشاندہی، ذمہ داروں کا تعین اور اصلاحی اقدامات بلاامتیاز کیے جائیں۔
وزیراعظم کی یہ ہدایت بھی قابلِ توجہ ہے کہ کسی بھی بے ضابطگی یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ یہ اصول ہر ادارے پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔ سرکاری ملازم ہو، تاجر ہو یا کوئی بااثر شخصیت، قانون کی نظر میں سب برابر ہوں۔ پاکستان کی معاشی مشکلات کا ایک بڑا سبب وسائل کی کمی سے زیادہ وسائل کے درست استعمال اور وصولیوں کے نظام میں موجود کمزوریاں بھی ہیں۔ اگر ریاست اپنے موجودہ وسائل کو شفاف انداز میں منظم کرلے تو قومی خزانے پر دباؤ کم کیا جاسکتا ہے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ وسائل دستیاب ہوسکتے ہیں۔
اس ضمن میں ویـباک نظام کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق کارگو کی نگرانی کو بھی مزید مؤثر بنانا ضروری ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے دنیا بھر میں سرکاری نگرانی، ٹیکس وصولی اور تجارتی ریکارڈ کو زیادہ شفاف بنانے کے امکانات پیدا کیے ہیں۔ پاکستان بھی اگر اپنے کسٹمز اور ٹیکس نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل، مربوط اور ڈیٹا پر مبنی بنا دے تو انسانی مداخلت کے ایسے مواقع کم کیے جاسکتے ہیں جہاں بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا کی حفاظت کو بھی ترجیح دینا ہوگی تاکہ جدید نظام خود کسی نئے خطرے کا شکار نہ بن جائے۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کی لائسنسنگ، سیکیورٹی، اسٹاک ویریفیکیشن اور ویلیوایشن کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کا بھی جائزہ لینے جارہی ہے۔ دراصل معاشی اصلاحات کا مؤثر راستہ یہی ہے کہ اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ صرف افسران کی تبدیلی یا عارضی کارروائی سے نظام کی بنیادی خامیاں دور نہیں ہوتیں۔ اس کے لیے واضح قواعد، ڈیجیٹل نگرانی، خودکار نظام، مؤثر آڈٹ، شفاف احتساب اور مسلسل مانیٹرنگ ضروری ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اقلیتی برادری کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا قومی یکجہتی کے حوالے سے بھی ایک مثبت پیغام ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا۔ تعلیم کے میدان میں مسیحی برادری کی خدمات خصوصاً قابل ذکر رہی ہیں۔ ملک کے متعدد معروف تعلیمی اداروں نے کئی نسلوں کی علمی تربیت میں کردار ادا کیا۔ اسی طرح صحت، سماجی خدمت، کاروبار اور دیگر شعبوں میں بھی اقلیتی پاکستانیوں کی خدمات قابلِ احترام ہیں۔
ملکی دفاع میں اقلیتی برادری کے افراد کی قربانیاں اس قومی جذبے کی علامت ہیں جس میں وطن سب سے مقدم ہوتا ہے۔ سرحدوں کے دفاع سے لے کر مختلف سرکاری و قومی ذمہ داریوں تک اقلیتی پاکستانیوں نے اپنی صلاحیتوں کا استعمال کیا اور کئی مواقع پر جانوں کے نذرانے بھی پیش کیے۔ ان قربانیوں کو یاد کرنا صرف اقلیتی برادری کو خراج تحسین پیش کرنا نہیں بلکہ پوری قوم کو یہ یاد دلانا بھی ہے کہ پاکستان کی طاقت اس کے شہریوں کے باہمی اتحاد میں مضمر ہے۔
آزادی کی سالگرہ کی آمد کے موقع پر یہ پیغام مزید اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ آزادی محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ وطن کی آزادی کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست اپنے تمام شہریوں کو مساوی حقوق، تحفظ اور ترقی کے مواقع فراہم کرے۔ مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے اور کسی بھی شہری کو اس کے مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر قومی دھارے سے دور نہ ہونے دیا جائے۔ پاکستان کی ترقی اسی وقت پائیدار ہوسکتی ہے جب ہر شہری خود کو اس ملک کی تعمیر میں برابر کا شریک سمجھے۔
وزیراعظم کا یہ کہنا کہ حکومت پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے اور عام آدمی کے حالات زندگی بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے، ایک بڑا قومی مقصد ہے۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے محض خواہش کافی نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک نے اداروں کی مضبوطی، قانون کی بالادستی، تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی، صنعتی پیداوار، برآمدات اور انسانی وسائل کی ترقی پر مسلسل توجہ دے کر اپنے معاشروں کو آگے بڑھایا۔ پاکستان کو بھی اسی سمت میں مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔عام آدمی کے حالات زندگی بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلے معیشت میں استحکام اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ مہنگائی، بجلی اور گیس کے اخراجات، روزگار کے محدود مواقع اور کم آمدنی جیسے مسائل براہِ راست عوام کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ حکومت اگر ٹیکس نظام کو مؤثر بناتے ہوئے کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتی ہے، برآمدات بڑھاتی ہے اور سرمایہ کاری کے راستے آسان بناتی ہے تو معاشی سرگرمی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں روزگار پیدا ہوگا، سرکاری آمدنی بڑھے گی اور عوامی خدمات کے لیے زیادہ وسائل دستیاب ہوں گے۔
یہاں کسٹمز اصلاحات کا تعلق بھی عام آدمی کی زندگی سے جڑ جاتا ہے۔ بظاہر کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز ایک مخصوص تجارتی معاملہ معلوم ہوتے ہیں، لیکن درحقیقت ان سے متعلق شفافیت پوری معیشت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ اگر درآمدی نظام میں غیر قانونی سرگرمیوں کا سدباب ہو، ٹیکس اور ڈیوٹی کی درست وصولی ہو اور تجارت قانونی راستے سے آگے بڑھے تو ریاستی آمدنی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس اضافی آمدنی کو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** حکومت کو معاشی اصلاحات اور قومی یکجہتی کے ان دونوں پہلوؤں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں سمجھنا چاہیے۔ مضبوط معیشت کے لیے مضبوط ادارے ضروری ہیں اور مضبوط اداروں کے لیے عوام کا اعتماد ناگزیر ہے۔ عوام کا اعتماد اس وقت قائم ہوتا ہے جب قانون سب کے لیے یکساں ہو، سرکاری ادارے جواب دہ ہوں اور ریاستی وسائل کے استعمال میں شفافیت نظر آئے۔ اسی طرح قومی اتحاد اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب ہر شہری کو یقین ہو کہ اس کا ملک اس کے حقوق اور عزت کا محافظ ہے۔
پاکستان کو آج ایسے ہی مثبت اور تعمیری طرز فکر کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر قومی مفادات پر اتفاق رائے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ معیشت، دفاع، داخلی سلامتی، تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی اور قومی یکجہتی ایسے میدان ہیں جہاں مستقل پالیسی اور تسلسل کے بغیر دیرپا نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود قومی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے تاکہ ملک بار بار نئے سرے سے آغاز کرنے کے بجائے پہلے سے حاصل کی گئی پیش رفت کو آگے بڑھا سکے۔
وزیراعظم کی جانب سے کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے تین سالہ آزادانہ آڈٹ کا فیصلہ اسی وسیع تر اصلاحاتی سوچ کا حصہ بن سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آڈٹ غیر جانب دار ادارے سے کرایا جائے، اس کے نتائج کو سنجیدگی سے لیا جائے اور جہاں خامیاں سامنے آئیں وہاں اصلاحات کی جائیں۔ ساتھ ہی دیانت دار اور فرض شناس اہلکاروں کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے تاکہ احتساب کا عمل خوف پیدا کرنے کے بجائے ادارہ جاتی بہتری کا ذریعہ بنے۔
اسی طرح اقلیتی برادری کی خدمات کو صرف تقاریب اور بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی سطح پر بھی قومی زندگی میں ان کی شمولیت کو مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے۔ تعلیم، روزگار، کاروبار، سرکاری خدمات اور دیگر شعبوں میں مساوی مواقع قومی ترقی کو تیز کرسکتے ہیں۔ پاکستان کی اصل قوت اس کی آبادی ہے اور آبادی کا ہر طبقہ اگر اپنی صلاحیتیں قومی ترقی کے لیے استعمال کرے تو ملک کے امکانات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔دفاع اور معیشت دونوں میدانوں میں قومی یکجہتی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک طرف سرحدوں کی حفاظت کے لیے متحد قوم درکار ہوتی ہے تو دوسری طرف معاشی میدان میں بھی حکومت، صنعت کار، تاجر، مزدور، کسان، نوجوان اور ماہرین سب کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ اس لیے اقلیتی برادری کے کردار کا اعتراف محض ایک رسمی اقدام نہیں بلکہ قومی شراکت داری کے تصور کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون کو بھی اسی وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ وزیراعظم کے مطابق دفاعی تعاون کا مقصد امن اور ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اگر علاقائی تعاون کو تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی اور دفاع کے ساتھ مربوط کیا جائے تو پاکستان کے لیے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ خطے میں امن و استحکام کی فضا معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے لیے بھی سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔
تاہم خارجی تعلقات میں کامیابی کا انحصار داخلی استحکام پر بھی ہوتا ہے۔ مضبوط معیشت، شفاف ادارے، قانون کی بالادستی اور قومی اتحاد کسی بھی ملک کی سفارتی قوت میں اضافہ کرتے ہیں۔ دنیا میں وہی ممالک زیادہ مؤثر کردار ادا کرتے ہیں جن کے اندرونی ادارے مضبوط اور معیشت مستحکم ہو۔ اس لیے پاکستان کے لیے داخلی اصلاحات اور خارجی تعاون ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔
مجموعی طور پر وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ اقدامات اور بیانات میں دو اہم پہلو نمایاں ہوتے ہیں: ایک طرف ریاستی اداروں میں شفافیت، احتساب اور جدید نظام کے ذریعے معاشی نظم بہتر بنانے کی کوشش، اور دوسری جانب معاشرے کے تمام طبقات بالخصوص اقلیتی برادری کی قومی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے قومی یکجہتی کو فروغ دینا۔ دونوں پہلو پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے اہم ہیں۔
ضرورت صرف یہ ہے کہ اعلانات کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کا آزادانہ آڈٹ مکمل ہو، خامیوں کی نشاندہی ہو، ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو اور مستقبل میں ایسی بے ضابطگیوں کے راستے بند کیے جائیں۔ اسی طرح اقلیتی شہریوں کی خدمات کو تسلیم کرنے کے ساتھ انہیں مساوی مواقع، تحفظ اور قومی ترقی کے عمل میں بھرپور شرکت کا ماحول بھی فراہم کیا جائے۔پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے کا خواب اسی وقت حقیقت بن سکتا ہے جب ریاستی ادارے مضبوط، معیشت شفاف، قانون کی حکمرانی مستحکم اور قوم متحد ہو۔ وزیراعظم شہباز شریف اگر معاشی اصلاحات، ادارہ جاتی احتساب، جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، برآمدات اور قومی یکجہتی کے ایجنڈے کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات دیرپا ہوسکتے ہیں۔
آخرکار پاکستان کی ترقی کسی ایک حکومت، جماعت یا طبقے کی ذمہ داری نہیں۔ یہ پوری قوم کا مشترکہ سفر ہے۔ جس ملک کے دفاع کے لیے اقلیتی شہری اپنی جانیں قربان کرسکتے ہیں، جس ملک کی معیشت کے لیے تاجر اور مزدور اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں اور جس ملک کی ترقی کے لیے نوجوان اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاسکتے ہیں، اس ملک کے روشن مستقبل کے امکانات بھی بے شمار ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ قومی وسائل امانت سمجھ کر استعمال کیے جائیں، اداروں میں شفافیت قائم ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو اور تمام شہریوں کو پاکستان کی تعمیر و ترقی میں برابر کا شریک سمجھا جائے۔یہی وہ راستہ ہے جو قومی اتحاد کو مضبوط، معیشت کو مستحکم اور پاکستان کو ترقی کی حقیقی منزل کی طرف لے جاسکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More