jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

کاغذی نظام سے ڈیجیٹل پنجاب تک؛ عوامی ریلیف اور شفاف حکمرانی کی نئی سمت

تجزیہ راجا محمد الیاس کیانی
حکومتوں کی کارکردگی کا اصل پیمانہ صرف بڑے منصوبوں، بلند و بانگ دعووں یا ترقیاتی اعلانات سے نہیں ہوتا بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ عام شہری کو اپنے روزمرہ کے کاموں کے لیے ریاستی نظام سے کتنی آسانی، کتنی تیزی اور کتنی شفافیت کے ساتھ خدمات حاصل ہوتی ہیں۔ ایک ایسا شہری جو کسی معمولی سرکاری کام کے لیے کئی کئی دن دفاتر کے چکر لگانے، مختلف میزوں پر فائلیں تلاش کرنے، سفارشیں ڈھونڈنے یا غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہو، اس کے لیے حکومت کی کارکردگی کا تصور کسی بھی بڑے ترقیاتی منصوبے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں پنجاب حکومت کی جانب سے کاغذی کارروائی کے روایتی نظام سے نکل کر مکمل ڈیجیٹلائزیشن، آٹومیشن اور پیپر لیس حکمرانی کی طرف بڑھنے کی پالیسی ایک قابلِ ستائش اور مستقبل شناس اقدام قرار دی جا سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرصدارت ہونے والے خصوصی اجلاس میں پنجاب کے انتظامی نظام کو ”اینڈ ٹو اینڈ” پیپر لیس اور آٹومیشن ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، وہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ صوبائی حکومت محض ڈیجیٹل سہولتوں کے اعلانات تک محدود نہیں بلکہ حکومتی عمل داری کے مختلف شعبوں کو ایک مربوط ڈیجیٹل نظام میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ای فائلنگ، ای پریکیورمنٹ، ای پے، ای آکشن، ون میپ، ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم اور ڈیٹا ویئر ہاؤس جیسے منصوبے اسی وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی کا حصہ ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق کسی بھی صوبے میں حکومتی نظام کو ڈیجیٹل بنانا صرف کمپیوٹر، موبائل ایپلی کیشن یا آن لائن پورٹل متعارف کرانے کا نام نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب سرکاری امور کی پوری زنجیر کاغذی کارروائی، غیر ضروری انسانی مداخلت اور روایتی دفتری پیچیدگیوں سے نکل کر ایک شفاف، قابلِ نگرانی اور تیز رفتار نظام میں تبدیل ہو جائے۔ پنجاب میں ”اینڈ ٹو اینڈ” آٹومیشن کے تصور کی اہمیت بھی اسی لیے زیادہ ہے کہ اس کے ذریعے ایک درخواست کے آغاز سے لے کر اس کے فیصلے اور متعلقہ شہری تک سروس کی فراہمی تک پورے عمل کو ڈیجیٹل طریقے سے منظم کیا جا سکتا ہے۔

اس پالیسی کا سب سے بڑا فائدہ عام شہری کو پہنچنے کی توقع ہے۔ پاکستان میں ایک عام آدمی کے لیے سرکاری دفتر کا نام اکثر لمبی قطار، انتظار، کاغذات کی متعدد نقول، مختلف افسران کے دستخط اور بار بار دفتر کے چکر سے جڑا ہوا ہے۔ اگر یہی کام آن لائن درخواست، ڈیجیٹل تصدیق، خودکار جانچ اور الیکٹرانک منظوری کے ذریعے مکمل ہونے لگیں تو شہری کا وقت، پیسہ اور توانائی تینوں بچ سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ”مریم کی دستک” کے ذریعے متعدد خدمات اور ”ای بز” کے ذریعے کاروباری خدمات کی فراہمی اسی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
خصوصاً کاروباری سرگرمیوں کے لیے این او سی اور دیگر منظوریوں کے حصول کا عمل اگر شفاف اور تیز رفتار بنایا جائے تو اس کے اثرات صرف متعلقہ درخواست گزار تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ کاروباری شخص کو اگر کسی اجازت نامے کے لیے ہفتوں یا مہینوں دفاتر کے چکر نہ لگانا پڑیں اور وہ گھر یا دفتر بیٹھ کر اپنی درخواست جمع کرا سکے، اس کی دستاویزات کی جانچ ہو جائے اور پیش رفت سے اسے مسلسل آگاہ رکھا جائے تو کاروباری ماحول میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ یہی اعتماد سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی سرگرمی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پنجاب حکومت کی بریفنگ کے مطابق صوبے کے سیکڑوں سرکاری ادارے ای فوس کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر منسلک ہو چکے ہیں جبکہ ای فائلنگ کے ذریعے بڑی تعداد میں سمری نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ اس عمل سے کاغذ کے استعمال میں کمی، دفتری اخراجات میں بچت اور فائلوں کی نقل و حرکت میں تیزی پیدا ہونا فطری امر ہے۔ لیکن اس سے بھی اہم پہلو یہ ہے کہ ڈیجیٹل ریکارڈ کی موجودگی میں کسی فائل کے غیر ضروری طور پر رکنے، غائب ہونے یا تاخیر کا شکار ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ڈیجیٹلائزیشن کا تعلق شفافیت اور احتساب سے جڑتا ہے۔ روایتی نظام میں کسی معاملے کی پیش رفت جاننے کے لیے شہری کو متعلقہ دفتر یا افسر سے رابطہ کرنا پڑتا ہے، جبکہ ڈیجیٹل نظام میں درخواست اور فائل کی نقل و حرکت کو ایک مخصوص نظام کے تحت دیکھا اور مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس نظام کو مضبوط نگرانی، واضح ذمہ داری اور مؤثر شکایتی طریقہ کار کے ساتھ چلایا جائے تو سرکاری امور میں جواب دہی کا معیار نمایاں طور پر بہتر ہو سکتا ہے۔
ای پریکیورمنٹ کا نظام بھی اسی حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سرکاری خریداری میں شفافیت ہمیشہ ایک حساس موضوع رہی ہے کیونکہ عوامی وسائل سے ہونے والی خریداری براہ راست قومی خزانے سے متعلق ہوتی ہے۔ اگر ٹینڈر جاری کرنے، سپلائرز کی رجسٹریشن، بولیوں کے عمل اور خریداری کے دیگر مراحل کو ڈیجیٹل کیا جائے تو انسانی مداخلت کے غیر ضروری مواقع کم کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مقابلے کے امکانات بڑھتے ہیں بلکہ سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے۔
ای آکشن کے ذریعے بڑی تعداد میں بولی دہندگان کی رجسٹریشن اور قابل ذکر ریونیو جنریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل نظام کو محض دفتری سہولت کے طور پر نہیں بلکہ مالیاتی نظم و نسق کے مؤثر ذریعہ کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ڈیٹا ویئر ہاؤس کا قیام حکومتی فیصلہ سازی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جدید ریاستیں اب محض اندازوں اور روایتی رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتیں بلکہ اعداد و شمار، حقیقی وقت کے ڈیٹا اور قابلِ اعتماد معلومات کو پالیسی سازی کی بنیاد بناتی ہیں۔
پنجاب میں ڈیٹا پر مبنی حکمرانی کی طرف پیش رفت مستقبل میں صحت، تعلیم، زراعت، بلدیاتی خدمات، امن و امان، ٹرانسپورٹ اور سماجی بہبود سمیت مختلف شعبوں میں زیادہ مؤثر منصوبہ بندی کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر حکومت کو یہ معلوم ہو کہ کس علاقے میں کس نوعیت کی ضرورت زیادہ ہے، کس منصوبے کی رفتار سست ہے، کس ضلع میں کون سی عوامی سہولت کم ہے اور کس شعبے میں وسائل کی زیادہ ضرورت ہے تو محدود وسائل کو زیادہ دانش مندی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی پنجاب کے ڈیجیٹل نظام کا ایک اہم پہلو ہے۔ ”ای بز” کے تحت دستاویزات کی جانچ پڑتال میں مصنوعی ذہانت سے مدد لینا اس بات کا اشارہ ہے کہ صوبائی انتظامیہ نئی ٹیکنالوجی کو محض دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ عملی حکومتی عمل کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو مزید شعبوں تک پھیلایا جا سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ڈیٹا کے تحفظ، شہریوں کی رازداری، سائبر سکیورٹی اور انسانی نگرانی کے تقاضوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے درخواست دہندگان سے مسلسل فیڈ بیک لینے کی ہدایت ایک درست انتظامی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ کسی بھی ڈیجیٹل نظام کی کامیابی کا انحصار صرف اس کے تکنیکی ڈھانچے پر نہیں ہوتا بلکہ اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ شہری اسے استعمال کرتے ہوئے کتنی آسانی محسوس کرتے ہیں۔ اگر کوئی آن لائن نظام پیچیدہ ہو، بار بار ناکام ہو یا شہری کو دوبارہ دفتر آنے پر مجبور کر دے تو وہ روایتی نظام سے بہتر ثابت نہیں ہوگا۔ اس لیے عوامی فیڈ بیک کو نظام کی مستقل بہتری کا بنیادی ذریعہ بنانا ضروری ہے۔تجزیہ بی این پی کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی پیپر لیس پالیسی کا ایک اہم پہلو بدعنوانی کے خاتمے سے متعلق ہے۔ جہاں غیر ضروری انسانی مداخلت کم ہوگی، وہاں رشوت، سفارش اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے امکانات بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔ اگر شہری کی درخواست شناخت کے تحفظ کے ساتھ مقررہ نظام کے تحت آگے بڑھے اور فیصلہ واضح قواعد کے مطابق ہو تو کرپٹ عناصر کے لیے راستے محدود ہوتے ہیں۔ تاہم یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوگا جب ڈیجیٹل نظام کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی احتساب، سائبر سکیورٹی اور شفاف نگرانی کو بھی مضبوط بنایا جائے۔
عوام کا حکومت پر اعتماد بھی حکمرانی کی کامیابی کا بنیادی عنصر ہے۔ جب شہری کا کام بروقت ہو، اسے غیر ضروری طور پر کسی دفتر کے چکر نہ لگانے پڑیں، اسے درخواست کی صورتحال معلوم ہو اور اسے سروس کے حصول کے لیے کسی سفارش یا واسطے کی ضرورت محسوس نہ ہو تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ یہی اعتماد حکومت کے عوامی امیج کو بہتر بناتا ہے۔ اچھی حکمرانی کا سب سے مؤثر تشہیری ذریعہ دراصل وہ شہری ہوتا ہے جس کا کام آسانی اور عزت کے ساتھ ہو جائے۔پنجاب کی پیپر لیس پالیسی اسی لیے ایک وسیع تر عوامی فلاحی منصوبے کی حیثیت اختیار کر سکتی ہے۔ یہ صرف فائلوں کو کمپیوٹر پر منتقل کرنے کا عمل نہیں بلکہ ریاستی نظام کے مزاج کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ ایک ایسا نظام جس میں رفتار، شفافیت، ڈیٹا، جواب دہی اور شہری سہولت کو بنیادی اہمیت حاصل ہو، وہ بالآخر معاشرے میں انتظامی بہتری کا سبب بنتا ہے۔
اس پالیسی کی کامیابی کے لیے چند بنیادی شرائط بھی ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے ڈیجیٹل نظام کو صوبے کے شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں یکساں طور پر قابلِ رسائی بنانا ہوگا۔ ہر شہری کے پاس جدید موبائل، تیز رفتار انٹرنیٹ یا ڈیجیٹل مہارت لازماً موجود نہیں۔ اس لیے ایسے معاون مراکز اور متبادل سہولتیں بھی ضروری ہیں جہاں کم ڈیجیٹل خواندگی رکھنے والے شہری بھی خدمات حاصل کر سکیں۔ دوسری اہم ضرورت سائبر سکیورٹی ہے۔ جتنا زیادہ سرکاری نظام ڈیجیٹل ہوگا، اتنی ہی زیادہ شہری معلومات اور حکومتی ڈیٹا کے تحفظ کی ذمہ داری بھی بڑھے گی۔
تیسری ضرورت تربیت یافتہ انسانی وسائل ہیں۔ ٹیکنالوجی نظام کو خودکار بنا سکتی ہے لیکن اسے مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے اہل، ذمہ دار اور تربیت یافتہ افسران و ملازمین ضروری ہیں۔ اگر سرکاری اہلکار ڈیجیٹل نظام کو سمجھنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں تو بہترین سافٹ ویئر بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا۔ اسی طرح مختلف محکموں کے ڈیجیٹل نظاموں کو باہم مربوط رکھنا بھی ضروری ہوگا تاکہ ایک ہی شہری کو مختلف سرکاری اداروں میں بار بار ایک جیسی معلومات فراہم نہ کرنا پڑیں۔
پنجاب حکومت کے لیے اصل چیلنج اب اس پالیسی کے تسلسل کا ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن ایک ایسا عمل نہیں جو ایک اجلاس یا ایک منصوبے سے مکمل ہو جائے۔ اسے مسلسل اپ ڈیٹ، نگرانی، اصلاح اور عوامی فیڈ بیک کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹیکنالوجی تیزی سے بدلتی ہے، اس لیے حکومتی نظام کو بھی وقت کے ساتھ جدید بناتے رہنا ہوگا۔ اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو پنجاب ملک کے دوسرے صوبوں کے لیے ڈیجیٹل گورننس کا ایک مؤثر نمونہ بن سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عوام کو آج محض اعلانات نہیں بلکہ سہولت، رفتار اور نتیجہ چاہیے۔ ایک مزدور، کسان، طالب علم، تاجر، خاتون، بزرگ یا عام شہری کے لیے حکومت کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اس کا جائز کام کم وقت، کم خرچ اور عزت کے ساتھ ہو جائے۔ پیپر لیس نظام اس مقصد کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے صوبے کے ہر شعبے، ہر محکمے اور ہر ادارے کو ڈیجیٹلائزیشن کی راہ پر گامزن کرنے کا عزم اسی لیے قابلِ تحسین ہے کہ یہ پالیسی مستقبل کی حکمرانی کی ضرورت سے ہم آہنگ ہے۔ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل ریاست کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں اگر سرکاری نظام اب بھی کاغذی فائلوں، غیر ضروری دفتری مراحل اور طویل انتظار کا شکار رہے تو عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے مزید بڑھ سکتے ہیں۔

اس کے برعکس اگر پنجاب میں اینڈ ٹو اینڈ آٹومیشن کامیابی سے نافذ ہوتی ہے تو اس کے اثرات حکومت کے تقریباً ہر شعبے تک پہنچ سکتے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی بہتر ہوگی، خریداری کے عمل میں شفافیت آئے گی، ریونیو وصولی مؤثر ہوگی، کاروباری اجازت ناموں کا عمل تیز ہوگا، سرکاری ملازمین کا انتظام بہتر ہوگا اور شہریوں کو متعدد خدمات ایک ہی مربوط ڈیجیٹل ماحول میں میسر آ سکیں گی۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پنجاب کی یہ پیپر لیس پالیسی محض ایک انتظامی اصلاح نہیں بلکہ طرزِ حکمرانی کی تبدیلی کا آغاز بن سکتی ہے۔ اس کے ذریعے حکومت کا مرکز دفتر کی میز سے اٹھ کر شہری کی ضرورت کی طرف منتقل ہو سکتا ہے۔ جب ریاست شہری کے دروازے تک پہنچتی ہے تو حکومت کا تصور بھی زیادہ مثبت اور قابلِ اعتماد بنتا ہے۔
بالآخر کسی بھی حکومتی منصوبے کی کامیابی کا فیصلہ اعداد و شمار سے زیادہ عوامی تجربے سے ہوتا ہے۔ اگر شہری واقعی محسوس کرے کہ اس کا کام پہلے کے مقابلے میں تیزی سے ہو رہا ہے، اسے سرکاری دفتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑ رہے، کاروباری اجازتیں آسانی سے مل رہی ہیں، سرکاری خریداری شفاف ہو رہی ہے اور درخواستوں کی نگرانی ممکن ہے تو یہی اس پالیسی کی حقیقی کامیابی ہوگی۔
پنجاب میں پیپر لیس اور آٹومیشن ٹیکنالوجی کا سفر اسی امید کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے کہ ٹیکنالوجی صرف حکومت کو جدید نہیں بنائے گی بلکہ عوام کی زندگی بھی آسان بنائے گی۔ یہی کسی بھی اصلاحاتی منصوبے کا اصل مقصد ہونا چاہیے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی یہ پالیسی اس اعتبار سے قابلِ ستائش ہے کہ اس میں حکومتی نظام کو برق رفتاری، شفافیت اور عوامی سہولت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ اگر اس پالیسی کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر مستقل مزاجی، مضبوط نگرانی، سائبر سکیورٹی اور عوامی فیڈ بیک کے ساتھ جاری رکھا گیا تو یہ پنجاب میں حکمرانی کی ایک نئی مثال قائم کر سکتی ہے۔
یقیناً یہ عوامی فلاح کا ایک عظیم منصوبہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسے منصوبے ہی لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لاتے ہیں، ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد بڑھاتے ہیں اور حکومت کے عوامی امیج کو مضبوط بناتے ہیں۔ آج کے دور میں اچھی حکمرانی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ حکومت فیصلے کرے بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ فیصلے شہری تک کتنی تیزی، شفافیت اور آسانی سے پہنچتے ہیں۔ پنجاب کی پیپر لیس پالیسی اسی نئے تصورِ حکمرانی کی طرف ایک اہم قدم ہے، جسے کامیاب بنانے میں حکومت کے ساتھ ساتھ متعلقہ اداروں، سرکاری اہلکاروں اور خود شہریوں کا تعاون بھی ناگزیر ہوگا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More